دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ہم سب کو اپنی پیشہ ورانہ تربیت کے دوران اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ کام کے دوران پروفیشنل رویہ اپناتے ہوئے، جذباتیت سے احتراز کرنا چاہیے۔ یہ بات بہت حد تک درست بھی ہے کیونکہ جذبات درست اور بروقت فیصلہ لینے کی راہ میں مانع ہو سکتے ہیں۔ لیکن کیا ہمیشہ ایسا ہو پاتا ہے؟
میرا تجربہ کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ ہم کسی بھی پیشہ سے تعلق رکھتے ہوں، ہم نہ صرف اپنے گرد لوگوں کے جذبات سے متاثر ہوتے ہیں بلکہ ہمارے اپنے خیالات اور جذباتی کیفیات بھی ہمارے کام پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
میں بسا اوقات ایسی صورتحال کا سامنا کرتی ہوں جہاں پیشہ ورانہ ذمہ داری اور جذبات کو علیحدہ رکھنا ناممکنات میں سے لگتا ہے۔
جب ایک شادی شدہ بہن اس بار پر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے کے اس کے والدین کے گزرنے کے بعد سسرال والے اس کے خصوصی بھائی کو رکھنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کو سمجھ نہیں آ رہا کہ اپنے لاڈلے بھائی کو کہاں رکھے۔ یا پھر ایک عمر رسیدہ والدہ اپنے خصوصی بیٹے کے لیے یہ دعا مانگنے پر مجبور ہو کہ اللہ میرے اس دنیا سے جانے سے پہلے میرے بیٹے کو اٹھا لے، ورنہ میں تو آرام سے مر بھی نہیں سکوں گی۔ ایسے لمحات میں میرے اندر کی ماں، بہن اور بیٹی کیا محسوس کرتی ہے یہ بتانا بھی ممکن نہیں۔
جب آپ سرگودھا کے ایک گاؤں میں بیٹھے ہوں اور ایک مزدوری کرنے والی ماں بتائے کہ وہ اپنی شدید معذور بیٹی کو اللہ کے حوالے گھر میں اکیلا چھوڑ کر زمینوں پر کام کرنے چلی جاتی ہے کہ سب بچوں کا اکیلے پیٹ پال سکے۔ ایک جھگی میں رہنے والی خصوصی بچی کو آپ اس حالت میں پائیں کہ اس کے تمام جوڑ جڑ چکے ہوں اور وہ ہل بھی نہ پائے، صرف اس وجہ سے کہ ماں کو بنیادی آگاہی بھی نہیں تھی کہ اس بچی کا خیال کیسے کرنا ہے۔ اور فیصل آباد جیسے بڑے شہر سے صرف چند کلومیٹر دور ایک ماں کے دو بیٹے نابینا ہوں اور اس کو کسی نے یہ نہ بتایا ہو کہ آنکھوں میں پیدائشی موتیے کا کافی کیسز میں علاج ممکن ہوتا ہے۔
یہ تمام لمحے نہ صرف ان خاندانوں کے لیے مشکل ہوتے ہیں جو ان کا سامنا کر رہے ہوں، بلکہ ان پروفیشنلز کی روح کو بھی زخمی کر دیتے ہیں جو ان فیملیز کے ساتھ کسی طور منسلک ہو جائیں۔
میرا مقصد پڑھنے والوں کو ڈپریشن کا شکار کرنا نہیں بلکہ یہ اندازہ کروانا ہے کہ خصوصی بچوں اور ان کے والدین کو کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارا بحیثیت معاشرہ یہ فرض ہے کہ ہاتھ بڑھا کر ان کو یہ احساس دلائیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔
میرا تعلق ایک ایسے فلاحی ادارے کے ساتھ ہے جو گزشتہ چالیس سال سے خصوصی افراد کے لیے کام کر رہا ہے۔ ابھی ابھی آپ نے جو واقعات اوپر پڑھے ہیں وہ سب میرے ذاتی تجربات ہیں۔ ان میں سے کچھ بچوں کے لیے تو ہمارا ادارہ رائزنگ سن ایک امید کی کرن بنا۔ اس شادی شدہ بہن اور عمررسیدہ ماں کے بچوں کو ہم نے ایک محفوظ گھر مہیا کر دیا اپنے گوشہ عافیت کی شکل میں۔ فیصل آباد کے گاؤں میں رہنے والی ماں کے بچوں کو درست جگہ مفت علاج کو سہولیات فراہم کرنے میں بھی ہم کامیاب رہے۔ کوٹ رادھا کشن میں ایک جھگی میں رہنے والی اس بچی کی ماں کو بنیادی خیال کی تربیت کے ساتھ ساتھ اس بچی کی صحت کے بارے بھی مدد کر پائے۔
لیکن سرگودھا کے گاؤں میں موجود تنہا ماں جب مزدوری پر جاتی ہے تو اس کی بچی ابھی بھی اکیلی ہوتی ہے۔ اس کو انتظار ہے کہ اس کے محلہ دار اور رشتہ دار اس مشکل وقت میں اس کی بیٹی کا خیال رکھنے میں اس کی مدد کریں۔
ہم سب کو پھر سے ایک ایسے جسم کی مانند متحد ہونے کی ضرورت ہے کہ جس میں ایک عضو کو تکلیف ہو تو تمام جسم تکلیف کا شکار ہو جاتا ہے۔ خصوصی بچے اللہ کی مصوری کچھ رنگ ہیں۔ ان کے والدین کے لیے آسانیاں پیدا کر دیا کریں تاکہ یہ دینا ایسے ہی رنگین اور خوبصورت رہے۔

