تہوار


مہابھارت کوروؤں اور پانڈوؤں کی لڑائی کی رزمیہ داستان ہے۔ یہ دو لاکھ چرنوں (مصرعوں ) اور ایک لاکھ اشلوکوں کے ساتھ دنیا کی طویل ترین نظم ہے۔ اٹھارہ لاکھ لفظوں پر مشتمل مہاربھارت یونانی شاعر ہومر کی اوڈیسی اور ایلیاڈ سے بھی اٹھارہ گنا زیادہ بڑی ہے۔ اس کے اولین مولف لافانی مہا پُرش وید ویاس ہیں جنہوں نے دنیا کی قدیم ترین مذہبی کتب میں شامل ویدوں کی تدوین بھی کی تھی۔ مہابھارت ہندومت کے مرکزی ارکان میں شامل ہے۔

حتی کہ مقدس ترین کتاب بھگوت گیتا جس پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا جاتا ہے اور عدالتوں میں گواہی دی جاتی ہے وہ بذات خود مہابھارت کا ایک حصہ ہے۔ جیسے قرآن سے ایک دو سیپارے الگ کر کے شائع کر دیے جائیں ویسے بھگوت گیتا بھی دراصل مہابھارت کی چھٹی جلد یعنی ’بھیشما پَرَو‘ ہے۔ یہ کرشن کا ارجن سے مکالمہ ہے۔ کرشن جی کا مشہور جملہ ’ارجن یُدھ کر‘ اسی میں شامل ہے۔

کورو اور پانڈو ایک ہی دادا کی اولاد میں چچازاد تھے جن کے درمیان کرُک شیتر کا خونریز معرکہ لڑا گیا۔ جنگ میں پانڈوؤں کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی اور انہوں نے کوروؤں کا وَنش (تخم /نسل) ہی مٹا ڈالا۔ لہذا مہابھارت کے مطابق آج دنیا میں پانڈو تو موجود ہیں مگر کوروؤں کی نسل نہیں ہے۔ ان کے سارے مرد کرک شیتر میں یمراج کا بھوجن ہو گئے۔ یہ لڑائی ہندو مت کی مختلف روایات کے مطابق ساڑھے تین ہزار سال قبل مسیح یعنی آج سے کوئی ساڑھے پانچ ہزار سال قبل لڑی گئی۔

ابتدا میں یہ رزمیہ نظم سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہی اور بعد ازاں ویدوں کے دور میں اس کی تالیف ہوئی۔

مہابھارت مافوق الفطرت واقعات، فلسفہ، تاریخ، علم، حکمت، سائنس، ، مذہب اور اخلاقیات سے بھرپور ہے۔ اس میں ایسے ایسے واقعات ہیں جن پر یقین کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ مبالغہ آرائی کے کوہ ہمالیہ کھڑے ہیں۔ تعریف و تنقیض کے آتش فشاں ہیں۔ فصاحت و بلاغت کے شہر ہیں۔ اخلاقیات کے مہر ہیں۔

مثلاً اشوتھاما کا امر ہوجانا، انسانوں اور دیوتاؤں کا جنگ میں ایک ساتھ شامل ہوجانا، پانڈوؤں کا آسمانی اسلحوں سے لیس ہوجانا، دھرتراشٹر کے 100 بیٹوں کوروؤں کے جنم کا عجب طریقہ، برہماستر ہتھیار کا استعمال (یہ ہتھیار بالکل جوہری ہتھیار کی طرح پیش کیا گیا ہے جو کہ دماغ کو چکرا دینے والی بات ہے ) اور شری کرشن کا جنگ میں ایک جگہ زمان و مکان یعنی وقت کو ہی روک دینا۔ اس طرح کے سینکڑوں واقعات ہیں۔ اس سب کے باوجود مہابھارت ہندو مذہب کا مرکز ہے۔

اس کے فلسفے، اس کے پد (مصرع) ، اس کے کردار، اس کی کہانیاں، اس کے واقعات، داستانیں، اس کے معنی خیز مکالمے اب روز مرہ زبان اور ضرب الامثال کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔ مثلاً اندھا پیار۔ یہ اصطلاح گاندھاری کے اندھے پیار سے نکلی۔ اسی طرح لفظ چکر ’چکرویو‘ سے نکلا ہے۔ آنکھوں پر پٹی بندھنا مہابھارت کے ایک قصے سے ماخوذ ہے۔

مہابھارت مچ جانا آج بھی ایک عام محاورہ ہے۔ مہابھارت میں کتنی سچائی ہے اور کتنا مبالغہ ہے؟ یہ سوال ہرگز اہم نہیں ہے۔ اہم یہ ہے کہ مہابھارت کی اہمیت کیا ہے اور اس کا مقصد کیا تھا؟

مہابھارت کی اہمیت یہ ہے کہ اس کا ابتدائیہ ہندو ثقافت کا عالمگیر سچ مانا جاتا ہے۔ ابتدائیہ میں لکھا ہے

’دنیا میں وہی کچھ ہے جو مہابھارت میں ہے۔ جو مہابھارت میں نہیں وہ کہیں موجود نہیں ہے۔ ‘

جدید ماہرین ارضیات نے ثابت کر دیا ہے کہ مہابھارت کوئی مکمل فرضی داستان نہیں ہے۔ یہ وقوع پذیر ہوئی تھی۔ بھارتی ریاست ہریانہ میں کرک شیتر کا شہر آج بھی موجود ہے جہاں یہ جنگ ہوئی۔

مہابھارت میں شری کرشن کی سلطنت دوارکا کے ڈوب جانے کا تذکرہ ہے اس کے شواہد بھی گجرات کے ساحلوں سے مل چکے ہیں۔ دیگر کئی ناقابل تردید ثبوت بھی ملے ہیں۔

لیکن اس سب حقائق کے باوجود اگر کوئی مہابھارت کی لن ترانیوں اور مبالغے کے باعث اس کی جمالیات، اس کے آرٹ، اس کی فکشن، اس کے ثقافتی اثرات، مصرعوں کی ترتیب، قطع و برید، جوڑ بند، بلندی خیال، وعظ و حظ، ، یاس و آس، لحن و غنا اور طرب و کرب کا انکاری ہو جائے تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔

سب جانتے ہیں کہ وقت کا رکنا ناممکن ہے مگر دھرم و کرم کے فلسفے کو سمجھانے میں اس خوب صورت مثال سے استفادہ کرنے میں کیا مضائقہ ہے؟ کیا انسان کہانیوں کو سچ مان کر زندگی گزارنے والی واحد مخلوق نہیں ہے؟ پیسہ، مذہب، ملک، قوانین اور قومتیں کیا یہ سب گھڑی ہوئی کہانیاں نہیں ہیں؟

مذہبی شدت پسندی کسی فرقے کے نام سے زیادہ ایک دماغی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان زندگی کی خوب صورتیوں اور جذبات سے محروم ایک بے رحم اور بدصورت مشین بن کر رہ جاتا ہے۔ وہ ریشنلزم کے بہکاوے میں نفرتوں کی سرحدیں پار کر جاتا ہے۔ غمی اور خوشی محسوس کرنے کی بجائے اپنے بندر جتنے دماغ سے عقل کُل بننے کی کوشش کرتا ہے۔ مہابھارت ہو، کرسمس ہو، عید الفطر ہو یا عید الاضحی، کمبھ میلا ہو، ہولی دیوالی ہو یا کربلا اور عزاداری یہ سب اب عقیدے سے زیادہ ثقافت کا حصہ ہیں۔ یہ تہوار اب لوگوں کے مزاج بن چکے ہیں۔ چار شبد پڑھ کر ہیضہ کرنے والے بغلول ان پر کتنی ہی تنقید کیوں نہ کر لیں یہ اکثریت کو ان سب سے باز نہیں رکھ سکتے۔ کیونکہ تہوار انسانی کی فطری، نفسیاتی، جذباتی اور ارتقائی ضرورت ہیں۔

جو لوگ خوب صورت رنگارنگ تہواروں میں کیڑے نکالتے ہیں ان کے دماغ میں کیڑا ہے۔ تہوار منانے کے دوران شرکا کی غیر قانونی حرکات، دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت، اور آلودگی پھیلانے کی ضرور حوصلہ شکنی ہونی چاہیے بلکہ اس سے سختی سے نمٹنا بھی چاہیے۔ مگر تہواروں کے خلاف زہر افشانی کرنا دراصل ذہنی کجی اور قلبی شقی ہے۔

تہواروں کے کردار الوہی درجہ پر فائز ہوچکے ہیں۔ باؤلی پونچھوں کے ہنکاروں اور کھنگاروں سے ان کی شان میں بال برابر فرق نہیں آئے گا۔

عجیب طرفہ تماشا ہے میرے عہد کے لوگ
سوال کرنے سے پہلے جواب مانگتے ہیں

Facebook Comments HS