بھوکا اور پراٹھے
جی ہاں ہم بالکل بھی عالمی صورت حال سے لا تعلق نہیں رہ سکتے کیونکہ ایک تو دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے اور دوسرا دنیا بھر میں کوئی بھی مسئلہ بالآخر مالی مسئلے کی شکل اختیار کر جاتا ہے اور اس کا اثر لا محالہ عالمی سطح پر پڑتا ہی ہے۔ ہم جو اسی گلوبل ویلج کے باسی ہیں اس وجہ سے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے، تاہم ایسا اثر بالواسطہ ہوتا رہتا ہے۔
دنیا بھر کی تمام تر سیاست اور ہر قسم کی سٹریٹجی کا محرک اور مقصد صرف اور صرف ان کے اپنے قومی مفادات (National interests) ہی ہوتے ہیں۔
ہم نئے نئے گاؤں سے دور اپنی زمینوں میں منتقل ہو گئے تھے۔ جہاں آبادی ابھی کم ہی تھی۔ اچانک ایک افواہ بڑے زور و شور سے پھیلنے لگی کہ ایک بلا رات کی تاریکی اور نماز فجر کے وقت تک پھرتی رہتی ہے۔ اور دو چار بندوں پر حملوں کی بھی بات ہونے لگی۔ بس پھر کیا تھا سب کے سب مغرب ہی سے گھروں تک محدود ہو جاتے۔ ایک رات کو ہم حجرہ میں بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے۔ کی بات بلا کی موجودگی اور اس کے حملوں پر آ گئی۔ اللہ بخشے میرے والد صاحب کو وہ کہنے لگے بلا ولا کوئی نہیں بس کسی کی اجل آئی ہوئی ہے۔ اور ٹھیک پانچ چھ دن بعد رات کی تاریکی ہی میں ایک مشہور بندہ قتل ہوا۔
ایران اسرائیل کی حالیہ جنگ کے کئی ظاہری اور پوشیدہ عوامل تھے اور ہر کسی کے اپنے قومی مفادات اس کے ساتھ وابستہ تھے۔ بظاہر ایران کو ایٹمی قوت بنانے سے روکنا تھا اور ایک دوسرے ایسے اسلامی ملک کا ایٹمی قوت بننا اسرائیل اور عالمی قوتوں کو ہر گز منظور نہیں ہے۔ جس کو ان کے اشاروں پر ناچنا کبھی بھی گوارا نہ ہو۔ ساتھ ہی پاکستان اور ہندوستان کی جنگ بندی کا کریڈیٹ لیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منہ میں عالمی امن کے نوبل انعام کے لیے پانی بھرنے لگا تھا۔ اور خیر سے پاکستان نے باضابطہ اور سرکاری سطح پر اس کا مطالبہ بھی کر ہی لیا۔ جیسے ہی ایران اسرائیل کی جنگ بندی کا اعلان صدر ٹرمپ نے کیا اسے باضابطہ طور پر اس نوبل انعام کے لیے نامزد بھی کیا گیا۔
مگر دنیا اور تمام بڑے ممالک یہ بات بھول گئے ہیں۔ کہ یہ تو برابر کی ٹکر تھی۔ اور ایران اسرائیل تو کیا امریکہ کو بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دے رہا تھا۔ ایسے میں جنگ بندی تو ہونی ہی تھی جلد یا بدیر۔ جنگ بندی کا حقیقی روپ یہ ہے کہ اسرائیل کو نہتے، کمزور، بے بس و لاچار فلسطینیوں اور خاص کر غزہ میں ان کی نسل کشی سے روکا جا سکے۔
ایران اسرائیل جنگ میں کون جیتا کون ہارا اور کس کے قومی مفادات کو تقویت ملی یا پوری ہوئیں۔ اس کے سامنے آنے کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔
پاکستان ان ملکوں میں سے ایک ہے جس کی اشرافیہ، حکومت اور عوام ہمیشہ ایک پیج پر نہیں ہوتے۔ اور تو اور ہمارے عوام کے منتخب نمائندے بھی منتخب ہو کر عوامی ترجمانی کی بجائے دوسرے طبقہ کی نمائندگی کا راگ الاپنے لگتے ہیں۔ ہم یہ بھی دیکھتے رہے ہیں کہ حکومتیں، اپوزیشن اور لوگ بھی خود ساختہ مسائل پیدا کر کے اس سے لوگوں کا ڈر، خوف، مذہبی، معاشی اور دیگر جذبات ابھارتے رہتے ہیں۔ اور اس طرح ساری توجہ اس کی جانب مبذول کرا کے، وہ بلا والے قصے کی طرح اس کے پس پردہ حقوق چھینتے اور مفاد حاصل کرتے رہتے ہیں۔
ایران اسرائیل کی جنگ سے ہماری حکومت، اشرافیہ وغیرہ کو کچھ فائدہ ہوا ہے یا نہیں یہ بھی وقت ہی ثابت کرے گا۔
البتہ اس دوران سرکاری نجی اور ذاتی سوشل، پرنٹ الیکٹرانک میڈیا نے شعوری، غیر شعوری بلکہ معذرت کے ساتھ بعض نے حماقت کے ساتھ ساری توجہ اس جانب موڑ لی اور عوام کی ساری توجہ اس جانب مبذول کراتے رہے۔ ایسے ایسے لوگ بھی تبصرے کرنے لگے تھے جن کا سرے سے یہ کام ہی نہیں تھا۔ وہ اپنی اصل ذمہ داری اور فرائض چھوڑ کے غیر متعلقہ امور میں الجھتے رہے کہ اس دوران ملک کا بجٹ پیش بھی ہوا اور منظور بھی ہوا۔ مگر شاید چند ایک ہی نے ہر شے کی گرانی، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، تنخواہوں اور پنشن، ٹیکسوں اور اس طرح دیگر متعلقہ امور پر اسی طرح زور و شور سے بات کی ہو یا سیاسی لوگوں نے مطلوبہ رد عمل ظاہر کیا ہو۔ ہر جگہ، ہر کہیں اور ہر جانب سے بس ایران، اسرائیل امریکہ وغیرہ کی پالیسیاں، اسلحہ، طاقت اور زور کی باتیں ہوتی رہیں۔ اپنے بے چارے اور پسے ہوئے عوام کو بھول ہی چکے ہیں۔ حالانکہ کہ اگر ہمارے عوام ہی ہماری قوم ہے تو ہمارے قومی مفاد بھی ان ہی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اس حقیقت پر آنکھیں بند کرنے سے یوں لگتا رہا جیسے موت کی دہلیز پر پڑے کسی مردے کے سرہانے یہ لوگ پراٹھے پکاتے رہے ہیں۔


