شیر دریا :ایک تجزیاتی مطالعہ
”سفرنامہ“ ہر ادب کی مقبول صنف رہی ہے، ابن بطوطہ جیسے افراد نے تو اپنی زندگیاں سفر میں ہی گزار دیں ؛ نت نئے تجربات سے اپنی تخلیقات کو چمکایا اور قارئین کے لیے نئی دنیا کے در وا کیے، زمین کی سیر کے متعلق تو قرآن پاک بھی لب کشا ہوتا دکھائی دیتا ہے :
”آپ فرما دیجئے کہ زمیں کی سیر کرو اور غور و فکر کرو۔“
اردو ادب نے بھی اس صنف کو اپنے دامن میں سمویا۔ 1847 ء میں پہلا سفر نامہ ”عجائباتِ فرنگ“ منظرِ عام پر آیا جو یوسف حسین خان کمبل پوش کی گل کاری کا مظہر ہے، انیسویں صدی عیسوی میں اس صنف نے قدم جمائے اور بیسویں صدی میں ایک نئے آہنگ کے ساتھ اردو ادب کو بہت سے ادَبی شاہ کار عطا کیے، بیسویں صدی کے سفر نامہ نگاروں میں ایک نام رضا علی عابدی کا بھی ہے ”شیر دریا“ ”جرنیلی سڑک“ ”ریل کہانی“ اور ”جہازی بھائی“ ان کے مشہور سفر نامے ہیں، متعدد کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں اور بچوں کے لیے بھی کتب لکھیں۔ اپنے ملک کے کسی علاقے یا دوسرے ممالک کی سیر کرنا اور اس سیر و سیاحت کو تاریخی، جغرافیائی اور ثَقافَتی لحاظ سے چشم دید واقعات کے ذریعے سے بیان کرنا سفر نامہ کہلاتا ہے ؛ مشاہدہ، مطالعہ اور اسلوب مع تخیل ایسی تخلیقات کے جزوِ لازم سمجھے جاتے ہیں ؛ انہیں کی بِنا پر دیکھی ہوئی چیزوں کو دوبارہ دیکھنے کی جستجو پیدا ہوتی ہے، ”شیر دریا“ کے ”پیش لفظ“ کا عنوان ”پہلا قطرہ“ ہے، اس کے 30 ابواب ہیں، 1993 میں پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آیا؛ کیونکہ ”پیش لفظ“ کے اختتام پر طباعتی اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہی تاریخ رضا علی عابدی نے لکھی ہے، زیرِ نظر نسخہ 1995 میں ایجوکیشنل بُک ہاؤس علی گڑھ نے شائع کیا، اس کے کل صفحات 341 ہیں، اس سفر نامہ میں رضا علی عابدی کے اس شاہکار کا بالعموم اور پہلے چار ابواب کے اسلوب کا فنی و فکری مطالعہ بالخصوص کیا جائے گا کیونکہ دیگ میں سے ایک چاول کو دیکھ کر پوری دیگ کا اندازہ کر لیا جاتا ہے۔
”شیر دریا“ میں رضا علی عابدی نے دریائے سندھ کے کنارے کنارے سفر کیا، موجوں کی روانی اور کناروں کی کہانی کو بیان کیا، یہ داستان لداخ سے شروع ہو کر ٹھٹھہ تک کے علاقہ کی ہے، مختلف مقامات جہاں کا سفر کیا گیا ان کے نام بالترتیب درج ذیل ہیں۔
( 1 ) لداخ ( 2 ) اسکردو ( 3 ) کالاباغ ( 4 ) داؤدخیل ( 5 ) میانوالی ( 6 ) ڈیرہ اسمعیل خان ( 7 ) ڈیرہ غازی خان ( 8 ) سکھر ( 9 ) لاڑکانہ ( 10 ) موہنجوداڑو ( 11 ) سیہون شریف ( 12 ) حیدر آباد ( 13 ) سجاول[ ( 14 ) ٹھٹھہ
ان تمام علاقوں کی آب و ہوا، رسوم و رواج، زبان و بیان اور تہذیب و ثقافت سے آگاہ کیا؛ تاہم کچھ قدروں میں اشتراک بھی ہے :وہ جہالت، غربت اور بے روزگاری ہے، آغازِ سفر میں مصنف نے بیان کیا ہے کہ تبّت والے کہتے ہیں کہ دریا شیر کے منہ سے نکلتا ہے اس لیے اس کا نام ”شیر دریا“ رکھ دیا اور یہ کہانی ان ہزاروں افراد کی ہے جو دریا کے کنارے بستے ہیں، ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی ہم تک پہنچاتے ہیں کہ اب تمدّن و ترقی کے دھارے اور جانب ہیں اور دریا اور جانب بہتا ہے سفر، نامہ کی تکمیل تین مرحلوں میں ہوتی ہے اور وہ یہ ہیں :
( 1 ) گرمیوں میں بہار کا موسم دیکھنا ( 2 ) سردیوں میدان کی سی ( 3 ) سندھ میں ڈیلٹا کا علاقہ الگ سے دیکھنا۔
یہ سفر نامہ ایک سَماجِی مشاہدہ بھی ہے، ”پیش لفظ“ میں مصنف نے یہ باور کروایا ہے کہ یہ سفر نامہ ”آدمی نامہ“ ہے اور ”مجھے گفتگو عوام سے ہے“ کی ڈگر پر چلتا دکھائی دے گا دیباچہ میں مصنف لکھتے ہیں :
”یہ کتاب سفر نامہ نہیں ہے بلکہ ایک مخصوص علاقے میں بسنے والوں کا سماجی مشاہدہ اور مطالعہ ہے ؛ جو مستقبل کے محقق کو بتائے گا کہ بیسویں صدی کے خاتمے پر سندھ کے کنارے بسنے والوں کے کیسے کیسے خواب ٹوٹ چکے تھے“ ۔
یہ سماجی مشاہدہ تحریر میں گفتگو کا انداز چھپائے ہوئے بھی ہے ؛ یہ خوبی تو ہونا ہی تھی کیونکہ لکھاری خود گفتگو کے شعبہ ہی سے وابستہ ہے، ایک عربی کہاوت ہے ”ہر برتن وہی انڈیلتا ہے جو کچھ اس میں ہو“
مصنف چونکہ ریڈیو کے شعبہ سے وابستہ تھا؛ یہ عنصر اس وجہ سے اس سفر نامہ میں آب و تاب سے چمک رہا ہے۔ وہ سماجی جھلَک پیش کرتے ہوئے جغرافیائی معلومات سے بھی اپنا دامن تہِی نہیں کرتے، جس علاقہ کا سفر کیا جا رہا ہے اس کے جغرافیہ کے متعلق معلومات فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ علاقہ کہاں ہے؟ انہوں نے جغرافیائی معلومات بھی دی ہیں، ایک جگہ رقم طراز ہوتا ہے :
”دریائے سندھ کے کنارے کنارے سفر کرتا ہوا لداخ سے چل کر بلتستان اور کوہستان سے گزر کر
ہزارہ کی پہاڑیوں اور پنجاب کے میدانوں سے ہوتا ہوا میں وہاں پہنچ گیا ہوں جہاں یہ عظیم الشان
دریا عظیم الشان بحرِ عرب میں گرتا ہے ”۔
ان جغرافیائی معلومات سے قاری سمجھ جاتا ہے کہ ٹھٹھہ کا علاقہ ہی ہے۔ تہذیب، ثقافت کی ترقی یافتہ شکل ہے اور اس ترقی یافتہ شکل سے زیادہ طاقت ور مذہب ہے، ہر خطہ میں کوئی نہ کوئی مذہبی تعلیمات تو پہنچی ہی ہوتی ہیں ؛ ہر مذہب کا اپنا دائرہ کار ہوتا ہے، مصنف خود تو مسلمان ہے مگر اس نے معروضی انداز اپناتے ہوئے اور تعصُّب پرستی سے گریز کرتے ہوئے جو کچھ بھی دیکھا ؛اسے جوں کا توں لکھ دیا بودھ مذہب کے متعلق لکھتے ہیں ”جہاں میں سورج کی پہلی کرن کے ساتھ پہنچا تھا، تو کم سن بچے اور بودھ راہب صبح کی عبادت میں مصروف تھے، استاد آنکھیں موندے بیٹھے تھے ؛چھوٹے بڑے شاگرد دو زانو تھے، تھوڑی سی بھاری بھرکم اور سریلی سی آوازیں ایک ساتھ بلند ہو رہی تھیں“ ۔
سائنس نے کائنات کی تسخیر کی طرف قدم بڑھایا مگر فطرتی عناصر کو بھی متاثر کیا، فطرت سکون کی علامت ہے جبکہ سائنس بیزاری کی علامت ہے، مصنف نے یہ بھی دکھایا ہے کہ ایک ہی جگہ پر دونوں موجود ہیں ؛ دونوں میں کون سا زیادہ طاقتور ہے؟ ایک کنارے پر نغموں کی آواز ہے تو دوسرے کنارے کی جانب گولے داغنے کی آوازیں بھی آ رہی ہیں۔
یوں فطرت اور ماحول کو سائنس آلودہ کر رہی ہے، سائنس سے ایٹمی جنگ اور پھر اس کے نقصانات خطرناک نظرآتے ہیں۔ اس سفر نامہ میں ہر علاقہ کی ثقافت کے مختلف پہلوؤں کا بیان ملتا ہے، ہر علاقہ کہ پہچان ثقافت ہی ہے، جہاں یہ بیان ملتا ہے کہ قصہ گو اور داستان گو کی آوازیں مجھے یاد آتی ہیں ؛ وہاں پر سکّھر کی ثقافت کا ختنوں پر شادیانے بجانے کا رجحان مع دلیل و مشاہدہ بھی ملتا ہے ؛ملبوسات، شادی بیاہ اور خوشی غمِی کے واقعات سے وہاں کی ثقافت کا بیان ملتا ہے، ایک اقتباس دیکھیے ”یہاں جو جہیز دیتے ہیں وہ محض رسماً ہے، زیادہ بوجھ اصولاً لڑکے پر پڑنا چاہیے مگر ہوتا یہ ہے کہ شادی زیادہ دھوم سے نہیں ہوتی لڑکے والے معمولی سی دعوت دیتے ہیں اور اسے شادی کہتے ہیں“ ۔
عورتیں کڑھائی کا سارا کام دائیں طرف سے کرتی ہیں، مرنے پر بھی سب رشتہ دار مشترکہ انتظام کرتے ہیں۔ جاگیردارانہ نظام اور حقوق کی سلبیت لازم ملزوم اوامِر ہیں، کارل مارکس نے جاگیردارانہ نظام کی جڑیں تو ہلا دی تھیں مگر پھر بھی یہ اثر پاکستان کے مختلف علاقوں میں اب بھی اسی آب و تاب سے موجود ہے بلکہ زیادہ کرنیں بکھیر رہا ہے، کالا باغ میں جاگیردارانہ نظام کی جھلک دکھائی اور ساتھ طنز کیا کہ آزاد خطہ تھا مگر اس کے عوام اب بھی آزاد نہیں، کوئی ان کو ظلم سے نجات دلانے والا نہیں لوگ بنیادی سہولیات سے بھی دور رکھے گئے ہیں۔ کُہنہ روایات نے جمود کو عوام کا مقدر ٹھہرایا ہوا ہے، مصنف کہنہ روایات کے امینوں پر طنز کرتا ہے ؛ کیونکہ زمانے کے ساتھ ساتھ خود میں بدلاؤ لانا ایک ضروری امر ہے، مصنف دھیمے انداز سے ڈیرہ غازی خان والوں پر طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”زمانہ آگے نکل گیا تھا اور لوگ بڑی بڑی چارپائیوں پر بیٹھے باتیں کرتے اور حقے گڑگڑاتے رہ گئے“ ۔ ”زمانہ آگے نکل گیا تھا اور لوگ بڑی بڑی چارپائیوں پر بیٹھے باتیں کرتے اور حقے گڑگڑاتے رہ گئے“ ۔
تعلیم ہر قوم کی ترقی کی ضامِن ہے، تعلیمی زوَال قوم کے زوال کی بڑی وجہ بنتا ہے، مصنف بتاتا ہے کہ وہ علاقے جو مشہور ہی علمی افراد ہی کی وجہ سے تھے وہاں سے علم ہی اٹھ گیا ہے ”ہاشم ٹھٹھو ی جیسے استاد کے شہر میں، اس روز شاگردوں نے استاد کے وہ سارے ادَب لحاظ اٹھا کر اونچے طاق پر رکھ دیے تھے“ ۔
تہذیبی بدلاؤ سے زبان و بولی میں بدلاؤ آتا ہے، مصنف جوں جوں سفر کرتا ہے ساتھ ساتھ لسانی عوامل اور جہات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا بیان بھی کرتا ہے، مصنف بتاتا ہے کہ لداخی اور ہندکو کے ڈانڈے مٹھاس بھری سرائیکی کے علاقوں میں جا ملتے ہیں، مزید برآں وہاں کے اصطلاحاتِ معتبرہ سے واقفیت ہوتی ہے جیسے ”کھرمنگ“ مطلب ”محل کے موسیقار“ وغیرہ۔
جہاں پر فطرت اور سائنس کو آمنے سامنے دکھایا ہے وہاں پر یہ بھی مصنف دکھا رہا ہے کہ سائنس کے فوائد بھی ہیں ؛ ایک دوسرے کے پاس جلد پہنچ جاتے ہیں، مغربی سیّاحوں نے جدید آلات کے ذریعے سے گیت محفوظ کر لیے ورنہ یہ بالکل ہی معدوم ہو جاتے، مصنف نے بودھ مت ہندومت اور اسلام کو معروضی انداز سے دکھایا ہے مگر ساتھ ساتھ وہاں کے مذہبی تعصب کو بھی دکھایا کہ مذہبی جاگیرداری سے کیا ہوتا ہے؟ ایک جگہ پر مکالمہ میں بیان ہوتا ہے کہ گانا اس وجہ سے بند کروایا گیا کہ ہمارا مذہب اسے نہیں مانتا تھا اور پورے علاقے کے لیے بند ہو گیا، سفر نامے میں تقابل مع طنز کا رویہ ملتا ہے ؛ اُس علاقے کو دوسرے علاقوں کے مقابلے میِں لایا گیا ہے اور ساتھ ساتھ نقص و مدح کا بھی بیان ملتا ہے،
”برصغیر کے زیادہ تر باشندوں کی طرح ان لداخی کسانوں نے بھی ساری آس حکومت سے لگا رکھی تھی“ ۔
دریائے سندھ کے قرب و جوار میں رہنے والوں کا بڑا مسئلہ ناخواندگی ہے، جہاں سکول اب کھل رہے ہیں ؛ جب دنیا آسمانوں کو مسخّر کر چکی ہے، مصنف لکھتا ہے کہ زیادہ تر لوگ ان پڑھ ہیں، بہت سے خانہ بدوش ہیں جو گرمیوں میں اپنے مویشی لے کر اوپر پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں، تکریم آدمیت ایک الہامی وصف ہے، ؛ ان علاقوں میں ناخواندگی بھَلَے ہے مگر تکریمِ آدمیت کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی ہے اگر علاقہ میں ایک ووٹر ہے تو اس کے لیے بھی انتخابی عملہ بکس لے کر جاتا ہے، لوگ عطیے دیتے ہیں، مستحق افراد کو چھپ چھپاتے پہنچا دیے جاتے ہیں ؛ لوگ اپنے سے نچلے طبقے کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ اَبواب جہاں پر مذکورہ بالا معلومات فراہم کرتے ہیں ؛ وہاں پر دیگر مَمَالک کی ترقی اور ذخائر پر قبضے، ان علاقوں تک اُردو کے پھیلاؤ، خانہ بدوشوں کی تعلیم کے طریقے، سائنس کی قبولیّت سے روزگار کے اضافے، نفسیاتی ادراکات، بنیادی سہولیات سے محرومی، ان علاقوں میں اسلام کی آمد کے تسلسل، اخلاقی اقدار و اسباق اور مختلف تہذیبوں کے ارتقاء کے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں جو معلومات وہاں کے باشندوں سے لی گئی ہیں، چشم دید واقعات سے ان کو مدلل بھی بنایا گیا ہے۔
اب فنی عناصر کو بیان کیا جاتا ہے چونکہ اُسلوب فکر و فن کے امتزاج کا نام ہے، ذہنی آسودگی کے لیے کیونکہ ذہن وحدت کی قائل ہوتا ہے ؛ فکر کو الگ بیان کیا گیا ہے اور اب فنی عناصر کی کھوج لگائی جاتی ہے۔ بیانہ تکنیک مین واقعاتی انداز ہوتا ہے اور صیغہ واحد متکلم اور واحد مذکر غائب سے بحث کی جاتی ہے، اس سفرنامے میں ہر بات کے اندر ان تینوں باتوں کا اشتراک ملے گا؛ صیغہ واحد غائب سے لوگوں سے ملاقات ہو گی، واحد متکلم سے مصنف سے اور واقعات سے اس علاقہ میں موجود عوامل کا پتہ چلے گا۔ ہر زبان کے زبان شناس کو محاورات پر گرفت ہوتی ہے، تحریر کو ان کے ذریعے سے مستحکم بتایا جاتا ہے مصنف نے بھی محاورات کا سہارا لیا ہے ایک مثال دیکھیے ”صوبہ سندھ کے بعض حصوں میں ڈاکو دندناتے پھر رہے تھے“ ۔
اس مثال میں ”دندنَاتے پھرنا“ محاورہ اس طرٖح کے کئی محاورات متن میں دیکھے جا سکتے ہیں، ایجاز و اختصار اسلوب کی بنیادی خصوصیت ہے، کلام مختصر ہو مگر مفہوم کا تکمُّلہ کرے، ایک جملہ ملاحظہ فرمائیں ”یہ دریا دکھ دیتا ہے، کہیں سکھ بانٹتا ہے، کہیں دکھ چھینتا ہے“ ۔ یہ جملہ معنوی جہاتِ کثیرہ رکھتا ہے، ترقی یافتہ قاری اس کے مفاہیم کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ ایک لفظ کا دو مرتبہ آنا تکرار کہلاتا ہے۔ یہ صنعت کلام کو خوبصورت بنانے اور مزین و آراستہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اقتباس دیکھیے ”سندھ کے کنارے بسنے والوں کے کیسے کیسے خواب ٹوٹ چکے تھے، کیسے کیسے نئے خواب انہیں
جُٹے جانے کی امنگ عطا کر رہے تھے ”۔ اس اقتباس میں“ کیسے کیسے ”سے تکرار کا اظہار ہو رہا ہے، شعریت اور موسیقیت تو شعر کے لیے ضروری ہے مگر نثر نگار بھی اس سے گل کاری کرتے ہوئے نثری گلدستے سجاتے ہیں، مصنف نے بھی اس تحریر میں اس حربے کا سہارا لیا ہے، جیسے :“ کہیں سکھ بانٹتا ہے کہیں سکھ چھینتا ”دونوں جملوں کے حروف پورے اور ارکان بھی برابر ہیں۔ علم بیان کی اہم شاخ تشبہ ہے، کلام کو زینت بخشتی ہے، نو آراستہ دلہنوں کی طرح سجاتی ہے مصنف نے اس حربے کا بھی استعمال کیا ہے“ دریا نے پھیل کر ایسے میدان تراشے ہیں اور اس سے ایسی شاخیں پھوٹی ہیں جیسے کوئی کشادہ ہتھیلی اور پھیلی ہوئی انگلیاں ”۔
آواز کے آہنگ سے حسن کا پیدا ہونا بھی ایک اہم صوتی حربہ ہے مصنف نے اس کا استعمال کیا ہے، دیکھئے
”اور اس کے بعد پنجاب، دیکھا، بھالا، جانا، پہنچانا اور میں ریل کار میں بیٹھ کر کالا باغ جا رہا تھا“ ۔ اس مثال میں دیکھا، بھالا، جانا، پہنچانا سے صوتی حسن پیدا ہو رہا ہے
کلام میں ایک لفظ ذکر کر کے مخالف لفظ کا ذکر کرنا تضاد کہلاتا ہے۔ مصنف نے بھی اس کا سہارا لیا ”میں نے زندہ شہروں میں موت اور مردہ بستیوں میں زندگی کے قدموں کی چاپ سنی۔“ اس مثال میں ”زندگی موت“ ، ”زندہ مردہ“ تضاد کی مثالیں ہیں، دعویٰ پیش کر کے پھر دلیل کے ساتھ بیان کرنا مدلل بیان کہلاتا ہے جیسے مصنف کہتا ہے کہ ”یہ لداخ ہے“ پھر لداخ کی جہات اربعہ کو یوں بیان کرتا ہے کہ لداخ سمجھ آ جاتا ہے بلکہ اس کے جغرافیائی خد و خال بھی منقّش ہو جاتے ہیں۔
برجستگی و بے ساختگی ایک اہم حیلۂ اسلوب ہے ”ان گنَت برفانی چوٹیوں سے پَرے اور قراقرم کے پہاڑوں سے اُدھر“ ”پرے“ اور ”اُدھر“ میں برجستگی ہے، بے ساختگی سے الفاظ تحریر کی زینت بنتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ سفر نامہ ایک مربوط بیان ہے، تسلسل و ربط کلام میں موجود ہے، ایک باب کے اختتام پر ایسی بات کرتے ہیں جس کا ربط اگلے باب کے ساتھ ہوتا ہے، دوسری بات یہ کہ ہر باب کی اپنی جُڑَت ہے جو مضبوط سادہ پلاٹ کی دلیل ہے، مجرد کو مجسم تخیل سے بنا دینا، تجسیم کہلاتا ہے جیسے اداسی کا بال کھولنا یا خوابوں کے سر اور پاؤں بنا دینا، تجسیم کاری کے جا بجا نمونے دکھائی دیتے ہیں ”پگڈنڈی کے ساتھ بہنے والے پہاڑی چشمے کی لہریں گا رہی تھیں اور ان پر چاندنی رقص کر رہی تھی“ ۔ لہروں کا گانا اور چاندنی کا رقص کرنا تجسیم کاری کی عمدہ مثال ہے۔
حلیہ نگاری سے مراد کرداروں کے ظاہری خد و خال کا بیان ہے، رضا علی عابدی نے حلیہ نگاری سے بھی کام لیا ہے، اس سے افراد کی بود و باش کے متعلق معلومات ملتی ہیں۔ آنکھیں، رنگت اور دانتوں سے شخصی خد و خال کا اظہار کیا گیا ہے۔
مکالمہ نگاری ایک اہم فنی خصوصیت ہے اس میں مقتضائے حال کے مطابق کلام لانا بہت ضروری عنصر ہے، اس سفر نامہ میں مختصر مکالمے ملتے ہیں ”پہلا گاؤں“ میں صرف ”جی“ کے ذریعے سے جوابات ملتے ہیں، جو اختصار اور اس عوام کے کم گو ہونے کی دلیل بنتے ہیں، پلاٹ واقعات کی منطقی ترتیب کا نام ہے، جہاں واقعہ آ جائے وہاں پلاٹ تو ہو گا ہی، اس سفر نامے کا پلاٹ سادہ ہے، جڑت ہے، واقعات کی ترتیب تو ”پیش لفظ“ میں ہی مصنف نے بتا دی تھی مزید توجیہات اگلے ابواب میں مل جاتی ہیں۔
دو لفظ ایک جیسے ہوں مگر مطالب الگ الگ ہوں تجنیس کہلاتی ہے جیسے ”عبدالقادر اپنے کاروبار پر پوری طرح قادر تھا“ ۔ اس جملہ میں پہلا ”قادر“ بطور اسم استعمال ہوا ہے، جبکہ دوسرا ”قادر“ بمعنی قدرت یا صلاحیت کے استعمال ہوا ہے۔
تابع مہمل سے مراد معروف لفظ کے ساتھ مجہول لفظ کا بیان اس طرح سے کرنا کے معروف لفظ متبوع اور مجہول لفظ تابع ہو، تابع مہمل الفاظ کا استعمال اس طرح سے ہے کہ بھدا پن معلوم نہیں ہوتا اور عبارت میں جھول بھی نہیں آتا جیسے : ”پہلے تو روڈ بھی نہیں تھا، جناب! گاڑی واڑی کچھ نہیں تھا، جناب“ ۔ یہاں ”گاڑی واڑی“ تابع مہمل ہے۔
رعایتِ لفظی فنی کاریگری ہے، ایک لفظ کی رعایت سے دیگر الفاظ لائے جاتے ہیں، جیسے ”ہم دوبارہ بازار میں نکل آئے، تو ایک بزرگ پر نگاہ پڑی، ان کی تو بزرگی بھی بزرگ ہو چکی تھی“ ۔ اس مثال میں بزرگ اور بزرگی کا آنا، پھر بزرگ کا دو بار آ کر الگ الگ معانی دینا، مصنف کی فنی دسترس کی دلیل ہے۔
تجسّس سے دلچسپی پیدا ہوتی ہے، دلچسپی ہی قاری کو پڑھنے پر اکساتی ہے، مصنف نے دھیما پن رکھا ہے مگر ہے سہی، لوگوں کو ایسے کریدتے ہیں کہ اس کریدنے میں تجسس ملتا ہے جیسے ”سنگھے“ کا مطلب ”پوچھنا“ اور اکبر لداخی سے مکالمے کی طوالت وغیرہ۔
الفاظ کم اور معانی زیادہ ہوں جامع پن کہلاتا ہے، مصنف نے جامعیت سے کام لیا ہے، سادگی بھی ہے مگر اس سادگی میں بھی جامعیت ہاتھ سے نہیں چھوٹتی ”آخری پڑاؤ“ میں لکھتے ہیں ”حیدرآباد کی ریشم گلی میں پہنچا کیسا محبتوں کا شہر تھا؟ کیسی نفرتوں نے اس میں گھر کر لیا تھا“ ۔ ان جملوں میں جہاں پر اس علاقہ کی سیر کا ذکر ملتا ہے وہاں پر اس علاقہ میں ہونے والے استحصال اور موجودہ بد امنی کی طرف ایمائی انداز کچھ تکلم بھی کیا جا رہا ہے، تاریخ اور موجودہ کیفیات کو ایک جملے میں سمو دیا۔
مذکورہ بالا بحث سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فن پارہ فکر و فن کا شاہکار ہے جہاں پر فکر کی بلندی پر ہے وہاں پر یہ فنی سطح پر بھی کم نہیں ہے، اس کا اسلوب قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرتا رہے گا اور بادشاہوں اور حکمرانوں کو جہالت غربت اور بے روز گاری کو ختم کرنے پر اکساتا رہے گا، ہمیں ایسے شاہکاروں کو مدِّنظر رکھ کر مزید ایسے شاہکار تخلیق کر کے اپنے ادبی ورثہ کو مالا مال کرنا چاہیے۔


