خواب، محبت اور زندگی 40
باب ششم: بائیں بازو کی تحریک کا تنقیدی جائزہ
شاید کچھ قارئین کے لئے یہ قسط بوریت کا باعث بنے لیکن اپنی آپ بیتی کو آگے بڑھانے سے پہلے میں یہاں اپنے تجربات کی روشنی میں آج کل کے نوجوانوں کے لئے بائیں بازو کی تحریک کا تنقیدی جائزہ لینا چاہوں گی۔ ویسے بھی میری ذاتی زندگی بائیں بازو کی تحریک سے عملی طور پر جڑی رہی ہے اور میں دونوں کو الگ کر کے نہیں دیکھ سکتی۔
سبق 1 : خواب ٹوٹے، حوصلے نہیں۔ Disillusionment Without Defeat
بائیں بازو کی سیاست کو اپنانے والے ہر نوجوان کی آنکھوں میں دنیا کو بدلنے کا خواب بسا ہوتا ہے۔ اس کے پاس جذبات کی فراوانی اور دانش کی کمی ہوتی ہے۔ مگر عمر بڑھنے کے ساتھ اسے ”بڑی تصویر“ نظر آنے لگتی ہے۔ اور جو کچھ اس نے پہلے سے سوچ رکھا ہوتا ہے، وہ حقیقت کا روپ دھارتا نظر نہیں آتا تو پھر یا تو ان کی شخصیت میں کڑواہٹ آجاتی ہے، یا پھر وہ دوسرے کیمپ میں چلے جاتے ہیں یا پھر ”ماتم یک شہر آرزو“ میں لگے رہتے ہیں۔
جب میں ان بہت سے کامریڈز کے بارے میں سوچتی ہوں جنہیں میں نے اپنی جوانی میں دیکھا تو ان کی تعداد پاکستان میں بائیں بازو کی ٹھوس موجودگی کو قائم رکھنے کے لئے کافی تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کیوں؟ کہا جاتا ہے کہ بہت سے کامریڈز بک گئے لیکن میرا دل یہ بات ماننے کو تیار نہیں۔ وہ زیادہ تر ایماندار، جوشیلے اور بہادر لوگ تھے۔ بس ان کے خیال میں وہ بائیں بازو کی سیاست سے آگے بڑھ گئے تھے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اب وہ دنیا کو صرف سیاہ یا سفید شکل میں نہیں دیکھتے بلکہ اب ہر رنگ، ہر پرت اور پیچیدگی کو سمجھنے لگے ہیں۔
اگر آپ اس مخمصے سے دوچار ہیں تو میں یہی کہوں گی کہ راستہ مشکل ہے لیکن سفر ختم نہیں ہوا۔ خواب ٹوٹ بھی جائیں لیکن حوصلے نہیں ٹوٹنے چاہئیں۔ سرمایہ داری کے گلتے سڑتے نظام اور امریکی سامراج کے بارے میں جو کچھ آپ نے سوچا تھا، وہ کل بھی صحیح تھا اور آج بھی صحیح ہے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ ہم نے بہت سے معاملات میں جذباتی پن کا مظاہرہ کیا مگر ہمارے بنیادی اصول و عقائد صحیح تھے۔ اور سچ کے لئے تو آج بھی سیاہ و سفید میں تمیز کرنا ضروری ہے۔ کل بھی ہم نے محنت کشوں، غریبوں اور مظلوموں کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی تھی اور آج بھی نیو لبرل ازم کی سفاکیت کے سامنے ڈٹ کے کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔
سبق نمبر 2۔ کوئی بھی تحریک میں لیکچر سننے کے لئے شامل نہیں ہوتا
جوانی میں معاشرے کی برائیاں آپ کو زیادہ واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ پراپیگنڈہ کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ آپ کو دکھائی دیتا ہے کہ ٹی وی، کلچر، آرٹس غرض کہ سارے مین اسٹریم رجحانات کھوکھلے ہیں اور اصل مسائل پر توجہ نہیں دی جاتی۔ یہ جاننا اور سمجھنا اچھی بات ہے لیکن اس وجہ سے بعض نوجوان احساس برتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی تحریک کو پروان چڑھانے کے لئے یہ کوئی اچھا رویہ نہیں۔ ہمیں دوسروں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے اور اپنے قریب لانے کی کوشش کرنی چاہیے جو ہم نہیں کرتے۔ صرف نظام اور سماج کو برا بھلا کہتے رہنے سے ہم انقلاب نہیں لا سکتے۔ ایک طرف سرمایہ داری نظام موسمیاتی تبدیلی کو بڑھاوا دے رہا ہے، دوسری طرف دنیا پر نیوکلیئر وار یا ایٹمی جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لئے ہمیں عوامی تحریکوں کی ضرورت ہے اور عوامی تحریکیں لوگوں کو برا بھلا کہنے سے نہیں بنتیں بلکہ انہیں اپنے ساتھ ملانے اور انہیں ساتھ لے کر چلنے سے بنتی ہیں۔
سبق نمبر 3۔ دھڑے بندی نا گزیر ہے تو تعاون بھی ضروری ہے
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، جب میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو این ایس ایف دو کیمپوں میں بٹی ہوئی تھی اور کمزور پڑ چکی تھی جب کہ جمعیت کراچی یونیورسٹی میں بے حد مضبوط تھی اور اس کی پراپیگنڈہ مشینری لیفٹسٹ طلبا کا منفی تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لیفٹ کے گروپس مل کر جمعیت کا مقابلہ کرتے لیکن ان کا زیادہ وقت اور توانائی باہمی جھگڑوں اور اختلافات کی نذر ہو جاتا تھا۔ اس وقت میری شدید خواہش ہوتی تھی کہ این ایس ایف کے دونوں گروپس کی صلح ہو جائے اور وہ مل کر کام کریں۔ اور ہاں، ایک اور چھوٹے سے گروپ ٹراٹسکائیٹس کا تو میں نے ذکر ہی نہیں کیا جسے دونوں اول الذکر گروپس ہی برا سمجھتے تھے۔
بعد میں اکثر میں سوچا کرتی تھی کہ اتحاد کی خواہش ہماری سادہ لوحی تھی۔ ویسے تو لیفٹ میں گروہ بندی شروع سے رہی مگر سوویت یونین روس اور چین کے باہمی اختلافات اور ان کی ایک دوسرے سے نظریاتی علیحدگی کے بعد دنیا بھر کی کمیونسٹ پارٹیاں اور لیفٹ کے گروپس چین نواز اور روس نواز دھڑوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ اور بتدریج شخصی اختلافات کی بنا پر ان دھڑوں کے اندر بھی مزید گروہ بنتے چلے گئے۔ اور ہر کوئی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بناتا چلا گیا۔ شاید یہ نا گزیر تھا۔ کاش یہ سب گروہ مل کر غریبوں اور محنت کشوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کرتے اور مل کر سامراجیت اور سرمایہ داری کا مقابلہ کرتے۔
یہاں میں ایک مرتبہ پھر نوم چومسکی کا حوالہ دینا چاہوں گی کہ بائیں بازو کے ساتھیوں سے تلخ بحثوں میں وقت ضائع کرنے سے گریز کریں، بلکہ ممکن ہو تو مکمل اجتناب کریں۔ بیسویں صدی کے اوائل میں کسی روسی نے یا کسی چینی نے جو بھی کہا ہو، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ایک دوسرے سے بات چیت بند کر دیں یا ایک دوسرے سے سیکھنا چھوڑ دیں۔ اپنی انانیت پر قابو پائیں اور جو ضروری کام ہے، وہ کرتے رہیں۔ ہمارا مقصد نظریاتی برتری ثابت کرنا نہیں بلکہ نظام میں بنیادی تبدیلی لانا ہے۔ جو لیفٹسٹ گروپس آپ سے اختلاف رکھتے ہیں، ان سے مکالمہ جاری رکھنا ضروری ہے۔ ان کے خلاف تنقید پر بہت کم وقت صرف کریں۔ اپنی تنقید اور مخالفت کا نشانہ اصل دشمن کو بنائیں۔
سبق نمبر 4 : اپنی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ نہ اٹھائیں
زندگی غموں اور خوشیوں کا امتزاج ہے لیکن میں آپ سے یہی کہوں گی کہ اپنی غیر عملی آدرش پسندی کی وجہ سے زیست کو مزید مشکل نہ بنائیں۔ شاعر نے بجا کہا ہے ”زیست مشکل ہے، اسے اور بھی مشکل نہ بنا۔“ اگر آپ غربت کا خاتمہ چاہتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ انقلاب کے رومانس میں آپ خود غریب بن جائیں۔ غریب ہونا کوئی خوبی نہیں، یہ تو نا انصافی کی علامت ہے۔ غیر ضروری تکلیف اٹھا کر آپ انقلابی جدوجہد کو آگے نہیں بڑھائیں گے بلکہ خود تھکن کا شکار ہو جائیں گے۔ مجھ سمیت ساٹھ اور ستر کے عشرے کے کچھ اور نوجوان بھی صرف انقلاب کے رومانس میں ہی نہیں غربت کے رومانس میں بھی مبتلا تھے۔ گھر چھوڑ کے جھونپڑیوں میں جا کے رہنے کو بھی انقلابی قدم سمجھتے تھے۔ اور اصل میں جو کام کرنا چاہیے، وہ نہیں کر پاتے تھے۔ یہ کوئی دانشمندی نہیں تھی، اس لئے آپ لوگ ایسا مت کریں۔


