سمندر، جزیرے اور جدائیاں
پچاس کی دہائی میں سمندر کے ذریعے پاکستان سے برطانیہ جانے کا سفر شروع ہو گیا تھا بلکہ اس سے بھی قبل برصغیر پاک و ہند کے افراد بحری جہازوں میں ملازم ہو کر برطانیہ پہنچتے۔ ان میں سے کچھ واپس لوٹ آتے اور کچھ وہیں آباد ہو جاتے تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کو اپنے ملک کی تعمیر نو کے لیے سستی افرادی قوت کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس نے اپنی نو آبادیوں سے رابطہ کیا۔ یوں نو زائدہ مملکت پاکستان سے ہزاروں افراد برطانیہ کی تعمیر نو کے لیے جا پہنچے۔ برطانیہ بنیادی طور پر ایک بہت بڑا جزیرہ ہے۔ ستر کی دہائی کے بعد یورپ کے بعد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے جزیرہ نما ممالک بھی پاکستانی تارکین وطن کا ٹھکانہ بنے۔ برطانوی تسلط میں رہنے کی وجہ سے ان ممالک کی زبان اور رہن سہن پر برطانوی چھاپ بہت زیادہ تھی۔ اس لیے پاکستانی تارکینِ وطن کو یہاں رہنا بہت آسان لگتا تھا۔ ان جزیروں پر تارکینِ وطن کی آمد و رفت شروع ہوئی تو گھر بار، بال بچے اور وطن چھوڑ کر اکیلا سفر کرنے سے دوریاں بڑھنے لگیں اور یہ دوریاں آہستہ آہستہ جدائی میں بدلنے لگیں۔ نوجوانوں کو اپنی ماؤں سے، باپ کو اپنے بچوں سے، بیوی کو اپنے مجازی خدا سے اور دل میں بسنے اور بسانے والوں کو اپنے پیاروں کی جدائی کا غم سہنا پڑا۔
ریٹائرڈ سینئر بیوروکریٹ محمد اظہار الحق ایک بلند پایہ شاعر، منفرد کالم نویس اور مصنف ہیں۔ انھوں نے ایک علمی و ادبی ماحول میں پرورش پائی۔ ان کے والد فارسی، اردو زبان کے شاعر اور بہت سی کتب کے مصنف تھے۔ شاعری تو اظہار صاحب کی گھٹی میں تھی۔ اب تک اُن کی اردو شاعری کے پانچ مجموعہ کلام چھپ چکے ہیں۔ تلخ نوائی کے نام سے اخبارات میں خوبصورت کالم لکھتے ہیں۔ ان کے تلخ نوائی، میری وفات اور عاشق مست جلالی کے نام سے کالموں کے تین مجموعے اب تک منظرِعام پر آ چکے ہیں۔ کیا کمال کا لکھتے ہیں۔ صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی ایوارڈ یافتہ ہیں۔ تعلیمی میدان سے عملی زندگی کا سفر شروع کر کے بیوروکریسی میں داخل ہوئے اور حسابات کی جادوگری میں زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ حکومت کا نہ کوئی پیسہ کبھی خود کھایا اور نہ ہی کسی کو کھانے دیا۔ ان کے بچوں نے نئی دنیا دریافت کرنے اور روشن مستقبل کی تلاش میں سمندر پار آسٹریلیا جیسے بہت بڑے جزیرے بلکہ بّرِاعظم کا چناؤ کیا تو بچوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے بلکہ انھیں اپنی مرضی سے اپنی زندگی کی راہیں متعین کرنے دیں۔ بچوں کے سمندر پار جزیرے میں آباد ہونے سے جدائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
سمندر، جزیرے اور جدائیاں اظہار صاحب کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو انھوں نے اپنے پوتوں، پوتیوں، نواسوں اور نواسیوں کی معصوم شرارتوں، چھوٹی چھوٹی فرمائشوں اور پیاری پیاری باتوں پر لکھے ہیں۔ بقول اظہار صاحب انگریزی کا ایک لفظ ”گرینڈ کڈز“ Grand Kids سب بچوں کا احاطہ کر لیتا ہے۔ اُن کی گرینڈ کڈز کی خوبصورت یادوں میں گندھی یہ ایسی تحریریں ہیں جن میں اُن کی گرینڈ کڈز سے محبت اور شفقت کا رس ٹپکتا ہے۔ اپنے بچوں کے بچپن میں ماں باپ کا رویہ بہت مختلف ہوتا ہے۔ جوانی میں اتنی سمجھ اور تجربہ نہیں ہوتا۔ بچوں کے سکول، یونیفارم، داخلے، پڑھائی، ماہانہ ٹیسٹ، سالانہ امتحان اور نوکری کے بکھیڑوں میں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب بچوں کا بچپن بیتا اور وہ جوان ہو گئے۔ بچوں کے بچوں سے پیار ایک انوکھی بات ہے۔ یہ بات میں اپنے تجربے کی بنیاد پر لکھ رہا ہوں یقیناً اظہار صاحب بھی اس دور سے گزرے ہوں گے۔
اظہار صاحب کا بچپن گاؤں میں گزرا۔ وہ بچپن کے وقتوں میں دیہاتی رواج والے کھلونوں سے کھیلے۔ اُنھیں اپنے بچپن کے کھلونے ابھی تک یاد ہیں۔ انھوں نے اپنے بیٹے کے لیے گاؤں کے بڑھئی سے اپنے بچپن کے کھلونے جیسا بیل تو بنوا لیا لیکن اپنے پوتے کے لیے آسٹریلیا میں خواہش کے باوجود وہ نہیں بنوا سکے۔ اب ان کی تیسری نسل کے لیے بیٹریوں سے چلنے والے ڈیجیٹل کھلونے دستیاب ہیں۔ زینب، رستم، حمزہ، زہرہ اور تیمور کی چھوٹی چھوٹی معصوم اور پیاری پیاری باتوں، شرارتوں اور انمول محبت کی کہانیاں پڑھ کر بے اختیار مجھے برطانیہ میں آباد اپنے پوتے، نواسے اور پوتی یاد آ جاتی ہے۔ پوتے آج کل جی سی ایس سی کا امتحان دے کر ہمارے پاس ہیں اور رات کو دادی کے ساتھ لگ کر سوتے ہیں۔
ہم اپنے نواسے سمیع کو برطانیہ سے اپنے پاس لے آئے تھے جو اس وقت ایک سال کا تھا۔ ہمارے پاس پانچ سال رہا۔ اس دوران اس کی ماں بیٹے کو یاد کر کے روتی تھی اور اب جب سمیع اپنی ماں کے پاس برطانیہ میں ہے وہ مجھے اور نانی کو یاد کر کے روتا ہے اور نانی سمیع کی جدائی میں روتی ہے۔ جب کبھی برطانیہ میں سب اکٹھے ہوتے ہیں تو اس وقت کی قدر و قیمت کا اندازہ کون لگا سکتا ہے۔
گاؤں میں گزرا ہوا بچپن ساری عمر نہیں بھولتا، اس کی یادیں ساری زندگی ساتھ چلتی ہیں۔ گاؤں سے شہر آنے کے لیے بسوں کا سفر یاد رہ جاتا ہے۔ گاؤں کے سکول میں قلم دوات سے لکھی ہوئی تختی، سر شام لالٹین کی صفائی، اس میں تیل کی مقدار چیک کرنا اور اس میں پڑی بتی کی لو بلند کرنا ہمیں بھی اب تک یاد ہے، اظہار صاحب بھی یہ باتیں نہیں بھولے۔ گاؤں کی باجرے کی روٹی کو وہ اب تک یاد کرتے ہیں۔ گرمیوں میں چھت پر مچھر دانی لگا کو سونا، تاروں کو گننا اور کہکشاں کو دیکھتے ہوئے سو جانا، انھیں سب یاد ہے۔ گاؤں والے اپنی پرانی اشیا ءکے ساتھ جینا چاہتے ہیں لیکن اب وہ اشیاء شہر تو شہر گاؤں میں بھی دستیاب نہیں ہیں۔ گاؤں کی گلیاں اب بہت بدل گئی ہیں۔ مٹی کی کچی دیواریں اب پکی اینٹوں کی پختہ دیواروں میں بدل گئی ہیں۔ دروازوں پر فولادی گیٹ لگ گئے ہیں۔ اب آپ بغیر دروازہ کھٹکھٹائے کسی کے گھر میں داخل نہیں ہو سکتے۔ گاؤں کی گندم کی بوائی اور کٹائی اور اس کو سنبھالنے کا سارا عمل جزئیات کے ساتھ اُنھیں ابھی تک نہیں بھولا۔ انھوں نے اپنے مضامین میں گاؤں میں گزاری ہوئی زندگی کی یادوں کو بڑی باریک بینی سے بیان کیا ہے۔ جسے پڑھ کر قاری کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ سارے واقعات اس کے سامنے رونما ہو رہے ہیں۔ میرا بچپن اور میری جوانی کے بہت سے سال گاؤں میں گزرے ہیں۔ سمندر، جزیرے اور جدائیاں پڑھ کر مجھے ایسا لگا، اوہ! یہ تو اظہار صاحب نے میرے بچپن، جوانی اور میرے گاؤں کی باتیں لکھ دی ہیں۔
ملازمت کا ایک لمبا عرصہ مختلف شہروں میں گزارنے اور بیرون ممالک جانے کے باوجود محمد اظہار الحق کے اندر اب بھی اُن کا گاؤں بستا ہے۔ گاؤں میں گزرا ہوا وقت وہ کبھی نہیں بھول پائے۔ میرے تجربہ ہے اور میرا خیال ہے کہ ہر انسان اپنی عمر کے تیسرے حصے میں اپنی بنیاد کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ پرانی یادیں بار بار ذہن کے کسی کونے سے جھانکنے لگتی ہیں۔ وہ اپنے بچپن کا اپنے بچوں کے ساتھ موازنہ کرتا ہے۔
کُکڑا دھمی دیا ایک لوک گیت ہے۔ یہ جدائی کا گیت ہے جو اپنے پیاروں کی یاد میں گایا جاتا ہے جنھیں رخصت کرنے کے بعد ان کی یاد ستانے لگتی ہے۔ اس گیت کے پس ِمنظر میں اظہار صاحب کا ہجر و فراق پر لکھا ہوا ایک خوبصورت کالم ہے۔ وہ اب بھی اپنے بچپن کا گاؤں تلاش کرتے ہیں جو وقت کی گرد میں اتنا بدل گیا ہے کہ وہ لکھنے پر مجبور ہو گئے کہ اب گاؤں میں کیا رہ گیا ہے۔ میرے جیسے عمر رسیدہ افراد کو اب بھی اپنا گاؤں یاد آتا ہے۔ پرانی باتیں یاد آتی ہیں، پرانے دوست اور بزرگ لوگ یاد آتے ہیں۔ کاش وہ وقت دوبارہ لوٹ آئے۔
248 صفحات پر مشتمل سمندر، جزیرے اور جدائیاں کے پہلے حصے میں اٹھائیس اور دوسرے حصہ میں ستائیس مضامین شامل ہیں۔ اس خوبصورت کتاب کو بک کارنر جہلم نے شائع کیا ہے۔ کتاب کا فلیپ ادارہ فروغ قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر نے لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ”اظہار الحق صاحب کا قلب و روح مشرقی اقدار، خاندانی سٹرکچر کی استواری، اپنی سرزمین اور آب و خاک سے بے انتہا اور غیر مشروط محبت سے لبریز ہے۔ جس کی آج ہمیں، ہمارے معاشرے اور ملک کو اشد ضرورت ہے“ ۔
اپنی بنیادوں سے پیار کرنے اور بچوں سے محبت کرنے والوں کو سمندر، جزیرے اور جدائیاں کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے جسے پڑھ کر انھیں محسوس ہو گا جیسے یہ تو ان کی اپنی کہانی ہے۔


