مون سون 2025 : سیلاب کا خطرہ اور ہماری لچک


دادو کے نزدیک، سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، 2022 کی تباہ کن بارشوں کے بعد ایک بوڑھی عورت اپنی گری ہوئی جھونپڑی کے باہر بیٹھی کہہ رہی تھی، ”پانی تو آیا، لیکن باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ نہ بہاؤ کا، نہ بچنے کا۔“ وہ منظر آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہے۔ گاؤں پانی میں ڈوبا ہوا، آسمان مسلسل برستا رہا، اور لوگ بے بسی کے عالم میں سر جھکائے بیٹھے تھے۔ ایسی تھی وہ بے بسی۔

2022 میں ہم نے صرف شدید بارشیں نہیں دیکھیں، ہم نے ایک مکمل ناکام نظام کو برہنہ دیکھا۔ ہم نے تیاری کے فقدان، نکاسی آب کی ناکامی، اور زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی میں دہائیوں کی غفلت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ہم پانی کے ساتھ جینا سیکھنے کے بجائے، بغیر تیاری کے اس سے مسلسل لڑتے رہے۔

اب 2025 میں، جب جولائی کے پہلے ہفتے میں مون سون کا دوسرا مرحلہ قریب آ رہا ہے، شمالی پاکستان میں شدید گرمی تیزی سے گلیشیئرز کو پگھلا رہی ہے۔ ابتدائی بارشیں پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں۔ سوات میں اچانک آنے والے سیلاب نے تفریح کے لیے نکلے خاندانوں کو اجاڑ دیا؛ ملک بھر میں ابتدائی سیلابی بہاؤ نے پہلے ہی کئی جانیں لے لی ہیں۔ 18 افراد ڈوب کر جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ بحث کہ قصور کس کا تھا، بعد میں ہو سکتی ہے، لیکن ایک بات طے ہے کہ یہ اموات روکی جا سکتی تھیں۔ مون سون کے مکمل آغاز سے پہلے ہی آفت نے دستک دے دی ہے۔ اگر ہم اب بھی عمل نہ کریں، تو آنے والی آفات اور ان کے نقصانات بارشوں اور پانی کے بہاؤ سے کہیں بڑھ کر ہو سکتے ہیں۔ اس بار ہمارے پاس حیرت کا بہانہ نہیں۔ کیونکہ 2022 کے سیلاب نے ہمیں بہت کچھ سکھایا، اور ہم نے اس کے بعد کئی بڑے منصوبے بھی شروع کیے ہیں۔

ہم نے دیکھا ہے کہ ایسے حالات میں باشعور دنیا اکیلا نہیں چھوڑتی۔ اور ہم بھی اکیلے نہیں ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہمیں افراد، اداروں اور ممالک کا ساتھ حاصل ہے۔ نیدرلینڈز، اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور دیگر اداروں نے نہ صرف ہنگامی امداد دی ہے، بلکہ وہ اپنے تجربات، آزمودہ حکمت عملیاں، اور ایسے اوزار فراہم کر رہے ہیں جو ہم اپنی صورتحال کے مطابق اپنا سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم پالیسی وائٹ پیپر ہے : ”پاکستان میں سیلابی لچک میں بہتری“ ۔ جو نیدرلینڈز کی حکومت کی معاونت سے تیار کیا گیا۔ یہ صرف ماضی کی ناکامیوں کی تشخیص نہیں کرتا بلکہ ہمیں ایک مضبوط، پائیدار راستہ بھی دکھاتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ سیلاب کو دشمن نہ سمجھیں، بلکہ ایک قدرتی حقیقت کے طور پر قبول کریں، جس کا مقابلہ تیاری، منصوبہ بندی، اور اعتماد سے کیا جا سکتا ہے۔

ہماری سب سے بڑی کمزوریاں چھپی ہوئی نہیں ہیں۔ وہ ہر اُس ضلع میں واضح ہیں جو 2022 میں متاثر ہوا۔ سندھ بھر میں بڑھتے ہوئے سیم کی وجہ سے، بارشوں سے پہلے ہی زمین کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح بلند ہے اور اس کے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ قدرتی ندی نالوں پر قبضے ہو چکے ہیں۔ سڑکیں، بند، اور ریلوے لائنیں بغیر کسی کراس ڈرینیج کے بنائی گئی ہیں۔ جہاں پہلے دریا 15 کلومیٹر چوڑا تھا، وہاں پل کی لمبائی صرف ایک کلومیٹر رکھی گئی ہے۔ یہ رکاوٹ سیلابی پانی کے بہاؤ کے لیے نہایت خطرناک ہے، جو اپ اسٹریم بندوں پر دباؤ بڑھاتی ہے اور بند ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اور پانی ٹھہر کر تباہی مچاتا ہے۔

سندھ کے محکمہ آبپاشی نے ایک اہم قدم اٹھایا۔ انڈس ریور کمیشن سندھ،  جو کہ فلڈ پلینز اور بندوں میں تعمیرات سے متعلق فیصلوں کا اعلیٰ ترین صوبائی ادارہ ہے (جس کی صدارت وزیر آبپاشی کرتے ہیں، اور جس میں سیکریٹری، تمام چیف انجینئرز، اور سپرنٹنڈنگ انجینئرز شامل ہیں ) نے نومبر 2022 میں اپنے 187 ویں اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ ”دریا سندھ پر بننے والے تمام پل کنارے سے کنارے تک تعمیر کیے جائیں۔“

اسی طرح، 2022 کی ہر کہانی تباہی کی نہیں تھی۔ کچھی کے میدانوں میں کسانوں نے باقی ماندہ نمی سے چنے اور دیگر فصلیں کاشت کیں۔ یہی طریقہ ہے جس سے ہم سیلابی پانی کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر سکتے ہیں، اور مقامی دانش کو روزگار کی بہتری کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اب واپڈا، کچھی کینال کو بچانے کی کوشش میں، 21 سے زائد پہاڑی نالوں کے پانی کو ایک جگہ مرکوز کرنے کی انجینئرنگ تجویز دے رہا ہے۔ یہ منصوبہ سندھ کے دائیں کنارے اور بلوچستان کے علاقوں میں تباہی لا سکتا ہے۔ اور ممکن ہے کہ یہ ماضی کی تمام تباہیوں سے بڑھ کر ہو۔

اگر ہم 2022 کے بعد کی صورتحال دیکھیں، تو نچلے سندھ کے وہ علاقے جہاں بروقت نکاسی کی گئی، وہاں معمول سے بہتر فصلیں ہوئیں۔ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ اگر سیلابی پانی کو بہتر طریقے سے سنبھالا جائے، تو وہ صرف تباہی کا نہیں بلکہ بہتری کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

وائٹ پیپر ایک موثر حکمت عملی پیش کرتا ہے : پانی کو دوبارہ استعمال کریں (ری یوز) ، اسے روکیے (ریٹین) ، اور اس کی نکاسی کیجیے (رِمووَل) یہ صرف نظریات نہیں بلکہ عملی اقدامات ہیں۔ دوبارہ استعمال کی صورت میں، سیلابی پانی کو زیر زمین آبی ذخائر کو بھرنے، بنجر زمینوں کو سیراب کرنے، یا چراگاہوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں کمیونٹیز نے خود ایسا کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔ بہتر منصوبہ بندی سے، یہ صوبائی اور قومی سطح پر ایک پائیدار پالیسی بن سکتی ہے۔

پانی کو روکنے کے لیے نیچر بیسڈ حل اپنانے ہوں گے۔ جیسے کہ شہروں میں پارکس یا کھیل کے میدانوں کو عارضی واٹر ریٹینشن زون بنانا، قدرتی جھیلوں اور دلدلی علاقوں کی بحالی، جہاں پانی عارضی طور پر ذخیرہ کیا جا سکے، جہاں ممکن ہو وہاں چھوٹے ریٹینشن ڈیمز بنانا، اور شجرکاری کو فروغ دینا۔ پچھلی دہائیوں میں سڑکوں، نہروں، اسکیموں، اور ریلوے لائنوں کی تعمیر نے قدیم ندی نالوں کو بند کر دیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں نے قدرتی پانی کے بہاؤ کو روک دیا ہے۔ ان مقامات کی ازسرِنو شناخت اور بحالی کی ضرورت ہے۔ نکاسی کے راستے کھولنے ہوں گے۔ سیلابی علاقوں میں عمارتیں بلند سطح پر ہونی چاہئیں۔ زمینی منصوبہ بندی، جو طویل عرصے سے نظرانداز رہی ہے، اب ہمیں لچکدار نظام کا ستون بنانی ہو گی۔

تیسرا عنصر۔ نکاسی۔ اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ آر بی او ڈی، ایل بی او ڈی، اور دیگر نکاسی آب کے نظام، جو پہلے زراعت اور سیم و تھور کے لیے بنائے گئے تھے، اب سیلاب کے دوران پانی کے انخلا کے اہم راستے بن چکے ہیں۔ لیکن ان میں سے بیشتر بڑے پیمانے پر مرمت کے متقاضی ہیں۔ ان نظاموں کی صفائی، مرمت، اور اپ گریڈیشن ضروری ہے۔ نئے فلڈ اسکیپ چینل بنانے ہوں گے تاکہ پانی کو ریگستانی یا سیم زدہ علاقوں میں محفوظ طریقے سے موڑا جا سکے۔

لیکن اصل چیلنج حکمرانی کا ہے۔ وائٹ پیپر بالکل درست طور پر اس بات پر زور دیتا ہے کہ ادارہ جاتی ذمہ داریوں کی وضاحت ہونی چاہیے۔ آج، ذمہ داریاں آبپاشی، مقامی حکومت، سڑکوں، اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے محکموں کے درمیان بٹی ہوئی ہیں۔ لیکن ان کے درمیان مربوط عملداری یا ہم آہنگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ غیر قانونی بند، شہری جھیلوں اور دلدلی علاقوں پر قبضے، فلڈ پلینز پر غیر مجاز زمین کی الاٹمنٹ، اور نالوں پر تجاوزات حالات کو مزید خراب کرتے ہیں۔ ایک معمولی واقعہ بھی پورے نظام کو مفلوج کر سکتا ہے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور صوبائی ہائی وے محکمے سیلاب کے دوران مواصلاتی بحالی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ بدقسمتی سے، 2022 میں ہم نے دیکھا کہ ان کا ردعمل نہایت سست تھا۔ صوبائی سڑکوں کے محکمے نے سیلاب کو عام تعمیراتی مسئلہ سمجھا۔ ان اداروں کے ایس او پیز اور قواعد کو ایمرجنسی کی مناسبت سے بدلنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ رابطے کی بحالی ہی انخلاء، ہنگامی فراہمی، اور لوگوں کی مدد کے لیے بنیادی قدم ہے۔ ہمیں واضح ذمہ داریاں طے کرنی ہوں گی، اداروں کے درمیان تعاون کو بہتر بنانا ہو گا، سیلابی علاقوں میں زمین کے استعمال کے قوانین پر عمل درآمد کروانا ہو گا، اور دریا کے پشتوں اور نالوں کے باقاعدہ سروے کروانے ہوں گے۔

اگرچہ طویل المدتی اصلاحات میں وقت لگتا ہے، ہمیں 2025 کی شدید بارشوں سے پہلے یہ فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے :

• جتنا ممکن ہو، بڑی نکاسی آب کی لائنوں اور نالوں کی صفائی کی جائے۔
• تمام بیراج کے دروازے مکمل طور پر آپریشنل ہوں، اور اگر کوئی فنی رکاوٹ ہو تو فوری حل کی جائے۔
• سڑکوں اور بندوں پر بند کراس ڈرینیج پوائنٹس کو کھولا جائے۔
• سیلابی پانی کے محفوظ انخلا کے راستوں اور علاقوں کی واضح نشاندہی کی جائے۔
• تمام متعلقہ اداروں کے درمیان ذمہ داریاں پہلے ہی واضح کی جائیں۔
• اہم عمارتیں اور پناہ گاہیں پہلے سے بلند مقامات پر متعین کی جائیں۔
• ضلعی انتظامیہ کو قبل از وقت ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے متحرک کیا جائے۔
• مقامی کمیونٹیز کو ابتدائی انخلاء، خود حفاظتی تدابیر، اور پانی کے رخ کو موڑنے کے طریقے سکھائے جائیں جیسا کہ 2011، 2012، اور 2020 میں دیکھا گیا کہ بروقت اقدام کرنے والی برادریاں کم متاثر ہوئیں۔

یہ وائٹ پیپر ان اہم دستاویزات میں سے ایک ہے جو ہمیں سیلاب کے مسئلے کی نوعیت اور اس کے قابلِ عمل حل کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ صرف ایک رپورٹ نہیں، بلکہ ایک ایسی عملی دستاویز ہے جو ہمیں دکھاتی ہے کہ وہ ممالک جن کے پاس پاکستان جتنے قدرتی وسائل بھی نہیں، انہوں نے پانی کے ساتھ جینا سیکھا اور اپنی لچک پیدا کی۔

لیکن کوئی بھی پالیسی، رپورٹ یا مشورہ چاہے کتنا ہی قیمتی کیوں نہ ہو، تب تک موثر نہیں ہو سکتا جب تک ہم اس پر عمل نہ کریں۔ ہمیں عالمی ماہرین اور مقامی دانشوروں کی باتوں پر توجہ دینی ہو گی۔ نہ صرف اس لیے کہ وہ باہر سے آئی ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ ان زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہیں جو ہم روزانہ دیکھتے ہیں۔

مون سون شروع ہو چکا ہے۔ ہم مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ جو ٹوٹا ہے، اسے جوڑنا ہو گا۔ جو بند ہے، اسے کھولنا ہو گا، جنہیں کام کرنا ہے، انہیں تیار کرنا ہو گا، جہاں پہلے ہم صرف گفتگو کرتے تھے، اب وہاں منصوبہ بندی کرنی ہو گی۔

آئیے مون سون 2025 کو ایک اور مایوس کن سرخی نہ بننے دیں، بلکہ اسے ایک ایسے لمحے میں بدل دیں، جہاں ہم نے آفات کو کم کرنے کی ابتدا کی۔

(یہ مضمون جنوری 2023 میں شائع ہونے والے وائٹ پیپر ”پاکستان میں سیلاب سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا“ پر مبنی ہے، جسے یورپین ماہرین جوس ڈی سونویل (ٹیم لیڈر) ، ایلے یان ساف، اور فرینک وین سٹینبرگن نے تیار کیا، اور یہ منصوبہ نیدرلینڈز کی حکومت کی معاونت سے مکمل ہوا)

Facebook Comments HS