عورت، شراب اور شاعری


” جب تک دنیا میں عورت، شراب اور پھول موجود ہیں انسان ضرور بہکیں گے اور بہکا ہوا انسان عورت، شراب اور پھول سے بھی زیادہ خوب صورت ہوتاہے“ ۔ (سعادت حسن منٹو)

صبح جب میں اُٹھتا ہوں تو عموماً ایسا ہوتا ہے کہ کوئی خیال، کوئی بات، کوئی شعر یا مصرع یا کسی گیت کی لائن بہت دیر تک ذہن میں گھومتی رہے گی، بسا اوقات دوپہر یا سہ پہر تک پھر فکرِ روزگار میں محو ہونے سے یہ خیالِ خام خود بخود ذہن کی نچلی سطح (تحت الشعور) درمیانی سطح (شعور) اور اُوپری سطح (لاشعور) میں گُم ہو جائے گا۔ ایسا آپ کے ساتھ بھی ہوتا ہو گا، بلکہ یقیناً ہوتا ہے کہ سب انسان ایک ہی طرح سوچتے ہیں، ایک ہی طرح کے خواب دیکھتے ہیں، فرق ہے تو ماحول کا اور طبقے کا۔ آج صبح میں اُٹھا تو پنجابی زبان کا یہ ٹپہ ذہن میں گردش کرتا ہوا پایا؛

تینوں پین گے نصیباں والے نی نشے دیے بند بوتلے (تجھے پئیں گے نصیبوں والے، اے نشے کی بند بوتل)

دل ہی دل میں دہراتے ہوئے اچانک ایک خیال آیا۔ اس خیال نے ذہن میں جیسے خیالوں کا تانا بانا سا بُن دیا۔ کیا عورت کو شراب کی بوتل سے تشبیہ دینا عورت کی تذلیل نہیں ہے؟ اس تشبیہ کے بعد وہ خود کو کہاں دیکھے گی؟ اور جس صنف نے اُسے شراب کی بوتل سے تشبیہ دی ہے اس کے بارے میں کیا سوچے گی؟ قدرت کی انتہائی حسین تخلیق کو شراب کی بوتل کہنا فیمینسٹوں کو بھڑکانے کی سازش تو نہیں؟ انسانی حقوق کے علمبرداروں کی طرف سے کوئی ردّعمل! شراب کی بوتل کہنے کی بجائے شراب کا پیپا (کنستر) یا ڈرم بھی تو کہا جا سکتا ہے۔

تینوں پین گے نصیباں والے اوئے نشے دئیا بند پیپیا
یا
تینوں پین گے نصیبا ں والے تے نشے دئیا رُڑدے ڈرمیا

تصور کیجئے مشرقی پنجاب کے پنجابی گلوکار کی لَے میں جب پنجاب کی جٹی کی مردانہ ہُوک شاملِ ٹپہ ہو گی تو کیا رنگ جمے گا۔ فیمینسٹوں نے تو کبھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔ نہیں کیا ناں تو ہمارے پیٹ میں اینٹھن کیوں ہو رہی ہے؟ فیمینسٹوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اس شعر پہ بھی اعتراض نہیں کیا ہو گا ؛
تمہارے ہونٹ شراب تھے کیا!
مجھ پہ جو حرام ہی رہے (جون ایلیا)

یہاں ہونٹوں کو شراب کہہ دیا ہے گو کہ استفہامیہ ہی کہا ہے، کہا تو ہے ناں۔ اب ’پری پیکر‘ کے لبوں کو ”شراب تھے کیا“ کہنا حلال کو حرام سے ملانا ہی تو ہے حالانکہ یہ بھی تو شاعری ہی ہے ؛

نازکی اُس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے (میر تقی میر)

نزاکت، لب، گلاب کی پنکھڑی محبوب کے لبوں کی تعریف کا ایک انداز یہ بھی ہے۔ مگر کیا کسی فیمینسٹ نے جون ایلیا کے شعر پہ احتجاج کیا ہے۔ نہیں کیا ناں! اسے کہتے ہیں آرٹ و لٹریچر لوّور۔ سماجی افکار اپنی جگہ آرٹ، ثقافت، مجسمہ سازی، شاعری، رقص اور فنونِ لطیفہ کی پرورش اپنی جگہ۔ ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے۔ یہاں ہمیں نوعمری میں سُنا ہوا ایک شعر یاد آ رہا ہے، آپ بھی سُنیے ؛

پری پیکر نگارِ، سرو قدِ، لالہ رخسارے
سراپا آفتِ دل بود شب جائے کہ من بودم

یہ کلام تو حضرت امیر خسرو کا ہے اور محبوب اللہ تعالیٰ ہے، عشقِ حقیقی کی بات ہو رہی ہے۔

بات یہ تھی کہ عورت کو شراب کی بوتل سے تشبیہ دی گئی ہے اور کوئی آواز نہیں اُٹھی، کوئی ہنگامہ نہیں ہوا، کوئی احتجاج رپورٹ نہیں ہوا گویا یہ عام سی بات ہے۔ ایسا تو ہوتا رہتا ہے۔

ساقی مجھے شراب کی تُہمت نہیں پسند
مجھ کو تری نگاہ کا الزام چاہیے (عبد الحمید عدم)

عدم صاحب کے بارے میں عموماً کہا جاتا ہے کہ اُن کی رگوں میں خون کی بجائے شراب دوڑتی تھی۔ غالب نے تو کہا تھا؛

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکے تو پھر لہو کیا ہے

مگر عدم صاحب نے کب غالب کی بات مانی تھی اور حضرت ِ غالب نے کب زوجہ محترمہ کی مانی تھی۔ شاید صحیح ہی کہا ہے ؛

شراب چیز ہی ایسی ہے نہ چھوڑی جائے
یہ میرے یار کے جیسی ہے نہ چھوڑی جائے

عورت کو شراب کی بوتل کہنا اور شراب سے تشبیہ دینا ہمارے نزدیک دو مختلف کیفیتوں کا اظہار ہے۔ بوتل کھلے گی تو معلوم ہو گا شراب کیسی ہے، کتنی تیز ہے، کتنی دیر تک مد ہوش رکھتی ہے۔ عموماً شراب کی بوتلیں ذوق نظر کو فریب دینے کے لئے دلفریب بنائی جاتی ہیں۔ اسی لئے شاعر نے ”نشے دیے بند بوتلے“ کہا ہے۔ کرشن چندر نے عورت کے حُسن کو کس سادگی سے بیان کِیا ہے اور کیا خوب کہا ہے ؛

شو کیس میں رکھا ہوا عورت کا جو بُت ہے
گونگا ہی سہی پھر بھی دل آویز بہت ہے

بات یہ ہے کہ حضرت ِ آدم جنت میں تنہا اُداس اُداس سے رہنے لگے تو اللہ میاں نے ان کی اُداسی ختم کرنے کے لئے اماں حّوا کو پیدا کیا۔ اللہ میاں جو خالق ِ ارض و سماں ہیں کیا وہ حضرت آدم کی بوریت دور کرنے کے لئے کچھ اور نہیں کر سکتے تھے آخر ’خاتون‘ ہی کیوں؟ تب ہی تو شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے بے خوف فرما دیا؛

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

عورت کو کائنات کی تصویر میں رنگینی بھرنے والی تو شاعرِ مشرق نے قرار دیا ہے اگر پنجابی شاعر نے ’نشے دیے بوتلے‘ کہہ دیا تو کیا بُرا کہا اور کیا غلط کہا؟

خمارِ قرب کی باتیں تو آپ رہنے دیں
کسی کی گردن کا پسینہ مجھے شراب لگا

لیجیے یہ صاحب تو منٹو سے بھی چھ آٹھ قدم آگے جا نکلے۔ منٹو تو اپنے افسانے کی محبوبہ کی بغل کی باس کی تعریف کرتے ہیں اور ان صاحب کو ’اُن‘ کی گردن کا پسینہ بھی شراب لگتا ہے گویا گردن کے پسینے میں مدہوش کرنے کی وہی تاثیر ہے جو شراب میں ہوتی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یار لوگوں نے شراب میں افسانوی خوبیاں پیدا کر دی ہوں اب ہر بندہ جو شراب کی بوتل خاص ماحول میں اور خاص وقت میں دیکھتا ہے اُس پہ لازم ہے کہ کم از کم بہکنے کی ایکٹنگ تو کرے ورنہ جس نے بھی یہ کہا ہے ”نشّہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل“ اُس کی بات کو جھوٹا ثابت کرنا ہی شراب خانوں کو آباد رکھنے کے لئے از بس ضروری ہے۔

ہمیں تو یہ بتانا تھا کہ خدا کی حسین ترین مخلوق کو شراب کی بند بوتل کہنا کسی طور قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے اور ہم شراب کا ذکر لے بیٹھے اور اپنے موضوع سے بھٹک گئے ؛ شراب چیز ہی ایسی ہے۔ تب خیال گزرا کہ خدا کی حسین ترین مخلوق کو شراب کی بند بوتل کہنا عورت کی تذلیل ہے یا اُسے کوٹھے کی سیڑھیاں چڑھانا۔

Facebook Comments HS