قاتل ریلا اور معصوم چیخیں


سوات کے دریا نے ایک بار پھر اپنا رنگ دکھایا لیکن اس بار صرف پانی کا بہاؤ نہیں بڑھا بلکہ اس بار ایک پورا خاندان بہہ گیا وہ خاندان جو صرف سیر کے لیے نکلا تھا، وہ بچے جو اپنے کھلونے ساتھ لائے تھے، وہ ماں جو اپنے ہاتھ سے پراٹھے بنا کر لائی تھی اور وہ باپ جو ہر لمحے کو کیمرے میں قید کر رہا تھا۔ دریا کی ایک طوفانی لہر نے سب کچھ ختم کر دیا۔

آپ کہیں گے ”حادثہ تھا، ہو گیا۔“
میں کہتا ہوں ”نہیں جناب! یہ حادثہ نہیں، یہ مجرمانہ غفلت تھی۔“

یہ واقعہ قدرتی آفت کے کھاتے میں ڈال کر ہم سب اپنا دامن بچا سکتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ ہم سب، حکومت، ادارے، میڈیا اور خود عوام اس موت کے برابر کے شریک ہیں۔

یہ واقعہ سوات کے علاقے مدین کے قریب پیش آیا۔ ایک عام سا خاندان، دو بچے، ماں باپ اور خوشیوں بھرا دن۔ وہ دریا کے کنارے بیٹھے تھے، پانی میں پاؤں ڈال کر قدرت کی خوبصورتی کا لطف لے رہے تھے، پہاڑوں پر کہیں بارش ہو رہی تھی، دریا خاموش تھا لیکن اندر سے بپھرا ہوا۔ چند ہی لمحوں میں پانی کا ریلا آیا اور وہ سب کچھ بہا لے گیا۔

کوئی انتباہ نہیں، کوئی وارننگ سسٹم نہیں، کوئی ریسکیو ٹیم قریب نہیں اور نہ ہی کوئی مقامی انتظامیہ کا اہلکار جو لوگوں کو خبردار کرتا۔ بس دریا تھا، شور تھا، پانی تھا اور اس کے بیچوں بیچ ایک خاندان، جو چیختا رہا، ہاتھ پاؤں مارتا رہا، مگر بچ نہ سکا۔ پانی صرف جسموں کو نہیں بہاتا، وہ خوابوں کو، نسلوں کو، نسل در نسل کی محنت کو بہا لے جاتا ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اور شاید آخری بھی نہ ہو کیونکہ ایک پورا خاندان۔ زندہ، ہنستا، خوش۔ صرف اس لیے دریا کا ایندھن بن گیا کیونکہ ہم حادثے سے پہلے جاگنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ سوال یہ جنم لیتا ہے کہ ریاست اگر ماں ہے تو اس کی گود میں بچے کیسے ڈوب رہے ہیں؟

ہمیں اعتراف کرنا ہو گا کہ ہمارا پورا نظام حادثات کے بعد چلتا ہے۔
ہم پل اس وقت بناتے ہیں جب دریا ایک گاڑی لے ڈوبتا ہے۔
ہم بورڈ اُس وقت لگاتے ہیں جب تین خاندان ختم ہو چکے ہوتے ہیں۔
ہم ریسکیو ٹیمیں اُس وقت بھیجتے ہیں جب لاشیں تیرتی ہوئی کنارے لگتی ہیں۔
ہم اس قوم کا حصہ ہیں جو کفن کے بعد جاگتی ہے اور اگلے جنازے تک پھر سو جاتی ہے۔

اس واقعے میں ماں آخری لمحے تک اپنے بچوں کو بچاتی رہی۔ ویڈیو میں اُس کے ہاتھ، اُس کے چیخنے کی آواز اور اُس کی آنکھوں میں التجا۔ یہ سب کچھ آج بھی دریا کی سطح پر تیر رہا ہے۔ باپ کے ہاتھ میں کیمرہ تھا لیکن اب صرف ایک تصویر رہ گئی ہے۔ بچوں کی چپلیں، کھلونوں کے ٹکڑے اور ایک پانی میں بھیگی ہوئی اسکول کی کاپی۔ یہ سب کچھ اب بھی دریا کے کنارے موجود ہے۔

لیکن دریا خاموش ہے۔ وہ پہلے بھی بہتا تھا، آج بھی بہہ رہا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ آج وہ کچھ زیادہ اداس لگتا ہے شاید اسے بھی احساس ہے کہ اس کے سینے میں اب ایک خاندان دفن ہے۔

سوال یہ ہے : ہم کب جاگیں گے؟ کیا ہمیں پھر کسی بڑی ٹریجڈی کا انتظار ہے؟ یا ہم چاہیں تو سوات جیسے حسین مگر خطرناک مقامات کو محفوظ بنا سکتے ہیں؟ ہمیں فوری طور پر سیاحتی مقامات پر مستقل وارننگ سسٹم لگانے ہوں گے، مقامی انتظامیہ کو متحرک اور جوابدہ بنانا ہو گا، ریسکیو ٹیموں کو دریا کے کنارے مستقل تعینات کرنا ہو گا اور سب سے بڑھ کر، ہمیں خود بھی سیکھنا ہو گا کہ قدرت کی خوبصورتی کے پیچھے کبھی کبھی خطرہ چھپا ہوتا ہے۔ ہمیں اب تعزیت سے آگے بڑھ کر تحفظ پر توجہ دینا ہو گی ورنہ ہر دریا ہمیں رُلا دے گا۔

Facebook Comments HS