کیا پاکستانی اداکاروں کو بھارتی فلموں میں کام کرنا چاہیے؟


حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم سردار جی 3 کا ٹریلر، جس میں پاکستان کی ابھرتی ہوئی اداکارہ ہانیہ عامر اور بھارت کے مشہور گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ مرکزی کرداروں میں ہیں، ایک بار پھر اس پرانے مگر اہم سوال کو زندہ کر گیا ہے :

کیا پاکستانی اداکاروں کو بھارتی فلم انڈسٹری کے ساتھ کام کرنا چاہیے جب دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی و ثقافتی فضا اتنی کشیدہ ہے؟

یہ ٹریلر پاکستان اور پنجابی بولنے والے عالمی ناظرین میں خوش دلی سے سراہا گیا، لیکن بھارتی میڈیا، دائیں بازو کے گروہوں اور عوام کے ایک بڑے طبقے نے شدید ردعمل دیا۔

یہ تنقید صرف فلم پر نہیں، بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگی کشیدگی کے تناظر میں ایک پاکستانی اداکارہ کی موجودگی کو ’قومی غیرت‘ کے منافی قرار دیا گیا۔

گزشتہ کچھ مہینوں میں لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں، زبانی جنگ، اور قومی سلامتی کے بیانیے نے دونوں اطراف ماحول کو خاصا کشیدہ کر دیا ہے۔ ایسے وقت میں ایک مشترکہ فلمی منصوبہ، چاہے کتنا ہی فنکارانہ کیوں نہ ہو، کچھ بھارتی طبقات کو سخت ناگوار گزرا۔

سوشل میڈیا پر #BoycottSardarJi 3، #BanPakArtists جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے، اور پاکستانی فنکاروں کے خلاف نفرت انگیز تبصرے دیکھنے کو ملے۔ بعض گروہوں نے تو فلم کی ریلیز کو بھارت کی ”قومی سلامتی“ کے خلاف قدم قرار دے دیا۔

ایک بار پھر، سیاست نے فن کو مات دے دی۔

یہ صورتحال نئی نہیں۔ ہم نے اس جیسے کئی واقعات پہلے بھی دیکھے ہیں۔ ماہرہ خان، جو شاہ رخ خان کے ساتھ رئیس میں جلوہ گر ہوئیں، فلم کی پروموشن مہم سے مکمل طور پر نکال دی گئیں۔ فواد خان، جنہوں نے کپور اینڈ سنز اور اے دل ہے مشکل جیسی فلموں سے شہرت پائی، کو اچانک پس منظر میں دھکیل دیا گیا۔ ان کے پوسٹر پھاڑے گئے، مظاہرے ہوئے، اور ایک پورے ملک کے فنکاروں کو صرف ان کی شناخت کی بنیاد پر مسترد کر دیا گیا۔

تو سوال یہ ہے :

آخر پاکستانی اداکار ایک ایسی انڈسٹری سے کیوں جڑے رہنے کی کوشش کرتے ہیں جو موقع پڑنے پر انھیں پلک جھپکتے میں دھتکار دیتی ہے؟

بھارتی سینما کا جادو

سمجھنا مشکل نہیں کہ بھارتی فلم انڈسٹری پاکستانی فنکاروں کے لیے کیوں کشش رکھتی ہے۔ یہ ایک وسیع پلیٹ فارم ہے، بین الاقوامی شہرت کا ذریعہ، اور ایسا اسٹیج جس پر موجودگی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کی فلمی صنعت، باوجود ترقی کے، ابھی اس معیار تک نہیں پہنچی۔

مگر یہ سب کچھ کس قیمت پر؟

جب کوئی پاکستانی فنکار بھارتی فلم میں کام کرتا ہے، تو وہ پہلے سے جانتا ہے کہ اس کی موجودگی مشروط ہے۔ امن کی حالت میں قابل قبول، اور تناؤ کے وقت مکمل طور پر ناقابل برداشت۔ محبت اگرچہ عوامی سطح پر دکھائی دیتی ہے، مگر انڈسٹری کا رویہ ہمیشہ نازک، وقتی اور غیر یقینی رہا ہے۔

احترام دو طرفہ ہونا چاہیے

تشویش کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی فنکاروں کو بھارت میں مستقل عزت، تحفظ یا جگہ نہیں ملتی۔ بھارتی فنکار جیسے نصیر الدین شاہ، اوم پوری، اور شبانہ اعظمی پاکستان آ کر کھلے دل سے قبول کیے گئے، مگر یہی جذبہ بھارت میں پاکستانی فنکاروں کے لیے کم ہی نظر آتا ہے۔

اکثر پاکستانی اداکار انتہا پسند گروہوں، شدت پسند میڈیا، اور سیاست زدہ بیانیے کی زد میں آ جاتے ہیں، چاہے ان کی پرفارمنس کتنی ہی معیاری کیوں نہ ہو۔

شہرت یا خودداری؟

یہ تنہائی یا شدت پسندی کی دعوت نہیں، بلکہ خودداری اور عزت نفس کی بات ہے۔ فن، موسیقی اور سینما کی کوئی سرحد نہیں ہونی چاہیے، لیکن فنکار کو وہ ماحول ملنا چاہیے جہاں اسے عزت کے ساتھ قبول کیا جائے، محض برداشت نہ کیا جائے۔

پاکستان میں ہانیہ عامر جیسی اداکارائیں ستاروں جیسا مقام رکھتی ہیں۔ ان کا کام سراہا جاتا ہے، پروجیکٹس ملتے ہیں، فالوورز لاکھوں میں ہیں، اور تخلیقی آزادی بھی ہے۔ تو کیا وہ واقعی ایسی جگہ کام کرنے کی محتاج ہیں جہاں ان کی قومی شناخت ہی سب سے بڑی رکاوٹ بن جائے؟

یہ مسئلہ صرف انڈیا اور پاکستان کا نہیں، بلکہ عزت نفس اور انحصار کا ہے۔ کیا صرف عالمی شہرت حاصل کرنے کے لیے خودداری کو داؤ پر لگا دینا درست ہے؟

آگے کا راستہ

پاکستانی شوبز انڈسٹری میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز، بین الاقوامی شراکت داریاں، اور دیاسپورا کی بڑھتی ہوئی دلچسپی نے ہمارے فنکاروں کو کئی نئے مواقع دیے ہیں۔ اب بھارتی انڈسٹری کی طرف دیکھنے کی کوئی مجبوری نہیں۔

ترکی، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور کینیڈا جیسے ملکوں میں غیر سیاسی ماحول میں شاندار کام کیا جا سکتا ہے۔ جہاں فن کو سیاست کا غلام نہیں بنایا جاتا۔

جب تک بھارتی انڈسٹری پاکستانی فنکاروں کو مکمل احترام اور تحفظ دینے کے لیے تیار نہیں، ایسے منصوبے ہمیشہ متنازع، عارضی، اور جذباتی طور پر مہنگے ثابت ہوں گے۔

ہانیہ عامر کی موجودگی سردار جی 3 میں ایک فنکارانہ ہم آہنگی کی علامت ہونی چاہیے تھی، لیکن اس نے ایک بار پھر دکھا دیا کہ پاک۔ بھارت ثقافتی تعلقات کتنے نازک، اور بھارت میں پاکستانیوں کے لیے جگہ کتنی محدود ہو چکی ہے۔

اسکرین پر چاہے ہانیہ کی کارکردگی شاندار ہو، مگر سوال اپنی جگہ موجود ہے :
یہ کامیابی حاصل کرنے کی قیمت کیا ہے؟

اب وقت ہے کہ پاکستانی فنکار سوچیں۔ صرف مواقع کے بارے میں نہیں، بلکہ ان اقدار کے بارے میں بھی جو وہ خود سے جوڑنا چاہتے ہیں۔

وقار کے بغیر حاصل کی گئی شہرت محض لمحاتی ہوتی ہے،
لیکن خودداری، استقامت اور عزت کے ساتھ بنی ہوئی میراث۔ ہمیشہ باقی رہتی ہے۔

Facebook Comments HS