دمہ، اس کی وجوہات، گھریلو احتیاط اور علاج
دمہ ایک عام بیماری ہے جو 10 سے 20 فیصد بچّوں میں پایا جاتا ہے۔ یعنی ہر دس بچّوں میں سے ایک یا دو بچّوں کو دمہ ہو سکتا ہے۔ اکثر والدین کی جانب سے اس بات سے انکار کیا جاتا ہے کہ ان کے بّچے یا رشتہ داروں کو دمہ ہے۔ وہ الرجی کی اصطلاح میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کے بّچے کو دمہ ہے تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں اور اسے بدنامی سمجھتے ہیں۔ اس طرح ان کے بچّوں کو اکثر ناکافی یا نامناسب علاج ملتا ہے اور وہ بہت سارے مصائب کے ساتھ ایک مشکل زندگی گزارتے ہیں۔ دمہ کی تشخیص اور مناسب علاج ایک عام اور خوشگوار زندگی کا باعث بن سکتا ہے۔
دمہ کیا ہے؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر والدین کی طرف سے پوچھا جاتا ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے سانس کے عمل کو مختصر طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ سانس کی نالی جو گلے سے سینے میں نیچے کی طرف جاتی ہے وہ سینے میں پہنچ کر دو شاخوں میں تقسیم ہوجاتی ہے اور ہر شاخ ایک پھیپھڑے میں چلی جاتی ہے۔ یہ شاخیں آگے جاکر مزید انتہائی چھوٹی اور پتلی شاخوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں جنہیں برونکائی اور برونکیولز کہا جاتا ہے۔ برونکیولز کے آخر میں ایک غبارے جیسی ساخت ہوتی ہے، جسے الویولائی کہا جاتا ہے جو سانس لینے کے دوران پھیلتی اور سکڑتی ہیں۔ ہوا اور خون کے درمیان آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تبادلہ ان غباروں میں ہوتا ہے۔ دمہ میں ان برونکائی اور برونکیولز میں گزرنے والا راستہ عارضی طور پر تنگ ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہوا کے بہاؤ میں رکاوٹ اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ رکاوٹ غیر معمولی آوازوں کا سبب بنتی ہے جسے رونکائی کہتے ہیں۔ الویولائی میں آکسیجن کے تبادلے میں کمی کی وجہ سے خون میں بھی آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے۔ جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
دمہ کی وجوہات کیا ہیں
حالانکہ دمہ کی اصل وجہ معلوم نہیں ہے لیکن یہ خاندانی یا جینیاتی اور غیر خاندانی دونوں نوعیت کا ہو سکتا ہے۔ دمہ کا دورہ پڑنے کی وجہ عموماً الرجی اور وائرل انفیکشن ہوتے ہیں۔ دمہ میں جن مادّوں سے مریض کو الرجی ہوتی ہے ان کی تعداد سینکڑوں میں ہو سکتی ہے ان میں کچھ مادّے ماحولیاتی ہوتے ہیں اور کچھ کھانے پینے کی چیزیں۔ ماحولیاتی مادّوں میں کیڑے مکوڑے، پھول پودوں کے ذرّات جنہیں پولن کہا جاتا ہے اور گھر کی دھول میں پائے جانے والے کیڑے، پرندوں، بلیوں اور کتوں کے بال وغیرہ اور کھانے پینے کی چیزوں میں انڈے، مونگ پھلی، خشک میوہ جات اور سمندری خوراک جیسے مچھلی اور جھینگے وغیرہ شامل ہیں۔ انفیکشن میں عام وائرل انفیکشن اور فلو وائرس بہت اہم ہیں۔
دمہ کی علامات:
دمہ عام طور پر سانس کی تکلیف اور کھانسی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے جسے دمہ کا دورہ کہا جاتا ہے۔ یہ دورہ کبھی عارضی طور پر صرف چند گھنٹوں یا دنوں کے لئے ہوتا ہے اور کبھی مستقل طور پر۔ ان دوروں کے درمیان مریض بالکل ٹھیک نظر آتا ہے۔ کبھی کبھی ان دوروں میں وقفہ دنوں، ہفتوں اور مہینوں کا ہو سکتا ہے۔ وقفہ اگر زیادہ ہو تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مریض ہمیشہ کے لئے ٹھیک ہو گیا ہے۔ دمہ کے مریض کو کئی کئی سال کے وقفہ کے بعد بھی کھانسی اور سانس کی تکلیف کا حملہ یا دمہ کا دورہ ہو سکتا ہے۔ جب دمہ کا دورہ ہوتا ہے تو اس میں خشک کھانسی ہوتی ہے، سانس تیز تیز چلتا ہے، سینے سے سیٹی جیسی آوازیں آتی ہیں، کبھی سینے میں پسلیوں کے نیچے گڑھے پڑتے ہیں اور کبھی کبھی گردن اور سینے کے درمیان بھی گڑھے پڑتے ہیں۔ مریض کو سانس گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
دمہ کے ان دوروں کی تعداد اور دورانیہ کے مطابق مریضوں کو چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ درجہ اوّل میں معمولی نوعیت کے اور درجہ چہارم میں شدید نوعیت کے مریضوں کو شامل کیا جاتا ہے اور اسی کی مناسبت سے علاج کیا جاتا ہے۔ لیکن مریض ہمیشہ ایک ہی درجہ میں نہیں رہتا اور اس کی شکایت کی بنا پر اس کی بیماری کا درجہ بھی بدلتا رہتا ہے۔
دمہ کی تشخیص:
دمہ کی تشخیص ایک مشکل کام ہے کیونکہ کوئی ایسا ٹیسٹ موجود نہیں ہے جس سے دمہ کی تشخیص کی جا سکے۔ اکثر ڈاکٹر اور دیگر حضرات سانس کے عمل کی کارکردگی جانچنے والے ٹیسٹ کو جسے ”پی ایف ٹی“ کہتے ہیں دمہ کا تشخیصی ٹیسٹ سمجھتے ہیں جب کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ پی ایف ٹی آپ کو صرف آپ کے پھیپھڑوں کی حالت کا پتہ دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ٹیسٹ جسے ”پی ای ایف آر“ کہتے ہیں دمہ کے مریضوں میں ان کے پھیپھڑوں کی حالت کا اندازہ لگانے کے لئے کیا جاتا ہے اور کلینک میں کیا جاسکتا ہے۔ یہ ٹیسٹ زیادہ کار آمد ہوتا ہے۔ اور سانس کی نالی میں ہوا گزرنے کی رفتار بتاتا ہے جو دمہ کے دورہ کے وقت کم ہوتی ہے اور دورہ ختم ہونے پر ٹھیک ہو جاتی ہے۔ یہ دونوں ٹیسٹ پانچ سال سے کم عمر کے بچّوں میں کرنا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہوتے ہیں اور اس کے نتائج بھی قابل بھروسا نہیں ہوتے۔
اس کے علاوہ کچھ ڈاکٹر خون میں ”آئی جی ای“ بھی چیک کرتے ہیں۔ اگر اس کی مقدار خون میں زیادہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس شخص کو کسی چیز سے الرجی ہے۔ اس کا دمہ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس لئے دمہ کی تشخیص کا انحصار مریض کے بیان پر ہوتا ہے۔ دمہ کے مریض میں سانس میں ہونے والی وقتی تکلیف دواؤں کے استعمال سے چند گھنٹوں میں ٹھیک یا بہتر ہو جاتی ہے۔ اور دوا کا اثر ختم ہونے پر دوبارہ ہو سکتی ہے۔ دمہ کے یہ دورے کبھی روزانہ، کبھی ہفتہ میں دو تین بار، کبھی مہینہ میں ایک دو بار اور کبھی سال میں ایک دو بار ہوتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سانس کی ہر تکلیف دمہ نہیں ہوتی۔ سانس کی تکلیف دل، پھیپھڑوں کی دیگر بیماریوں، گردے کی بیماریوں یا خون میں تیزابیت کی زیادتی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔
دمہ کا علاج:
چونکہ دمہ ایک تاحیات بیماری ہے۔ اس کا مکمّل علاج ممکن نہیں ہوتا بلکہ اسے کنٹرول کیا جاتا ہے تاکہ دمہ کا مریض صحت مند زندگی گزار سکے۔ اگر کسی مریض کو زیادہ عرصہ دمہ کا دورہ نہ پڑے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ مریض مکمّل طور پر صحت یاب ہو گیا ہے۔ اسے بعد میں کسی بھی عمر میں دوبارہ دمہ کا شدید دورہ پڑ سکتا ہے۔ اکثر لوگ ایسے علاج کی تلاش میں غلط اور نقصان دہ علاج کا شکار ہو جاتے ہیں۔
دمہ کے علاج میں تین اقدام اہم ہیں۔ اس میں پہلا قدم دمہ کے دورے سے بچاؤ، دوسرا قدم وقتی علاج اور تیسرا قدم دمہ کے دوروں کی تعداد اور دورانیہ کو کم کرنا اور کنٹرول میں رکھنا ہے۔
1۔ دمہ کے دوروں سے بچاؤ:
اس کے لئے ایسی چیزوں سے جن سے مریض کو الرجی ہو بچنا بہت ضروری ہے کھانے پینے والی چیزوں کی الرجی سے بچنا آسان ہے لیکن ماحولیاتی الرجی سے بچنا زیادہ مشکل ہے۔ اس کے باوجود دمہ کے ہر مریض کو ایسا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایسے مریضوں کو عام طور پر دھول مٹّی، ایروسول جیسے پرفیوم، پالتو جانوروں، خاص طور پر پرندوں سے بچنا ضروری ہے۔ لوگوں کو قالین اور پردے ہٹانے کا مشورہ دیا جاتا ہے لیکن اس سے مسئلہ شاذ و نادر ہی حل ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ دھول میں موجود کیڑا ہے جس کی وجہ سے دمہ ہوتا ہے۔ اس لئے گھر میں جھاڑو دینے کی بجائے گیلے کپڑے سے صفائی کرنا چاہیے۔ بستر کی چادروں وغیرہ کو جھاڑنا نہیں چاہیے۔ بلکہ اگر اس پر کچھ لگا ہو تو اسے تہہ کر کے ایک طرف رکھ دینا چاہیے۔ میز وغیرہ کی سطحوں کو گیلے کپڑے کے ذریعہ اور قالینوں کو ویکیوم کلینر کے ذریعہ صاف کرنا چاہیے۔ بھرے ہوئے کھلونوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیے جن میں بہت زیادہ دھول اور گرد و غبار جمع ہوتا ہے۔
2۔ دمہ کے مریض کا وقتی علاج:
دمہ کا دورہ یا حملہ کنٹرول کرنے کے لئے جو دوائیں استعمال ہوتی ہیں وہ برونکائی کی تنگی کو دور کرتی ہیں اور برونکائی کی اندرونی تہہ میں سوجن کو کم کرتی ہیں۔ یہ دوائیں بنیادی طور پر دو قسم کی ہوتی ہیں۔
(الف) وہ دوائیں جو برونکائی کی تنگی کو کم کرتی ہیں۔ جن میں سالبیوٹامول، ٹربیوٹالین اور تھیوفائیلین وغیرہ شامل ہیں جو مختلف تجارتی ناموں جیسے وینٹولین، بریٹینل اور امائینوفائیلین یا ایسی فائیلین وغیرہ کے نام سے ملتی ہیں
(ب) دوسری وہ دوائیں ہیں جو برونکائی کی دیواروں میں سوجن کو کم کرتی ہیں۔ ان میں سٹیرائڈز شامل ہیں۔
ان دو اؤں کو استعمال کرنے کے تین طریقے ہیں۔ پہلا بذریعہ منہ کے۔ دوسرے بذریعہ انجیکشن کے اور تیسرے بذریعہ سانس کے۔
ہر طریقہ کے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں۔ منہ کے ذریعہ دی جانے والی ادویات کو کام کرنے میں وقت لگتا ہے اور زیادہ مقدار میں ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے ضمنی نقصان دہ اثرات بھی زیادہ ہوسکتے ہیں۔ جب کہ انجکشن تیزی سے کام کرتے ہیں اور اکثر شدید دمہ کے حملوں یا شدید الرجی کے رد عمل میں موت سے بچاتے ہیں۔ ان دونوں طریقوں کے مقابلہ میں سانس کے ذریعہ دواؤں کا استعمال بہترین علاج ہے کیونکہ اس میں ادویات براہ راست برونکائی تک پہنچ جاتی ہیں اور دواؤں کی بہت کم مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح، ضمنی نقصان دہ اثرات بھی کم سے کم ہوتے ہیں۔
سانس کے ذریعہ لینے والی دوائیں دو طریقوں سے دی جاتی ہیں۔ ایک انہیلرز کے ذریعہ اور دوسرا نیبولائزرز کے ذریعہ۔ دونوں کے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں لیکن یکساں طور پر موثّر ہیں۔ دونوں طریقوں کے درمیان انتخاب اکثر مریض اور معالج کے درمیان تسلّی پر منحصر ہے۔ کیونکہ اگر ان طریقوں کو مناسب طریقے سے استعمال نہیں کیا جاتا تو یہ موثّر نہیں ہوسکتے۔ ان کے استعمال کا طریقہ اور تفصیل درجہ ذیل ہے۔
(الف) انہیلر اور اس کے استعمال کا طریقہ :
انہیلر کو لوگ عام طور پر ”پمپ“ کہتے ہیں۔ لیکن یہ پمپ نہیں ہیں۔ اس طریقہ کار میں خشک پاؤڈر دوا کو ایک دباؤ والے کنٹینر میں بھرا جاتا ہے۔ جب کنٹینر کو دبایا جاتا ہے تو اس میں سے دوا کی ایک مخصوص مقدار اسپرے کی شکل میں نکلتی ہے، جسے سانس کے ذریعہ لینا پڑتا ہے۔ کنٹینر اس وقت دبایا جانا چاہیے جب مریض سانس اندر کی طرف لے رہا ہو۔ بصورت دیگر تمام دوا ہوا میں چلی جائے گی اور اس کے استعمال کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ یہ طریقہ بچوں کو اور بعض اوقات بڑوں کو بھی سکھانا مشکل ہوتا ہے۔ لہذا، انہیلر استعمال کرنے کے لئے اسپیسر نامی آلہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ آلہ مریض کے منہ یا ناک اور انہیلر کے درمیان استعمال کیا جاتا ہے۔ جب انہیلر دبایا جاتا ہے تو دوا اسپیسر میں بھر جاتی ہے اور آہستہ آہستہ سانس کے ذریعہ پھیپھڑوں تک پہنچ جاتی ہے۔ چھوٹے بچوں میں اسے فیس ماسک کے ذریعے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ بجلی کی ضرورت نہیں ہوتی اور بیگ میں آسانی سے لے جایا جا سکتا ہے اور اسے کہیں بھی کسی بھی وقت استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے اسکول، دفاتر وغیرہ۔
(ب) نیبولائزیشن کا استعمال اور طریقہ:
اس طریقہ میں دوا ایک مشین کے ذریعہ براہ راست پھیپھڑوں میں پہنچائی جاتی ہے۔ اسے نیبولائیزر مشین کہتے ہیں۔ ان نیبولائزر مشین میں ایک برقی پمپ ہوتا ہے جو ہوا کا بہاؤ پیدا کرتا ہے۔ یہ ہوا ایک چھوٹے سے کنٹینر سے گزرتی ہے جس میں دواؤں کے ساتھ پانی ملایا جاتا ہے۔ زور دار ہوا کا بہاؤ پانی کو بہت چھوٹے ذرات میں تبدیل کرتا ہے جو ٹھنڈی بھاپ کی طرح نظر آتے ہیں۔ جب یہ بھاپ سانس میں لی جاتی ہے تو یہ سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں میں جاتی ہے اور اپنے ساتھ دوا لے جاتی ہے۔ اس کے استعمال میں ادویات کا مناسب امتزاج بھی اہم ہے۔ بصورت دیگر دوا کی مناسب خوراک پھیپھڑوں تک نہیں پہنچے گی اور اس کا مطلوبہ اثر نہیں ہو گا۔ عام طور پر دوا کو نمکین محلول کے ساتھ ملایا جاتا ہے جو مخصوص تناسب میں عام نمک کا محلول ہوتا ہے۔ عام طور پر کم سے کم 2 ملی لیٹر یا زیادہ سے زیادہ 4۔ 5 ملی لیٹر محلول استعمال کیا جاتا ہے۔ محلول کی پوری مقدار ختم ہونا ضروری ہے۔ عام غلطی نمکین محلول میں شامل کی جانے والی دوا کی ناکافی مقدار ہے۔ اسے سرنج سے ایم ایل میں پیمائش کر کے استعمال کیا جانا چاہیے نہ کہ قطروں میں۔ دوا کی خوراک یا مقدار کا انحصار مریض کی عمر اور وزن پر ہوتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ مریض کو کسی قسم کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور اسے کسی بھی عمر کے مریضوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن نقصان یہ ہے کہ اس کے استعمال کے لئے بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اسکول یا دفاتر وغیرہ میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
3۔ دمہ کے دوروں کو روکنے والی دوائیں :
دمہ کے دوروں کو روکنے کے لئے دو قسم کی دوائیں استعمال ہوتی ہیں۔ پہلی قسم کی دوائیں منہ کے ذریعہ دی جاتی ہیں جو مستقل استعمال کرنی ہوتی ہیں۔ ان میں کیٹوٹیفین اور مونٹی لیوکاسٹ شامل ہیں۔ ان کے بھی اپنے ضمنی اثرات ہوتے ہیں۔ دوسری قسم میں مختلف اسٹیرائیڈ شامل ہیں جو انہیلر کے ذریعہ استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہیں بھی مستقل طور پر کافی عرصے تک استعمال کرنا ہوتا ہے۔
دمہ کے علاج میں پائی جانے والی چند عوامی غلط فہمیاں :
(الف) انہیلر یا دواؤں کا عادی ہونا: اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بچّہ انہیلر کا عادی ہو جائے گا۔ اس غلط خیال کی وجہ سے لوگ انہیلر سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے استعمال سے پرہیز بچّے کی زندگی میں مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ چونکہ دمہ ایک تاحیات بیماری ہے، لہذا اس کا علاج بھی تاحیات ہے اور مریض کی ضرورت ہے۔ انسان صرف ان چیزوں کا عادی ہوتا ہے جن کی اسے صحت مند زندگی گزارنے کے لئے ضرورت نہیں ہوتی ہے، جیسے شراب، افیون، سگریٹ، تمباکو، یا سکون آور دوائیں وغیرہ۔ صحت مند زندگی کے لئے ان میں سے کسی کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ نقصان دہ اور خطرناک ہوتی ہیں۔
(ب) ۔ عام طور پر لوگ اسٹیرائڈ کے نام سے ڈرتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ اسٹیرائڈز عام زندگی کے لئے کتنے ضروری ہوتے ہیں۔ یہ اسٹیرائڈز کی ضرورت سے زیادہ خوراک یا نامناسب استعمال ہے جو نقصان دہ ہوتا ہے اور نقصان دہ اثرات کا سبب بنتا ہے۔ دوسری طرف اسٹیرائڈز بہت سی بیماریوں میں جیسے صدمے (Shock) اور شدید دمہ میں زندگی بچاتے ہیں۔ دمہ کے حملہ کو روکنے میں بھی اسٹیرائڈز مفید ہوتے ہیں۔ منہ کے ذریعہ دیے جانے والے سٹیرائڈز کے مختصر کورسز اکثر کسی بڑے نقصان دہ اثرات کا سبب نہیں بنتے، بلکہ وہ مریضوں کی زندگی بچاتے ہیں۔
(ج) عام طور پر لوگ بعض کھانوں سے پرہیز کرنے لگتے ہیں جیسے چاول، آئس کریم اور دوسری چیزیں جنہیں وہ ٹھنڈی سمجھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بچّوں میں خوراک کی کمی ہوجاتی ہے اور وزن کم ہو جاتا ہے۔ دمہ کے مریضوں کو یہ تمام خوراک دی جا سکتی ہیں۔
احتیاطی تدابیر:
1۔ دھول مٹّی اور پیڑ پودوں، گھاس اور لان سے دور رہیں۔
2۔ گھر میں جانور خاص طور پر پرندے نہیں رکھنا چاہیے۔
3۔ گھر میں پرفیوم، پاؤڈر وغیرہ کے استعمال سے اجتناب کریں۔
4۔ بستر کی چادروں کو نہ جھاڑیں۔ گھر میں جھاڑو کے بجائے گیلے کپڑے کا پوچا اور ویکیوم کلینر کا استعمال کریں۔
5۔ روئی سے بھرے ہوئے کھلونے استعمال نہ کریں۔
6۔ جن کھانے کی چیزوں سے الرجی ہو ان سے پرہیز کریں۔
7۔ دھوئیں اور سگریٹ سے بچیں اور گھر میں کوئی شخص سگریٹ کا استعمال نہ کرے۔
8۔ فلو سے بچاؤ کے ٹیکے ہر سال لگوائیں۔
(یہ مضمون میری کتاب ”میں اور میرا بچّہ“ سے ماخوذ ہے )


