اوائلی سندھ کی خوش خصلت خاتون
سن 1998 میں ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو نے اپنے والد خان بہادر ایوب کھوڑو کی سوانح شائع کی۔ کتاب کا نام تھا ’محمد ایوب کھوڑو: اے لائف آف کریج اِن پالیٹکس‘ اس کتاب کے کل پچیس ابواب ہیں۔ سندھ میں گزشتہ صدی کے پہلے پانچ عشروں میں جو بھی اہم واقعات رونما ہوئے، ایوب کھوڑو صاحب ان سب معاملات میں سرگرمی سے شامل رہے تھے۔ اس تاریخی تناظر میں مذکورہ سوانح خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔
محمد ایوب کھوڑو جدید تعلیم حاصل کرنے والے اولین سندھی زمینداروں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے 1920 سے سال 1980 میں اپنی وفات تک، اپنی سیاسی اور نجی زندگی کا وسیع آرکائیو چھوڑا ہے۔ یہ سوانح اسی ذاتی آرکائیو پر منحصر ہے۔ علاوہ ازیں، ڈاکٹر حمیدہ نے خان بہادر کھوڑو کی سیاست و شخصیت کے بارے میں ان کے ہم عصر اکابرین سے انٹرویو بھی لیے ہیں جن میں سر فرانسس موُڈی (سندھ کے آخری انگریز گورنر) سر پیٹرک کاڈیل، سر ہیو ڈاؤ (کھوڑو صاحب کے سخت دشمن) ، ایچ ٹی لیمبرک اور انگریز دور میں سندھ کے چیف جسٹس سر گاڈفری ڈیوس شامل ہیں۔
موجودہ ضلع خیرپور کا گاؤں ’کھوڑا‘ تین صدیاں پہلے بھی اچھا خاصا قصبہ تھا۔ سن 1720 میں سندھ میں سیلاب آیا تھا جس کی وجہ سے ’کھوڑا‘ کے لوگ دریا کے دائیں کنارے (لاڑکانہ) کی طرف آ کر بسے اور نارا اور گھاڑ نہر کے درمیان، اپنے مرشد مخدوم محمد عاقل کے نام سے ’عاقل آباد‘ نام کی بستی آباد کی۔ عاقل آباد کے زمیندار ہر دوسرے تیسرے سال حیدرآباد میں تالپور دربار جاتے تھے اور وہ یہ سفر جاڑوں کے موسم میں براستہ دریا کرتے تھے۔ حیدرآباد آنے جانے میں انہیں تین ہفتے لگ جاتے تھے۔
انگریز سرکار کے شروعاتی دنوں میں، عاقل گاؤں میں چوری کے ایک واقعے کے دوران چوروں کو پکڑ لیا گیا۔ گاؤں کے زمیندار ایوب کھوڑو (اول) چوروں کو لاک اپ کرانے کے لیے لاڑکانہ آ رہے تھے لیکن راستے میں دیہاتیوں نے ان چوروں کو اتنا مارا کہ وہ مر گئے۔ بالا عملداروں نے زمیندار ایوب کھوڑو کو ان اموات کا ذمہ دار قرار دے کر اسے ڈسٹرکٹ جیل شکارپور میں بند کر دیا۔ ایوب کھوڑو کا بڑا بیٹا جیل عملے کو رشوت دینے اور اپنے والد کی خدمت گزاری کے لیے شکارپور کے ایک گھر میں رہنے لگا۔ ایوب کھوڑو اس جیل میں چند ماہ رہے اور جیل کے نامساعد حالات کی وجہ سے اور کچھ احساس رسوائی کے سبب، کیس شروع ہونے سے پہلے ہی جیل میں وفات پا گئے۔ والد کی وفات کے بعد اس کا بیٹا زمینداری معاملات سنبھال نہ سکا اور وکیلوں کی فیس ادا کرنے اور پولیس کو رشوت دینے کے لیے اس نے سود پر جو قرضہ لیا تھا اس کی ادائیگی کرتے کرتے جائیداد نیلام ہو گئی۔
اُس زمانے میں کسی دیہاتی عورت کے لیے زمینداری سنبھالنا تقریباً ناممکن تھا، لیکن ایوب کھوڑو کی زوجہ ’ایمناں‘ بہت حوصلہ مند خاتون تھی، اپنے کنبے کی کفالت کی خاطر ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو گئی۔ اس کے زیور تو گروی رکھے ہوئے تھے لیکن پھر بھی گاؤں کے بنیے سے اس نے قرض لیا اور زرعی اراضی کے دو تین ٹکڑے خرید لیے۔ کام کی تقسیم اس طرح کی کہ دونوں بیٹے زمین پر کام کرتے تھے اور وہ خود فصل کا حساب رکھتی جاتی تھی۔ مائی ایمناں کے پاس دو چارنائب تھے جن کے کھاتوں کا حساب بھی وہ ہی کرتی تھی۔ اپنے مزارعوں کو بیج اور کھاد کی رقم بھی حساب کر کے خود ہی دیتی تھی۔ کچھ سالوں کے اندر ایک ایک روپیہ جوڑ کر اس نے قرض اتار لیا۔ پھر، سرکار سے مقاطعے پر زمین لی، وہاں فصل کاشت کروائی اور بعد ازاں قیمت دے کر آہستہ آہستہ ایسی زمین خریدتی گئی اور اپنی زمینداری بڑھاتی گئی۔ روپے پیسے کے بارے میں یہ خاتون بڑی قناعت پسند تھی اور بقدرِ ضرورت خرچ کرتی تھی۔
اگرچہ مائی ایمناں ہر وقت پردے میں رہتی تھی لیکن اپنی زمینوں اور کھوڑو برادری پر اس کا مضبوط کنٹرول تھا۔ وہ برادری کے تنازعات کے خود فیصلے کرتی تھی۔ سال میں ایک مرتبہ بیل گاڑی پر کھوڑو برادری کے ان قصبوں کی طرف جاتی تھی جہاں لوگوں کی وفات ہوئی ہو، بچوں کے ختنے ہوئے، عورتوں نے بچے پیدا کیے ہوں یا لڑکوں کی شادیاں ہوئی ہوں۔ اس سفر میں مائی ایمناں کی بیل گاڑی کو اچھی طرح سجایا جاتا تھا اور چاروں طرف سے ڈھانپ کے اندر بستر اور تکیے بچھائے جاتے تھے۔ اس بیل گاڑی کے ساتھ گندم اور چینی کی بوریوں سے بھری دوسری کئی بیل گاڑیاں چلتیں تھیں جن کو وہ برادری میں تقسیم کرتی جاتی تھی۔
مائی ایمناں کا سن وفات نہیں ملتا لیکن بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ انیسویں صدی کے اواخر میں (شاید 1888 ) میں فوت ہوئیں۔ اُس وقت تک مائی ایمناں کے دو بیٹے شاہ محمد اور جان محمد، لاڑکانہ کے بڑے زمیندار بن چکے تھے۔ شاہ محمد لاڑکانہ اور خیرپور میرس میں کھوڑو برادری کے سردار بھی بنے اور اسی شاہ محمد کے گھر میں سن 1910 میں محمد ایوب کھوڑو کی ولادت ہوئی جو کہ سندھ کے نامور سیاستدان بنے اور وزیر اعلیٰ کے عہدے تک پہنچے۔
مائی ایمناں جیسی باہمت، عاقل اور مدبر خواتین سندھ کے دوسرے حصوں میں بھی ضرور پیدا ہوئی ہوں گی جن کے تذکرے ان خاندانوں کے بزرگوں سے معلوم کر کے قلمبند کیے جا سکتے ہیں۔



شکریہ