مردانہ کمزوری

شیر واحد جانور ہے جس سے تشبیہ پر ہر شخص اپنی مردانگی پر فخر کرتا ہے۔ ”شیر کا بچّہ“ گالی کی بجائے خطاب لگتا ہے۔ آئیے اس شخصیت کا تجزیہ کریں کہ صاحب کن خصوصیات کے حامل ہیں۔ یہ حضرت آرام کے بے حد شوقین ہیں۔ کسی درخت کی چھاؤں میں اٹھارہ سے بیس گھنٹے تک استراحت فرماتے ہیں۔ شیرنی سے ملاپ البتہ کئی کئی گھنٹے جاری رکھتے ہیں۔ لیکن وہ بھی شیرنی کی دعوت پر، جب وہ حمل کی ”حرارت“ میں ہوتی ہیں۔ شکار کے زیادہ شوقین نہیں لیکن اپنی شیرنی کے شکار پر پہلے اپنا حق سمجھتے ہیں۔ حتیٰ کہ اپنے ہی بچوں کو بھی پہل نہیں کرنے دیتے۔ نر شیر سے اکثر شکار چھوٹ جاتا ہے۔ اپنے گھرانے میں تین چار شیرنیاں ضرور رکھتے ہیں۔ کہیں کوئی شیرنی دوسرے شیر سے بچے رکھتی ہے تو اُسے زیادہ چوکنا رہنا پڑتا ہے ورنہ شیر ان بچوں کو مارنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ آخر اپنی ”وراثت“ کی فکر تو رکھنی ہی پڑتی ہے نا! کاہلی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ شیر پانی میں تیرنے سے گھبراتا ہے جبکہ شیرنی شکار کے پیچھے پانی میں چھلانگ لگانے سے نہیں چوکتی۔ پیدائش کے دوران بھی نر شیر نہ صرف پیدائش میں دیر کرتے ہیں بلکہ معمولی بیماری کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔ نظر اور سماعت بھی شیرنی سے کم۔ بیماریوں کا دفاع کم ہوتا ہے خصوصاً وائرل انفیکشن جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ اسی لئے شیر کے خاندان میں نر کم اور مادائیں زیادہ ہوتی ہیں۔ جب تک صاحب دھاڑ سکتے ہیں، جنگل اور اپنے خاندان پر رعب جما رہتا ہے۔ بڑھاپا ایسی کمزوری لے کے آتا ہے کہ یا تو اپنے ہی گروہ کا کوئی جوان شیر موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے یا خود ہی دُم دبا کر موت کے انتظار میں جنگل کے کسی کونے میں آنکھیں بند کر دیتا ہے۔ ورنہ لگڑبگوں کا تر نوالہ بن جاتا ہے۔
جانوروں کے کئی قبیلوں میں مادہ سربراہ ہوتی ہے جیسے ہاتھی، سیل، بھیڑیا، وہیل، بونوبو بندر وغیرہ ایک مادہ کی سربراہی میں زندگی گزارتے ہیں۔ آٹھ ہزار قبل کے آثار قدیمہ سے ظاہر ہوتا ہے (میں نے خود تُرکی میں دیکھے ہیں ) انسان بھی خاتون کی برتری تسلیم کرتا تھا۔ ایسے میں نر کی موجودگی سوائے تخم ریزی کے علاوہ کسی کام کی نہیں رہتی۔
آج کے انسان مرد کو دیکھیں تو وہی تخم ریزی کے علاوہ کوئی ایسا کام نہیں رہ گیا جو خواتین نہیں کر سکتیں۔ رافیل کی پائلٹ خاتون، سربراہانِ مملکت خواتین، سکول و کالج میں اچھے نمبر لینے والی لڑکیاں۔ جتنا جنگ و جدل ہے مردوں کے باعث ہے۔ لیکن وہ بھی جسمانی یا ذہنی برتری کی وجہ سے نہیں۔ پیدائش کے وقت کی سختی یہ نہیں برداشت کر سکتے، اور پیدائش کے فوراً بعد بھی ان کی شرح اموات پوری دُنیا میں لڑکیوں سے زیادہ ہے۔ جسمانی بیماریوں خصوصاً دل و دماغ، معدے اور نشے کے شکار یہی سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ غصے پہ یہ قابو نہیں پا سکتے۔ چھٹی حس تو ان کی ہوتی ہی نہیں جبکہ ایک چھوٹی سی لڑکی بھی کسی پرائے کی ایک نظر سے پہچان لیتی ہے کہ بندہ مضر ہے یا بے ضرر۔
تُخم ریزی کے لئے ان کے چھیالیس کروموسومز میں سے صرف ایک کروموسوم ہے جسے وائے (y) کروموسوم کہا جاتا ہے۔ گزشتہ لاکھوں سال کے ارتقا میں وہ آہستہ آہستہ اتنا چھوٹا ہو گیا ہے کہ اس کے ہزار جینز میں سے اب صرف پچاس رہ گئے ہیں۔ چونکہ کروموسوم جوڑوں میں ہوتے ہیں سوائے مردانہ سیکس کروموسومز کے، جو خواتین میں xx ہوتے ہیں اور مرد میں xy۔ اس لئے خواتین ایک کروموسوم کی کمی دوسرے ایکس کروموسوم سے پوری کر لیتی ہیں۔ اس لئے مرد کی عُمر کم اور بیماریوں سے بھرپور ہوتی ہے۔
کئی جانور نسلوں میں نر اور مادہ مستقل بنیاد پر ہوتے ہی نہیں۔ جب چاہا نر بن گیا اور جب ضرورت پڑی، مادہ۔ کئی نسلیں جنسی ملاپ کے بغیر نسل بڑھاتی ہیں اور ان میں سب سے پُرانی نسل جراثیم کی ہے۔
اس وقت خواتین کی تعلیم، آزادانہ آمدن، پیدائش پر کنٹرول اور مہذب معاشرہ ان کو کئی فیصلوں کی اجازت دیتے ہیں۔ اب تو بیضوں کو کولڈ سٹوریج یا سپرم بینک سے براہ راست تُخم لے کر بچے پیدا کرنا بھی ممکن ہو گیا ہے کہ ساٹھ سال کی عمر میں بچہ پیدا کریں۔ ایلان مسک کوشش کر رہا ہے کہ مصنوعی رحم بنا کر ان بچوں کی پیدائش کے جھنجھٹ سے بھی خواتین کو نکال لیا جائے۔
تو میرے بھائی، پلٹ، دھیان کدھر ہے؟ زیادہ اکڑنے کی ضرورت نہیں۔



اردو ادب میں شیر سے متعلق محاورے اپنی جگہ، شیر کی اپنی حرکات و سکنات کی تفصیل بھی اپنی جگہ اہم۔
شیر دراصل بلی کی نسل کا ہی جانور ہے یوں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس میں لگ بھگ وہی تمام اچھی برہ خوبیاں نظر آئیں گی جو بلی اور بلوں TOM میں پائی جاتی ہیں۔
لیکن ان خصوصیات یا جبلتوں کو گھسیٹ کر مرد حضرات پر منطبق کرنا ایک احمقانہ اور فضول حرکت ہے ۔ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ اور ہر انسان میں لگ بھگ تمام جانداروں کی کچھ نہ کچھ خوبیاں یا خامیاں ہمیں نظر آئیں گی۔ صرف شیر پر ہی موقوف نہیں۔
انسان "بالخصوص” اللہ تعالی کی تخلیق کردہ سب سے شاندار ترین کاوش ہے اور اس کو بے عزت کرنا کسی بھی مولوی کے لئے توہین مذہب کا بہ آسانی سبب بن سکتا ہے۔ اس لئے طنز کریں مگر دیکھ بھال کر۔
–
کیا بلے اور شیر کی طرح کوئی انسان (باپ) اپنی سگی یا سوتیلی اولاد کو لازما قتل کردیتا ہے۔ زمانہ جاہلیت یا اب لڑکیوں کے قتل کا انسان سے نہیں بلکہ قبائلی اور خاندانی روایات سے تعلق تھا۔
–
شیر جو کچھ ہڈحرامی کرے۔ آج سے سو دوسو سال پہلے تک مغرب میں بھی مرد ہی کماتا تھا اور عورت گھر سنبھالتی تھی۔
مشرق میں تو اب بھی لگ بھگ یہی چلن ہے ہرجا کہ خواتین بھی کماتی ہیں۔
یہاں بھی متعدد علاقے اور قبائل اب بھی ایسے موجود ہیں جہاں مرد حرام خوری کرتے ہیں اور کھیتی باڑی سے لے کر تجارت اور گھر سنبھالنا عورت کا ہی کام ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی قبائلی یا معاشرے سے متعلق ہیں نطفے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔