زیب داستاں : آذربائیجان کے شہر باکو میں چند دن (پہلی قسط)


چند ماہ پہلے میں جاپان میں تھی۔ آذربائیجان کی ایک یونیورسٹی سے ڈاکٹر لطیفہ کی ای میل موصول ہوئی۔ انہوں نے مجھے ایک علمی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ ٹھیک ایک سال پہلے بھی مجھے یہ دعوت نامہ ملا تھا۔ اس وقت میں نے خوشی خوشی ویزہ لگوایا۔ دیگر تیاریاں بھی مکمل تھیں۔ تاہم آذر بائیجان کا سفر میری قسمت میں نہیں تھا۔ آخری وقت پر کوئی رکاوٹ آڑے آ گئی اور میں باکو نہیں جا سکی۔ کانفرنس میں البتہ میں نے آن لائن شرکت کی تھی۔ کسی محفل میں آئن لائن شرکت سے مجھے کچھ خاص رغبت نہیں ہے۔ بہ نفس نفیس کسی جگہ پر جانا، اجنبی لوگوں سے ملنا، ان کے خیالات و نظریات کو جاننا، ان کے حالات زندگی سے آگہی حاصل کرنا، مجھے یہ سب کچھ کہیں زیادہ دلچسپ اور معلومات افزاء لگتا ہے۔ فقط علمی و ادبی گفتگو سننا مقصود ہو تو اس کے لئے درجنوں کتابیں اور سینکڑوں آن لائن لیکچر مل جاتے ہیں۔ بہرحال آذربائیجان نہ جانے کا مجھے کچھ افسوس تھا۔

اس مرتبہ بغیر کسی رکاوٹ کے تمام مراحل طے ہو گئے۔ البتہ جب ویزہ لگ کر آیا تو پتہ چلا کہ اس پر غلطی سے میری صنف ”عورت“ کے بجائے ”مرد“ درج ہو گئی ہے۔ خیال آیا کہ اس مرتبہ سفارت خانے والے میرا پروگرام خراب کریں گے۔ تاہم ایک آدھ دن کے وقفے سے مجھے نیا ویزہ جاری ہو گیا۔ یوں یہ آخری رکاوٹ بھی دور ہو گئی۔ جب طے ہو گیا کہ مجھے دو دن بعد باکو کے لئے روانہ ہونا ہے تو گھر والوں کو آگاہ کیا۔ جب بھی مجھے سفر درپیش ہوتا ہے، میری دونوں بچیوں کے قیام کے لئے گھر مخصوص ہیں۔ حفصہ اپنی خالہ عظمیٰ کے ساتھ مانوس ہے۔ جبکہ حمنہ ہمیشہ اپنی بڑی خالہ کے گھر ٹھہرتی ہے جسے وہ ”اماں“ کہہ کر بلاتی ہے۔ میری بچیاں چند ماہ کی عمر سے اپنی خالاؤں کے گھر رہنے کی عادی ہیں۔ میں نے اس روٹین پر کبھی غور نہیں کیا تھا۔ لیکن دوست احباب کے بار بار پوچھنے، توجہ دلانے اور حیرانی کا اظہار کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ معمول کی صورتحال نہیں ہے۔ یہ یقیناً ایک بڑی نعمت اور سہولت ہے جو میری بہنوں کی وجہ سے مجھے میسر ہے۔

آذربائیجان کے دارالحکومت باکو جانے کے لئے میں نے قومی ائر لائن کا انتخاب کیا تھا۔ پی آئی اے نے چند ماہ پہلے باکو کے لئے براہ راست پروازیں شروع کی ہیں۔ آپ قومی ائرلائن کو لاکھ برا بھلا کہیں، اس کی سروس میں سو کیڑے نکالیں، تاہم اس کا فائدہ دیکھئے کہ یہ ہمیں دوسرے ملکوں کے ہوائی اڈوں پر گھنٹوں پڑاؤ (stop over) کی زحمت سے بچا کر انتہائی مختصر وقت میں اپنی منزل مقصود تک پہنچا دیتی ہے۔ نہایت غنیمت ہے کہ آپ لاہور سے چلیں اور ساڑھے چار گھنٹے بعد باکو جا اتریں۔ کسی دوسرے ملک جانا ہو تو اپنی صنف کے پیش نظر ٹکٹ کنفرم کرواتے وقت میں ہمیشہ یہ احتیاط ضرور کرتی ہوں کہ فلائیٹ دن کی روشنی میں اس ملک میں اترے اور واپس چلے۔ پی آئی اے کی باکو کی فلائیٹ کی ٹائمنگ اس ضمن میں بہت اچھی ہے۔ یہ دن کے وقت روانہ ہوتی ہے اور دن کی روشنی میں باکو اترتی ہے۔ آذربائیجان میں پاکستان کے سفیر محترم قاسم محی الدین صاحب سے باکو میں میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی دوسری ائرلائنوں کے مقابلے میں قومی ائرلائن کی ٹائمنگ کے اس مثبت پہلو کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔

وقت مقررہ پر میں لاہور ائرپورٹ پہنچی۔ چیک ان کیا۔ سامان جمع کروانے کے بعد امیگریشن کاؤنٹر کے سامنے لگی قطار میں کھڑی ہو گئی۔ یہاں ضرورت سے زیادہ وقت لگا۔ میری باری آئی تو افسر نے وہی روایتی سوالات دہرائے۔ آپ کیا کرتی ہیں؟ باکو کیوں جا رہی ہیں؟ کتنے دن قیام ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے سوالات ختم ہوئے تو اپنی عادت کے مطابق میں نے بھی اس سے کچھ سوالات کیے۔ مثلاً یہ کہ یہاں اتنی سست رفتاری سے کام کیوں ہو رہا ہے۔ ایک مسافر کی کلیئرنس میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس بھلے آدمی نے ایک طرف کھڑے مسافروں کے ہجوم کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ یہ سب آذربائیجان جانے والے مسافر ہیں۔ ان کی خصوصی جانچ پڑتال ہو رہی ہے۔ کہنے لگا کہ آذربائیجان سے مسلسل شکایات مل رہی ہیں کہ لوگ جعلی دستاویزات پر سفر کرتے ہیں۔ بہت سوں کو دھوکہ دہی سے نوکری اور پکے ویزے کا جھانسا دے کر بلایا جاتا ہے۔ یہ لوگ وہاں جا کر خوار ہوتے ہیں یا پھر غیر قانونی طور پر مقیم ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ہم آذربائیجان جانے والوں کی کڑی پڑتال کرتے ہیں۔ اس افسر کی مہربانی کہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر گیا۔ میری دستاویزات کی خود تصدیق کروائی اور مجھے اندر جانے دیا۔

فلائیٹ وقت پر تھی۔ میرا خیال تھا کہ یہ پرواز آذربائیجان جا رہی ہے تو اس کی صورتحال بہتر ہو گی۔ تاہم یہ قیاس غلط ثابت ہوا۔ جہاز میں داخل ہوئی تو اس کی خستہ حالی عیاں تھی۔ گھسی، پٹی نشستیں تھیں۔ جو نشست مجھے ملی وہ باقاعدہ اندر کی جانب دھنسی ہوئی تھی۔ سمجھیں کہ سیٹ کے درمیان ایک چھوٹا سا گڑھا تھا۔ دوسری ائرلائنوں سے سفر کریں تو ہمیں in flight انٹرٹینمنٹ میں مختلف ممالک کی فلمیں دیکھنے کی سہولت ملتی ہے۔ یہاں ایسا کوئی اہتمام نہیں تھا۔ بریانی کے چند لقمے لے کر کھانا واپس رکھ دیا۔ خیال آیا کہ کسی ڈھابے کی بریانی بھی ذائقے میں اس سے بہتر ہوتی ہے۔

جب بھی پی آئی اے میں سفر کریں تو خیال آتا ہے کہ ایک زمانہ تھا کہ سارے ایشیا میں ہماری قومی ائرلائن کا ڈنکا بجتا تھا۔ متحدہ عرب امارات نے پی آئی اے سے دو طیارے لیز پر لے کر ایمریٹس ائرلائن کا آغاز کیا تھا۔ ہمارے پائلٹوں اور انجینئروں نے ایمریٹس کے پائلٹوں اور تکنیکی عملے کی تربیت کی اور انہیں تکنیکی معاونت فراہم کی تھی۔ آج ایمریٹس ائرلائن آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ عمدہ معیار اور سروس کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔ جبکہ پی آئی اے قرضے اور خسارے کی دلدل میں دھنسی ہوئی ہے۔ افسوس کہ اس کی نجکاری کی بات چلی تو کسی نے اس کی خریداری میں دلچسپی تک ظاہر نہیں کی۔ اس سارے قصے میں پی آئی اے کے پائلٹوں کی تعریف ہونی چاہیے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ یہ نہایت عمدگی سے جہاز کو ٹیک آف اور لینڈ کرتے ہیں۔ وقت پر (اور اکثر و بیشتر وقت سے پہلے ) مسافروں کو منزل مقصود پر پہنچا دیتے ہیں۔

باکو جاتے ہوئے ہمارے جہاز کو موسم کی خرابی کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاز نے اس قدر تیز جھٹکے لئے کہ مجھے یقین ہو گیا کہ یہ میرا آخری سفر ہے۔ عادت میری یہ ہے کہ سفر پر جانے سے پہلے میں احتیاطاً اپنی چیک بک کے کچھ خالی صفحات پر دستخط کر کے رکھ آتی ہوں۔ ایک پرچے پر بینک اکاؤنٹ کی کچھ تفصیلات وغیرہ بھی درج کر آتی ہوں۔ خیال آتا ہے کہ زندگی موت کی کوئی خبر نہیں۔ اس مرتبہ بھی میں نے ایسا ہی کیا تھا۔ تاہم پرواز کی ناہمواری کے دوران میرا ذہن کسی اور طرف گیا ہی نہیں۔ مجھے صرف اپنے بچوں کا خیال آیا۔ بہرحال کچھ دیر بعد فلائیٹ ہموار ہوئی تو میں نے جان بچنے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔

باکو ائرپورٹ پر اتری تو مجھے پہلا خیال یہ آیا کہ اپنی ماں کو اپنے پہنچنے کی اطلاع دے دوں۔ برسوں سے میرا یہی معمول رہا ہے۔ پھر اچانک مجھے یاد آیا کہ میری ماں کو تو اس دنیا سے رخصت ہوئے چار سال ہو گئے ہیں۔ اس خیال کے آتے ہی مجھ پر اداسی طاری ہو گئی۔ باکو پہنچنے کی ساری خوشی ایک دم سے غائب ہو گئی۔ اس کے بعد نیم دلی سے میں نے گھر پر اپنے پہنچنے کی اطلاع دی اور امیگریشن ایریا کی طرف بڑھی۔ امیگریشن کاؤنٹروں پر مسافروں کی طویل قطاریں لگی تھیں۔ میں بھی ایک قطار میں لگ کر کھڑی ہو گئی۔ اندازہ میرا یہ تھا کہ میری باری آنے میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت لگے گا۔ اتنے میں آذربائیجان میں پاکستانی سفارت خانے کے قونصلر اتاشی عمر فاروق صاحب کی کال موصول ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ہوائی اڈے پر پہنچ چکے تھے۔ تھوڑی دیر بعد وہ امیگریشن ایریا میں موجود تھے۔ وہ مجھے وی آئی پی کاؤنٹر پر لے گئے۔ خاتون امیگریشن افسر نے میرے دورے سے متعلق دو تین سوالات کیے اور پاسپورٹ پر ٹھپا لگا دیا۔ ہم سامان لے کر باکو کے حیدر علییو انٹرنیشنل ائرپورٹ سے باہر آئے تو باکو شہر اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ سامنے تھا۔ موسم بے حد حسین تھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ ہم گاڑی میں بیٹھے اور ہوٹل کی سمت روانہ ہو گئے۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS