‎حسینی برہمن، ضمیر کے قافلے کا ایک خاموش مسافر


‎رات کا پچھلا پہر تھا آسمان پر چاند ہچکیاں لے رہا تھا اور زمین پر انسانیت بے حس سو رہی تھی لیکن وہ جاگ رہا تھا۔ وہ کون تھا؟ وہ تھا وقت کا مورخ، ایک سچ کا متلاشی، جو تاریخ کے اوراق سے گرد جھاڑنے بیٹھا تھا۔ اس نے بڑی بڑی سلطنتوں کو گرتے دیکھا تھا، بڑے بڑے ناموں کو مٹتے پایا تھا مگر ایک نام تھا، جو وقت کی خاک سے چمکتا رہا۔ حسینؑ۔ ‎ ”یہ کیسے ممکن ہے؟“ اُس نے سوچا۔ ”ایک شخص، جو صحرائے کربلا میں پیاسا مارا گیا، وہ آج بھی ہر مظلوم کی زبان پر کیوں زندہ ہے؟“ وہ اپنے کمرے سے نکلا، ہاتھ میں فقط ایک چراغ، اور قدم ایک ایسے قافلے کی تلاش میں اٹھا دیے جس کا نہ کوئی مذہب تھا، نہ کوئی قوم، نہ کوئی پرچم۔ فقط ایک نعرہ تھا: ”لبیک یا حسین!“

‎راستے میں اسے ایک یہودی ربی ملا، جو آہستہ سے کہہ رہا تھا: ”ظلم کے خلاف اٹھنے والے ہر قدم کا آغاز کربلا سے ہوتا ہے۔“ ذرا آگے بڑھا ایک پارسی نظر آیا جو کہہ رہا تھا: ”حسین انسانیت کا تاج ہے“ ۔ اور پھر اس نے ایک سکھ دیکھا، جو گردوارے کے کونے میں بیٹھا ”شہیداں دی قربانی“ پر رو رہا تھا۔ وہ اور آگے بڑھ گیا سر سبز کھیتوں کے درمیان وقت کی طویل پگڈنڈی پر سفر کرتے ہوئے ایک بستی میں داخل ہو گیا جہاں ایک ہندو عورت ماتھے پر تلک سجائے اپنے معصوم بچے کو بتا رہی تھی کہ ”کربلا ماں کی ایسی آغوش جیسا مقام ہے، جو اپنے بیٹے کو بھی عدل کی خاطر قربان کر دے۔ بیٹا ہم ہندو ہیں لیکن ہم حسینی برہمن ہیں یہ سن کر مورخ کا دل لرز اٹھا۔“ تو کیا حسینؑ فقط ایک مذہب کا نام نہیں؟

‎کیا وہ بغاوت ہے؟ بیداری ہے؟ ضمیر کا سفر ہے؟

‎ان ہی سوچوں میں غلطاں و پیچاں وقت کا مورخ 1993 کے بمبئی میں جا پہنچتا ہے، وہ دیکھتا ہے بمبئی فرقہ ورانہ دنگوں کے باعث لہو سے تر ہے، اچانک اس کو نظر آتا ہے بیتے ہوئے زمانے میں سرسبز کھیتوں کے درمیان واقع بستی میں اپنی ماں کے ساتھ بیٹھا ہوا چھوٹا سا معصوم بچہ لیکن آج وہ ایک گبھرو جوان ہے وہ سنیل دت ہے وہ مسجد اور مندر کے بیچ امن کا چراغ لے کر نکلا ہے وہی بھارتی اداکار، جنہیں دنیا ایک ہیرو سمجھتی ہے، لیکن وہ خود کو حسینی برہمن کہلوانا باعث فخر سمجھتے تھے۔ ”حسینی برہمن“ کا تصور ایک ایسے طبقے سے جڑا ہے جو بنیادی طور پر ہندو برہمن تھے، مگر امام حسینؑ کی عظمت سے اس حد تک متاثر ہوئے کہ ان کی نسلوں میں آج تک عزاداری، تعزیت، اور غمِ حسینؑ کی روایات موجود ہیں۔ برصغیر کے بعض علاقوں، خصوصاً پنجاب، دہلی، لکھنؤ اور کشمیر میں یہ روایات نسل در نسل منتقل ہوئیں۔

‎کئی برہمن خاندان آج بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے اجداد نے کربلا میں امام حسینؑ کے ساتھ شرکت کی تھی، اور کچھ ایسی تاریخی روایات بھی موجود ہیں جن میں ایک ”راجہ تادھیرناتھ“ یا ”پندیٹھ روشن لعل“ جیسے کرداروں کا ذکر ملتا ہے، جو امام حسینؑ کے لشکر میں شامل ہوئے۔ ان کے لبوں پر پھر وہی صدا تھی: ”میرے حسینؑ، صرف کربلا کے نہیں، ہر دل کے وارث ہیں۔“

سنیل دت، جن کا اصل نام بلراج دت تھا، 6 جون 1929 کو خوردی، ضلع جہلم (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک پنجابی برہمن خاندان سے تھا۔ ان کی والدہ ہمیشہ یہ کہتی تھیں : ”ہم برہمن تو ہیں، لیکن ہمارا دل اہل بیتؑ کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ امام حسینؑ کے غم میں ہمارے آبا بھی شریک تھے۔“

‎ان کے خاندان میں محرم کے ایام میں چراغ جلانے، نیاز تقسیم کرنے اور خاموشی سے تعزیت کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ روایت انھوں نے ممبئی کی فلمی چکا چوند میں بھی نہ چھوڑی۔ سنیل دت نے کبھی علانیہ عزاداری نہیں کی، لیکن ان کے قریبی جاننے والوں کا کہنا ہے کہ وہ ہر سال محرم کی دسویں تاریخ کو اپنے کمرے میں تنہا چراغ جلا کر بیٹھتے، کچھ دیر خاموش رہتے، اور پھر قرآن یا دعائے کربلا سے منتخب سطور پڑھتے۔ فلموں میں وہ بہادر ہیرو بنتے رہے، مگر اصل زندگی میں وہ ایک ایسے عاشقِ حسینؑ تھے، جنھوں نے بغیر مذہب بدلے، حسینؑ کی راہ کو دل سے چنا۔ ”میں نے امام حسین سے حق، قربانی اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا سبق سیکھا ہے۔“

‎وقت کے مورخ نے جب ہر قوم، ہر مذہب، ہر عقیدے کو حسینؑ کا نام لیتے دیکھا، تو اسے یقین ہو گیا کہ کربلا صرف ایک واقعہ نہیں، ایک اصول ہے اور سنیل دت اس اصول کے خاموش مسافر تھے۔

Facebook Comments HS