خاموش سسکیاں اور بوجھل دیواریں
پاکستانی معاشرہ بظاہر روایات، عزت، غیرت اور محبت کا امین کہلاتا ہے، لیکن اسی معاشرے کے اندر لاکھوں عورتیں روزانہ ایسے نفسیاتی، جسمانی اور جنسی تشدد سے گزرتی ہیں، جس کا ذکر کرنا بھی گناہ سمجھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے، یہ تشدد صرف جسم پر نہیں، بلکہ ذہن، وقار اور شناخت پر بھی کیا جاتا ہے۔ خواتین پر تشدد اور ہراسانی کا یہ معاملہ اب فرد یا خاندان کی سطح سے نکل کر ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے، جسے آئینی، قانونی، اخلاقی اور سماجی سطح پر فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
تشدد کی شکلیں اور ان کی جڑیں
پاکستان میں خواتین پر تشدد کی کئی شکلیں ہیں،
گھریلو تشدد (مار پیٹ، گالم گلوچ، نفسیاتی اذیت)
جنسی ہراسانی (دفاتر، تعلیمی ادارے، سڑکوں پر)
جبری شادیاں
غیرت کے نام پر قتل
جائیداد سے محرومی
ملازمت میں امتیازی سلوک
ان مظالم کی جڑیں صرف مرد کی بالا دستی میں نہیں بلکہ ایک ایسے سماجی ڈھانچے میں پیوستہ ہیں جہاں عورت کی آواز کو یا تو دبایا جاتا ہے یا اس کی آواز کو فحاشی، بغاوت، یا بے حیائی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
آئین پاکستان اور خواتین کا تحفظ،
آئین پاکستان میں خواتین کے تحفظ اور مساوی حقوق کی کئی دفعات موجود ہیں۔
آرٹیکل 25 ( 1 ) ۔
”تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں اور مساوی تحفظ کے حق دار ہیں۔“
آرٹیکل 25 ( 2 )
”ریاست کسی شہری کے ساتھ صرف جنس کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتے گی۔“
آرٹیکل 34۔
”ریاست عورتوں کی قومی زندگی کے تمام شعبوں میں مکمل شرکت کو یقینی بنائے گی۔“
آرٹیکل 9۔
”ہر شہری کو زندگی اور آزادی کا حق حاصل ہے، بشرطیکہ قانون اس سے محروم نہ کرے۔“
ان آئینی ضمانتوں کے باوجود، عملی صورت حال یہ ہے کہ خواتین کو بنیادی انسانی احترام بھی اکثر حاصل نہیں ہوتا۔ عزت کے نام پر قتل، کام کی جگہوں پر ہراسانی، اور پولیس کے رویے جیسے مسائل روز کا معمول بن چکے ہیں۔
قانونی ڈھانچہ اور اس کی کمزوریاں
2006 میں ”خواتین کی ہراسانی کے خلاف تحفظ ایکٹ“ اور 2010 میں ”پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ ایٹ ورک پلیس ایکٹ“ جیسے قوانین بنائے گئے۔ پنجاب، سندھ اور کے پی کے میں گھریلو تشدد کے خلاف الگ الگ قوانین بھی موجود ہیں۔
تاہم ان قوانین کا اصل مسئلہ ان کا نفاذ ہے۔ بیشتر خواتین کو قانون کے بارے میں علم ہی نہیں ہوتا، اور جنہیں علم ہوتا ہے وہ سماجی دباؤ اور عدالتی پیچیدگیوں کے باعث خاموشی اختیار کرتی ہیں۔ اکثر اوقات تو خود عورت کے گھر والے ہی انصاف کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
سماجی رویہ اور لوکل حقیقتیں
پاکستان جیسے ملک میں جہاں اکثر خاندانوں میں بیٹی کو بوجھ، اور بہو کو نوکرانی سمجھا جاتا ہے، وہاں خواتین کے حقوق کی بات کرنا کئی بار ”خاندانی بدنامی“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں، خواتین نہ صرف تعلیم سے محروم ہیں بلکہ کسی بھی ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر مزید تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔
اسی تناظر میں مقامی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں، سول سوسائٹی، اور مذہبی و سیاسی رہنماؤں کی خاموشی بھی لمحۂ فکریہ ہے۔
خواتین کا کردار اور ان کی مزاحمت
رغم تمام تر رکاوٹوں کے، پاکستان میں بے شمار خواتین نے اپنی جرات، تعلیم، اور بیداری کے ذریعے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ چاہے وہ مختاراں مائی ہوں یا عاصمہ جہانگیر، چاہے وہ گاؤں کی معلمہ ہوں یا عدالتوں میں انصاف کے لیے کھڑی وکیل۔ ان سب نے دکھایا کہ عورت محض مظلوم نہیں بلکہ مزاحمت کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔
ممکنہ اقدامات کی ضرورت ہے
1۔ تعلیم کا فروغ: خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے، کیونکہ باخبر عورت ہی اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہو سکتی ہے۔
2۔ قانون کا فعال نفاذ: پولیس اور عدلیہ کو خواتین سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کے لیے خصوصی تربیت دی جائے۔
3۔ محفوظ ماحول کی فراہمی: دفاتر، سکولوں، اور پبلک مقامات پر خواتین کے لیے محفوظ ماحول مہیا کیا جائے۔
4۔ لوکل کونسلز اور وومن پروٹیکشن سیلز کا قیام: دیہی سطح پر فوری رسپانس یونٹس قائم کیے جائیں۔
5۔ مردوں کی تربیت: خواتین کے مسائل صرف عورتوں کے نہیں، مردوں کی سوچ اور رویے میں تبدیلی لانا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ اب
وقت آ چکا ہے کہ ہم خاموشی کا روزہ توڑیں۔ خواتین پر تشدد اور ہراسانی نہ صرف فرد، خاندان یا علاقے کی بدنامی ہے، بلکہ یہ پورے معاشرے کی اخلاقی ناکامی کی علامت ہے۔ جب تک ہم اس مسئلے کو ایک قومی ایمرجنسی نہ سمجھیں، تب تک ہماری بیٹیاں، بہنیں، اور مائیں اسی طرح ظلم سہتی رہیں گی۔ کیونکہ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے آئین نے حق دیا ہے، قانون نے تحفظ دیا ہوا ہے، اب ہمیں معاشرتی ضمیر کو جگانا ہو گا۔


