چین یاترا، لوٹا اور مسلم شاور

ایک دفعہ پھر ہم چین یاترا کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہم نے چین کا پہلا سفر 1995 میں کیا تھا۔ اس کے بعد کاروبار کے سلسلے میں تواتر سے چین جانا ہوتا ہے۔ پچھلے 30 سالوں میں چین بالکل بدل گیا۔ آج چین میں سب کچھ ہے چمکتی دمکتی موٹرویز کا جال، آسمان سے باتیں کرتی ہوئی عمارتیں۔ بلٹ ٹرین۔ ہوٹل میں روبوٹ بیرا۔ کیو آر کوڈ کے ذریعے خیرات لینے والا فقیر۔ ہر جگہ وائی فائی ہوٹل کے کمرے میں موجود شاندار اور خوشبودار واش روم مگر ایک چیز کی شدید کمی ابھی بھی برقرار ہے اور وہ ہے لوٹا اور مسلم شاور۔ جب ایک پاکستانی چین پہنچتا ہے تو پہلا جھٹکا واٹس ایپ اور فیس بک بند ہونے کا نہیں بلکہ واش روم کا دروازہ کھولنے پر ہوتا ہے وہ دل ہی دل میں سوچتا ہے کہ یہ کیسا ترقی یافتہ ملک ہے جہاں ٹوائلٹ میں مسلم شاور نہیں لوٹا نہیں۔ صرف ٹشو؟ چین میں صفائی کا مطلب ہے دو رول ٹشو۔
ہم پاکستانیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے بچپن میں ماں کی ڈانٹ سن رکھی ہے ”پانی کے بغیر صفائی نہیں ہوتی بیٹا“ پاکستانی بھائی دل ہی دل میں کڑھتا ہے یار! یہ صفائی ہے یا صفائی کے نام پر دھوکہ میں بھی جب چین میں اپنے ہوٹل کے کمرے میں قدم رکھتا ہوں تو سب سے پہلے واش روم کا دروازہ کھول کر اندر جھانکتا ہوں کیونکہ نظروں ہی نظروں میں کچھ کچھ پیمائش کرنی ہوتی ہے۔ واش بیسن سے کموڈ کا فاصلہ کہ کموڈ پر بیٹھے بیٹھے واش بیسن کی ٹونٹی کھول سکتا ہوں اور بوتل میں پانی بھر سکتا ہوں یا نہیں، کیونکہ صرف ایک بوتل پانی سے فراغت کے بعد تسلی نہیں ہوتی، کم سے کم دو سے تین بوتلیں پانی درکار ہوتا ہے۔
دوسری پیمائش نہانے کے شاور سے کموڈ کا فاصلہ۔ اگر نہانے کا شاور پائپ پر فکس نوزل کی شکل میں ہے تو اس کام کے لیے بالکل بیکار ہے ہاں اگر نہانے والے شاور کے نوزل فلیکس ایبل پائپ کی شکل میں ہے تو کیا اس کے پائپ کو کھینچ کھانچ کر کموڈ تک لایا جا سکتا ہے اگر جواب ہاں میں آ جائے تو موجیں ہی ہو جاتی ہیں کہ بوتل کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ نہانے والا شاور ہی فراغت کے بعد صفائی کے لیے کام آ جاتا ہے یہ نہانے کے لئے تو ہوتا ہی ہے۔ یعنی پرانی فلموں کے اخباری اشتہاروں کی زبان میں ”ایک ٹکٹ میں دو مزے، شاندار ڈبل پروگرام“ ۔ اگر بوجوہ یہ سہولتیں میسر نہیں ہوں تو اب بھی ترکش میں ایک تیر باقی ہے اور وہ ہے الیکٹرک کیٹل جو چائے یا کافی بنانے کے لئے ہر ہوٹل کے کمرے میں موجود ہوتی ہے یہ لوٹے کی جگہ کام آ سکتی ہے لیکن یاد رہے یہ تمام ہتھیار اور تراکیب کسی صورت لوٹے یا مسلم شاور کا بدل نہیں ہو سکتیں۔
عام طور پر صبح ”بڑے کام“ سے تو ہوٹل کے واش روم میں فارغ ہو لیا جاتا ہے اور کوئی بھی حربہ استعمال کر کے صفائی کر لی جاتی ہے لیکن دفتری اوقات میں پیشاب تو ایک آدھ بار آ ہی جاتا ہے۔ وہاں بھی صفائی کے لیے صرف ٹشو ہی ہوتا ہے اور ہماری تسلی نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں ہم چین میں بڑی ڈھٹائی کے ساتھ بے حیائی اختیار کر لیتے ہیں اور پتلون کی کھلی زپ کے ساتھ واش روم کے باہر ہاتھ دھونے کے لئے نصب واش بیسن پر پہنچ کر پانی کی ٹونٹی کھول کر پانی سے اپنے ”عضو خاص“ کو اچھی طرح صاف کر لیتے ہیں۔ تو حضور چین کی ترقی، ان کی سڑکیں، ان کے روبوٹ، ان کی بغیر ڈرائیور کے الیکٹرک کاریں، ان کا نظام سب قابل تعریف لیکن اگر آپ کا تعلق پاکستان سے ہے اور آپ پانی کے بغیر نہیں رہ سکتے تو ایک بات یاد رکھیں چین میں پاسپورٹ اور پیسوں کے علاوہ ہمہ وقت خالی بوتل بھی اپنے ساتھ رکھیں۔
اپنے پچھلے چین کے سفر کے دوران ہم نے ایسی چھوٹی واٹر گن تلاش کر ہی لی جو موبائل شاور کا کام کر سکتی تھی۔ لیکن افسوس جب استعمال کی تو پانی کی دھار اتنی کمزور نکلی کہ لگتا تھا جیسے کوئل اپنی چونچ سے پانی پھینک رہی ہو۔ دوسری طرف چینی بھائی لوگ بڑے آرام سے صرف پیپر استعمال کرتے ہیں اور ہنستے کھیلتے بیت الخلا سے باہر آ جاتے ہیں اور ہمیں دیکھ کر کہتے ہیں ”تم لوگ اتنا وقت کیوں لگاتے ہو“ اور ہم دل میں سوچتے ہیں ”اگر تمہاری اماں نے بھی تم کو ہماری اماں جیسی تربیت دی ہوتی تو پھر تم یہ سوال نہ کرتے۔“

