ویٹیکن


حال ہی میں مری میں اپنی تربیتی نشست مکمل کرنے کے بعد ، مجھے اسلام آباد/راولپنڈی کیتھولک ڈایوسیس کے آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ یہ ملاقات نہایت خوشگوار اور بامقصد رہی۔ اس موقع پر آرچ بشپ نے مجھے اپنی تازہ تصنیف ”ویٹیکن“ کا تحفہ پیش کیا، جو میرے لیے ایک قابل فخر بات ہے۔ مطالعے کے بعد میں اس کتاب کا مختصر تعارف اور اپنی رائے پیش کر رہا ہوں تاکہ قارئین اس اہم اور نایاب کتاب کے بارے میں آگاہی حاصل کر سکیں۔

یہ کتاب 123 صفحات پر مشتمل ہے اور اُردو زبان میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد اور علمی اضافہ ہے۔ اس میں کیتھولک مسیحیوں کی روحانی علامت اور مرکز، ریاست ویٹیکن کا نہایت جامع تعارف پیش کیا گیا ہے۔ کتاب میں نہ صرف اس ریاست کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے بلکہ ریاستی نظام، مذہبی تقاریب، انتظامی ڈھانچے، اور عالمی اثر و رسوخ پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔

کتاب کی ایک خاص بات اس کی خوبصورت بائنڈنگ، معیاری کاغذ، اور دِل کش تصاویر ہیں، جو قاری کو ایک بصری حسن کے ساتھ علمی تسکین بھی فراہم کرتی ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف کیتھولک مسیحیوں بلکہ اُن تمام افراد کے لیے مفید ہے جو ویٹیکن کے بارے میں جاننے، سمجھنے اور اس کی روحانی و ثقافتی حیثیت کو دریافت کرنے کے خواہش مند ہیں۔

کتاب کے ناشرین، ڈایوسیزن کیٹی کیٹیکل سینٹر، اسلام آباد/راولپنڈی ڈایوس ہیں، جبکہ اس کتاب کا انتساب ”تمام پوپ صاحبان کے نام جنہوں نے مختلف ادوار میں پاک رُوح کی معموری سے اپنی حکمت اور فہم سے کلیسیا کی رہنمائی کی۔“ کے الفاظ میں ہوا ہے۔

آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد لکھتے ہیں کہ ”ویٹیکن کے بارے میں یہ کتاب ویٹیکن سٹی کے تاریخی، روحانی اور بین الاقوامی کردار کو جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔ ویٹیکن، کلیسیائی مشن کے لیے ایک عالمی روحانی مرکز کے طور پر قائم ہے، مسیحیت کا وہ مقام ہے جہاں سے ایمان، محبت، اور خدمت کا پیغام پوری دُنیا میں پھیلایا جاتا ہے۔ یہ کتاب قارئین کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ویٹیکن کے اس روحانی و سفارتی کردار کو بہتر طور پر سمجھ سکیں جو کہ ایمان، امن، اور بھائی چارے کی ترویج کے لیے پوری دُنیا میں سر انجام دیا جاتا ہے۔ یہ کتاب پاکستانی کلیسیا اور لوگوں کے لیے ویٹیکن اور اس کے عالمی روحانی مشن کو مزید بہتر طور پر سمجھنے کا ذریعہ ثابت ہوگی اور کلیسیا کو اُن عظیم خدمات اور پیغام سے روشناس کرے گی جو پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند اور نجات بخش ہے۔“

کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے۔

باب اول ”عالمِ مسیحیت کا روحانی مرکز“ میں، کلیسیا کا سربراہ اور مقدس پطرس کا جانشین، پاپائے اعظم اور کارڈینل صاحبان کی جماعت اور پاپائے اعظم اور بشپ صاحبان کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔

باب دوئم ”عالمگیر کلیسیا کا انتظامی ڈھانچہ“ میں رومن کیوریا، رومن کیوریا کی تاریخ، ویٹیکن سیکٹریریٹ آف سیٹ، رومن کیوریا کے مختلف شعبہ جات، کلیسیائی عدالتیں اور پاپائی کمیشن کمیٹیاں، اکیڈمیاں و دفاتر کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

باب سوئم ”ویٹیکن حکومت“ میں ویٹیکن کا حکومتی ڈھانچہ، ویٹیکن کا جھنڈا اور ترانہ، سوئس گارڈ، ویٹیکن بینک، ویٹیکن ریڈیو، ویٹیکن ٹیلی ویژن سینٹر، ویٹیکن سرکاری اخبار اور ویٹیکن کا اطلاعاتی دفتر کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

باپ چہارم ”اہم مذہبی و ثقافتی مراکز“ میں مقدس پطرس اسکوائر، مقدس پطرس کا گرجا گھر، پاپائی محل، پوپ پال ششم ہال، ویٹیکن عجائب گھر، سیسٹائن چیپل، ویٹیکن لائبریری، روم کے تین بڑے گرجا گھر، مقدس جان لاطرن کا گرجا گھر، مقدسہ مریم ماجورے کا گرجا گھر، مقدس پال کا گرجا گھر اور کاستل گوندو اولفو کی تاریخ شامل ہے۔

باب پنجم ”پاکستان اور ویٹیکن کے تعلقات“ میں پاکستان اور ویٹیکن، پاپائی سفارت خانہ، اسلام آباد، پاکستان سفارت خانہ، سوئٹزرلینڈ، پاکستانی بشپ صاحبان کا دورہ ویٹیکن، پاکستانی کارڈنیل، مقدس جان پال دوئم کا دورہ پاکستان، ویٹیکن کی اہم شخصیت کا دورہ پاکستان، پاکستان کے وزیر اعظم اور صدر کے ویٹیکن کے دورے کی تفصیلات درج ہیں۔

جبکہ آخری باب میں ”کیتھولک کلیسیا کے سربراہ اور عالمی دُنیا سے تعلقات“ کے بارے میں مفصل انداز میں بتایا گیا ہے۔

میری نظر میں یہ کتاب اپنی طرز کی عمدہ کاوش ہے جس پر آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد اور اُن کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ جنہوں نے اُردو کے قارئین کے لئے ایک بہترین کتاب کا تحفہ دیا ہے۔

Facebook Comments HS