سنو اذان تو سمجھو حسینؑ زندہ ہے
ہمارے والد بزرگوار ایک بہت بڑے عاشق رسول و اہل بیت تھے وہ اس کا اظہار بھی کرتے تھے اور اسے اپنے لیے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز بھی قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ میرے بعد میرے کسی عہدے، مرتبہ، اعزازت پر فخر نہ کرنا صرف اس بات پر فخر کرنا کہ تمہارے باپ کے دل میں پوری زندگی عشق رسول و اہل بیت موجزن رہا جو عشق رسول و اہل بیت میں دنیا سے جائے وہ بھی شہید ہے۔ وہ کہتے تھے خداوند اس سے محبت کرتا ہے جو اس کے رسول و اہل بیت سے محبت کرتا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”حسینؑ مجھے سے ہیں اور میں حسین ؑسے ہوں“ وہ قربانی حسینؑ و اہل بیت سے اس قدر متاثر تھے کہ انہوں نے اپنے بچوں کے نام تک ان سے منسوب کر دیے تھے گو وہ پکے سنی العقیدہ مسلمان تھے لیکن ہمیشہ چیئرمین امن کمیٹی رہے تھے ہمارے شہر کی شام غریباں میں ان کا بیان لازمی ہوتا تھا۔ محرم کے ایام میں ہم بچوں کو حضرت امام حسین ؒ کی مکمل زندگی کے بارے میں روز رات کو واقعات سناتے ایک مرتبہ کہنے لگے امام حسین ؑ نے فرمایا ہے ”جب تم کسی شہید یا غریب کی خبر سنو تو مجھے یاد کر لیا کرو“ تو میں نے ایک روز پوچھا ابا جی! واقعہ کر بلا کے بارے میں مختصراً بتائیں تو انہوں نے کہا کہ
صدق خلیل بھی ہے عشق
صبر حسین بھی ہے عشق
حضرت امام حسین ؒ ابن علی کرم اللہ وجہ نواسہ رسول تھے جو آپ ﷺ کی دختر عظیم حضرت فاطمہ زہرا کے فرزند تھے امام عالی مقام کو ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اپنا پھول کہا ہے حضرت عبداللہ ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”دنیا میں حسن و حسین میرے پھول ہیں“ (بخاری شریف) جنہوں نے اپنے نانا کے دین کو بچانے کے لیے سنت ابراہیمی پر عمل پیرا ہونے کا فیصلہ کیا اور اپنی اور اپنے اہل بیت کی جانوں کا نذرانہ کربلا کے میدان میں پیش کر کے ناصرف جرات و بہادری، صبر و تحمل، برداشت اور حوصلے کی عظیم مثال قائم کی بلکہ اسلام کی بقا کے لیے سجدہ شبیری ادا کر کے قیامت تک اسلام کو روحانیت، نورانیت، اور ایک تازہ رونق و درخشندگی سے نوازا اور امت مسلمہ کو معنویت اسلام کی جانب متوجہ کیا وہ معنویت جو عالم اسلام کی حیات کے دستور سے مٹائے جانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ امام حسین ؑنے فرمایا ”جب جسم موت کے لیے بنا ہے تو اللہ کی راہ میں شہید ہونا سب سے بہتر ہے“ پھر فرمایا کہ ”باطل کو برداشت کرنا باطل ہے اور ناراض ہو کر حق کو چھوڑ دینا بھی باطل ہے اور مومن کبھی مبتلا باطل نہیں ہوتا“
آج سے چودہ سو سال قبل وہ تنہا شخص تھے جو حکومت وقت کے جبر و استبداد کے مقابلے میں کھڑے ہوئے اور ان کا نعرہ تھا ”میں راہ حق میں شہید کر دیا جاؤں گا لیکن اپنا ہاتھ باطل کے ہاتھ میں کبھی نہیں دوں گا“ امام عالی مقام نے ملوکیت، آمریت، جبر و استبداد اور ظلم و جور کے عفریت کا پنجہ مروڑنے کی عزیمت دکھا دی جو دور حاضر کے عقلی حیلوں بہانوں اور بے عملی کے مارے ذہنوں کی فکر و بحث سے بہت بلند ہے آپ نے شہادت قبول کر لی آپ کے خیام راکھ کر دیے گئے بچے اور پورا خاندان شہید کر دیا گیا خواتین کو قید کر کے دربار یزید میں بھجوا دیا گیا لیکن انہوں نے اپنے اصولوں پر قائم رہ کر یزیدیت کے تقاضے قبول نہ کیے۔ ”عراق جاتے ہوئے ُ ایک خطبہ میں فرمایا“ اللہ کی خوشی ہی ہم اہل بیت کی خوشی ہے لہذا ہم اس کی طرف سے ہر مصیبت (امتحان) پر صبر سے کام لیں گے وہ یقیناً صبر کرنے والوں کو اجر سے نوازتا ہے ”سلام تجھ پہ ہزاروں جناب سبط رسول“ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے بارگاہ حسینیت میں یوں خراج عقیدت پیش کیا ہے کہ
شاہ ہست حسینؑ بادشاہ ہست حسیں ؑ
دین ہست حسینؑ دین پناہ ہست حسیں ؑ
سر داد نہ داد دست در دست یزید
حقا کہ بنائے لا الہ ہست حسینؑ
امام عالی مقام کے ایمان، صبر و استقامت و پائیداری کو سلام ہو وہ چاہتے تو وہ یزید کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر کے اپنی شخصی زندگی، اہل بیت اور اپنے جانثاروں کو بچا لیتے لیکن امامت و رہبری کی مسولیت آپ کو اس بات کی اجازت نہ دیتی تھی کہ آپ یزید کو خلیفہ کی حیثیت سے مانیں یا تسلیم کریں امام عالی مقام شریعت کے احکام میں من پسند یزیدی تبدیلیوں کی راہ میں کوہ گراں کی طرح حائل ہو گئے اور یزید کو للکار کر کہا میرے نبی ﷺ کا حلال کیا ہوا قیامت تک حلال رہے گا اور ان کا حرام کیا ہوا قیامت تک حرام رہے گا اور دنیا کی کوئی طاقت میری موجودگی میں اس حرام و حلال میں تبدیلی نہیں کر سکتی یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں ان خرابیوں کی اصلاح کروں نیکی کا حکم دوں اور برائیوں سے روکوں۔ آپ نے تیزی سے دین اسلام کو باطل کے چنگل سے رہائی دلانے اور خود کو ہر مصیبت و تکلیف کے لیے آمادہ کر لیا۔ بقا اسلام و سنت رسول کے لیے امام عالی مقام نے راہ شہادت اختیار کی اور اپنے اہل بیت، جگر گوشوں اور جانثاروں کے پاکیزہ لہو سے دین مصطفوی کو جاوداں کر دیا حسین ؑ نے اپنی کٹی ہوئی گردن سے نوک نیزہ پر قرآن کی تلاوت کر کے اپنے نانا ﷺ کے دین کو بچا لیا اور ان ﷺ کی صداقت کو منوا لیا اور اپنے نانا ﷺ کے اس فرمان کو سچ کر دکھایا کہ ”میں حسینؑ سے ہوں اور حسینؑ مجھ سے ہیں“ انہوں نے حسینیت کے عظیم ترین باب کی بنیاد رکھی اور یزیدیت کو قیامت تک بھر پور مذمت اور برائی کی علامت بنا کر چھوڑ دیا۔ آج بھی کربلا کی تپتی ریت پر امام عالی مقام کی لافانی روح قائم ہے اور انسانیت تاقیامت ان کی شہادت اور کربلا پر جرم و بربریت کی داستان پر نوع انسانی نوحہ کناں رہے گی۔ ہمارے ابا جی فرماتے تھے کہ امام عالی مقام نے اندھیرے اور اجالے، حق و باطل، اچھائی اور برائی، جھوٹ و سچ، ظالم و مظلوم کے درمیان ایک حد اور لکیر قائم کی جس نے حق و باطل کے درمیان فرق کو ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا یہ لکیر انہوں نے اپنے اور اپنے اہل بیت و جانثاروں کے خون سے کھنچی ہے اس لیے جب تک دنیا قائم ہے یہ لہو کی سرخ لکیر بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لیے ہمیشہ قائم رہے گی اس لکیر کے ایک جانب انسانیت کی سربلندی نظر آتی ہے تو دوسری جانب بربریت کا پہاڑ دکھائی دیتا ہے۔ آپ کا فرمان ہے ”ظالموں کے ساتھ زندہ رہنا بھی ایک طرح کا ظلم ہے“ پھر فرمایا ”ظلم کے خلاف جتنی دیر سے اُٹھو گے اتنی زیادہ قربانی دینی پڑے گی“ دنیا میں آج تک یزیدیت برائی، جھوٹ، ظلم، باطل اور اندھیروں کا نام ہے اور حسینیت امن، اچھائی، سچ، حق اور اجالوں کی علامت ہے یزید مٹ چکا ہے جابر سلطان اور باطل کے سامنے کلمہ حق بلند کرنا سب سے بڑا جہاد ہے اسی لیے آج حسینؑ زندہ ہیں جب جب یزیدی قوتیں سر ابھاریں گی حسینیت ان سے ٹکراتی رہے گی۔ بیاض سونی پتی مرحوم نے کہا تھا۔
اے چرخ تو نے حوصلہ دیکھا حسینؑ کا
ہر زخم کھا کہ کھلتا تھا چہرہ حسینؑ کا
جو وقت کے یزید سے ٹکرا گیا بیاضؔ
بس جان لو کے ہے وہی پیارا حسینؑ کا

