چار مہینے اور منجمد زندگی


ابو جی آپ کو ہم سے دور ہوئے چار مہینے ہو گئے ہیں۔ اب دل بہت اداس ہے۔ آپ کیسے ہیں ابو جان؟ آپ کی نئی زندگی کیسی ہے؟ ہم سب ٹھیک ہیں۔ آپ تو جانتے ہیں نہ ہم کبھی آپ کے بغیر چار دن بھی نہیں رہے تھے اب کیسے جی پائیں گے۔ چار مہینے سے جو ہم گزار رہے ہیں یہ زندگی تو نہیں ہے۔ آپ کے ساتھ گزارا ہوا وقت ساری زندگی کا حاصل ہے ان یادوں کے سہارے اب ہم باقی زندگی گزاریں گے۔ آج آپ کو لکھ رہی ہوں لیکن میں جانتی ہوں کہ لکھنے سے دل کا بوجھ کم نہیں ہو گا اور نہ ہی درد کی شدت کم ہوگی پھر بھی دل کہتا ہے کہ شاید میرے الفاظ آپ تک پہنچیں۔

بظاہر گھر میں ہم سب ٹھیک ہیں۔ جمشید بہت ذمہ دار ہو گیا ہے۔ جنید وہی لا پرواہ انداز اپنائے ہوئے ہے۔ اس کی وہ ہی بچگانہ حرکتیں ہین۔ گلشید آپ کو بہت مس کرتا ہے وہ لاہور ہی ہوتا ہے اور گلریز فائنل امتحان دے رہا ہے۔ زیان ہر بات میں آپ کا ذکر کرتا ہے وہ ہم سب سے چھپ کر آپ کے کمرے میں جا کر آپ کو آواز دیتا ہے شاید اسے لگتا ہے کہ اپ اب بھی اس کی ایک آواز ”ابو جی“ پر آپ ”جی بیٹا“ بولیں گے۔

امی آپ کے بعد ہر وقت سوچتیں رہتی ہیں اور آپ کو بہت یاد کرتی ہیں۔ انہوں نے ہم سب کو سنبھالا ہوا ہے۔ آپ کا چلے جانا وہ خسارہ ہے جو زندگی بھر پورا نہیں ہو گا۔ آپ کا ہم سبکی زندگی میں وہ کردار تھا جو آکسیجن کا ہمارے جسم میں۔ ہم روز مرہ زندگی میں جو بھی کام کریں آپ کی آواز آس پاس گونجتی ہے کہ یہ کام کیسے کرنا ہے۔ اور پھر کام غلط ہو جانے کی صورت آپ کا مخصوص الفاظ میں ڈانٹنا بھی سنائی دیتا ہے۔

ابو جان آپ جسمانی طور پر گئے ہین روحانی اور تعلقانہ طور پہ آپ کیسے جا سکتے ہیں۔ ہم سب بہن بھائی آپ کی موجودگی کا احساس ہی تو ہیں۔ ہم سب آپ کے جسم کا حصہ ہی تو ہیں۔ آپ کے نام سے ہی تو ہم جانے جاتے ہیں۔ میں اپنے بھائیوں میں آپ کو دیکھتی ہوں۔

ابو جان یہ ناقابل یقین ہے کہ آپ اب نہیں ہیں لیکن میں خوش ہوں کہ آپ نے وہ پا لیا جس کے لیے آپ نے ساری زندگی محنت کی۔ ہمارے بعد جس چیز سے آپ کو محبت تھی وہ اللہ پاک سے افضل ترین دنوں میں ملاقات تھی۔ آپ کو مبارک ہو ابو جان آپ کی خواہش پوری ہوئی۔ میں جانتی ہوں آپ ہمیں چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے لیکن مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ پاک اپنے پیارے بندوں کو اوروں سے جلدی اپنے پاس بلا لیتے ہیں۔

میں نے آپ کو ہمیشہ محنت کرتے دیکھا تھا اپنے بچوں کے لیے اور اپنی آخرت کے لیے۔ ابو جان بہت بار میں آپ کو تہجد پڑھتے دیکھ کر اور قرآن پڑھتے دیکھ کر اس اندیشے سے ڈر جاتی تھی کہ آپ اتنا زیادہ فوکس کیوں کرتے ہیں کہیں آپ کو جانے کی جلدی تو نہیں۔ جب آپ کی کمر کا مسئلہ بنتا آپ تب بھی اٹھ کر تہجد کی نماز قائم کرتے میرا دل ڈر جاتا تھا لیکن تب ایسا نہیں ہوا تھا اور بہت بار نہیں ہوا تھا اور میں شکر ادا کرتی تھی کہ آپ ٹھیک ہو جاتے تھے۔

خدشہ تو اس بار بھی دل کو بہت تھا لیکن آپ کو یاد ہے ہسپتال میں آپ نے مجھے بولا تھا میں ٹھیک ہوں اور میں نے ہر بار کی آپ پر یقین کر لیا۔ مجھے یقین تھا میرے ابو اگر خود کو ٹھیک بتا رہے ہیں تو بہتر محسوس کر رہے ہیں تب ہی ایسا بول رہے۔ میں اور آپ یہ جان ہی نہ سکے کہ اس بار کاتب تقدیر کی کچھ اور پلاننگ ہے۔ آپ کے اس بار بیمار ہونے پر دل اس طرح پریشان نہیں تھا جیسا پہلے آپ کے بیمار ہونے پہ ہوتا تھا اور تب آپ ٹھیک ہو جاتے تھے اور میں کتنا خوش ہوتی تھی۔

آپ اب نہیں ہیں یہ میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ آپ اب کبھی نہیں آئیں گے میں آپ کو کبھی دیکھ نہیں سکوں گی۔ ابو جان آپ ایک بہت اچھے انسان اور نہایت ذمہ دار باپ تھے۔ میں اداس ہوں ابو جان میں آپ کو یاد کرتی ہوں۔ میرے الفاظ میری تڑپ کو بیان نہیں کر سکتے۔ میں آپ کو واپس لانے کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہوں لیکن یہ نہیں ہو سکتا۔ آپ جب ہسپتال گئے تھے کب سوچا تھا کہ آپ کبھی گھر واپس نہیں آہیں گئے۔ کاش میں آپ کو پھر سے دیکھ سکوں۔ کاش میں آپ سے مل سکوں۔ ہر انسان کو واپس اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور آپ بہت جلدی لوٹ گئے۔

ابو جان اللہ پاک کو یہی منظور تھا۔ یقینا اسی میں بہتری ہے کیونکہ اللہ پاک کسی انسان پر اس کی ہمت سے زیادہ نہیں بوجھ نہیں ڈالتے۔ آپ کو اپنے پاس بلاتے ہوئے ہمارا بھی تو کچھ سوچا ہو گا اور ہم اس کے فیصلے پر راضی ہیں۔ اللہ پاک کی اس آزمائش میں ہم سرخرو ہوں گئے انشااللہ۔ بالکل ویسے ہی جیسے آپ اللہ تعالی کے ہر امتحان میں کامیاب ہوتے ہوتے اللہ سے جا ملے ہم بھی سرخرو ہو کر آپ سے آ ملیں گے اور پھر اللہ کی جنت میں ایک بار پھر ہنسی خوشی رہنے لگیں گئے انشااللہ۔ دوبارہ ملاقات تک جدائی کاٹنی پڑے گی۔ ابو جان آپ یہاں بھی رہ رہے ہیں خوش رہیں شاد رہیں۔ آپ کی اولاد آپ کے لیے صدقہ جاریہ بنی رہے گی انشااللہ۔

Facebook Comments HS