جس کی لاٹھی اُس کی بھینس
چک بیدی میں میس کا نظام درست ہونے سے زندگی معمول پر آ گئی تھی۔ رہائش ہماری سکول کے سائنس روم میں تھی۔ سردیوں میں یہیں سو جاتے اور گرمیوں میں چارپائیاں سکول کی عمارت کے سامنے کھلی جگہ پر بچھا کر پیڈسٹل فین لگا لیا کرتے تھے اور رات آرام سے کٹ جاتی کیوں کہ اس وقت لوڈشیڈنگ کی علت موجود نہیں تھی۔ شام کو میں اور بودلہ سکول میں کھیلے جانے والے والی بال کے کھیل میں شرکت کرتے۔ جس میں اسی گاؤں کے بچے اور بڑے بھی کھیلا کرتے تھے۔ واش روم کے طور پر ایک ہینڈ پمپ موجود تھا اور اسی ہینڈ پمپ کے نیچے بیٹھ کر خود سے ہی اس نلکے کو چلا کر نہایا جاتا تھا اور باقی ضروریات کے لیے سکول کے تین اطراف میں پھیلے ہوئے وسیع و عریض کھیت موجود تھے جو ہمارے لیے تو معمول کی بات تھی۔ افضل صاحب اور خان صاحب کو شہری ہونے کے ناتے اس سلسلے میں کچھ مسائل درپیش تھے۔ لیکن ہماری طرف سے کی گئی مناسب راہنمائی کی بدولت وہ بھی جلد ہی اس ماحول کے عادی ہو گئے۔ یہاں پر ہمارا یہ معمول تھا کہ ظہر کے علاوہ باقی سبھی نمازیں ہم مسجد میں جا کر باجماعت ادا کیا کرتے تھے۔ ہمارے سکول کے ساتھ ہی یونین کونسل کا دفتر تھا۔ جو اس علاقے کے پراجیکٹ منیجر سومرا کے دفتر اور رہائش دونوں ضروریات ہی پوری کرتا تھا۔ مغرب کی نماز کے بعد ہم عموماً واپسی پر سکول کے مین گیٹ کے ساتھ ہی بنے ہوئے سومرا صاحب کے اس دفتر میں تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر جاتے دفتر کے باہر لان میں ٹی وی لگا ہوا ہوتا۔ پاس ہی ایک دو چارپائیاں اور پانچ سات کرسیاں بھی موجود ہوتی تھیں اور سومرا صاحب بھی یہاں موجود ہوتے۔ بعض اوقات دو چار اور لوگ بھی یہیں تشریف فرما ہوتے۔ یونین کونسلوں کے نظام میں غالباً ضیاء الحق نے ہی یونین کونسل اور تحصیل کونسل کے درمیان ایک اور نئی کونسل تشکیل دی تھی۔ جس کا نام مرکز کونسل رکھا گیا تھا۔
ایک تحصیل کونسل میں عموماً تین چار مرکز کونسل ہوا کرتی تھی اور ہر مرکز کونسل کا انچارج پراجیکٹ منیجر کہلاتا تھا۔ ان منیجرز کے مطابق مرکز کونسل میں ان لوگوں کی حیثیت بالکل ایسے ہی تھی جیسے کہ ضلع میں ڈی سی کی اور تحصیل میں اے سی کی ہوتی ہے۔ یعنی کہ انہیں اپنے مرکز میں موجود ہر محکمے کو چیک کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ ان لوگوں میں اختیارات کی جو یہ صرف ہوا ہی بھری گئی تھی اس وجہ سے آئے دن اُن کے لیے نت نئے مسائل کھڑے ہوتے رہتے تھے۔ کیوں کہ یہ سارے اختیارات صرف زبانی کلامی حد تک ہی تھے۔ تحریری طور پر ہرگز کوئی ایسا حکم نامہ موجود نہیں تھا اور نہ ہی دوسرے محکموں کے ملازمین ان کی سپر میسی ماننے کے لیے تیار تھے۔ سومرا صاحب بھی زیادہ تر وقت اپنے انہی اختیارات کی گردان ہی کرتے رہتے۔ جو ہمیں سخت ناگوار گزرتی اور آہستہ آہستہ ہم نے اُن کے پاس جانا کم کر دیا۔ کچھ عرصے بعد ہمیں علم ہوا کہ سومرا صاحب کا اپنا ذاتی دفتر بونگہ حیات کے قریب نیا تعمیر ہو چکا ہے اور انہوں نے اپنی رہائش وہاں منتقل کر لی ہے۔ کیوں کہ اب اُن کی رہائش ہمارے سکول سے تقریباً ڈیڑھ دو کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔ اس لیے ہمارا اور اُن کا میل ملاپ بہت گھٹ گیا تھا۔
ایک دن اچانک ہی ہمیں خبر موصول ہوئی کہ رات کو سومرا صاحب کے ہاں ڈاکا پڑ گیا ہے۔ ڈاکو نہ صرف اُن سے روپے پیسے چھین کر لے گئے ہیں بلکہ جاتے ہوئے اُن کی اچھی خاصی پٹائی بھی کر گئے ہیں اور اس کے نتیجے میں اُن کا ایک بازو بھی فریکچر ہو گیا ہے۔ ہم سبھی لوگ اگلے دن اُن کا پتہ لینے گئے تو اُن کے جسم کا بیشتر حصہ سفید پٹیوں میں چھپا ہوا تھا۔ ہمارے دریافت کرنے پر انہوں نے تفصیل کچھ اس طرح بتائی کہ صبح کے وقت تو یہاں پر دفتر کا دیگر عملہ بھی موجود ہوتا ہے۔ لیکن چھٹی کے بعد وہ سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں اور یہاں پر صرف میں اپنی ایک اور ادھیٹر عمر ملازمہ کے ساتھ رہ جاتا ہوں۔ یہ عمارت بالکل سنسان جگہ پر بنائی گئی تھی۔ اس کے اردگرد دور دور تک بھی آبادی کا نام نشان تک دکھائی نہیں دیتا تھا۔ کل پہلی تاریخ کو میں اپنے سارے سٹاف کی تنخواہ پاکپتن سے لے کر آیا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ دن کے وقت ہی میں نے سب لوگوں میں تنخواہ تقسیم کر دی تھی۔ رات دس گیارہ بجے کے قریب تین لوگ دیوار پھلانگ کر اندر آ گئے۔ انہوں نے ڈھاٹھوں سے اپنے چہروں کو چھپایا ہوا تھا اور ایک کے ہاتھ میں کلاشنکوف تھی۔ انہوں نے آتے ہی مجھے اور میری ملازمہ کو باندھ دیا اور ہماری دونوں کی تنخواہیں اپنے قبضے میں کر لیں۔ اس کے بعد ہم پر تشدد شروع کر دیا کہ اور جو کچھ تم لوگوں نے یہاں چھپایا ہوا ہے وہ بھی نکالو۔ ہمارے پاس تنخواہ کے علاوہ کچھ بھی تو نہیں تھا۔ ڈیڑھ دو گھنٹے اسی طرح ہی گزرے کبھی وہ گھر کی تلاشی لینا شروع کر دیتے اور کبھی ہم پر تشدد کرنا شروع ہو جاتے۔ آخر کار تھک ہار کر وہ واپس چلے گئے۔ اگلے دن دفتر کے ملازمین نے یہاں آ کر ہمیں کھولا اور بنگہ حیات میں موجود ہسپتال میں لے کر گئے اُن لوگوں نے ہماری دوا دارو کی اور مجھے یہ بھی بتایا کہ میرا بازو فریکچر ہے جس کی بینڈیج کر دی گئی ہے۔ مرکز کونسل کے سب سے بڑے افسر کی اس کسمپرسی اور بے بسی پر افسوس تو ہو ہی رہا تھا لیکن اندر کھاتے میں دور کہیں شاید ہلکی سی مسرت کا احساس بھی موجود تھا۔ جو یقیناً غیر اخلاقی حرکت کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن یہ شاید اُن سب بڑھکوں کا رد عمل تھا جو ہم اتنے عرصے سے سومرا صاحب کی زبانی سنتے چلے آرہے تھے۔
میں نے سرسری انداز میں ہی پوچھ لیا کہ آپ نے تھانے میں رپورٹ درج نہیں کرائی کیونکہ تھانہ چک بیدی بھی قریب ہی موجود تھا۔ تھوڑی دیر تو وہ خاموش رہے اس کے بعد بھرائی ہوئی آواز میں بولے یہ ایک الگ کہانی ہے میں پٹیاں وغیرہ کروا کر تھانے میں رپورٹ درج کروانے گیا اور تھانے دار کو واردات کی ساری کہانی سنائی تو وہ آخر میں بولا کہ سومرا صاحب آپ پر تو زنا کی حد لگتی ہے آپ اکیلی خاتون کے ساتھ گھر میں کیا کر رہے تھے میں نے اُسے بہتیرا سمجھانے کی کوشش کی کہ چلو میرے ساتھ آؤ اور دیکھو کہ وہ تو ایک بوڑھی عورت ہے۔ لیکن وہ اپنی بات پر اڑا رہا کہ اگر ڈاکے کی ایف آئی آر کاٹی جائے گی تو سب سے پہلے تو آپ پر حد جاری کی جائے گی۔ ہم تو اپنی تفتیش کا آغاز ہی اس بات سے کریں گے کہ آپ نے اکیلی خاتون کو اپنے گھر میں کیوں رکھا ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر چھائی ہوئی بے بسی اور مایوسی کو دیکھتے ہوئے مجھے اپنے اندر کھاتے میں سر اٹھانے والے احساسات اور جذبات پر شرمندگی کا احساس بھی ہوا۔ یہ بات تو طے ہے کہ وطنِ عزیز میں پولیس کا ادارہ سب سے زیادہ طاقت ور اور با اثر ہے۔ اور باقی ساری کی ساری طاقتیں اور اختیارات اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ ہمارے بوریوالا میں ہی مبینہ طور پر ایک دفعہ ایک مجسٹریٹ کو پولیس کے ساتھ اس کے ناروا رویے کے سلسلے میں کچھ ڈاکوؤں نے رات کا بیشتر حصہ اس کے سرکاری گھر میں گزارا اور تمام رات اُن دونوں میاں بیوی کی مختلف طریقوں سے بے عزتی کرتے رہے اور مجسٹریٹ صاحب کے بار بار تھانے میں فون کرنے کے باوجود کسی نے بھی اُن کا فون سننے کی زحمت گوارا نہیں کی۔
چک بیدی میں دو سال قیام کے بعد میری پوسٹنگ ہمارے گاؤں کے قریب ہی موجود مڈل سکول 315 /EB میں بطور ہیڈ ماسٹر کے ہو گئی۔ اُن دنوں سکول کے سارے سٹاف کی تنخواہ ہیڈ ماسٹر کے اکاؤنٹ میں ہی آیا کرتی تھی۔ ہیڈ ماسٹر صاحب بذاتِ خود بنک میں حاضر ہو کر ساری تنخواہ وصول کرتے اور پھر واپس سکول میں جا کر تمام سٹاف میں تقسیم کر کے اس کا ریکارڈ رجسٹر قبض الوصول میں درج کر لیا کرتے تھے۔ میں اپنے سٹاف کی پہلی تنخواہ وصول کرنے نیشنل بنک پہنچا تو وہاں پر میری ملاقات اپنی مرکز کونسل کے پراجیکٹ منیجر ناگرہ صاحب سے ہو گئی۔ موصوف چھوٹے سے قد کے بالکل ہی دھان پان سی جسامت کے مالک تھے۔ مجھ سے تعارف کے بعد بڑی خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی فرمانے لگے کہ میں کچھ دنوں کے بعد تمہارے سکول کی انسپکشن کے لیے آنے والا ہوں۔ یہ سنتے ہی میرا میٹر گھوم گیا میں نے اُسے کہا کہ ناگرہ صاحب اگر تو آپ مجھ سے ملنے کے لیے میرے سکول میں تشریف لائیں گے تو مجھے بہت خوشی ہوگی لیکن اگر آپ میرے سکول کی انسپکشن کے لیے آئیں گے تو اول تو آپ کے لیے سکول کا مین گیٹ ہی نہیں کھلے گا۔ کیوں کہ آپ کے پاس ایسا کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ بھولے سے اندر آ بھی گئے تو اپنے قدموں پر شاید واپس نہ جا سکیں۔ بعد میں مجھے احساس ہوا کہ اتنی سخت بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اس کے باوجود بھی وہ اسی بات پر مصر رہا کہ اس کے پاس باقاعدہ ایک آفیشل لیٹر موجود ہے جس کے تحت وہ اپنے مرکز میں موجود ہر ادارے کی انسپکشن کر سکتا ہے۔ میں کوئی مزید بات کیے بغیر اکتاہٹ اور بیزاری کے ساتھ ایک طرف ہو گیا اور بات آئی گئی ہو گئی۔
اگلے مہینے جب میں اپنے سٹاف کی تنخواہ لینے بنک میں داخل ہوا تو ناگرہ صاحب سامنے بنچ پر اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے جیسے ڈاکے کے بعد سومرا صاحب، سارا بدن سفید رنگ کی پٹیوں میں چھپا ہوا تھا چہرے پر صرف دو آنکھیں ہی پٹیوں سے باہر تھیں۔ حقیقت حال دریافت کرنے پر موصوف خود تو خاموش رہے لیکن اُن کے ساتھ آنے والے اُن کے کلرک نے بڑے مزے لے لے کر یہ داستان سنائی کہ صاحب کو اپنے حلقے کے سکولوں کے معائنے کرنے کا بڑا شوق تھا۔ پچھلے مہینے یہاں پر آپ سے ملاقات کے بعد وہ آپ سے کافی نالاں دکھائی دیتے تھے۔ ایک دن وہ گورنمنٹ گرلز سکول چک 321 /EB میں معائنے کے ارادے سے جا گھسے۔ اس سکول کی استانیاں بھی اسی مقامی گاؤں سے تعلق رکھتی تھیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ایک غیر متعلقہ آدمی بغیر اطلاع اور بغیر اجازت کے سکول کے اندر داخل ہو گیا ہے تو انہوں نے فوراً ہی ایک بچی کو اس خبر کے ساتھ ہی اپنے گھروں کو روانہ کر دیا۔ اُن کے گھروں سے مرد حضرات سکول میں پہنچ گئے۔ بس پھر کیا تھا ناگرہ صاحب بہتیرا چلائے کہ میں افسر ہوں میں معائنہ کرنے آیا ہوں لیکن اُن لوگوں نے صاحب کی ایک نہ سنی اور مار مار کر یہ حال کر دیا۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ لوگوں نے اُن کے خلاف پولیس رپورٹ درج کروائی ہے تو وہ کہنے لگا کہ ہم لوگ مقامی پولیس سٹیشن گئے تھے لیکن تھانے دار نے کہا کہ لڑکیوں کے سکول میں داخل ہونے سے پہلے آپ کے صاحب کو چاہیے تھا کہ انہیں پہلے سے باخبر کرتا جب انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ سکول میں داخل ہونے والا یہ غیر مرد کون ہے اور یہ کس ارادے سے یہاں آیا ہے تو پھر ایسی صورتِ حال میں کچھ بھی ہو سکتا تھا۔



LOL
Suggest to add circa / time period or year in every writeup (where necessary) so as reader can imagine the time period under discussion
Here it is not book so reader cannot link them
Time period. Is 80. 81
بخدمت جناب ہیڈماسٹر صاحب،
گزارش ہے کہ فدوی کی رائے ہے کہ مطلوبہ اعداد کو مستقبل میں تحریر کا حصہ بنانے کی کوشش کی جائے۔ تبصروں میں رکھنے سے سائل اور قاری کی صحت پر چنداں اثر نہیں پڑتا۔
عارف صاحب یہ ایک مسلسل واقعات کا سلسلہ ہے اس سے پہلے والی تحریر میں سال کا ذکرکردیا تھا اس لئے دوبارہ اسے دہرایا نہیں گیا بہرحال آئندہ
کوشش کروں گا کہ ایسی صورتحال نہ ہو