اوزار سے الگورتھم تک تہذیب کا سفر


ابتدائی ارتقائی عمل میں، اوزار بنانے کی صلاحیت ہی وہ نمایاں خاصیت تھی جس نے انسان کو بود و باش میں کرہ ارض پر بسنے والے دیگر انواع سے ممتاز کر دیا تھا۔ اوزار سازی میں ہتھیار پہلا اہم قدم تھا۔ جب انسان نے درخت کی شاخوں سے لاٹھی بنائی، پتھر تراش کر نوکیلے اوزار بنائے، اور جسمانی ساخت میں خود سے زیادہ طاقتور جانوروں پر برتری حاصل کرنے کی کوشش کی۔ کھلے آسمان تلے یا غاروں میں رہنے والے دیگر جانوروں کے برعکس، انسان نے پتھروں کی دیوار پر لکڑی کی چھت ڈال کر زیادہ پر آسائش پناہ گاہیں تعمیر کر لی تھیں۔

ارتقائی سائنس کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ انسان کو دوسرے جانوروں پر حقیقی برتری صرف اُس وقت حاصل ہوئی جب اُس نے آگ کو دریافت کیا اور قابو میں لایا۔ آگ کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے دوسرے جانوروں کے مسکن جلا کر انہیں محفوظ پناہ گاہوں سے بے دخل کر دینا یا شکاریوں کو بھسم کر دینا، ایسی صلاحیت تھی جس سے دیگر جانور یکسر محروم تھے۔ آگ کی دریافت نے انسان کو خوراک، خاص طور پر شکار کو پکا کر کھانے کی لذت سے بھی آشنا کیا۔ پکا کر کھانے سے نہ صرف انسان کی جسمانی ساخت میں تبدیلی آئی بلکہ اس کی ذہنی کارکردگی میں بھی ارتقائی اضافہ ہوا۔ بعض ماہرین کے مطابق، صحت میں بہتری اور اوسط عمر میں اضافہ بھی پکی ہوئی غذا کھانے کا ہی نتیجہ تھا۔

آگ ہی کی بدولت انسان دھاتوں کی دریافت اور انہیں پگھلا کر اوزار بنانے کے فن سے آشنا ہوا۔ یوں پتھر کے دور کے بعد کانسی کے عہد کا آغاز ہوا۔ اب انسان نے زیادہ موثر ہتھیار ایجاد کر لیے جن میں لوہے کے ٹوکے، تیر اور نوکیلے خنجر شامل تھے۔ آہن گری (دھات کاری) کے اس فن نے انسان کو دیگر جانداروں پر ایک نئی اور دیرپا برتری عطا کر دی۔

کانسی کے دور میں اوزار سازی میں مہارت کے بعد، زراعت کا آغاز ہوا۔ دریاؤں کے کنارے بستیاں آباد ہوئیں۔ بستیاں بسانے اور زمینوں پر قبضے کے لیے، یا دوسروں کی جمع کردہ اجناس اور اشیائے ضرورت لوٹنے کے لیے، جتھا بندی کا سلسلہ شروع ہوا۔ لوہے اور تانبے کے ہتھیار منظم انداز میں استعمال ہونے لگے۔ بستیوں کو منظم کرنے اور جتھوں کو جان بازی پر آمادہ کرنے کے لیے مذہب کا سہارا لیا گیا اور موت کے بعد جزا و سزا کے تصورات کو عقیدے کا حصہ بنا دیا گیا۔ مشرق وسطیٰ میں نیل، دجلہ، فرات اور ہندوستان میں سندھ، گنگا اور جمنا کے کناروں پر مستقل بستیاں قائم ہوئیں اور منظم مذاہب کی بنیاد پڑی۔

انقلاب کی اگلی منزل اس وقت آئی جب انسان نے پہیہ ایجاد کیا۔ اس ایجاد نے انسانی طاقت اور نقل و حرکت کی رفتار دونوں کو کئی گنا بڑھا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تاریخ کو پہیہ کی ایجاد سے پہلے اور بعد کے ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ انسان نے روئے زمین پر جو ترقی کی ہے، اس کی بنیادیں آگ اور پہیہ کے استعمال میں پنہاں ہیں۔

جسے ہم صنعتی دور یا دورِ جدید کہتے ہیں، وہ درحقیقت آگ اور پہیہ کے ملاپ کا ہی نتیجہ ہے۔ کارخانہ ہو یا گاڑی، ہوائی جہاز ہو یا راکٹ سب کی تخلیق آگ (توانائی) اور پہیہ (حرکت) ہی پر انحصار کرتی ہے۔ ایٹم بم سے لے کر آواز کی رفتار سے تیز چلنے والے انجن اور چاند پر انسان کو پہنچانے والے راکٹ تک، سب آگ کی دریافت اور پہیہ جیسی بنیادی ایجادات کی مرہونِ منت ہیں۔

صنعتی انقلاب کا آغاز یورپ سے ہوا تو غذائی اجناس سے زیادہ خام مال کی ضرورت محسوس ہوئی، نیز صنعتی پیداوار بیچنے کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش شروع ہوئی۔ جب ہتھیاروں میں آگ (بارود) شامل ہوئی تو توپ خانہ وجود میں آیا اور فوج، جتھا داری سے آگے بڑھ کر، ایک منظم پیشہ ور ادارے کی شکل اختیار کر گئی۔ افریقہ، ایشیاء اور امریکہ پر قبضے کر کے نوآبادیاں (کالونیاں ) قائم کی گئیں جہاں سے خام مال حاصل کیا جاتا، لوگوں کو غلام بنایا جاتا یا تیار شدہ مصنوعات بیچی جاتی تھیں۔ مغربی سامراجی طاقتوں نے دنیا کو قومی ریاستوں میں تقسیم کیا جس کی بنیاد نسل، زبان اور اپنے تسلط کو برقرار رکھنے پر تھی۔

اب دنیا ارتقائی عمل میں ایک تیسرے انقلاب سے گزر رہی ہے جو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد شروع ہوا۔ معروف مفکر یووال نوح ہراری اس دور کو ”انسان کے دیوتا بن جانے کا زمانہ“ قرار دیتے ہیں۔ اب انسان بہت سی ایسی صلاحیتوں پر قادر ہے جو پہلے صرف دیوتاؤں یا مافوق الفطرت طاقتوں سے منسوب تھیں، جیسے موسم کی درست پیشین گوئی، بیماریوں کا قبل از وقت پتہ لگانا، گونگوں کو بولنے اور اندھوں کو دیکھنے کی صلاحیت فراہم کرنا۔

مورخ ول ڈیورانٹ کے مطابق، گاڑی سے لے کر جہاز تک، ہر بڑی قابل ذکر ایجاد جنگ کی ضروریات کی ہی مرہونِ منت رہی ہے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ بھی ابتدائی طور پر امریکی فوج نے جنگی اور عسکری مقاصد کے لیے تیار کروائے تھے۔ ان ایجادات کا سب سے بڑا اور مہنگا استعمال بھی عسکری شعبے میں ہی ہوتا رہا ہے، اگرچہ ہر ایجاد کا غیر جنگی استعمال عام انسانیت کے لیے کہیں زیادہ مفید ثابت ہوا ہے، اور انٹرنیٹ بھی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ انٹرنیٹ بھی دنیا کو دو متمیز ادوار میں تقسیم کرنے والی ایک اہم ”خطِ فاصل“ بن چکا ہے۔ دنیا انٹرنیٹ سے پہلے اور بعد میں بالکل مختلف ہو چکی ہے۔ اب ترقی کا دار و مدار برقناطیسی امواج پر ہے۔ ان امواج کو کام میں لاکر انسانی مداخلت کے بغیر بھی بڑے بڑے کام سرانجام دیے جا سکتے ہیں۔

ان برقناطیسی امواج کا کنٹرول خلا میں موجود مصنوعی سیاروں (سیٹلائٹس) کے ذریعے ہوتا ہے جو زمین کے مدار میں مسلسل گردش کرتے ہیں اور ہر لمحہ نگرانی کرتے رہتے ہیں۔ زمین پر جو بھی نظام انٹرنیٹ کے ذریعے ان امواج سے منسلک ہوتے ہیں، ان میں مداخلت کرنے یا انہیں متاثر کرنے کی صلاحیت بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔

کسی ملک کا جوہری ہتھیار رکھنا ایک صلاحیت ہے، لیکن ان ہتھیاروں کو استعمال میں لانے والے کنٹرول سسٹمز میں مداخلت کر کے انہیں ناکارہ بنا دینا اس سے کہیں بڑی صلاحیت ہے۔ مستقبل میں کسی ملک کی طاقت کا تعین ایسی ہی مداخلت کی صلاحیتوں سے ہو گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والی جنگیں زمین پر نہ لڑی جائیں بلکہ خلا میں موجود ممالک ایک دوسرے کی سیٹلائٹس اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کو تباہ کرنے کی کوشش کریں۔

ویسے تو دنیا میں ہر شخص ہر ادارہ یا ملک روز ہی آزمائش سے گزر رہا ہے لیکن ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی محدود جنگی جھڑپوں نے جدید جنگ کے نئے دور کے بارے میں بہت کچھ پہلی بار آزمایا یہ 5۔ جی، جدید مواصلاتی صلاحیتوں، سینسرز اور مصنوعی ذہانت کو استعمال میں لانے کے بعد پہلا اہم تجربہ تھا۔ اس جنگ کا پہلا سبق یہ تھا کہ اب مقابلہ ہاتھوں سے نہیں مشینوں اور الگورتھموں سے ہو گا، دوسرا سبق یہ تھا کہ کمزوری مشین کی نہیں بلکہ اس کو استعمال کرنے والے کی مہارت یا پورے نظام کی ہم آہنگی میں ہوتی ہے۔ تیسرا سبق یہ تھا کہ کامیابی کا انحصار کسی ایک مشین پر نہیں، بلکہ پورے دفاعی یا حملہ آور نیٹ ورک کی ہمہ جہت مربوط کارکردگی پر ہوتا ہے

اس محدود جنگ کے تجربے نے دنیا کی بڑی فوجی طاقتوں کو مستقبل کی تیاری میں قیمتی اسباق فراہم کیے ہیں۔ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ کسی بھی ریڈار پر نظر نہ آنے کے باوجود جدید لڑاکا طیاروں میں کیا کمزوریاں رہ جاتی ہیں، کس قسم کے بغیر پائلٹ ڈرون کتنے کارآمد ہو سکتے ہیں، کون سے میزائل کو روایتی دفاعی نظام سے روکا جا سکتا ہے، اور کس قسم کے نئے حملے اب بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے جنوبی ایشیا، بالخصوص پاکستان اور ہندوستان، کو اس نئے جنگی دور کے آغاز میں تختہ مشق بنا دیا گیا ہے۔ ان دونوں ممالک کی نصف سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ معاشی اشاریوں میں جاپان کو پیچھے چھوڑنے کے دعویدار ہندوستان میں کروڑوں افراد آج بھی بیت الخلا جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ ایٹمی صلاحیت کے زعم میں کھوئے ہوئے ان ممالک میں کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ دونوں ممالک میں زچگی کے دوران اموات کی شرح عالمی معیار سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک دوسرے کے دریاؤں پر حق جتانے والے ان ممالک میں کروڑوں شہریوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔

آبادی میں بے تحاشا اضافے اور خوراک کی قلت کا شکار جنوبی ایشیا میں اب جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس جنگیں لڑی جائیں گی۔ ان کے ہتھیار وہ طاقتیں فراہم کریں گی جن کے لئے جنگ ایک کھیل تماشا یا وار گیم ہے۔ یہ پہلے دور کی زمین اور خوراک کے لئے لڑی جانے والی جنگوں یا دوسرے دور کی صنعتی پیداوار کے خام مال اور منڈیوں کے لئے لڑی جانے والی جنگوں کی طرح ہی اب نئی ایجادات (جیسے جدید الیکٹرانکس، بیٹریاں، شمسی پینلز) کے لئے درکار نایاب معدنیات کے حصول کی جنگ ہے۔

آنے والے وقتوں میں بحری، زمینی، فضائی اور خلائی برتری کے لیے جو جدید ترین غیر روایتی ٹیکنالوجی درکار ہو گی، اس کی تیاری کے لیے ان ہی معدنی وسائل کی ضرورت ہو گی۔ یہ جنگیں ان ہی ممالک میں لڑی جائیں گی جہاں یہ نایاب اور قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں جس سے ایک نئے عالمی سامراجی دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔

اس نئے دور میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ ترقی کی دوڑ، بنیادی انسانی ضروریات اور امن کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan