مفتی عبدالقوی، قندیل بلوچ، اور معاشرتی کینسر
جب ایک طرف مذہب کے خودساختہ ٹھیکیدار مفتی عبدالقوی اپنی عاجزی اور پرہیزگاری کا ڈھونگ رچا رہے تھے، تو دوسری طرف سوشل میڈیا پر ایک بے باک، بے خوف لڑکی قندیل بلوچ معاشرے کے دوغلے پن کا آئینہ لیے کھڑی تھی۔
ایک ہاتھ میں تسبیح، دوسرے میں موبائل۔ اور نیت میں کچھ اور۔
جب یہ دونوں کردار ایک ہی فریم میں آئے، تو پوری قوم کا اخلاقی کمپاس ہل کر رہ گیا۔
یہ کہانی صرف ایک ملاقات کی نہیں تھی، بلکہ اس منافقانہ سوچ کی تھی جو ہر چہرے کے پیچھے ایک اور چہرہ چھپائے بیٹھی ہے۔
مفتی عبدالقوی سے ہم سب ہی واقف ہیں۔
میں نے انھیں پہلی بار قندیل بلوچ کے ساتھ دیکھا تھا، شاید آپ میں سے بھی کچھ لوگوں کو یاد ہو۔ اُس وقت بہت زیادہ باتیں ہوا کرتی تھیں کہ اس بوڑھے مولوی نے آوارگی کا بازار گرم کیا، اور پھر سارے معاملے سے مکھن میں سے بال کی طرح نکل گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ قندیل بلوچ کے قتل کے بعد قوی صاحب کو نامزد ملزموں میں شامل کیا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے قندیل کے بھائی کو قتل پر اکسانے میں کردار ادا کیا۔
جب عدالت نے ان کی ضمانت منسوخ کی تو وہ فرار ہو گئے، لیکن پھر ہائی وے پولیس نے ان کو جھنگ کے قریب سے گرفتار کیا۔
بعد ازاں، وہ دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر رہا بھی ہو گئے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
ہمارے یہاں لوگوں کی یادداشت بہت کمزور ہے، باتوں کو تو چھوڑیں، لوگوں کو بھی یاد نہیں رکھا جاتا۔ شاید اس کی ایک وجہ سوشل میڈیا بھی ہے، جو مسلسل خبروں کی بوچھاڑ میں لگا رہتا ہے۔
بہرحال، دوستو! ہم بات کر رہے تھے مولوی عبدالقوی کی۔ دراصل مولوی عبدالقوی ایک شخص نہیں، بلکہ ایک سوچ ہے۔ اس جیسے لوگ ہر گلی کوچے میں موجود ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ اس دنیا کے غلیظ ترین جانور سے بھی دو قدم آگے ہیں کیونکہ وہ قرآن کی آیات کو اپنی مرضی اور مطلب کے مطابق استعمال کرنا جانتے ہیں۔
اگر آپ عبدالقوی کو ایک برانڈ کے طور پر دیکھیں تو آپ سمجھ جائیں گے کہ اس برانڈ کے لوگوں کی آنکھوں میں دوربین، خردبین اور ایکسرے سب کچھ لگا ہوتا ہے۔
ان کے سامنے عورت کا مطلب صرف اور صرف ”کچا گوشت“ ہوتا ہے۔
یہ ہر عورت پر اپنا کوئی پتا پھینکتے ہیں۔
کچھ عورتیں خود ہی ان کو ”بھائی“ یا ”انکل“ بنا کر بزرگی کا ڈھکن چڑھا دیتی ہیں،
کچھ ہمدردی میں یا شادی کے خوابوں میں آ جاتی ہیں،
اور ایک تیسری اور سب سے ہوشیار قسم بھی ہوتی ہے جو ان سے فائدہ اٹھا کر، پیسے لے کر، سوشل میڈیا کے لیے خاص قسم کی تصویریں لے کے ان کو کُتا بنا کر چھوڑ دیتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے ”ٹھرک کے کینسر“ کے شکار لوگوں کے کچھ خاص دوست بھی ہوتے ہیں جو ان کی مدد کے لیے ہر گھڑی تیار رہتے ہیں۔
یہ کسی مدرسے یا تعلیمی ادارے کے سربراہ بھی ہو سکتے ہیں، بہت بڑے دیالو بن کر کسی کی مالی مدد بھی کرتے ہوں گے، لیکن اپنے اندر ہر طرح کی غلاظت سموئے کامیاب زندگیاں گزار رہے ہوتے ہیں۔
اب معلوم نہیں آپ بھی یہی سوچتے ہیں یا نہیں، کہ آخر ان جیسے لوگوں سے نجات کیسے ممکن ہے؟
آپ سب بھی مشورہ دیں، اور اس معاشرتی کینسر کی روک تھام میں اپنا حصہ ڈالیں۔



مرحومہ فوزیہ عظیم المعروف قندیل بلوچ آپ کے خیال میں بہت بہادر اور بے باک ہوں گی۔
اگر ایسا ہے تو "اقلیم اختر عرف جنرل رانی” کو ہم کیوں آج تک کوستے ہیں۔ اس بے چاری نے کیا قصور کیا تھا۔
وہ تو پھر قندیل کی دادی ہوئی۔ جب کہ اقلیم اختر کی کوئی فحش، کوئی عریاں لباس میں تصویر کسی کے ریکارڈ میں موجود نہیں۔
–
قندیل کو جان سے مارنے یا تنگ کرنے یا تکلیف دینے کا ظاہر ہے کسی کو حق حاصل نہیں تھا۔ کسی مرنے والے کے گناہوں کو ویسے بھی میں زیر گفتگو لانا پسند نہیں کرتا اس لئے محض اتنا کہوں گا۔ مفتی قوی ہوں یا قندیل بلوچ اس سلسلے کے تمام لوگ جو شہرت کے بھوکے ہوتے ہیں "اور ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام” کی عملی تفسیر۔۔۔ یہ لوگ اس قابل ہوتے ہیں کہ انہیں محض نظر انداز کردیا جائے اتنا کہ یہ گمنامی میں کھو جائیں۔
–
باقی جہاں تک آپ کا قندیل کو بہادریا بے باک قرار دینا ہے ۔ دعا کرتا ہوں کہ آپ کی کوئی بیٹی یا بہن یا بھانجی بھتیجی بھی کسی دن ایسی بہادری کا مظاہرہ کرے اور انٹرنیٹ پر محض بکنی میں، یا نیم عریاں ویڈیو یا سیکسی آوازیں نکالتے ہوئے ویڈیو بنائے اور پاکستانی قوم سے وعدہ کرے کہ اگر وہ انڈیا کو کرکٹ میں ہرادیں گے تو اپ کے خاندان کی یہ قابل فخر بیٹی پوری قوم کے سامنے "اسٹرپ ٹیز” کرے گی۔
–
بہرحال آپ کے خاندان کی بچیوں کی قسمت اپنی جگہ، میری دعا یہی ہے کہ پاکستان کی بچیوں پر کبھی ایسا برا وقت نہ آئے کہ وہ چند پیسوں کے لئے آن لائن فحش گفتگو، یا عریاں لباس کا سہارا لے کر یا دوسروں کو بے عزت کرکے چار پیسے کمانے کی کوشش کریں۔
–
قندیل کی موت میں مفتی قوی کی بدنامی کو گھسیٹنا تو محض ایک بہانہ تھا۔ وگرنہ مرحومہ نے عمران خان اور بشری بی بی کے بارے میں جو گفتگو ان دنوں کی تھی وہ بھی کچھ کم متنازعہ نہیں تھی۔
–
ان دنوں بہرحال مرحومہ پاکستانی مسلمان خواتین کے نام پر ایک دھبہ تھیں اور کوئی ایسا قابل فخر کام نہیں کررہی تھی جس کے لئے اسے یاد رکھا جائے۔ رہے مفتی قوی تو وہ تو متعہ اور الکحل کے استعمال کوبھی جائز مانتے ہیں۔