برابری کی جنگ اور ریاستی غرور


یہ کیسا نظام ہے جہاں حق مانگنے والے کو مجرم سمجھا جاتا ہے؟ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں مطالبات سننے کے بجائے، سوال اٹھانے والے کو خاموش کرا دیا جاتا ہے؟ آج ہم ایک ایسے المیے کے شاہد ہیں جو صرف ایک صوبے یا چند افراد کا مسئلہ نہیں، بلکہ ریاست کے طرزِ عمل اور ترجیحات کا عکس ہے۔ بلوچستان میں سرکاری ملازمین کی جانب سے جائز مطالبات پر دیے جانے والے ردعمل نے ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کہیں ہم ایک ایسی ریاست تو نہیں بن گئے جو طاقت کو مکالمے پر ترجیح دیتی ہے؟

بلوچستان گرینڈ الائنس نے جو مطالبات اٹھائے، وہ کسی تعیش یا غیر حقیقی خواہش پر مبنی نہیں تھے۔ تنخواہوں میں اضافے کی اپیل ان حالات میں کی گئی ہے جہاں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، زندگی کی بنیادی ضروریات بھی پورا کرنا مشکل ہو چکا ہے، اور ریاستی ملازمین جن پر نظام کی گاڑی چلتی ہے، وہ اپنے بچوں کے اسکول، علاج، بجلی کے بل اور گھر کے کرائے جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ریاست کے وفادار سپاہی ہیں، لیکن بدقسمتی سے ان کے ساتھ سلوک ایک باغی یا قانون شکن سے بھی بدتر ہے۔

کیا یہ دوغلا پن نہیں کہ ایک طرف ہم ان عناصر سے مذاکرات کی وکالت کرتے ہیں جو برسوں تک اسلحہ اٹھائے ریاست کے خلاف لڑتے رہے، اور دوسری طرف ہم ان سرکاری ملازمین کو قید و بند کی صعوبتیں دیتے ہیں جو پرامن احتجاج کرتے ہیں؟ یہ سوال صرف بلوچستان تک محدود نہیں، یہ پورے نظامِ حکمرانی پر سوالیہ نشان ہے۔ یہ رویہ دراصل اس گہری خلیج کی نشاندہی کرتا ہے جو عوام اور اقتدار کے ایوانوں کے درمیان روز بروز گہری ہو رہی ہے۔

بجٹ کے دنوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ وزیروں، مشیروں، اور اشرافیہ کے لیے الاؤنسز، نئی گاڑیاں دفاتر کی تزئین بیرونِ ملک دوروں جیسے اخراجات کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔ وہی بجٹ جب ایک کلرک، ایک استاد ایک لیڈی ہیلتھ ورکر، یا ایک پٹواری کے مطالبے پر پہنچتا ہے تو خزانے کا دروازہ بند کر دیا جاتا ہے۔ اگر بجٹ میں فضول خرچیوں پر نظرثانی کی جائے تو ان ملازمین کے جائز مطالبات کو پورا کرنا کوئی ناممکن کام نہیں۔ اصل مسئلہ ترجیحات کا ہے، اور یہ ترجیحات طاقتور کے حق میں اور کمزور کے خلاف طے کی جاتی ہیں۔

ریاستیں طاقت سے نہیں، اعتماد سے چلتی ہیں۔ اگر ریاستی اہلکاروں کو ہی بے اعتمادی، حق تلفی اور جبر کا سامنا ہو تو پھر وہ کیونکر دیانت داری اور دلجمعی سے اپنی خدمات انجام دیں گے؟ جو لوگ دفتر کے میز پر بیٹھ کر نظام چلاتے ہیں، جو کلاس رومز، ہسپتالوں اور تھانوں میں عوام سے براہِ راست جڑے ہیں اگر وہی بے بس ہوں گے تو یہ نظام کب تک چل سکے گا؟

یہ وقت ہے خود احتسابی کا۔ احتجاج کرنے والوں کو طاقت کے ذریعے خاموش کرانے کے بجائے، ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کی بات سنی جائے۔ ان کی مشکلات کو تسلیم کیا جائے اور انصاف کے ساتھ ان کے مسائل کا حل نکالا جائے۔ ریاست کا اصل چہرہ اسی وقت نکھرتا ہے جب وہ اپنے کمزور شہریوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، نہ کہ انہیں دیوار سے لگا کر اپنی برتری کا مظاہرہ کرتی ہے۔

حقوق کی یہ جنگ صرف تنخواہوں یا الاؤنسز کی نہیں، یہ عزت نفس، برابری اور ریاستی شراکت کی جنگ ہے۔ اور اگر ہم نے یہ جنگ سنجیدگی سے نہ لی، تو یہ دراڑیں شگاف بن جائیں گی، اور پھر ان کا پر کرنا آسان نہیں ہو گا

Facebook Comments HS