آخری رات کا صوفی


چمپئی عارض، کشادہ پیشانی چاہِ زنخداں مگر بھدا نہیں، سُتواں ناک، غلافی آنکھیں، گندمی رنگ، مسّیں ابھی پھوٹ رہی تھیں، سبزۂ خط میں لبِ لعل کی چمک اور عارض پر خال رکھنے والے شخص سے میری پہلی ملاقات ادارہ معین السلام بیر بل شریف میں داخلے کے پہلے روز ہوئی؛ یہ حضرت ندیم اشرف تھے۔ تعلیمی مہاجر کے لیے دوسرا شہر اوّل اوّل تو شہرِ خموشاں ہی ہوتا ہے ؛ شدہ شدہ ماحول میں رچ بس جاتا ہے، پہلا دن تھا، میں پریشان تھا، وہ خود میرے پاس آیا، حال پوچھا: ”کیا حال ہیں جناب کے؟“

”ٹھیک“
”کہاں سے تشریف آوری ہوئی؟“
” ضلع قصور سے۔“
”پھر تو ہمارے علاقے والے ہوئے“ ساتھ والے دوست کو مخاطب کر کے کہا۔

پہلی ملاقات اتنی سی ہوئی مگر بات کرتے ہوئے اس کی مسکراہٹ دل گیر ثابت ہوئی، آشنایانہ راہ و رسم ہو گیا۔ جمعہ کو چھٹی ہوتی تھی ناشتہ کرنے سے پہلے ہم دونوں گراؤنڈ کی زینت بن جاتے، خوب گپیں لگاتے اور مستقبل میں بڑا آدمی بننے کے خواب سجاتے، وہ مجھے ڈھارس بندھاتا میں اسے، کھیلتے تو ہم دونوں ایک ہی ٹیم کا حصہ ہوتے ؛ جب بھی وہ مخالف ٹیم میں کھیلا ہارنا ہمارا ہی مقدر ٹھہرا، بڑی تگَ و دَو کے بعد اسے اپنی ٹیم میں شامل ہونے پر آمادہ کر ہی لیتا۔

ادارہ میں کرکٹ کپ ہوا؛ ندیم، شعیب، احمد اور میں ایک ہی ٹیم کا حصہ تھے، سبق نہ سنانے کے سبب عصر کے بعد پڑھنے کے سزا وار ٹھہرے، اس نے اپنی تو سر سے چھٹی لی ہی، ساتھ ساتھ ایسی پٹّی پڑھائی کہ ہم تینوں کی بھی قسمت جاگ اٹھی، سنسنی خیز میچ ہوا، ہم ہار گئے، ندیم کے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں آبدار موتی تھے، چاروں کو تسلّی دیے جا رہا تھا،

”کچھ نہیں ہوتا، اگلی دفعہ انھیں ناکوں چنے چبوائیں گے۔“

چوتھا وہ خود تھا، سال بعد بہار کے موسم میں پھر بین الکلیات کرکٹ کپ ہوا، ایسی ڈھارس بندھی کے اس سال ہماری ٹیم سرخ رو ہوئی، تو وہ کہتا:

” کہا تھا نہ تم سے، محنت اور ہمت کا پھل ضرور ملتا ہے۔“

دو ماہ بعد گھر جاتا، چھٹیاں کر کے لوٹتا تو گھر سے والدہ کے ہاتھوں سے مرونڈا اور چوری بنوا کر لاتا اس کا گھر سے لوٹنا اس کے لیے فائدہ مند تو تھا ہی مگر ہمارے لیے بھی منافع بخش ثابت ہوتا۔ جلیبی والی دکان پر گئے، آرڈر دے کر جلیبی نکلوائی، اونچی دکان پھیکا پکوان، جلیبی توقّعات سے زیادہ بد مزہ نکلی؛ چاروں کھائے بھی جا رہے تھے، ترچھی آنکھوں سے ایک دوسرے کو دیکھے بھی جا رہے تھے، تو وہ کہتا تم تینوں کھاؤ میں ابھی کھانا کھا کے آیا ہوں۔

میری زبان میں لکنت یعنی عقدۃ اللسانی تھی، ادارہ کی بہترین تربیت کے سبب کوئی طالبِ علم ٹھٹھا نہ اڑاتا۔ کبھی کسی سے تلخ کلامی ہو جاتی اگر حریف کے پاس الفاظ کے وار ختم ہو جاتے تو ذاتیات پر اتر آتا اور اس عنایتِ خداوندی کا تمسخر اڑاتا تو وہ میرے حریف پر اس طرح برس پڑتا جیسے شور زدہ زمیں پر بارش، تجھے شرم نہیں آتی خدا کی عطا پر طعن و تشنیع کرتے ہو، تم جھوٹے ہو اگر تم سچّے ہوتے تو یوں نقلیں نہ اتارتے، ایسا برستا کہ حریف آب آب ہو کر اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا۔

اگر کوئی حفظِ قرآن کرتا، تو شکرانے کے طور پر شرینی تقسیم کی جاتی تھی، وہ اتنا زیادہ لائق تو نہیں تھا مگر شوق اور محنت سے پڑھتا، ساتھ یہ بھی اکثر کہا کرتا کہ میرے والد نے کہا ہے اگر تم حفظ کرو؛ تمھیں یہ انعام دوں گا، وہ چیز لے کر دوں گا اور پھر تمھاری خوشی پر میں فلاں فلاں چیزیں خدا کی راہ تقسیم کروں گا۔

17 رمضان المبارک تھی، شعیب کپڑے کی اوٹ میں کچھ لیے اجمیری بلاک کے سٹیج کے سامنے والی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا، میں سامنے سے نمودار ہوا پوچھا: ”یہ کیا ہے اور کس لیے؟“

اس نے کہا کہ ندیم کی طبیعت بہت خراب ہے، تجھے نہیں پتہ!

جواب دیے بغیر انھیں قدموں پر شعیب کے ساتھ پلٹا، تہ خانے میں پہنچے، گرمیوں میں دو لحاف اوڑھ کر کمرہ کی کُنج میں وہ چارپائی پر لیٹا ہوا تھا، لحاف چہرے سے اٹھایا، آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، ارد گرد حلقے پڑ چکے تھے اور رنگ زرد تھا، نقاہت سے اٹھ کر نہ بیٹھ سکا، لیٹا ہی گفتگو کرتا رہا ”یار! یرقان ہو گیا ہے، دعا کرنا“ طمانیت کے اظہار کے ساتھ اس جملے کو ادا کیا۔ 17 اور 18 رمضان المبارک کی درمیانی شب نمازِ تراویح ادا کرنے کے بعد ، ہم سب اس کے پاس بیٹھے رہے، وہ دنیا کو تیاگتا رہا، دنیا کو برا بھلا کہتا رہا، اچھے اعمال کی تلقین کرتا رہا، ساتھ یہ بھی کہتا:

” اگر کوئی اونچ نیچ ہو گئی ہو تو معاف کرنا، یہ دنیا ناپاک و غلیظ ہے، یہاں اکثر آدمی اپنے مفاد کے پیچھے اپنے حدود کو پائے مال کرتے ہوئے بہت کچھ کر جاتے ہیں۔ “

ایک دوسرے سے سب دکھ سکھ خوب سنتے سناتے رہے مگر یہ شمعِ محفل وہی تھا کیونکہ کہ اگر ندیم کی اس رات کی گفت گو کو بیان کیا جائے تو شاید تصوف پر کتاب تحریر ہو جائے پھر نقاہت کے سبب آواز میں دھیما پن اور لہجے کی آہستگی اس وقت دو آتشگی کا سامان تھی۔ سَحری کے وقت مجلس برخاست ہوئی۔ تو ہم سب دوستوں نے کہا: ”آج کی رات تو، تُو صوفی بن گیا ہے“

18رمضان المبارک کو وہ اپنے والد کے ساتھ گھر چلا گیا، کیا پتہ تھا کہ یہ چراغ گل ہونے والا ہے؟ وہ بسترِ مرگ پر تھا؟ گھر پہنچا تو روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی، شعیب اور احمد آئے اور بتایا: ”آخری رات کا صوفی ہمیں داغِ مفارقت دے گیا“

احمد کا حفظ مکمل ہوا تو مٹھائی کے ساتھ آٹھ دس درجن کیلوں کی بھی لے کر آ گیا، اس غیر متوقع انتخاب کے متعلق پوچھا تو رو کر کہا: ”آخری رات کے صوفی کی خواہش تھی، اس خواہش کی تکمیل کے لیے یہ لے کر آیا ہوں۔“

غمِ یار میں بیٹھ کر میں نے بھی کچھ آنسو بہا لیے، آخری وقت کے صوفی نے 18 پارے حفظ کیے تھے باقی پارے حفظ کرے گا کیونکہ وہ اب بھی زندہ ہے، حفظ کر رہا ہے، فرشتے اسے حفظ کروا رہے ہیں، وہ ضرور مکمل کرے گا، اب تو اس کا سینہ اس نورِ قرآن سے مزین ہو گیا ہو گا کیونکہ ہم سب کا حفظ مکمل ہو چکا ہے ؛ نہیں، ابھی حفظ کر رہا ہے اور تاقیامت فرشتوں سے یہ کتاب پڑھتا رہے گا۔

Facebook Comments HS