بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ


کوئی بھی معاشرہ کامل اور پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ اسے بہتر کرنے، سنوارنے اور قابل رشک بنانے کے لئے محنت درکار ہوتی ہے اور سماج کے سارے طبقات مل کر اپنی حیثیت کے مطابق اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ بہت سی رکاوٹوں کے باوجود بہتری اور ترقی کا یہ سفر جاری رہتا ہے۔ مگر نہ جانے کیوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جس سماج کا ہم حصہ رہے ہیں وہاں یہ سفر کسی جگہ آ کر رک سا گیا ہے۔

کسی بھی سماج کی بہتری میں سب سے اہم کردار مقتدرہ کا ہوتا ہے۔ وہ با اختیار لوگ جو قوت و قدرت رکھتے ہیں، وہ نظام تشکیل دیں، قانون سازی کریں، خود بھی عمل کریں اور دوسروں سے بھی کروائیں۔ میں نے اسی خوش گمانی کے ساتھ زندگی گزاری ہے کہ ہم دھیرے دھیرے ہی سہی مگر بدل رہے ہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں، گو کہ وہ آمریت کا دور تھا، کچھ ایسے اقدامات ہوئے تھے جن کی بنا پر مجھے لگتا تھا کہ اچھے فیصلوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ، پاسپورٹ، برتھ، ڈیتھ اور نکاح کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنا تھا۔ یہ ایک تاریخی قدم تھا۔ اس کی مدد سے جائیداد، بنکنگ، بین الاقوامی تجارت اور دیگر بیشمار معاملات میں انقلابی تبدیلی آئی۔

دوسرا کام ان کے دور میں لوکل گورنمنٹ میں یونین کونسل اور چھوٹے یونٹ کا قیام تھا، جن کی بنیاد پر لوگوں کے مسائل کے حل کے لئے بہت اہم پلیٹ فارم میسر آیا۔ یہ میری رائے ہے کہ یا تو جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بہترین اقدامات کیے گئے تھے جن میں آئین پاکستان جیسی عظیم دستاویز، تعلیمی نظام کی تشکیل، شناختی کارڈ کا اجرا، سینکڑوں پے اسکیل کی جگہ صرف بائیس بنیادی پے اسکیل کا نفاذ جیسے اہم فیصلوں کی عملداری تھے، جن سے آج بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا، یا پھر مشرف کے اقدامات نے معاشرے کو صحیح سمت عطا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے بعد اگر کسی نے بڑا قدم اُٹھایا تو وہ آصف علی زرداری ہیں جنہوں نے صوبوں کو اختیارات لوٹائے۔ دوسری طرف احمقانہ اور بیہودہ اقدامات کی بھی ایک طویل فہرست ہے جن میں یلو کیب سے لے کر لنگر خانے تک بہت کچھ ہے مگر میں ان کی طرف جانا نہیں چاہتا۔

چند سالوں سے تو میرے اندر خاصی مایوسی در آئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سماج جمود کا شکار ہو گیا ہے۔ ایک طرف آبادی کا بے ہنگم اضافہ ہے اور دوسری طرف خود رو جھاڑیوں کی طرح پھیلتی ہوئی اس آبادی کو منظم اور ضابطوں کا پابند بنانے کا کوئی کارآمد فیصلہ دکھائی نہیں دیتا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کوئی مجھے بھی تو کہہ سکتا ہے کہ میاں باتیں تو خوب کرتے ہو، خود بھی اس سماج کی بہتری کے لئے کچھ کیا ہے۔ تب میں آئینے کا رخ اپنی طرف کر لیتا ہوں۔ خود احتسابی سے گزرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

میں ایک نثر نگار ہوں۔ افسانہ نگاری سے مجھے شغف رہا ہے۔ لگ بھگ 130 افسانے میرے سات افسانوی مجموعوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ دو ناول اور میری آپ بیتی اس کے علاوہ ہیں۔ آخری افسانہ پانچ سال قبل لکھا تھا۔ اب سالوں سے کوئی افسانہ نہیں لکھا۔ اس کی کچھ وجوہات ہیں، ایک وجہ تو میری دن بہ دن کم ہوتی ہوئی یاداشت ہے جس کا ذکر میں نے اپنی آپ بیتی میں بھی کیا ہے۔ مگر یہ واحد وجہ نہیں ہے۔ اس میں تھوڑی بددلی، تھوڑی مایوسی اور تھوڑا سا میری حساسیت کو بھی شامل کر لیجیے۔

ادب سے محبت 50 سال پہلے شروع ہوئی تھی 1980 میں غیر مربوط طریقے سے لکھنے کی طرف راغب ہوا اور 1990 تک آتے آتے خود کو صرف افسانہ نگاری سے جوڑ لیا۔ اب یہ سفر 35 سال پر محیط ہے۔ ہر چند کہ مجھے شہرت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن ہر تخلیق کار کی اتنی خواہش ضرور ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہنر کی بنیاد پر پہچانا جائے۔ اس کا فن دوسروں تک پہنچے۔ اس حوالے سے ایک اور بات بہت زیادہ اہمیت کی حامل رہی ہے۔ اگر لکھنے والے کو اپنے سماج اور اردگرد کے ماحول میں کمی محسوس ہو اور وہ اپنی تحریروں کے ذریعے سماج کو بہتر کرنے یا تبدیل کرنے کا پیغام دے سکتا ہو تو وہ تو وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ایسا ضرور کرتا ہے۔

اس بات کا اندازہ تو آغاز میں ہو گیا تھا کہ نثر نگاری اور بالخصوص افسانہ نگاری کے فروغ میں کردار ادا کرنے والے پلیٹ فارم بہت محدود ہیں جبکہ مشاعروں کے ذریعے نئے لکھنے والے بہت جلد اپنی پہچان بنا لیتے ہیں، مگر کیا کیجئے کہ میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا اس کے لئے افسانہ ہی سب سے موزوں صنف تھی۔ جب نشستوں میں جانا شروع کیا تو کچھ افسوس ناک پہلو سامنے آئے۔ افسانوں پر گفتگو کرنے والے ہمیشہ ہی کم لوگ ملے۔

اردو ادب میں ایسے شاعر موجود ہیں جو ادب کی دیگر اصناف پر نہ صرف گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ان کی مقامی اور عالمی ادب پر بھی بہت گہری نظر ہے۔ مگر ان کی تعداد افسوسناک حد تک بہت محدود ہے۔ اکثریت ان کی رہی ہے جو محض اپنی شاعری سنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ میرے مشاہدے میں ایسے شعرا بھی آئے ہیں جنہوں نے ادب کو کبھی پڑھا ہی نہیں ہوتا۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ شاعری پر گفتگو کرنے کے لئے شعری جمالیات سے زیادہ واہ واہ کی گردان کی جاتی ہے اور شاعر اسی کا متلاشی ہوتا ہے۔ جب کہ افسانہ کچھ اور رویوں کا تقاضا کرتا ہے۔

افسانہ نگار سماجی رویوں، مسائل اور زندگی کے نشیب و فراز سے کہانی اخذ کرتا ہے اور پھر اپنے اسلوب بیاں کی آمیزش سے افسانہ تخلیق کرتا ہے۔ افسانہ شاعری کے غالب رجحانات کی طرح نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ دو مصرعوں کی طرح دو سطروں میں بیان کر دینے والی کوئی صنف ہے۔ افسانے کے لئے یکسوئی، فراوانی وقت اور سماجی مشاہدے کی بہت ضرورت ہوئی ہے اور یہی یکسوئی اور وقت کسی بھی ادبی نشست میں بھی درکار ہوتا ہے۔ مگر آج کا شاعر تو عجلت میں ہوتا ہے۔ کہنے کی عجلت، سنانے کی عجلت اور پھر شہرت اور کامیابی کی عجلت۔

یہ کاتا دوڑی اسے کسی اور کی طرف دیکھنے، پڑھنے اور سراہنے کی مہلت ہی نہیں دیتی۔ ادب میں یہ رویہ ہمیشہ سے ہی رہا ہے مگر اب یہ بہت تیزی سے بڑھتے ہوئے ایک خرابی کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

پاکستان میں کتابوں کی اشاعت بھی ایک بہت ہی سنگین مسئلہ ہے۔ یہ شعبہ اب ایک مذاق بن گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ پبلشر ایک کاروباری شخص ہوتا ہے۔ اسے اپنے منافع سے عرض ہوتی ہے۔ مگر کسی بھی ادیب کی تخلیق ایسی پروڈکٹ ہوتی ہے جسے لکھنے، بنانے، سنوارنے اور سجاتے ہوئے وہ داخلی کرب سے گزرا ہوتا ہے۔ اس کا فن پارہ محض کسی دکان یا شوروم میں سجا دینے والی مادی شے نہیں ہوتا کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر کے شوکیس میں سجا دیا جائے۔ یہ تو قاری کو بصیرت اور سماجی آگا ہی عطا کرتا ہے۔ اسے شعور سے مالا مال کرتا ہے۔

ادیب کو سب سے زیادہ جو بات مسرت عطا کرتی ہے وہ کتاب کا قاری کے ہاتھوں تک پہنچنا ہے۔ مگر اس مرحلے پر آ کر وہ سب سے زیادہ پریشان ہوتا ہے۔

ہم اکثر کتاب پڑھنے کے رجحان پر بات کرتے ہوئے مغرب کے حوالے دیتے ہیں کہ یہاں ایک ایک ایڈیشن کتنی بڑی تعداد میں چھاپا جاتا ہے۔ مگر میری نگاہ میں ہم درست موازنہ نہیں کرتے۔ یہاں اکثر کتابیں دس سے پندرہ ڈالر میں مل جاتی ہیں جو کہ پاکستانی روپوں میں ڈھائی تین ہزار روپے بنتے ہیں۔ مگر ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یہاں معمولی جاب کرنے والے دس سے پندرہ ڈالر صرف ایک گھنٹے میں کما لیتے ہیں جب کہ پاکستان میں یہ پورے دن کی کمائی سے بھی زیادہ ہے۔

اس پر افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے معاشرے میں کتاب کلچر پیدا ہی نہیں کیا۔ لوگوں کی ترجیحات میں کتاب شامل نہیں ہوتی۔ ایک طرف قاری کی عدم دلچسپی اور دوسرے طرف وہ گروہ جو کتابیں شائع کرتا ہے۔ کچھ پبلشرز کے بارے میں ہم یہ بات بہت آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ کتابیں پڑھنے کے لئے نہیں بلکہ صرف امرا کے بک شیلفوں میں سجانے کے لئے چھاپتے ہیں۔ ان کا قاری تو مخصوص ہوتا ہی ہے بلکہ ان کا ادیب بھی مخصوص ہوتا ہے۔ جو ادیب پہلے درجے کے پبلشرز تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے وہ دوسرے درجے کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہاں سجی ہوئی دکان پر یہ سمجھ نہیں آتا کہ اپنے لکھے ہوئے کو اپنے پیسوں سے چھاپ کر احباب میں کتاب تقسیم کرنے کا فائدہ کیا ہو گا۔ لیکن کچھ سر پھرے ادیب یہ بھی کر گزرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں سب سے زیادہ مسرت اپنی کتاب چھپی ہوئی دیکھ کر ہوتی ہے۔

اب میں دوبارہ آغاز کی طرف آتا ہوں کہ ہزاروں صفحات کالے کرنے، اپنی جیب سے خرچ کر کے کتابیں شائع کروانے اور قاری تک پہنچانے کے بعد اب میں کیوں لکھنے کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ در حقیقت ہم نے ادب میں در آئی غیر ادبیت کے غلبے کو برداشت کر لیا، قاری تک تک پہنچنے کے لئے پبلشرز کی عدم دلچسپی کو بھی جھیل لیا مگر اس قاری کا کیا کریں جو اپنے اندر تبدیلی لانے اور سماج کو بہتر کرنے کے لئے تیار ہی نہیں۔ کسی سماج نے خود کو کتنا بہتر کیا ہے، اس کا اظہار نمائشی نمودار دکھاوے سے نہیں ہوتا۔ یہ سب جاننے کے لئے اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ سماج میں عدل و انصاف کتنا ہے، آزادی اظہار کا معیار کیسا ہے، سماج کے مختلف طبقات کا ایک دوسرے کے ساتھ رویہ کیا ہے میں مختلف مذاہب میں ہم آہنگی کتنی ہے، نوجوانوں میں تعلیمی صلاحیت کس معیار کی ہے جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے خواتین کو یکساں حقوق حاصل ہیں کہ نہیں، معاش کی سہولت لوگوں کو یکساں میسر ہے کہ نہیں، مظلوم کی دادرسی کے لئے ادارے کتنا کام کر رہے ہیں۔ مگر جب ہم اپنے سماج کو دیکھتے ہیں تو ذہنی پسماندگی دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے۔

75 سالوں میں ہمیں جس قدر بہتر اور تہذیب یافتہ ہونا چاہیے تھا، وہ دکھائی نہیں دنیا۔ مادی ترقی تو دکھائی دیتی ہے مگر ذہنی اور فکری ترقی کا سفر خط معکوس کی جانب جاتا ہوا نظر آتا ہے۔ مانا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ادیب محض اپنے لکھے سے سماج کو تبدیل نہیں کر سکتا مگر وہ بہتر سماج کی نشاندہی ضرور کرتا رہتا ہے۔ اپنے قلم سے سماج کو بیدار کرنے کی کوشش کے بعد اس کا کردار محدود ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد سماج کی اپنی ذمہ داری شروع ہو جاتی ہے کہ وہ خود کو تبدیل کرنے کی طرف قدم بڑھائے۔ مگر جب برسوں کے بعد بھی سماج تبدیل ہوتا ہوا دکھائی نہ دے تو پھر کیا کیا جائے۔

ایک تو یہی رائے ہو سکتی ہے کہ ادیب کو اپنا کام خلوص نیت کے ساتھ کرتے رہنا چاہیے۔ مگر کیا کیا جائے کہ جس گھٹن نے لکھنے کی طرف مائل کیا تھا وہ محض کتھارسس نہیں تھا، وہ ایک خواب تھا، بہتری کا خواب، ایک آدرشوں بھرا خواب۔ اصل میں ہوا یہ کہ ہم جیسوں نے آدرشوں کی بنیاد پر سماج کو تبدیل کرنے کے خواب دیکھے تھے وہ آدرش کسی اور دنیا سے آئے تھے۔

ہمارے سماج کی پرورش اور بنت اس طرح ہوئی ہی نہیں۔ یہ اپنی جڑوں سے کٹا ہوا سماج ہے، اسے مصنوعی تنفس سے جو آکسیجن فراہم کی جا رہی ہے، وہ بھی کہیں اور سے درآمد کی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے اس میں دوغلا پن در آیا ہے۔ لوگوں کے درمیان سب سے پہلا تعلق انسانیت کا ہوتا ہے، پھر زمین کا اور اس کے بعد زبان کا۔ ہمیں بتایا گیا کہ سب سے پہلا تعلق مذہب کا ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر گزشتہ پچھتر سالوں میں مذہب کی جگہ فرقے اور مسلک نے لے لی ہے، اور اب تو حب الوطنی بھی شکوک سمجھی جاتی ہے۔

زندگی میں ہر قدم پر کوئی نہ کوئی سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے، خود کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔ شناختی کارڈ بنواتے ہی لکھ کر دینا پڑتا ہے۔ سرکار مطمئن نہیں ہوتی۔ جب پاسپورٹ بنوائیں تو دوبارہ اقرار کرنا پڑتا ہے سرکار کو تب بھی اطمینان نہیں ہوتا۔ نکاح نامے کے وقت ایک بار اور پوچھا جاتا ہے۔ یہاں تک آتے آتے سرکار تو مطمئن ہوجاتی ہے مگر عوام نہیں ہوتے اور وہ کسی فرد کے مرنے تک اس کا پیچھا کرتے ہیں۔

کیا یہ وہی خواب ہے جو ہم نے دیکھا تھا۔ شاید نہیں۔ اب حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ بھی انہی راستوں سے آگے بڑھ رہا ہے۔ پچھلی صدی میں بھی غداری کا لیبل بہت سے لوگوں پر چسپاں کیا جاتا رہا ہے، اب وہ سب اس دنیا میں نہیں۔ مگر اب اکیسویں صدی میں اس انٹرنل ویریفکیشن میں بہت تیزی آ گئی ہے۔ اب صرف شناخت ہی نہیں چھین لی جاتی، وجود بھی غائب کر دیا جاتا ہے۔

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نا سمجھے خدا کرے کوئی

Facebook Comments HS