ریڈیو پاکستان لاہور کے پروگرام منیجر سلیم بزمی صاحب سے ایک بات چیت (3)
” شعبہ موسیقی کی طرح ڈرامہ کے شعبے میں بھی کوئی اسٹاف آرٹسٹ نہیں، اناؤنسر جز وقتی آتے ہیں، ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ کے سامنے ایک ہی مقصد ہے کہ پیسے بچائیں“ سلیم بزمی صاحب نے کہا۔
” اب ایسا کیا کیا جائے کہ ریڈیو پاکستان پھر سے پورے زور و شور سے پروگرام کرے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” میرا میدان موسیقی ہے تو ہمارے نئے ڈی جی جب ریڈیو پاکستان لاہور کے دورے پر آئے تو میں نے انہیں بتایا کہ یہاں تو سرے سے کوئی میوزک اسٹوڈیو ہی نہیں جب کہ میوزک اور ڈرامہ لاہور اسٹیشن کی روایات ہیں۔ مجھے کہا گیا کہ آپ لکھ کے دیں کہ کیا کیا درکار ہے۔ میں نے ضروریات کے بارے میں لکھ دیا۔ جوں ہی کوئی پیش رفت ہو تو میں یہاں میوزک اسٹوڈیو دوبارہ شروع کروں“ ۔
” موسیقی کے نامور گھرانوں کے بڑے زیادہ تر اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان گھرانوں کے نئے بچے گا رہے ہیں۔ ان کو ہم یہاں ریڈیو پر لا کر ان کی آوازیں اور گائیکی محفوظ کریں گے۔ یہ ہمارا ورثہ ہے۔ مجھے یہ ڈی جی اچھے بندے لگے جو ابتدائی درجے کے ملازمین کے بھی مسائل معلوم کرتے ہیں“ ۔
” کیا آپ یہاں ریڈیو پاکستان لاہور میں اپنے کام سے مطمئن ہیں؟“
”میں نے اب تک جو کیا ہے میں اس پر مطمئن ہوں مشرق اور مغرب کی موسیقی کا امتزاج/فیوژن کر نا چاہتا ہوں۔ پھر پنجابی میوزک آج کل پوری دنیا میں ہِٹ ہے۔ مشرقی پنجاب میں سکھ لوگوں کے گیت عالمی شہرت پاتے ہیں۔ بلھے شاہ کا کلام مقبول ہو رہا ہے۔ پنجابی صوفی میوزک پر بھی کام کرنا چاہتا ہوں“ ۔
” میں بھی گاتا ہوں اور حال ہی میں اپنے ذاتی چار آئٹم پروڈیوس کیے ہیں۔ پچھلی حکومت میں جب شبلی فراز صاحب وزیر تھے تو انہوں نے پشتو کی ’ای لائبریری‘ کا افتتاح کرنا تھا۔ اس تقریب کے لئے ہیڈ آفس کے پاس بجٹ نہیں تھا کہ کسی آرٹسٹ کو ڈھائی سے پانچ لاکھ روپے دے کر بلواتے۔ یوں بحیثیت سنگر انہوں نے مجھے بلوایا۔ میں نے ڈیڑھ گھنٹہ اُن کے سامنے گایا جو نیشنل ہُک اَپ پر پورے ملک کے ریڈیو اسٹیشنوں سے نشر بھی ہوا“ ۔
نئے گلوکار
”یہ کہنا درست نہیں کہ ہمارے پاس با صلاحیت نئے لوگ اب نہیں رہے۔ ہمارے پاس بے شمار نئے لوگوں میں فطری استعداد موجود ہے۔ حامد علی خاں صاحب کے بیٹوں ولی، نایاب اور انعام کا گروپ ’راگا بوائز‘ ، پھر شفقت سلامت علی خاں صاحب کے بیٹے فیضان بہت اچھا گا رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ نئی نسل سے کام لوں“ ۔
آج کی شاعری
”موسیقاروں اور نئی آوازوں کا ذکر ہو چکا۔ کیا آپ نے ریڈیو پر کوئی گیت نگار بھی متعارف کروائے؟“
”ہمارے ادبی پروگراموں میں شعراء اب بھی تشریف لاتے ہیں۔ لیکن وہ زیادہ رابطہ نہیں رکھتے۔ ڈاکٹر جواز جعفری صاحب اور ناصر بشیر صاحب آتے ہیں۔ پھر جب کوئی نغمہ لکھوانا ہو تو اکرم فارانی صاحب سے لکھوا لیتے ہیں۔ جب میں سی پی یو میں تھا تو وہاں شہزاد احمد اور ناصر زیدی صاحبان خود آ کر ہمارے ساتھ بیٹھتے اور تازہ غزلیں اور کلام دیتے تھے۔ میرے پاس نئے شعراء کے مجموعے آتے ہیں لیکن شاعری کا معیار پہلے جیسے شعرا والا نہیں ہوتا“ ۔
نام کے ساتھ بزمی ہونا
” آپ نے اپنے نام کے ساتھ بزمی کیوں لگا رکھا ہے، اس کی کوئی خاص وجہ؟“
” کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید میں ملک کے نامور فلمی موسیقار نثار بزمی صاحب کا شاگرد ہوں۔ روحانی طور پر تو میں اُن کو اپنا استاد مانتا ہوں۔ انہوں نے پاکستانی فلمی دنیا میں پہلی دفعہ کورڈ سسٹم متعارف کروایا۔ پھر بزمی صاحب کے شاگردوں میں لکشمی کانت اور پیارے لال بھی ہیں جو بمبئی میں اُن کی زیر ہدایت منڈولین اور وائلن بجاتے تھے“ ۔
” اچھا تو پھر اور کیا وجہ ہے؟“ ۔ میں نے بے ساختہ پوچھا۔
” اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب میں علی پور چٹھہ میں تھا تو وہاں ایک عبدالقیوم بزمی تھے۔ کشمیری برادری سے تعلق تھا اور ان کی بیگم علّامہ اقبال کی کوئی عزیزہ تھیں۔ اِن بزمی صاحب کو رقص کا بہت شوق تھا اور اپنے زمانے میں اچھے رقّاص بھی رہے تھے۔ اب وزن زیادہ ہو جانے پر ان سے چلنا پھرنا بھی مشکل تھا لیکن وہ گانا لگا کر چارپائی پر بیٹھے بیٹھے ایسا رقص کرتے کہ مادھوری ڈکشٹ نے کیا کرنا ہے۔ اس زمانے میں نیا نیا وی سی آر آیا تھا۔ جیتندر اور متھن چکرورتی کے ڈانس مشہور تھے۔ اُن کو دیکھ کر مجھے بھی ٖڈانس کا شوق پیدا ہوا پھر اسی لئے میں بزمی صاحب کا شاگرد ہو گیا۔ ان کے نام کی مناسبت سے میں نے اپنے نام کے آگے بزمی لگا دیا۔ پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں مجھے شاعری کرنے کا شوق پیدا ہوا اور بزمیؔ ہی تخلص کر لیا۔ کالج میں شاعری کے میدان میں صرف ایک ہی چیز لکھی۔ میں فیضؔ، اقبالؔ اور غالبؔ کو پڑھ چکا تھا اس لئے جب میں نے خود شعر کہا تو وہ ان کے عشرِ عشیر کے برابر بھی نہیں تھا لہٰذا شاعری چھوڑ دی اور میوزک کی طرف آ گیا“ ۔
ڈاکٹر فقیر حسین ساگا اور میں
” جب میں بی اے میں تھا تو مجھے ایک دوست نے کہا کہ صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی یافتہ ( 1999 ) ڈاکٹر فقیر حسین ساگا (وفات 2002 ) صاحب ڈانس سکھاتے ہیں۔ مجھے ہیرو بننے کا شوق تھا ایک دن میں ان کے پاس پونچھ روڈ چلا گیا اور ان کا شاگرد ہو گیا۔ وہ اپنے ڈرائنگ روم میں لڑکوں لڑکیوں کو ڈانس سکھاتے تھے۔ میں نے بھی پاؤں کے ساتھ ’تا تھئی تھئی تت‘ شروع کر دیا۔ ان کے انتقال تک میں باقاعدہ ان سے سیکھتا رہا۔ مجھے کتھک اور بھارت ناٹیئم بھی آتا ہے۔ بھنگڑا، لیوا اور ناگن ڈانس بھی کر لیتا ہوں“ ۔
” کیا آپ نے موسیقی کی صنف ٹپّہ کو کسی فنکار سے گوایا؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” ٹھمری اور دادرا کے مقابلے میں موسیقی کی قسم ’ٹپّہ‘ خاصی دشوار ہے۔ اس میں سانس لینا بھی مشکل ہوتا ہے۔ کلاسیکل گلوکار بہت کم ٹپّہ گاتے ہیں۔ آج کل تو کوئی گاتا ہی نہیں۔ میں نے ٹپّہ اپنے استاد اور ریڈیو پاکستان لاہور کے کلاسیکل موسیقی کے ریسرچ سیل کے انچارج، استاد غلام حیدر خاں صاحب سے کروایا تھا۔ اُن کے علاوہ یہ صنف پھر کسی نے نہیں گائی“ ۔
خاں صاحب غلام حیدر خاں اور موسیقی پر کتابیں
” غلام حیدر خاں صاحب نے موسیقی پر سات کتابیں لکھیں۔ ان میں ’تزکیہ موسیقی‘ اور ’سو اَچھُوپ راگ‘ قابلِ ذکر ہیں۔ برِ صغیر پاک و ہند میں موسیقی کی جو کتاب رائج ہے وہ دو حصوں پر مشتمل ’معارف النغمات‘ ہے۔ یہ ٹھاکر نواب علی خاں اور بھات کنڈے نے مل کر لکھی۔ اس میں 10 ٹھاٹھوں کو بیان کیا گیا اور 158 راگ ذکر کیے گئے ہیں۔ خاں صاحب غلام حیدر خاں نے اپنی کتاب ’سو اچھوپ راگ‘ میں کتاب ’معارف النغمات‘ کے بیان کردہ 158 راگوں میں سے ایک بھی راگ شامل نہیں کیا۔ اُنہوں نے وہ اچھوپ راگ لکھے جو ’معارف النغمات‘ میں موجود نہیں
تھے۔ پھر انتقال سے کچھ عرصہ قبل اُن کی آخری کتاب ’32 ٹھاٹھ کا نظامِ موسیقی‘ آئی۔ جبکہ ’معارف النغمات‘ میں 10 ٹھاٹھ تھے۔ غلام حیدر خاں صاحب کے بقول جنوبی بھارت میں مروجہ 72 ٹھاٹھ ہیں۔ عالمی مروجہ کی بورڈ کے 12 سُر ہوتے ہیں۔ اس کے مطابق انہوں نے 32 ٹھاٹھ بنائے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر کوئی آج کل کے مروجہ کی بورڈ سے 33 واں ٹھاٹھ بنا کے مجھے دکھائے تو میں اس کا گنڈا بند شاگرد ہو جاؤں گا۔ استاد غلام حیدر خاں صاحب کی یہ کتاب ’32 ٹھاٹھ کا نظامِ موسیقی‘ بھارت میں بھی مقبول ہوئی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں 32 ٹھاٹھوں میں ہر ایک ٹھاٹھ کے تین تین راگ بھی لکھ دیے“ ۔
کلاسیکل فنکار
” میں نے اندازہً تمام ہی کلاسیکل فنکار جیسے گوالیار گھرانے کے استاد غلام حسین شگن صاحب (وفات 2015 ) ، قادر علی شگن ( وفات 2021 ) ، پھر استاد قادر علی شگن صاحب کے چھوٹے بھائی استاد مظہر حسین شگن جو ریڈیو پاکستان لاہور کے اسٹاف آرٹسٹ رہے۔ یہ بنیادی طور پر سرود نواز ہیں اور ساتھ ہی رباب اور منڈولین بھی کلاسیکل انگ میں بجاتے ہیں۔ انہوں نے میرے گانوں میں بھی ساز بجائے اور سی پی یو سے ریٹائر ہوئے“ ۔
” میں نے پٹیالہ گھرانے کے بڑے فتح علی خاں صاحب ( وفات 2017 ) اور حامد علی خاں صاحب، شرافت علی خاں صاحب وغیرہ کے کلاسیکل آئٹم کیے۔ حسین بخش گلو صاحب کو کافی ریکارڈ کیا۔ پھر مبارک علی خاں صاحب، فتح علی خاں حیدرآبادی کی ٹھمریاں کیں۔ رجب علی جب برطانیہ سے آتے تو میں ان سے لائٹ غزل اور گیت ریکارڈ کروا لیتا تھا۔ کلاسیکل آئٹم براڈکاسٹنگ ہاؤس سے لائیو ریکارڈ کر کے اگلے دن نشر کرتے تھے۔ یہاں ہم روزانہ 6 آئٹم صدا بند کرتے۔ اِن میں کسی خاں صاحب کی آواز میں 15 منٹ کے دو کلاسیکل آئٹم اور 2 آئٹم لائٹ کے۔ جمعہ کے روز 2 آئٹم غزل گیت اور 2 ہی لوک گیت۔ اس طرح روزانہ 6 چیزیں ریکارڈ ہوتیں۔ ہر جمعہ کو قوّالی بھی ریکارڈ ہو کر اسی روز نشر بھی ہوتی۔ میرے پاس مختلف قوّال آتے جن کو میں شیڈول کرتا۔ ہر طرح کی موسیقی کا باقاعدہ ماہانہ شیڈول بنتا تھا۔ میں نے تین سال ہر ماہ یہ آئٹم کیے، یہ سب 2017 تک ہوتا رہا۔ پھر ریڈیو پاکستان کا مالی زوال شروع ہو گیا۔ آئٹم کم ہوتے ہوتے اب مہینے میں 4 آئٹم کرتے ہیں۔ ابھی ہم نے ڈی جی صاحب کے کہنے پر جیلانی پارک اور گریٹر اقبال پارک میں ریڈیو پاکستان کا اسٹال لگایا۔ یہاں ہم نے لائیو میوزک شو کیے“ ۔
سماجی رابطے اور ریڈیو پاکستان
” اب ریڈیو کا سارا کام ہمارے سوشل میڈیا پر آ رہا ہے۔ پبلسٹی ہو رہی ہے۔ ٹیوٹر، انسٹاگرام، یو ٹیوب اور فیس بُک پر یہ پروگرام پسند کیے جا رہے ہیں۔ ہمارا زیادہ رجحان اِسی طرف ہے۔ ہم نے پوڈکاسٹ براڈکاسٹنگ شروع کی ہے۔ کیمرے کے ساتھ سوشل میڈیا کے لئے شفقت سلامت علی خاں صاحب کے 4 پروگرام ریکارڈ کیے ہیں۔ یہ پندرہ پروگراموں کی سیریز ہو گی“ ۔
” میں نے ریڈیو پاکستان لاہور میں اپنی شروعات غلام علی صاحب جو میرے استاد بھی ہیں، غلام عباس صاحب، حامد علی خاں صاحب، رجب علی، پرویز مہدی (وفات 2005 ) ، اسد امانت علی خاں (وفات 2007 ) کو ریکارڈ کرنے سے کی تھیں۔ پھر انور رفیع، علی رضا خاں، شاہدہ منی، سائرہ نسیم، شبنم مجید، فریحہ پرویز وغیرہ کو بھی ریکارڈ کیا۔ ارم حسن جو طارق عزیز کے نیلام گھر میں میزبان تھی، اس کا بھی نغمہ کیا۔ ملتان کے سخاوت ڈھیڈی کے بھی ہم نے یہاں لائیو شو کروائے۔ پھر ایک آرٹسٹ زاہدہ نذر کو ریکارڈ کیا“ ۔
” پھر ایک پرانی گلوکارہ ممتاز بیگم کو صدا بند کیا۔ پھر خورشید بیگم جو بعد میں ہمارے ہاں کنٹریکٹ پر آ گئی تھیں۔ وہ بزرگ ہو چکی تھیں۔ میں اس وقت سی پی یو میں تھا۔ انہوں نے مجھے اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ ہر عید کے موقع پر اپنے پرس سے 10 روپے کا نوٹ نکال کر عیدی دیتیں! نذیر بیگم کو بھی میں نے ریکارڈ کیا۔ اعجاز قیصر صاحب اور بہت سے دوسروں کی بھی آوازیں صدا بند کیں۔ اب ہم نے ان ریکارڈ نگ کو ڈیجیٹلائز کر دیا ہے“ ۔
ریڈیو پاکستان لاہور کا تاریخی پیانو
” یہاں ایک پیانو رکھا ہوا ہے۔ کچھ اُس کی تاریخی اہمیت کے بارے میں بتائیں؟“ ۔ میں نے پوچھا۔
” جی ہاں یہاں ایک نہیں بلکہ 2 پیانو تھے۔ ایک ماسٹر صادق صاحب بجاتے تھے۔ تو یہ پیانو جو آپ نے دیکھا اُن ہی ماسٹر صاحب سے منسوب ہے۔ لیکن میرا خیال ہے یہ پیانو ریڈیو پاکستان لاہور کو گورنر ہاؤس سے عطیہ ہوا ہے جو اُس وقت کے آل انڈیا ریڈیو لاہور کو لیڈی لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے عطیہ کیا تھا۔ فی زمانہ تو کوئی بھی اس پیانو کی ٹیوننگ کرنے والا لاہور میں موجود نہیں! ہم نے ایک یادگار کے طور پر اسے رکھا ہوا ہے“ ۔
” یہ پیانو بس یونہی رکھا ہوا ہے۔ کہیں بھی کوئی تحریر نہیں ہے کہ اس پیانو کی کیا تاریخ ہے اور یہ کیوں یہاں اسٹوڈیو کی جانب راستے میں رکھا ہوا ہے؟“ ۔ میں نے کہا۔
” ہاں بالکل اس کی تاریخی اہمیت اور یہ کس کس کے زیرِ استعمال رہا ضرور لکھا ہونا چاہیے۔ میں اس بیچ 5 سال سرگودھا میں اسٹیشن ڈائریکٹر تعینات رہا۔ جب واپس آیا تو لاہور میں میوزک بالکل نہیں ہو رہا تھا۔ ’کرونا‘ بھی اس کی ایک بڑی وجہ تھی۔ مجھے واپس آئے سال ہوا ہے او ر اب ہم میوزک کر رہے ہیں۔ ہم نے کلاسیکل اور ’فوک‘ شروع کیا ہے۔ یہ عاشق لوہار صاحب جو آپ کے ساتھ بیٹھے ہیں یہ صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی ( 1979 ) یافتہ عالم لوہار صاحب کے شاگرد ہیں۔ میں نے آج ان کو صدا بند بھی کیا اور انہوں نے جیلانی پارک میں ہمارے اسٹال پر اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔ جہاں ہم اپنی کی گئی پروڈکشن محفوظ کر رہے ہیں وہیں ہم نئی پروڈکشن بھی شروع کر رہے ہیں۔ اس میں موسیقی کی تمام اصناف شامل ہیں۔ جو ریڈیو پاکستان کی ایک روایت تھی اسے ہم نے پھر سے بحال کیا ہے۔ اب ہم ریڈیو پاکستان میں موسیقی کی نشاطِ ثانیہ کی کوشش کر رہے ہیں“ ۔
پروگرام منیجر کے دفتر میں میوزک پروڈیوسر، استاد ثروت علی خاں صاحب بھی آ گئے۔ میری حضرت سے پہلے کی ملاقات تھی۔ رسمی دعا سلام کے بعد سلیم بزمی صاحب نے اِن کی جانب دیکھتے ہوئے کہا:
” ان کے والد، استاد تصدق علی خان صاحب اور دونوں چچاؤں اختر علی خان اور ذاکر علی خان کا کلاسیکل میں نے ریکارڈ کیا۔ ان کے چچا ذاکر علی خان صاحب کی کافیاں بھی صدا بند کیں۔ تصدق علی خان صاحب نے کمپوزر کی حیثیت سے میرے ساتھ بہت کام کیا ہے“ ۔ واضح رہے کہ موسیقی کے شام چوراسی گھرانے کے استاد ثروت علی خاں صاحب کے والد استاد تصدق علی خان صاحب، استاد نزاکت علی خان اور سلامت علی خان کے چھوٹے بھائی تھے۔
آہنگ ِ خسروی
” ریڈیو پاکستان لاہور سے کلاسیکی موسیقی کا پروگرام ’آہنگِ خسروی‘ کیا اب بھی نشر ہوتا ہے؟“
” ہمارا کلاسیکل پروگرام ’آہنگِ خسروی‘ مسلسل نشر ہو رہا ہے خواہ وہ ریکارڈنگ کی صورت میں ہو یا کوئی نیا آئٹم پیش کیا جائے۔ ابھی شفقت سلامت علی خان صاحب کے چار پوڈکاسٹ انٹرویو کیے ہیں جو اسی پروگرام میں چلیں گے“ ۔
ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم
ریڈیو پاکستان لاہور، دھُر پت اور ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم لازم و ملزوم ہیں۔ کچھ ان کے بارے میں بتائیے؟ ”۔ میں نے سوال کیا۔
” ُدھرپت کی گائیکی بہت پرانی ہے۔ تال ونڈی گھرانے والے اس کا ورثہ لے کر چلے ہیں۔ روشن آرا بیگم ( 1917 سے 1982 ) نے تو زیادہ خیال گائیکی گایا ہے۔ میرے ریڈیو پاکستان سے منسلک ہونے سے پہلے وہ وفات پا چکی تھیں۔ چوں کہ عبد الکریم خاں صاحب کی وہ شاگرد اور عزیزہ بھی تھیں، اس لئے ان کا گانا سنیں تو ایسا لگتا ہے کہ کوئی بہت بڑے خاں صاحب گا رہے ہوں۔ راگوں اور گائیکی پر روشن آرا بیگم کو عبور حاصل تھا، اُن کی گَمک، پاٹ، تان، راگ کا چلن اور آستان بے مثال تھا۔ وادی، سم وادی کا وہ اتنا خیال رکھ کر گاتی تھیں کہ کیا کوئی بڑے سے بڑا گلوکار رکھتا ہو گا“ ۔
” میں نے سنا ہے کہ جب روشن آرا بیگم ریڈیو آتیں تو اسٹیشن ڈائریکٹر خود انہیں لینے آتے؟“ میں نے سوال کیا۔
” جی ہاں یہ درست ہے۔ اسٹیشن ڈائریکٹر انہیں لینے خود دروازے پر جاتے۔ ریڈیو کی گاڑی روشن آرا بیگم کو لینے اور چھوڑنے جاتی تھی۔ اُن کے آنے سے پہلے اسٹوڈیو میں سفید چادریں بچھ جاتیں۔ اُن پر بیٹھ کر وہ گانا صدا بند کرواتی تھیں۔ میں نے تو ان کے گانوں کی ریکارڈنگ سنی ہے۔ کیا خوبصورت راگ اُتارتی تھیں۔ برِ صغیر میں ایسی کوئی دوسری عورت نہیں اُن کی ایسی زبردست گائیکی تھی“ ۔
غصّہ اور موسیقی
” آپ کو غصّہ آتا ہے یا نہیں؟ اس پر بات کریں“ ۔ میں نے ایک چکر والا سوال کیا۔
” جب سے میرا گانے سے رشتہ جُڑا تب سے مجھے ایسے لگتا ہے جیسے کسی نے مجھ سے میرا غصّہ چھین لیا ہے اب مجھے غصّہ نہیں آتا۔ اگر آئے بھی تو وہ اتنی شدّت کا نہیں ہوتا جو ایک عام آدمی کو آتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی نے میرا پِتّہ نکال لیا ہے۔ کہتے ہیں پَتّے سے غصّہ آتا ہے۔ اختر حسین اکھیاں صاحب کے ساتھ میں نے بہت کام کیا وہ کہتے تھے کہ گلوکار کا دل اس کے گلے میں ہوتا ہے۔ یعنی گانے میں کس قدر احساسیت ہوتی ہے۔
(جاری ہے )













