جنگ، فکشن اور محمد حمید شاہد کا ماسٹر اسٹروک
یہ تجسس اور تحیر کی کیفیت تھی، جسے میں نے ناول ”جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی“ کے خاتمے پر محسوس کیا۔ جذبات کی فراوانی اور ایک توانا احساس کہ یہ جو صاحب ہیں محمد حمید شاہد، یہ دراصل موجودہ اردو فکشن کے مضبوط ترین جوازوں میں سے ایک ہیں۔ یہ ہمیں خبر دیتے ہیں کہ آج کا اردو فکشن کیا ہے؟ اسے کیسا ہونا چاہیے؟ اور اس میں کتنے امکانات ہیں؟
برسوں قبل ”مٹی آدم کھاتی ہے“ سے مجھے گرویدہ بنانے والے محمد حمید شاہد جنگ کو موضوع کرنے والے نمایندہ اردو کہانی کاروں میں سے ہیں، جنھوں نے زبان کے تخلیقی برتاؤ میں اپنا اسلوب شامل کیا، اور کہانی کہنے کے عمل میں تکنیک کا طلسم جگا کر ہمیں آج کی کہانی سے متعارف کروایا۔
آج کی کہانی، جو دہرائی ہوئی جزئیات نگاری، کلیشے بن چکی تفصیلات، اور روایتی ماجرائی ڈھانچے سے آزاد ایک نئی دنیا تخلیق کرتی ہے، یا تخلیق کرنے کی جستجو کرتی ہے۔
”جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی“ کہانی کار کی جانب سے کہانی کہنے کی پرقوت کوشش سے کچھ بڑھ کر یوں ہے کہ یہ درحقیقت یہ جاننے کی سعی ہے کہ؛
فکشن کو کیسا ہونا چاہیے؟ اس کی حدود کہاں ہیں؟ اور مزید یہ کہ یہ کہاں تک جاسکتا ہے؟
یہ ناولintertextuality (متنی ربط) کا ایک پرقوت نمونہ ہے۔ اس ناول کا مصنف امریکی کہانی کار، ریمنڈ کارور کی معروف شارٹ اسٹوری ”کیتھڈرل“ کی زمین پر اپنے بیانیہ کی بنیادیں ڈالتا ہے۔ بینائی اور بصیرت کے فرق کو، جنگ کے دوران ناآسودہ محبت کو، احساس کو اور عورت کو منظر کرنے کے جو جتن کرتا ہے۔ اور یوں وہ مناظر سامنے آتے ہیں، جو آپ کو الجھاتے ہیں، لطف دیتے ہیں، اور درد میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
یہاں ماضی میں لکھی جانے والی ایک کہانی، اس پر بننے والی فلم، اس کی ڈرامائی تشکیل، تینوں در آئے ہیں۔ (فلم کا فکشن میں در آنا ایک خوش آیند واقعہ ہے ) اور یوں میرے من پسند ادیب، محمد حنیف کا یہ کہا ایک بار پھر درست ثابت ہوتا ہے : فکشن خلا میں جنم نہیں لیتا، بلکہ ان کتابوں سے نکلتا ہے، جو ہمارے مطالعے میں آتی ہیں۔
محمد حمید شاہد نے مختلف ثقافتوں میں، بالخصوص امریکی اور افغان اور اس سے جڑے پاکستان کے کلچر میں جنم لینے والے ایک سے کرداروں کی کہانیاں، ایک مختصر سے سانچے میں، جسے تشکیل دینے میں وہ ماہر ہیں، بیان کی ہیں، جن کے انجام مختلف ہیں۔
مگر یہ انجام یک سر مختلف کیوں ہیں؟ ہم اور ان میں، تم میں اور مجھے میں کیا فرق ہے؟
اس سوال کی بازگشت، جو محمد حمید شاہد کے اس ناول میں بارہا سنائی دیتی ہے، اسے ہم اورحان پامک کے ناول ”سفید قلعہ“ میں بھی سنتے ہیں، اور کچھ اسے منظر کرنے کی راقم الحروف نے بھی ”تکون کی چوتھی جہت“ میں کوشش کی۔
اس مختلف سے ناول کے آغاز میں، جسے ہر قاری ایک ہی نشست میں ختم کر گزرے گا، کہانی کار کی خودکلامی، کہانی کی رفتار کو کچھ دھیما کر دیتی ہے، مگر آخر تک آتے آتے آپ اس خودکلامی کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔
اس میں ہمیں جا بہ جا سماج کی مختلف اکائیوں میں موجود بائنری اپوزیشنز نظر آتی ہے، جیسے مرد اور عورت کی بائنری، جنگ اور امن، محبت اور نفرت کی اور سب سے بڑھ کر اندھے پن اور بینائی کی بائنری۔
یہ بائنری اپوزیشنز متصادم ہیں، اور یہ تضاد نہ صرف کہانی کے معنوی تانے بانے کو تشکیل دیتا ہے، بلکہ اس کے فکری پس منظر کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
محمد حمید شاہد روایتی Hierarchy کو خاموشی سے چیلنج کرتے ہیں، جہاں آنکھوں والے، جیسے کہانی کار اور دو سے نامی شخص، بصیرت سے محرومی کے باعث حاشیے پر چلے جاتے ہیں، اور بینائی سے محروم گل جان مرکز میں آ جاتی ہے۔
ناول کا ابتدائی حصہ جہاں ہمیں تفکر کی دعوت دیتا ہے، وہیں آخری حصہ تحیر لیے آتا ہے، اور تب آپ کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ ناول کچھ دیر اور چلتا رہے۔ مگر بے فکر رہیں، یہ خواہش پوری ہوگی، آپ کے اندرون میں۔ کہیں گہرائی میں۔ مسلسل، یہ چلتا رہے گا۔ الغرض محمد حمید شاہد بلاشبہ، موجودہ اردو فکشن کا، مضبوط ترین جواز ہیں۔


