میر ولی اللہ : زندگی نامہ اور کاس الکرام


چالیس سے زائد کتب کے مصنف، فارسی ادبیات کے استاد ِکامل اور جامعہ کراچی شعبہ فارسی کے صدر مرحوم پروفیسر ڈاکٹر ساجد اللہ تفہیمی ( 1941۔ 2 ستمبر 2020 ) شارحِ رومی، حافظ و خیام میر ولی اللہ ایبٹ آبادی ( 10 جون 1887۔ 13 دسمبر 1964 ) کی کتاب ’کاس الکرام‘ کے مقدمہ میں میر صاحب کی حیات مستعار سے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ: ’میر ولی اللہ کے اسلاف ترکستان کے مغلیہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے، ہجرت کر کے کشمیر، بعد ازاں جہلم او ر بعض ہزارہ کے نواح میں سکونت پذیر ہوئے۔ آپ کے والد مولوی سلطان میر فارسی کے عالم و شاعر تھے۔ جہلم کے نواح کریالہ سے 1890 میں منتقل ہو کر ایبٹ آباد مستقلاٍٍ ً رہائش پذیر ہوئے۔ ولی اللہ نے ابتدائی تعلیم کریالہ میں اپنے دادا مولوی شرف الدین سے حاصل کی اور پرائمری تعلیم کے دوران درس نظامی کے فارسی نصاب کے علاوہ سکندر نامہ، زلیخا، مخزن الاسرار، مطلع السعدین، تحفۃ الاحرار، مثنوی مولانا رومی کا دفتر اول، مصدر الفیوض، فقہ، سراجی اور عربی صرف و نحو کی تعلیم مکمل کی۔ 1905 میں انٹرنس کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول ایبٹ آباد سے پاس کرنے کے بعد لاہور کے ایف۔ سی کالج سے 1907 میں ایف اے، 1910 میں بی اے اور لاء کالج سے 1920 میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ ایبٹ آباد واپسی پر 1950 تک وکالت سے وابستہ رہے۔ پچیس سال تک یہاں کے بار ایسوسی ایشن کے صدر رہنے کے ساتھ ساتھ میونسپل کمیٹی کے صدر اور نائب صدر رہے۔ لاء کالج لاہور اور پشاور یونیورسٹی کے ساتھ 1954 تک منسلک رہنے کے بعد اسی سال لاء کالج سے سبکدوش ہوئے۔ 1904 میں علامہ اقبال کی ایبٹ آباد آمد کے موقع پر آپ کے خاندان کو میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ آپ ایک بھرپور علمی اور متحرک زندگی گزارنے کے بعد 13 دسمبر 1964 کو ایبٹ آباد میں وفات پا گئے اور سلہڈ چونگی کے قریب قبرستان میں سپردِ خاک کیے گئے۔ تین بیٹوں اور پانچ بیٹیوں میں ڈاکٹر صفی اللہ شعبہ طب، میر حفیظ اللہ فوج اور میر نعیم اللہ بیوروکریسی سے منسلک رہے۔

آپ کی تصنیفات میں ’لسان الغیب‘ (چار جلد) اردو زبان میں خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی کے کلام کی شرح، فروری 1916 میں پہلی جلد منظر عام پر آئی۔ چوراسی صفحات کا طویل مقدمہ، حافظ کے قصہ زیست، فنِ شعر اور تقابلِ فکر کی طویل تشریحات فن و فکر کے نئے در وا کرتا ہے۔

دوسری کتاب ’کاس الکرام‘ عمر خیام نیشاپوری کی رباعیات کی شرح 1923 میں شائع ہوئی جس کی تشریح میں اٹھائیس عربی اور فارسی ماخذات سے استفادہ کیا گیا ہے۔ 1925 میں کاشی رام پریس لاہور سے شائع ہونے والی ’نمکدانِ فصاحت‘ تین سو اٹھارہ علمی لطائف و نکات پر مشتمل کتاب میر صاحب کے وسعت مطالعہ پر دلال ہے۔

چوتھی کتاب ’ماہ و پروین‘ آٹھ تخلیقی مزاحیہ مضامین دال کی فریاد، کتابوں کی چوری، آڑو، عید مبارک، گرما و سرما، یا ایہا المنافقون، مولوی صاحب کا گھوڑا اور ذو السیٹین پر مشتمل 1930 میں شائع ہوئی۔ پانچویں تصنیف ’بادہ ناب‘ آپ کی دو سو چوراسی فارسی رباعیات کا مجموعہ 1926 میں کریمی پریس لاہور سے شائع ہوئی۔ اگلی کتاب ’گلبانگ‘ دو سو چالیس صفحات اور ایک سو تین منظومات پر مشتمل آپ کے اردو کلام کا مجموعہ 1935 میں عالمگیر الیکٹرک پریس لاہور سے طبع ہو کر دارالاشاعت بادہ ناب ایبٹ آباد سے شائع ہوئی۔ جس کے دیباچے سید احمد شاہ پطرس بخاری، چوہدری جے کرشن اور خانصاحب منشی سراج الدین احمد خان نے لکھے ہیں۔ ساتویں کتاب مولانا جلال الدین بلخی رومی کی مثنوی کی مع عنوانات توضیح دو جلدوں میں 1937 میں فیروز پرنٹنگ ورکس لاہور سے طبع ہو کر ایبٹ آباد سے شائع ہوئی۔ آٹھویں تصنیف ’خلقِ عظیم‘ اخلاق حسنہ کے بارے میں رسولِ اکرم ﷺ کے افعال و اقوال سے متعلق تین سو پچھتر احادیث مبارکہ اور اڑتالیس عنوانات پر مشتمل مجموعہ انیس سو چھبیس سے لے کر انیس سو ننانوے تک چار بار شائع ہوتا رہا۔ امام ابن تیمیہ حرانی کی کتاب ’العبودیۃ‘ کا ’بندگی‘ کے عنوان سے اردو ترجمہ انیس سو بائیس میں شائع ہوا۔ ’اسلام اور نظام سرمایہ داری‘ کے عنوان سے سرمایہ داری او ر اسلامی اقتصادی نظام سے متعلق علمی مقالہ ہے۔ ’مسلم فقہ اور قرآن کا قانونِ جرائم‘ انگریزی میں لکھی گئی کتاب پہلی مرتبہ ایبٹ آباد سے اور 1982 میں لاہور سے شائع ہوئی۔ غیر مطبوعہ کتب میں شرح گیتا اور سات جلدوں میں فارسی زبان کی ہزار سالہ شاعری کا انتخاب آپ کی عبقری طبیعت کی دَین ہیں۔

مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان کے زیر سایہ مطبوعہ مجلہ ’دانش‘ میں سید رشید بخاری ’خدمات ولی اللہ ایبت آبادی بہ ادبیات فارسی‘ میں لکھتے ہیں۔ ’شخصیت وی جامع ء ہمہ گیر و بی ‌مانند بود۔ وی در یک زمان نہ تنہا شاعر نغز گؤ مترجم موفق و نقاد بلند پایہای بود ء بلکہ در طنز و مزاح نیز اید طولایی داشت‘ ۔

سید شاہ سعید احمد مجلہ ’خیابان‘ ( 1993 ) میں اپنے تحقیقی مقالہ میں بحوالہ ڈاکٹر صابر کلوروی اپنے مقالہ ’میر و لی اللہ : بطور ماہر اقبالیات‘ میں لکھتے ہیں کہ ’بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ ان کے والد ( مولوی سلطان میر ) فارسی شعر بھی کہتے تھے۔ ان کا کلام ’مخزن‘ میں بھی شائع ہوتا تھا۔‘

بزرگ شاعر انور مسعود رقم طراز ہیں کہ ’میر ولی اللہ بیسویں صدی کی ایک بلند پایہ علمی اور ادبی شخصیت تھے۔ بر صغیر کے علمی اور ادبی مشاہیر سے ان کے ذاتی روابط تھے۔ وہ خود بھی اردو اور فارسی کے نغز گو شاعر تھے اور ادب و شعر کے میدان میں ایک ناقد، محقق اور شارح کی حیثیت سے ان کی کاوشیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں‘ ۔

استادِ ادب مرحوم صوفی عبدالرشید میر صاحب کی رباعیاتِ خیام کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’میرے علم کے مطابق کم از کم اردو میں رباعیات خیام کی اتنی مبسوط اتنی جامع اور اس قدر بلند پایہ شرح معرض تحریر میں نہیں آئی۔ فکرِ خیام کی تشریح و تفہیم کے پہلو بہ پہلو یہ ایک عالمانہ شان و وقار رکھتی ہے‘ ۔

کاس الکرام میں میر صاحب نے عمر خیام کی تقریباٍ ً سات سو پندرہ رباعیات کو موضوعاتی مماثلت کی بنیاد پر پینتیس ابواب میں تقسیم کیا ہوا ہے۔ مستشرقین میں فٹز جیرلڈ سے لے کر فرانسیسی زبان کے جے۔ بی نکولس دس مغربی مترجمین کا ذکر کرتے ہوئے تراجم کے متون میں لسانی اور فکری لغزشوں کا تعاقب و استدراک کرتے ہیں اور ان غلط العام اور حکیم نیشاپوری سے متعلق ملحق خود ساختہ مذہبی عقائد کا بھی مستند دلیل و برہان سے بطلان کرتے ہیں۔

پشتو ادب میں رباعیات کے مترجمین میں احسان اللہ، محمد نذیر، مولوی حبیب اللہ، ابوالخیر زلاند، عبدالباری جہانی، کاکا جی صنوبر حسین مومند نے تین سو تریسٹھ رباعیات کا ترجمہ کیا ہے جس میں بقول ڈاکٹر حنیف خلیل تین سو دستیاب ہیں۔

میر ولی اللہ کی ’کاس الکرام‘ کی خصوصیت یہ ہے کہ نادر نکات کے ساتھ ساتھ اس میں رباعیات کی تشریح میں فارسی اور اردو متقدمین اور معاصر شعراء کے افکار سے بھی خوشہ چینی کی گئی ہے۔ اپنے علمی کارناموں کی مناسبت سے میر صاحب تاحال خیبر پختونخو ا اور ملکی سطح پر علمی حلقوں میں نظر انداز ہیں۔

Facebook Comments HS