ایران، اسرائیل جنگ اور ایک نمبر


پان کے کیبن پہ فیصی نے ماچس کی تیلی کو جلا کر اپنے پنج تنی ہاتھ سے شعلے کو قابو کیا تاکہ میں سگریٹ سلگا سکوں۔ اب دونوں بھرپور کش بھر رہے تھے۔ کش بھرتے ہوئے میں نے کہا یار دیکھو! کیا بات ہے ایران نے اسرائیل پہ حملہ کر دیا۔ وہیں موجود اک صاحب نے ہماری بات سنتے ہی کہا اماں چھوڑو ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ میں نے سگریٹ کے کش کو ذرا طویل کیا۔ اور کہا بھائی صاحب ابھی ابھی کیا ہے۔ ٹویٹر پہ اپڈیٹ ہو چکا ہے، کچھ ہی دیر میں تفصیلات آتی ہوں گی۔ میاں تمہیں گیس ہوئی ہوگی، یہ کیبن سے ہی تمہیں کارمینا دلا دیتا ہوں وہ کھا لینا۔ ممکن ہی نہیں کہ ایران اسرائیل پہ حملہ کردے۔ بیٹا ہم نے دنیا دیکھی ہے اک عمر گزاری ہے ؛ اک زمانہ سمجھا ہے۔ بھلا جو ایک دوسرے کے اصل دوست ہوں جن کے مفادات ایک ہوں امت میں تفرقہ کے، جو مسلمانوں کی پِیٹھ میں ہمیشہ چھرا گھونپتے آئے ہوں وہ اسرائیل کو سنبھال تو سکتے ہیں اسے فائدہ تو پہنچا سکتے ہیں مگر حملہ کر کے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ میاں سگریٹ جلا سکتے ہو جلا لو، اسرائیل جلانا آسان نہیں اور وہ بھی ایران، مذاق ہے کیا۔ تو کیا سمجھتا ہے کیا ہم نہیں جانتے کہ ایران کی کیا تاریخ ہے کیا ہمارے اکابرین سے ہم نے نہیں سنا کہ یہ ایران کس قسم کا دشمن ہے مسلمانوں کا۔

ارے انکل! میری بات تو سنیں۔ ابے چپ! ایک تو تم لوگ مذہب سے اتنا دور ہو چکے ہو کہ حق کی پہچان ہی ختم ہو گئی ہے حدیث نہیں پڑھی کیا کہ اصفہان سے تو یہودی نکلیں گے، دجال کا ساتھ دیں گے، یہ ایرانی ہی یہودیوں کا ساتھ دیتے ہیں یہ ہیں ہی مسلمانوں کے دشمن۔ بیٹا اک تاریخ ہے مگر تمہیں کیا کدو کا پتہ ہے پان کے کیبن پہ علامہ سگریٹ بن کے بیان ٹھوک رہے ہیں۔ پڑھو ذرا جا کر روایتیں تمہیں پتہ لگے گا سنو اکابرین کو تمہیں پتہ لگے گا۔ حق پر صرف ہم ہیں اور ہمارا فرقہ۔

ارے چاچا تم رکو۔ پان والا بھی اس عظیم گفتگو میں شامل ہوا۔ دیکھ بھائی یہ جو سامنے چوک جس مولانا کے نام پر ہے نا؛ انہوں نے کئی سال پہلے کہہ دیا تھا کہ یہ ایران اسرائیل گٹھ جوڑ ہے، وہ مرد مومن کہہ کر گیا ہے کہ ایران اسرائیل پہ حملہ کر ہی نہیں سکتا۔ بلکہ مولانا رحمتہ اللہ علیہ تو یہ کہہ گئے ہیں کہ اگر ایران اسرائیل پہ حملہ کردے تو میری قبر پہ آ کر ایک نمبر کر جانا۔ اب بتاؤ ایران کیسے حملہ کر سکتا ہے۔ پورے مسلک کی بنیاد کھڑی ہے بھائی اس پر ان کو ایک دوسرے کا دشمن مان کر کیا اپنا حق پہ کھڑا مسلک گرا دیں؟

یار ان کے چکر میں سگریٹ ضائع ہو رہی ہے چلتے ہیں ایک تو سکون سے پئیں۔ (میں نے فیصی سے کہا)
نہیں یار دلچسپ صورتحال ہے سننے تو دے۔ یار اگر آپ تھوڑا سانس لیں تو میں کچھ کہوں۔ فیصی گفتگو میں شامل ہوا۔ اوہ۔ تو بھی بولتا ہے۔ بول بھائی۔

یار نواز بھائی آپ کا نام بھی مولانا رحمتہ اللہ علیہ کے نام پر ہے۔ یہ دیکھیں مملکت خداداد کے تمام نیوز چینل پہ لائیو آ رہا ہے۔ یہ دیکھیں میزائل اسلامی ممالک کے اوپر سے ہوتے ہوئے باقاعدہ اسرائیل میں جا کر گر رہے ہیں۔ یہ دیکھیں غیر ملکی چینل یہ دیکھیں باقاعدہ میزائل گر رہے ہیں۔ آپ دونوں سے گزارش ہے مسلک کو پیشاب پہ کھڑا نہ کریں اصول و ضابطوں پہ کھڑا کریں۔ ٹھیک ہے اک صاحب نے فرط جذبات میں تقریری حدوں کی نہج پہ ایسا کہہ دیا تو اس کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ اس بات کو بنیاد بنا کر اپنا ایک نمبر داؤ پہ کیا لگانا۔ جو آپ روایتیں پیش کر رہے ہیں یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہاں کی آئینی اور مذہبی حکومت اسرائیل و امریکہ گٹھ جوڑ سے گرائی جائے پھر اپنے پسند کے لوگ جب وہاں آئیں تو یقیناً ایران سے یہودی نکلنا کون سا مشکل کام ہے مگر اس کا مطلب کم از کم یہ تو نہیں کہ اپنی خودمختاری، اپنی آئینی حکومت کو محض دو ملکوں کی شرارتوں کی نذر کر دیا جائے ایران نے اصولی جنگ کا فیصلہ کیا ہے اور ملک کے تمام بڑے مفتیان کرام جو کہ بین المذاہب ہم آہنگی کا رجحان رکھتے ہیں انہوں نے اس بابت مثبت بات کی ہے اس لیے میری گزارش ہے آپ بھی اس بات کو مان جائیں، یہ جو تصاویر تل ابیب، یروشلم، حیف کی آ رہی ہیں یہ تو پوری دنیا کے مسلمانوں کے دل کی آواز ہیں۔

فیصی کی ایمان افروز تقریر ختم ہوئی تو پان والے نے چھوٹی انگلی اٹھا کر کہا۔ میں تو چلا! دوسری طرف جنونی چاچا کو جنہیں کم و بیش غش آرہے تھے ان کے کپڑے نیچے سے گیلے محسوس ہوئے تو میں نے کہا ارے چاچا۔ یہ کیا کِیا۔ بولے نکلنے دو یار۔ ٹینشن میں روکنا مشکل ہوتا ہے۔ چل بھائی نکلتے ہیں یہاں تو کھڑا رہنا مشکل ہو رہا ہے

ہم دونوں گاڑی میں بیٹھے اس بار ہاتھ کو پنج تنی بنا کر سگریٹ سلگانے کا انتظام میں نے کیا اور کہا واہ یار فیصی کیا عمدہ کہا۔ فیصی نے سگریٹ کو سلگاتے ہوئے کہا، یار ایمی! ویسے سچ بولوں تو یہ جنگ مجھے بھی نورا کشتی لگ رہی ہے۔ روک گاڑی! روک فوراً، ارے کیا ہوا۔ بھائی میں قبر کا انتظار نہیں کر سکتا ایک نمبر اس گاڑی پر ہی کر دیتا ہوں۔

Facebook Comments HS