ڈاکٹر خالد سہیل کا ڈاکٹر سارہ علی کو خط

محترمہ و معظمہ ڈاکٹر سارہ علی صاحبہ!

آپ عالمی سیاست میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں اور آپ کی موجودہ صورت حال پر گہری نظر ہے اس لیے میں نے سوچا کہ میں اپنے مشاہدات آپ سے شیئر کروں اور پھر آپ کی رائے پوچھوں تا کہ ’ہم سب‘ کے قارئین ہم دونوں کے آرا پڑھ سکیں۔

جب سے اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے ایران کی ایٹمی توانائی کی عمارات پر حملے کیے ہیں امریکی شہری اور سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ سے مایوس و نا امید ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن سے پہلے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن کی طرح نہیں ہیں جو ساری دنیا میں جنگیں لڑ رہے تھے۔ وہ امن کے صدر ہوں گے اور بر سر اقتدار آتے ہی یوکرین اور غزہ کی جنگیں بند کروا دیں گے لیکن جب وہ الیکشن جیت گئے تو وہ امن کے صدر کی بجائے جنگ کے صدر بن گئے جس سے لوگ بہت حیران و پریشان ہیں۔

امریکی قانون اور سیاسی روایت کے مطابق کسی بھی ملک سے جنگ شروع کرنے کا حق صدر کی بجائے کانگریس کو ہے لیکن صدر ٹرمپ نے خود ہی فیصلہ کر لیا اور ایران پر بمباری کرنے کا حکم دے دیا اور بمباری کے بعد ساری دنیا کو خوش خبری سنائی کہ امریکی بمباروں نے ایران کے ایٹمی مراکز کو تباہ و برباد کر کے مسمار کر دیا ہے۔

اس اعلان کے بعد امریکی سیاستدان ال گرین نے کانگریس میں قرار داد نمبر 537 پیش کی جس میں امریکی صدر کو امپیچ کر کے بر طرف کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ ال گرین نے ڈونلڈ ٹرمپ پر یہ الزام لگایا ہے کہ انہوں نے صدارتی طاقت اور اختیار کا ناجائز استعمال کیا ہے اور ایران کی ایٹمی توانائی کی تنصیبات پر حملہ کر کے امریکی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ایسا حکم دینے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ہی نہیں امریکی جمہوری اقدار پر بھی حملہ کیا ہے۔ ایسا کرنے سے انہوں نے امریکہ کو ڈکٹیٹر شپ کی طرف زور دار دھکا دیا ہے۔ انہوں نے امریکی عوام و خواص کو یہ بھی یاد دلایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں بھی عوام کو کیپیٹل ہل پر حملہ کرنے کو اکسایا تھا۔ ال گرین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ مزید نقصان پہنچائیں ہمیں ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر کے عہدے سے برطرف کر دینا چاہیے۔

امریکہ کے جمہوریت پسند عوام و خواص بہت فکرمند ہیں۔ ان کو یہ فکر لاحق ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل اور نیتن یاہو کی حمایت میں تمام حدود پار کر گئے ہیں اور وہ عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ امریکہ کا نیتن یاہو کی مدد اور حمایت کرنے کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ غزہ میں ہزاروں معصوم بچوں عورتوں اور مردوں کی نسل کشی کے بھی ذمہ دار ہیں۔

امریکہ کے سوشلسٹ لیڈر برنی سینڈرز کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی بنیادی ذمہ داری امریکہ کے
وہ بچے ہیں جو رات کو بھوکے سوتے ہیں
وہ مرد ہیں جو بے روزگار ہیں
وہ عورتیں ہیں جو علاج سے محروم ہیں

امریکی حکومت اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات کو نظر انداز کر کے ساری دنیا میں جنگیں لڑ رہی ہے۔ برنی سینڈرز کا امریکہ کی خارجہ پالیسی سے شدید اختلاف ہے۔ ایسی خارجہ پالیسی جو دنیا کے نظام کو درہم برہم کر رہی ہے۔

ڈاکٹر سارہ علی!

آپ بخوبی جانتی ہیں کہ امریکی حکومت نے نجانے کتنے ملکوں کی حکومت کا تختہ الٹا ہے اور جمہوری حکمرانوں کو ہٹا کر اپنی مرضی کے حکمران تعینات کیے ہیں۔ الیکشن کی بجائے سلیکشن کا رویہ اپنایا ہے۔ ایران میں بھی نصف صدی پہلے ایران کے جمہوری رہنما مصدق کو ہٹا کر شاہ ایران کو حکومت دی تھی اور اب نیتن یاہو اور ٹرمپ یہ چاہتے ہیں کہ ایک دفعہ پھر اسی شاہ ایران کے بیٹے کو ایران کی حکومت دی جائے۔

ڈاکٹر سارہ علی!
آپ نے ایران میں تبدیلی لانے والی ان خواتین کی جدوجہد کا گہرا مطالعہ کیا ہے جو زن زندگی اور آزادی کی تحریک کی نمائندگی کر رہی ہیں۔

ایران کی ترقی پسند اور جمہوریت پسند تحریک میں شامل مرد و زن جو مذہبی قیادت کے حق میں نہیں ہیں وہ بھی نہیں چاہتے کہ یہ تبدیلی خون بہا کر لائی جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایرانی یہ سیاسی تبدیلی خود لائیں وہ امریکی حکومت کے کندھوں پر بیٹھ کر بر سر اقتدار نہیں آنا چاہتے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ امریکی حکومت جو نعرہ لگاتی ہے کہ ہم ایران میں عورتوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں وہ دراصل عورتوں کی تحریک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟

ڈاکٹر سارہ علی!

امریکہ میں جہاں ایسے بہت سے سرمایہ دار ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت سے بہت خوش ہیں وہیں برنی سینڈرز جیسے سوشلسٹ بھی موجود ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی جمہوریت اور عالمی امن کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟ آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔

آپ کا دوست
خالد سہیل

ڈاکٹر سارہ علی کا ڈاکٹر خالد سہیل کو جوابی خط

میرے محترم دوست
ڈاکٹر خالد سہیل،

جب مجھے آپ کا خط ای میل کی صورت میں موصول ہوتا ہے تو مجھے بہت مسرت ہوتی ہے اس لیے کہ ایک تو آپ کی عالمی سیاست پر نہ صرف گہری نظر رہتی ہے بلکہ آپ اس پر ایک عالمانہ رائے رکھتے ہیں اور ہمیشہ ڈائلاگ کا دروازہ کھلا رکھتے ہیں کوئی کلٹ فالونگ کے نہ آپ قائل ہیں نہ میں اور ہمیشہ agree to disagree کا اصول مدنظر رکھ کے اختلاف رائے کو برداشت کرتے ہیں۔ اس لیے مجھے آپ سے مکالمہ کرنا شفیق استاد کے ساتھ بات کرنے جیسا لگتا ہے جو سوال پوچھ کر آپ کے علم اور معلومات کو وسیع کرنا چاہے۔ ڈاکٹر صاحب جب میں نے اس خط کا مضمون دیکھا تو پہلا خیال میرے ذہن میں یہ آیا کہ عالمی امن ہے کیا؟ کیا عالمی امن کبھی existence میں تھا یا بس یہ ایک سہانا سپنا ہے؟ اور اس خیال نے مجھے 1990 میں دھکیل دیا

میں دوسری یا تیسری جماعت میں ہوں گی، میں نے نئی نئی اردو پڑھنا سیکھی تھی اور گھر میں اردو اور انگریزی کے اخبار پڑھنے کی ہدایت اماں کی جانب سے موصول ہونے پر پہلی لائن سے آخری لائن تک اخبار پڑھنے کی عادت پڑی۔ اس وقت بھی جن خبروں نے میرے ذہن پر سب سے گہرا نقش چھوڑا وہ افغانستان میں جنگ کی خبریں تھیں اور آہستہ آہستہ مطالعہ سے مجھے معلوم ہوا کہ یہ جنگ ان پر امریکہ نے مسلط کی تھی اور پاکستان کے ساتھ مل کر جہاد اور مجاہدین کا وہ دھندا شروع کیا کہ الامان اور اس کے پروڈکشن سینٹر پاکستان کے مدرسے تھے جس میں سعودی عرب سمیت بیشتر عرب ممالک نے امریکہ کو خوش کرنے کے لیے ڈالروں کی بلینز میں بارش برسائی جس میں پاکستان کی ملا، ایلیٹ، فوج، سیاستدان اور بیوروکریٹ سب نہائے۔ جو مارا گیا وہ غریب کا بچہ تھا اور میرا سب سے بڑا خوف یہ تھا کہ یہ جنگ پاکستان میں نہ ٹرانسفر ہو جائے۔

ڈاکٹر صاحب اگر ایک دوسری جماعت کی بچی کو یہ احساس تھا تو پاکستان کی فوج اور حکومت کو کیوں نہیں تھا اس لیے کہ جنگ میں ہی پیسہ ہے۔ گندا ہے پر دھندا ہے اور دنیا گورکھ دھندا ہے۔ پھر عراق کویت جنگ شروع ہو گئی امریکہ نے اس بہانے عرب ممالک میں اپنے اڈے بنا لیے۔ ڈاکٹر صاحب میں نے کبھی زندگی میں نہیں سوچا تھا کہ میں بھی یہ جملے استعمال کروں گی لیکن حالات کچھ یوں ہیں کہ اس سے بہتر لفظ میرے پاس نہیں اس لیے پیشگی معذرت۔ میں نے عربوں سے بڑے نامرد نہیں دیکھے، امریکہ ان کو بیٹھنے کو کہے یہ لیٹ جاتے ہیں اور بس اٹھنے کا نام نہیں۔ ابھی اللہ اللہ کر کے اس جنگ سے جان چھوٹی تو نائن الیون ہو گیا، ہو گیا کہ کر دیا کسی کو معلوم نہیں۔ جارج بش جونیئر کے لیے اس سے زیادہ اچھا موقع کیا ہو سکتا تھا پھر افغانستان پر دھاوا بول دیا، پھر کیمیائی ہتھیار ڈھونڈنے کے بہانے عراق، پھر قذافی کے گریٹ افریقہ پلان کی ایسی تیسی پھیرنے لیبیا، ابھی افریقہ میں ان مہذب قوموں نے کیا تباہی مچائی ہے وہ ایک الگ داستان ہے جہاں صرف بربریت ہے۔

ڈاکٹر صاحب ان پچھلے چالیس سالوں میں میں نے کبھی اس دنیا میں امن نہیں دیکھا۔ اس لیے جو چیز موجود ہی نہ ہو اس کو کیا خطرہ ہاں گولی یا بم ہیومن رائٹ پروٹیکشن کے فیک گولڈ کوٹڈ پیپر میں پھینکا جائے یا نیکڈ کیا فرق پڑتا ہے۔ میرے لیے سب سے مزاحیہ لمحہ وہ ہوتا ہے جب نوبل کمیٹی امن کے انعام کا اعلان کرتی ہے اور امریکہ کے صدر کو ملتا ہے ایسے لگتا ہے میں ڈارک ہیومر کی فلم کا سین دیکھ رہی ہوں۔ ہاں البتہ آپ کے ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی امن کو خطرے کے سوال کے حوالے سے ایک واقعہ شیئر کرنا چاہوں گی۔

جب ڈونلڈ ٹرمپ پہلی بار ہیلری کلنٹن کو ہرا کر صدر منتخب ہوئے تو بیشتر عقل سے پیدل لبرلز کی طرح میں بھی بہت دکھی تھی۔ میرے ابا نے ایک دو دن تو میرا دکھ برداشت کیا تیسرے دن ان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور انہوں نے مجھے کہا کہ صرف اس لیے ہیلری کے لیے دکھی ہونا کہ وہ عورت ہے اور ڈیموکریٹ ہے میری سمجھ سے باہر ہے تم لوگوں کو خوش ہونا چاہیے کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدر بنا ہے، وہ ایک سفید فام امریکی کیا سوچتا ہے، کی صحیح تصویر ہے۔ ہیلری اور ڈیموکریٹ اپنے چہرے پر لبرل ازم کا ماسک چڑھا کر قتل عام کرتے ہیں، یہ بغیر ماسک کے کرے گا تو یہ زیادہ اچھا ہے کہ اس کے ارادوں کا پہلے سے پتہ ہے۔

ڈاکٹر صاحب ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں یرغمال ہیں وہ چاہیں بھی تو اس نیکسس سے نہیں نکل سکتے کیونکہ امریکی الیکشن غلاموں کی منڈی کی طرح امریکی سیاستدانوں کی منڈی ہے اور خریدار طاقتور زائیونسٹ ہیں۔ عالمی امن کو صدر ٹرمپ سے اتنا ہی خطرہ ہے جتنا اوباما سے، خطرہ عالمی امن کو ٹرمپ سے نہیں امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام سے ہے جو اب کھل کر سامنے آ گیا ہے اس کو تمام دنیا کے وسائل معدنیات اور rare earth minerals کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے اور اس میں کوئی اخلاقیات یا شرم نہیں جو راستے میں آئے گا اس کی دھجیاں بکھیر دی جائیں گی۔ ٹرمپ دھندا کرنا چاہتے ہیں پنگا نہیں، وہ چاہتے ہیں ان کے بھی پیسے بنیں ان کے دوستوں کے بھی اور باقی بلینرز کے بھی اس پروسیس کی بائی پروڈکٹ کے طور پر اگر امریکہ کے عوام کا کچھ فائدہ ہو جاتا ہے تو ان کو کوئی اعتراض نہیں یہ آئسنگ آن کیک ہو گی اس لیے کہ وہ رائٹ ونگ کے پوسٹر بوائے کے طور پر ابھرے ہیں اور وہ یہ امیج برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ ہمیشہ کے لیے ڈیموکریٹ اور لبرلز کو دفن کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ ساری لولا پوچی پر توجہ دے رہے ہیں اور جو انہوں نے اسرائیل اور نیتن یاہو کو کیپیٹل لیٹر میں اپنے ٹرتھ میڈیا پر وارننگ پوسٹ کی وہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

انہوں نے یہ ایران اور مسلمانوں کی محبت میں نہیں کیا تھا بلکہ وہ ایک دھیلے کا بھی نقصان نہیں چاہتے اور اس کی واضح مثال ان کا غزہ کے لیے ٹرمپ ماسٹر پلان ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ فلسطینی غزہ خالی کر دیں اور وہاں پر ٹرمپ کسینو ہوٹل تعمیر کیے جائیں اور اس لیے جب تک بم بیچارے فلسطینیوں پر برس رہے ہیں ان کو کوئی اعتراض نہیں کہ گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلیاں ٹیڑھی کر لینی چاہئیں لیکن باقی دنیا میں جنگ ان کے مفاد کے خلاف ہے اس لیے جہاں تک یہ سوال ہے کہ عالمی امن کو ڈونلڈ ٹرمپ سے خطرہ ہے عالمی امن کو امریکہ کے لالچ، hegemonic سوچ اور سرمایہ درانہ نظام سے خطرہ ہے مٹھی بھر بلینرز اور ان کی لالچی خود غرضانہ سوچ سے خطرہ ہے۔ یہ جملہ کہ تہران خالی کر دیں یا غزہ خالی کر دیں اور غزہ یا تہران کے عوام کچھ دن کے لیے کسی اور مقام پر شفٹ ہو جائیں اسی privileged سوچ کا مظہر ہے جس کی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ کے بلینرز حکمران یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کی طرح ایران اور فلسطین کے مڈل کلاس اور غریب عوام ساری عمر کی محنت سے ایک گھر بمشکل بنا پاتے ہیں ان کے پاس وہاں سے کہیں اور جانے کے لیے نہ وسائل اور نہ ہی کوئی اور جگہ ہے اس لیے وہ ہر روز ہجرت میں کیمپوں میں مرنے سے بہتر اپنے گھر میں مرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ امریکہ کے ڈیموکریٹ کیا سمجھتے ہیں تو وہ ایک چلا ہوا کارتوس ہیں زمینی حقائق سے دور لبرلز جو صرف اچھائی کا ماسک چڑھاتے ہیں لچھے دار باتیں کرتے ہیں اور جب ان کا نمائندہ اوبامہ یا بائیڈن صدر بنتے ہیں تو وہ اتنے ہی خون آشام صدر ہوتے ہیں جتنا ایک ریپبلکن بلکہ وہ اپنی لچھے دار باتوں اور اچھائی کے ماسک سے فائدہ اٹھا کر کچھ زیادہ ہی اسرائیل اور امریکہ کی اسلحہ انڈسٹری کا فائدہ کرنے کی کوشش کر کے اپنا قلعہ پکا کرتے ہیں۔

اس وقت صرف صحیح معنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور رائٹ ونگ کو resistance کا سامنا برنی سینڈرز کی قیادت میں کھڑے ڈیموکریٹ سوشلسٹس سے ہے اور اس کی مثال نیویارک میں آپ نے ڈیموکریٹ کے پرائمری الیکشن میں دیکھ لی ہے جس میں زہران ممدانی کی فتح کو ڈیموکریٹک پارٹی endorse کرنے سے گریزاں ہے اور ان کی الیکشن میں فتح کو سبوتاژ کرنے کے لیے Andrew Cumo جو ان سے ہار گئے ہیں اور نیو یارک کے موجودہ میئر Eric Adam انڈیپنڈنٹ کے طور پر الیکشن لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں حالانکہ دونوں کا ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق ہے جس کا الیکشن زہران ممدانی نے جیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب یہ ہے لبرل ازم کا اصل چہرہ اور ان کی بوسیدہ سیاست۔ یہ لبرل انقلاب صرف اس وقت پسند کرتے ہیں جب وہ comfortably اپنے ائرکنڈیشنڈ ڈرائنگ روم میں ٹھنڈی ٹھار وہسکی پی کر انقلاب نوم چومسکی اور ایڈورڈ سعید کو ڈسکس کرتے ہیں۔ جب اصل انقلاب جو سڑک پر لوگ اپنے لیے لاتے ہیں اور اپنے نمائندے چنتے ہیں تو یہ اس سے انکاری ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ ایران کے عوام خاص کر ایران کے سوشلسٹ ڈیموکریسی کے حامی انسانی حقوق کے کارکن اس سب کو کس نظر سے دیکھتے ہیں تو اس کے لیے میں آپ کی خدمت میں نرگس محمودی کے انٹرویو جو انہوں نے سی این این اور ناروے کے اخبار کو دیا کے چند اقتباسات پیش کرنا چاہوں گی جس سے ایران کے عوام کے جذبات کا اظہار ہو سکے۔

ایران سے تعلق رکھنے والی نرگس محمودی جو صحافی اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں اور جن کو 2023 میں امن کا نوبل انعام دیا گیا اور وہ ایرانی کی فاشسٹ ملا حکومت کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہیں۔ ان سے جب اسرائیل اور ایران کی جنگ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسرائیل کے ایران پر حملے کی سخت مخالفت کی اور کہا ”جس چیز کا مجھے کامل یقین ہے وہ یہ ہے کہ جنگ کبھی جمہوریت، انسانی حقوق کی بحالی یا آزادی کا باعث نہیں بن سکتی۔“ ناروے کے کلاسک نیوز پیپر اور سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے امریکہ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نیتن یاہو آزادی کا لفظ استعمال کر کے مشرق وسطیٰ کو مزید جنگ اور افراتفری کی طرف دھکیل رہے ہیں اور آزادی کا وعدہ کر کے ہمیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہیں اور انہوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ امریکہ کی ایران میں فوجی مداخلت ایران میں کسی مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے انہوں نے کہا کہ ”میں نہیں سمجھتی کہ امریکی بم ایرانی عوام کو حقیقی آزادی دلا سکتے ہیں“ ۔ یہ اس نرگس محمودی کے خیالات ہیں جن کو ان کی صحافت اور انسانی حقوق کی جدوجہد کی وجہ سے متعدد بار جیل میں ڈالا گیا اور کوڑوں کی سزا سنائی گئی اس کے باوجود وہ کسی قسم کی غیر ملکی مداخلت کی ایرانی سرزمین پر حامی نہیں اور اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ یہ مداخلت شدت پسند حکمرانوں کی اداروں ہر گرفت مضبوط کرے گی اور عوام کو مزید خطرے سے دوچار کر دے گی۔

ڈاکٹر صاحب تبدیلی اور انقلاب صرف اس وقت رونما ہوتے ہیں جب وہ organic ہوتے ہیں ان کی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں اس لیے ایرانی کبھی بھی ایران پر امریکہ کی مسلط حکومت قبول نہیں کریں گے مجھے خوشی ہوئی کہ آپ نے محمد مصدق کا ذکر کیا اس ایران کا جو امریکہ کے مسلط کردہ فاشسٹ شاہ اور انتہاپسند فاشسٹ ملاؤں سے پہلے کا ایران تھا، ایرانی عوام 1953 میں اس کا انجام دیکھ چکے جب محمد مصدق کی حکومت کو سی آئی اے اور برطانوی ایجنسیوں نے سازشیوں کے ذریعے ہٹا کر محمد رضا پہلوی کو ایران کا حکمران بنا دیا اور اس disaster کا انجام ایک اور disaster سے ہوا جب 1979 میں ایران کے قدامت پسند ملاؤں نے اقتدار سنبھال لیا اور کرپٹ شہنشاہ کو ملک چھوڑنا پڑا اس لیے اس دفعہ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے چہیتے شاہ کے بیٹے کو اپنے اوپر مسلط کرنے کی سازش کو مسترد کر دیا۔

ڈاکٹر صاحب آپ نے خط میں تمام عالمی سیاست کے پہلوؤں کو چھوا ہے اور میرے بہت ہی پسندیدہ برنی سینڈرز کا ذکر کیا ہے جس طرح سے پچھلی 6 دہائیوں سے اپنے زمانہ طالب علمی سے برنی نے عوام کے حقوق کی جنگ لڑی ہے وہ تمام لیفٹ کے لیے قابل تقلید ہے وہ ایک کھلے دل کے عملی انسان ہیں جنہوں نے عوام کے حقوق کی خاطر کام کیا ہے یونیورسل ہیلتھ کیئر اور ایجوکیشن لیبر یونیز کم ازکم اجرت کو بڑھانے کی جنگ ہو یا کانگریس میں دنیا کے ممالک پر امریکی بموں کو روکنے کی جدوجہد ان کی آواز سب سے بلند اور جدوجہد سب سے اعلیٰ ہے۔ اس ساری جدوجہد میں انہوں نے ہمیشہ نئے نوجوان سوشلسٹ سیاستدانوں کا ساتھ دیا اور ان کی کمپین کو Endorse کیا ہے یہی مشعل راہ ہے سب ممالک کے لیفٹ اور عوامی نمائندوں کے لیے کہ لبرل کچھ نہیں ہوتا یا آپ عوام کے ساتھ ہوتے ہیں یا مخالف۔

یہ بولنے کا وقت ہے اور تیری خامشی
میرے خلاف تیری گواہی سے کم نہیں
(کاشف حسین غائر)

امید ہے میرا جواب آپ کی عالمانہ اور بلند قامت سوال کے معیار پر پورا اترے گی۔
آپ کی محبت اور رہنمائی کے لیے شکرگزار

آپ کی دوست سارہ علی