ایران کے خلاف موساد اور سی آئی اے کی کثیر الجہتی جنگ


13 جون کو ایران پر ہونے والے اسرائیلی حملے کے لیے صیہونی خفیہ ایجنسی موساد اور امریکی سی آئی اے نے سالوں تیاری کی، جس کے تحت ایران کے اندر مقامی اور غیر ملکی ایجنٹوں کا ایک خفیہ نیٹ ورک قائم کیا گیا۔ ڈرون میں استعمال ہونے والے پرزوں کو خفیہ طریقے سے ایران اسمگل کیا گیا، جہاں خفیہ زیرزمین فیکٹریوں میں ان پرزوں کو جوڑ کر سیکڑوں مائیکرو ڈرون بنائے گئے۔ موساد نے سی آئی اے کی مدد سے تہران میں خفیہ ڈرون بیس تیار کی، جہاں سے 13 جون کے ابتدائی حملے کا آغاز ہوا، جس میں موساد ایجنٹوں نے ان مائیکرو ڈرونز کو ایران کے اندر سے آپریٹ کرتے ہوئے مختلف مقامات پر نصب فضائی دفاعی نظام کی بیٹریوں کو نشانہ بنایا۔

اس کے ساتھ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے آپریٹ ہونے والے ان مائیکرو ڈرونز نے ایران کے ٹاپ ملٹری کمانڈرز اور سائنس دانوں کو تہران کے مختلف مقامات پر ان کی رہائش گاہوں میں نشانہ بنایا۔ ائر ڈیفنس نظام کو ناکارہ بنانے کے بعد 200 اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے ایران کے اندر فوجی، معاشی و توانائی اہداف کو نشانہ بنایا۔

اسرائیل نے ایران کی ائرو اسپیس فورس کو نشانہ بنانے کے لیے ایک چال چلی، جس میں حملے سے پہلے ایک فرضی خطرہ پیدا کیا گیا، جس کا مقصد ایران کی ائرو اسپیس فورس کے کمانڈرز کو خفیہ زیرزمین بنکر میں میٹنگ پر مجبور کرنا تھا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، اسرائیل نے اس فرضی خطرے کو برقرار رکھا، تاکہ ایرانی کمانڈرز میٹنگ جاری رکھیں۔ اسی اثناء میں اسرائیلی طیاروں نے 1000 پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹنگ بموں سے زیر زمین بنکر میں جاری ایرانی ائرو اسپیس فورس کمانڈرز کی میٹنگ کو نشانہ بنایا، جس میں فورس کے کمانڈر جنرل حاجی زادہ سمیت درجن سے زائد اہم ایرانی کمانڈرز شہید ہو گئے۔

اس آپریشن کے لیے موساد اور سی آئی اے نے سالوں منصوبہ بندی کی۔ ایران اسرائیل جنگ بندی کے بعد موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ برنیا نے سی آئی اے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ایران میں ہونے والا آپریشن موساد نے اپنے سب سے ’بڑے پارٹنر‘ سی آئی اے کے ساتھ مل کر انجام دیا ہے۔ اسرائیلی ٹی وی چینل آئی 24 نیوز پر دکھائی گئی ویڈیو میں ڈیوڈ برنیا نے موساد افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ”میں اپنے سب سے بڑے پارٹنر سی آئی اے کے لیے قدردانی اور تشکر کا اظہار کرنا چاہتا ہوں، جن کے ساتھ موساد نے مشترکہ سرگرمیوں اور آپریشنز کا مظاہرہ کیا۔ ساتھ ہی میں سی آئی اے کے سربراہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے موساد کی حمایت کی اور درست فیصلے پہنچائے، جن کی بدولت بالآخر یہ آپریشن ممکن ہو سکا۔

ڈائریکٹر موساد نے ایران میں جاری انٹیلی جنس پروجیکٹس کو جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران میں بدستور ان کا نیٹ ورک موجود ہے۔

ڈیوڈ برنیا کے اعتراف سے ثابت ہوتا ہے کہ موساد اور سی آئی اے ایران میں نظام حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے طویل عرصہ سے مل کر کام کر رہے تھے اور امریکہ کا یہ کہنا کہ 13 جون کو ایران پر حملے کا فیصلہ صرف اسرائیل کا تھا اور واشنگٹن اس میں شامل نہیں تھا، سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ امریکہ نے مذاکرات کی میز سجا کر اسرائیل کو حملے کا گرین سگنل دیا، جس میں امریکی سی آئی اے شامل تھی۔ سی آئی اے کے موجودہ ڈائریکٹر جان ریڈ کلف اسرائیل نوازی اور امریکہ میں صیہونی لابی کے ساتھ قریبی تعلقات کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے نہ صرف غزہ میں اسرائیل کی طرف سے جاری نسل کشی کا دفاع کیا بلکہ وہ ایران کے خلاف بھی ماضی میں کیے جانے والے اسرائیلی حملوں کے بھی حامی رہے ہیں۔

دوسری طرف ایران نے حملے کے فوراً بعد موساد و سی آئی اے نیٹ ورک کے خلاف آپریشن شروع کیا، جو تاحال جاری ہے۔ ایران نے مقامی افراد کے ساتھ سیکڑوں غیر ملکیوں کو بھی گرفتار کیا ہے، جو موساد کے لیے کام کر رہے تھے۔ اس دوران متعدد خفیہ ورکشاپوں کا بھی انکشاف ہوا، جہاں موساد ایجنٹ اسمگل شدہ پرزوں سے حملہ آور ڈرونز تیار کرتے رنگے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ تہران میں سپاہ پاسداران انقلاب کے مرکزی کمانڈ سنٹر کے قریب ایک ورکشاپ میں میلوں لمبی سرنگ کا پتہ چلایا گیا۔ ایرانی پولیس نے اس ورکشاپ سے 400 افغان شہریوں کو گرفتار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی موساد اس ورکشاپ کو حملہ آور ڈرون تیار کرنے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔

ایران میں ہونے والے حالیہ حملوں اور سیکڑوں ایجنٹوں کی گرفتاری سے ایران میں اسرائیلی موساد کے وسیع نیٹ ورک کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے، جو ایک طویل عرصے سے کام کر رہا تھا۔ یہ نیٹ ورک سیکڑوں افراد کو بھرتی کرنے میں کامیاب رہا، ڈرون اور دیگر ہتھیاروں کے پرزے بڑی تعداد میں ایران اسمگل بھی کرتا رہا، جبکہ ایرانی خفیہ اداروں کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ یہ ایران کے کاؤنٹر انٹیلی جنس اداروں کی نہ صرف نا اہلی ہے، بلکہ ان کی استعداد اور کاؤنٹر انٹیلی جنس کے پورے سسٹم کی درستگی و موثریت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

اس جنگ میں اسرائیل ایک بار پھر ایران کے کمیونیکیشن سسٹم تک مکمل رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ اسرائیل نے ایران میں انٹرنیٹ، موبائل ایپلیکیشنز اور سیکیورٹی کیمروں کے ذریعے بھی جاسوسی کی۔ اہم شخصیات کی لوکیشنز کو موبائل فون اور موبائل ایپس کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کی وجہ سے دوران جنگ ایران نے تمام عسکری و غیر عسکری حکام کو موبائل فون ترک کرنے کی ہدایت کی۔ ایرانی عوام کو بھی مشہور سوشل میڈیا ایپس ڈیلیٹ کرنے کی ہدایت کی گئی، جنہیں اسرائیل جاسوسی کے لیے استعمال کر رہا تھا۔

13 جون کو اسرائیل نے ایران پر کثیر جہتی حملہ کیا، جس میں فضائی حملے شامل تھے، جن کے ذریعے اسلحہ کے گوداموں اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ ساتھ ہی سائبر جنگ کے ذریعے ایرانی فضائی دفاعی نیٹ ورک اور بجلی کے نظام کو درہم برہم کیا گیا۔ الیکٹرانک وار فیئر کے ذریعے ریڈار اور مواصلاتی نظام میں خلل ڈالا گیا۔ نفسیاتی جنگ کے تحت تصاویر اور معلومات میڈیا کو لیک کی گئیں اور ایرانی ٹاپ جرنیلوں اور سیاست دانوں کو موساد ایجنٹس نے براہ راست کال کر کے بیوی بچوں سمیت مار ڈالنے کی دھمکیاں دیں۔

نفسیاتی جنگ کا مقصد ایران میں خوف و ہراس اور مایوسی پھیلانا اور اہم افراد کو نظام حکومت سے بغاوت پر اکسانا تھا۔ خصوصی آپریشنز کے ذریعے بعض مقامات پر نشاندہی اور حساس معلومات اکٹھی کی گئیں اور موساد ایجنٹوں نے ایران کے اندر سے ڈرونز کے ذریعے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔ اسی طرح خلائی نگرانی اور جاسوسی کے ذریعے اہداف کی نشاندہی اور حملے کے بعد نقصانات کا جائزہ لیا گیا۔ سفارتی محاذ پر امریکا اور یورپی ممالک کے ساتھ روابط قائم کیے گئے تاکہ ایران کے ردعمل کو کنٹرول کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ، معاشی جنگ کے ذریعے ایرانی مالیاتی نظام اور فوجی فنڈنگ پر حملے کیے گئے تاکہ ایران کی جنگی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔ یہ سب اسرائیلی موساد اور امریکی سی آئی اے کے مشترکہ آپریشن کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد ایران میں رجیم چینج کر کے سپریم لیڈر و اہم فوجی کمانڈرز، سیاست دانوں، سائنس دانوں، ڈاکٹروں سمیت ہر شعبہ زندگی سے اہل دانش کا قتل عام کرنا تھا، جس طرح شام و عراق میں رجیم چینج آپریشن کے بعد کیا گیا۔

اسرائیلی وزیردفاع اسرائیل کتز نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران وہ ایران کے سپریم لیڈر تک نہیں پہنچ سکے، اس وجہ سے اسرائیل انھیں قتل کرنے میں ناکام رہا۔ اسرائیل و امریکہ رجیم چینج کے بعد ایران میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے، جس کے بعد شام کی طرح ایران کی تمام فوجی صلاحیت کو بھی تباہ کر کے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جاتا۔ لیکن ایرانی قوم کی مزاحمت اور اسرائیل میں کامیاب حملوں نے موساد اور سی آئی اے کے گٹھ جوڑ سے اس آپریشن کو ناکام بنا دیا۔

Facebook Comments HS