عشق، دھرم اور دربار کے درمیان پسی ہوئی لڑکیاں


درازہ شریف کے صحن میں شام اتر رہی تھی۔ فقیر دھمال ڈال رہے تھے، ڈھولک کی تھاپ پر وجد کی کیفیت میں صوفیانہ صدا بلند ہو رہی تھی: ”جنھن دل پیتا عشق دا جام، سا دل مست و مست مُدام۔ حقّ موجود، سَدا موجود! ”(سچل سرمست)
یہ صدا فضا میں گونج رہی تھی، جیسے وقت رک گیا ہو، جیسے دربار نے کسی گہری خاموشی کو آواز دی ہو۔

دربار کی آخری سیڑھی پر ایک عورت بیٹھی تھی، کویتا، جو اب عائشہ کہلاتی تھی۔ اس کی گود میں ایک بچہ سو رہا تھا، اور آنکھوں میں وہ سوال تھا جس کا جواب نہ دھرم دے سکا، نہ نکاح، نہ خاندان، نہ ریاست۔

کویتا لاڑکانہ کے دڑی محلے کی بیٹی تھی۔ اس کے والد کی جیلس بازار میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان تھی۔ وہ ہولی کے رنگ، دیوالی کے دیے، اور مٹی کے دیوتاؤں کے درمیان پلی بڑھی۔ پھر یاسر اس کی زندگی میں آیا، ایک مسلمان لڑکا، جو دھیرے سے دل میں اتر گیا۔

وعدے ہوئے۔
یقین دلوایا گیا کہ ”محبت دھرم سے بڑی ہے۔
کویتا نے سب کچھ چھوڑا۔ مذہب، خاندان، گھر۔
اسلام قبول کیا، نکاح ہوا، اور اس کا نام عائشہ رکھ دیا گیا۔
چند ماہ بعد حقیقت نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
ساس نے کہا: ”یہ تو ہندو ہے، ہمارے ساتھ نہیں بیٹھ سکتی۔“
شوہر نے خاموشی اختیار کی، اور پھر ایک دن دوسری شادی کر لی۔

کویتا، اکیلی، ناپسندیدہ، اور ماں، اب ایسی لڑکی تھی جسے ہندو برادری ”مرتد“ کہتی تھی، اور مسلمان برادری ”دھرم بدلا ہوا مسئلہ“ ۔

وہ نہ ہندو رہی، نہ مسلمان کہلائی۔

بس ایک عورت، جو ماں بھی ہے اور گواہ بھی۔ ان ہزاروں نامکمل کہانیوں کی جو سندھ میں مذہب، شناخت اور سیاست کی درمیانی زمین پر دفن ہو گئیں۔

بھرچونڈی شریف جیسے دربار سالوں سے اس بحث کا مرکز ہیں، جہاں ہندو لڑکیوں کو ”رضامندی“ کے نام پر اسلام قبول کرایا جاتا ہے، اور اکثر وہ شادیاں چند مہینوں بعد کسی کمرے میں دم توڑ دیتی ہیں۔
ریئنا، پوجا، میناکشی۔ سب وہ نام جو کبھی خبروں میں آئے، مگر آج کہیں سننے کو نہیں ملتے۔

کویتا نے جب دیکھا کہ زمین پر اس کے لیے کوئی کونا نہیں بچا، تو وہ درازہ شریف آ گئی، جہاں سچل سرمست کے دربار میں کم از کم کوئی اسے ”ذات“ یا ”دھرم“ کی بنیاد پر نہیں تولتا۔
وہ روز دربار کی سیڑھی پر آ کر بیٹھتی ہے۔ نہ فریاد، نہ سوال۔ بس خاموشی سے بچے کو تھپکتی ہے۔
شاید وہ جان گئی ہے،
کہ عشق، دھرم اور دربار کے درمیان۔ خاموشی ہی سب سے بڑا جواب ہے۔

Facebook Comments HS