کیا عمران خان کو پبلک انٹرسٹ میں ملک پہ مسلط کیا گیا تھا


پبلک انٹرسٹ کی بات کچھ دن پہلے پاک فوج کی ایک ہونہار بچی کیپٹن ایمان درانی نے کالج اور یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کو لیکچر دیتے ہوئے کہی۔ اس نے کہا کہ ”پاکستان فوج میں خود احتسابی کا عمل بہت سخت ہے، فوج جو کرتی ہے ضروری نہیں کہ سب صحیح کرتی ہو مگر جو بھی کرتی ہے وہ پبلک انٹرسٹ یعنی عوامی مفاد میں کرتی ہے۔“

اس وڈیو کے وائرل ہوتے ہی حسب معمول تحریک انصاف کا سوشل میڈیا برگیڈ پاکستان فوج کی کیپٹن کے الفاظ ”پبلک انٹرسٹ“ کو گانٹھ باندھ کر پاک فوج پہ ایک بار پھر حملہ آور ہو گئی جس طرح عمران خان اور ان کے حواری ماضی میں پاک فوج اور اداروں پہ حملہ آور ہوتے رہے ہیں خاص کر اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کو یقینی دیکھ کر حواس کھو بیٹھے تھے اور پھر پاک فوج کے وہ لتے لیے کہ شاید ہی ملکی تاریخ میں کبھی کسی سیاسی جماعت نے اس برہنگی، سفاکیت کے ساتھ اپنے اس ادارے کو آڑے ہاتھوں لیا ہو جس نے ان کے اقتدار کی راہوں سے کنکر اٹھائے ہوں۔

عمران خان کی ذہنی حالت اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے اب تک بہتر نہیں ہو سکی ہے، وہ مکافات عمل کا شکار ہوئے، ان کے بے جان سیاسی گھوڑے میں جان ڈالنے کا کام بھی اسی پاک فوج کے چند ”مردم شناس“ مجاہدوں نے 2011 میں شروع کیا۔ اس کام کا بیڑا اس وقت کے آئی ایس آئی چیف جنرل ظہیر الاسلام عباسی، جنرل شجاع پاشا نے اٹھایا اور پھر ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے چیدہ چیدہ سیاسی زعماء کو عوامی مفاد میں اپنی جماعتوں سے لاتعلقی اختیار کروا کر تحریک انصاف میں شمولیت کروائی گئی۔

اسی طرح 2014 میں پبلک انٹرسٹ میں خان صاحب کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کی ترغیب دی گئی اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ جو طوفان بدتمیزی اس دھرنے کے 126 دنوں میں برپا ہوا اس نے ملک کے اسلامی سیاسی معاشرے کی چُولیں ہلا دیں، انسانیت کو شرمسار کرنے والے ایسے ایسے واقعات ان 126 دنوں میں رونما ہوئے جن کی نظیر اس سے پہلے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔

عمران خان صاحب کو جب پبلک انٹرسٹ میں 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں آر ٹی ایس معطل کر کے اقتدار پہ بٹھایا گیا اس وقت خان صاحب نے پبلک انٹرسٹ میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو قوم کے باپ کا خطاب دیا، پبلک انٹرسٹ میں وہ فیض کے فیض سے فیضیاب ہوتے رہے۔ پبلک انٹرسٹ میں ہی ادارے اور مہاتما وزیراعظم ایک پیج پہ نظر آئے، اور پھر وزیراعظم صاحب کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہو گئی۔ خود خان صاحب نے عوامی اجتماع میں ارشاد فرمایا کہ اگر اپوزیشن میں ہمت ہے تو میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائے اور پھر وہیں سے پبلک انٹرسٹ کم ہونا شروع ہوا جو بالآخر نیوٹرلٹی پہ منتہج ہوا جس کے بعد خان صاحب نے عوامی اجتماع میں ہی فرمایا کہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے، انہوں نے پبلک انٹرسٹ میں ہی قوم کے باپ کو میر صادق و میر جعفر سے تشبیہ دی۔

عمران خان صاحب کو اقتدار کی کرسی پہ بٹھایا گیا اس وقت بھی پبلک انٹرسٹ تھا اور جب اتارا گیا ایک آئینی طریقے سے اس وقت بھی پبلک انٹرسٹ ہی تھا۔ پبلک انٹرسٹ میں ہی جب میاں نواز شریف صاحب کو اقتدار سے بے دخل کیا گیا تب انہوں نے اقتدار سے نکل کر پبلک انٹرسٹ میں نعرہ لگایا ”مجھے کیوں نکالا“ اور پھر خان صاحب کو جب اسی پبلک انٹرسٹ میں اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا تو وہ ملکی اداروں پہ حملہ آور ہو گئے، اس وقت بھی انہیں فیض کی مکمل فیض یابی حاصل تھی، اسی وقت انہوں نے ریاست پہ 9 مئی جیسا حملہ کیا، ملکی اداروں، شہداء کی یادگاروں، سیاسی، شرعی اور انسانی اقدار کو پامال کیا، یہ سب بھی پبلک انٹرسٹ ہی تھا شاید۔

خان صاحب اور ان کی جماعت اقتدار سے بے دخلی اور پھر انتخابات میں ناکامی کے بعد سے پاکستان آرمی، عدلیہ اور دیگر اداروں پہ چاروں طرف سے حملہ آور ہے۔ بدمست اخلاقیات سے عاری کارکنوں، ملک سے باہر اور کچھ ملک کے اندر بیٹھے شرپسند، سوشل و الیکٹرانک میڈیا پہ ملکی سلامتی کو داؤ پہ لگانے کی مہم بھی شاید پبلک انٹرسٹ میں ہی چلا رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک سے لابسٹ بھاری رقوم کے عیوض بیرون ممالک سے خان صاحب کی رہائی کی مہم چلا رہے ہیں، شاید وہ بھی پبلک انٹرسٹ میں ہے۔

عمران خان مسلسل نجانے کس پبلک انٹرسٹ میں اپنے وطن کے سیکیورٹی اداروں خصوصاً فوج کے خلاف زہریلی، وطن دشمنی کے مترادف مہم چلا رہے ہیں، امریکہ اور برطانیہ میں خودساختہ جلاوطنی اختیار کیے ان کے رہنما اور ان کی سوچ اور غیر سیاسی بیانیے کے پیروکار یوٹیوبرز پاکستان آرمی کے چیف اور فوج کو نیچا دکھانے اور انہیں ملکی آئین اور سیاسی سسٹم پہ قابض ہونے، اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کر کے ان پہ عملدرآمد کرانے کی قوت کے طور پر پیش کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔

پاکستان انڈیا کی حالیہ جنگ کے دوران پہلے اپنی فوج پہ کمزوری اور کچھ نہ کر سکنے کی طعنہ زنی کرتے رہے پھر انڈین بیانیے کو من و عن پیش کر کے پاکستان کی فوج کو ایک طالع آزما قوت کے طور پر پیش کرتے رہے اور یہ کون سا پبلک انٹرسٹ تھا اس کی وضاحت دینے کے لیے کسی انصافی کے پاس کوئی دلیل کوئی جواز نہیں ہے۔

ایران اسرائیل جنگ کے دوران پاکستانی ریاست اور فوج کا جو کردار رہا اس کی تعریف خود ایران سمیت ہمارے دشمنوں نے بھی کی سوائے اسرائیل اور اس کے حواریوں کے۔ اس دورے کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں، آرمی چیف کے خلاف انتہائی گھٹیا احتجاجی مظاہرے اسی مہم کا حصہ تھا جب فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکی صدر کی دعوت پہ وہ پروٹوکول دیا گیا جو بہت کم لوگوں کو دیا جاتا ہے۔

اس وقت عمران خان صاحب، ان کی جماعت اور سیاست مکافات عمل کا شکار ہے۔ جس پبلک انٹرسٹ میں انہیں اقتدار کی باگیں سونپی گئی تھیں اسی پبلک انٹرسٹ میں انہیں اقتدار سے بے دخل بھی ہونا پڑا۔ خان کی ہٹ دھرمی، سیاسی ناسمجھی، ذاتی اقتدار کی ہوس اور انا انہیں اقتداری ایوانوں سے دور کر چکی ہے۔ ان کی اور ان کی جماعت کے بے لگام شرپسند ٹولے کی نہ کوئی سیاسی سمت ہے نہ ہی کوئی بیانیہ جس پہ عمل پیرا ہو کر وہ پاکستان کے معاشرے کی بہتری، سیاسی جمہوری سسٹم کی مضبوطی اور ملکی معیشت کی بحالی اور ترقی کا کوئی ایجنڈا پیش کر سکیں۔

عمران خان اس وقت عملاً اور حقیقتاً پبلک انٹرسٹ میں ہی جیل میں ہیں، ان کی جماعت کے وہ لوگ جنہوں نے پبلک انٹرسٹ پہ اداروں پہ حملے کیے آج اپنا کیا بھگت رہے ہیں اور یہ بھی اس وقت کا سب سے اہم پبلک انٹرسٹ ہی ہو گا کہ عمران خان اور ان کی شرپسند سیاست کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔

Facebook Comments HS