گملا: جو گرے ہی نہیں وہ ٹوٹے کیسے؟
فجر کی نماز کے بعد لان میں تھوڑی چہل قدمی کے لئے گیا کہ اس دوران ایک صاحب نے لان میں آ کر پانی کی پھوہار سے لان کی ترو تازگی میں اضافہ کی خوبصورت کوشش شروع کی۔ اس کاوش سے ہریالی کی چمک دوبالا ہوئی۔ ہواؤں کی ٹھنڈک مشام جاں کو معطر کرتی اور روح کی تسکین کا باعث بنتی چلی گئی۔ کچھ دیر چہل قدمی کے بعد قریب ہی موجود ٹھنڈے پانی کے کولر سے ایک گلاس پانی پی کر واپس لان میں آ کر بینچ پہ بیٹھا ہی تھا کہ نظروں کے سامنے پڑا ہوا ایک گملا، جس مٹی پہ رکھا تھا نرم تھی تو ذرا سا پانی ملتے ہی وہ گارے میں بدلی اور گملا اپنے پودے کا بوجھ نہ سہار سکا، قدم اکھڑے اور پودے سمیت گملا زمین پہ آتا بنا۔
گملے کو اٹھا کر سیدھا کیا تو ایک پہلو پہ توجہ مرکوز ہوئی کہ گملا جس جگہ پہ رکھا تھا اس کے ایک جانب دیوار سی تھی اور ایک سمت کچھ دوسرے پودے موجود تھے اور ایک سمت سے جگہ زیادہ خالی تھی اور یہ خالی سمت وہی تھی جدھر گملا گرا۔
سیدھی اور سادہ سی بات یہی کہ گملے میں موجود پودے کو جو سمت خالی نظر آئی وہ ادھر ہی بڑھ رہا تھا، نتیجتاً اس جانب پودے کا وزن بڑھ گیا اور پھر بنیاد میں ذرا سا پانی پہنچا تو پودا گملے سمیت فٹ سے نیچے گر پڑا۔ حالانکہ یہی پانی اس پودے کی زندگی تھا، اسی پانی کے ملنے سے وہ پھل پھول رہا تھا مگر اسی پانی کے سبب گر بھی گیا۔
ہم توجہ کریں تو ہمیں یہ معاملہ اپنی زندگی میں بھی نظر آئے گا۔ اس عمل کی کئی ساری جہات ہمیں مل سکتی ہیں اور کہیں ناں کہیں ہم میں سے ہر کسی کو یہ معاملہ یقیناً پیش آ ہی جاتا ہے مثلاً ہمارے ہاں اکیڈمیوں اور پرائیویٹ سکولوں کالجوں کا تعلیمی نظام میں بہت رجحان ہے۔ اب ان پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ہوتا یہ ہے کہ اساتذہ کی سلیکشن کا زیادہ مدار سٹوڈنٹ پہ ہوتا ہے۔ اساتذہ آتے ہیں ڈیمو اور لیکچر وغیرہ دیتے ہیں۔ جس استاد سے سٹوڈنٹ زیادہ مطمئن ہوں اسے یہ تعلیمی و تعمیری فریضہ مل جاتا ہے اور سہ طرفہ تماشائے روزگار آگے ہی آگے رواں دواں ہو جاتا ہے۔
اب کچھ ہی عرصہ میں نو منتخب استادِ محترم کی ادارے والوں کے ساتھ معاملات میں بدمزگی پیدا ہو جاتی ہے یا دیگر اساتذہ کے ساتھ اس کے تعلقات میں اعتدال اور توازن نہیں رہتا کہ ظاہر ہے انسان کی طبیعت اور مزاج دوسروں سے انفرادیت کے سبب میل کھائے یہ ”ضروری تو نہیں“
بہرحال اس استاد کا سٹوڈنٹ کے ساتھ بونڈ/ تعلق یا انڈرسٹینڈنگ بہترین ہو اور انتظامیہ اس استاد کو نکال باہر کرے تو اب ایک نئے استاد کی آمد ضروری ہوتی ہے کہ تعلیمی عمل ( کاروبار ) کے رکنے سے ظاہر ہے نقصان ہی نقصان ہے۔ اب جب نئے اساتذہ ڈیمو کے لئے بلائے جاتے ہیں تو بچوں کی معصومیت کہ وہ نئے آنے والے اساتذہ کے لئے بساطِ ماحول تنگ کر چھوڑتے ہیں کہ نہ صاحب! آپ میں وہ چمک اور وہ چمتکار کہاں، جو ہمارے سابقہ ”۔جادو کی چھڑی والے ۔“ ماہرِ تعلیم، استاد گرامی کی شخصیت کا خاصہ تھا۔
یہی دراصل سٹوڈنٹس کی شخصیت میں وہ ایک دیوار اور رکاوٹ ہے کہ ان کی شخصیت میں سابقہ استاد کی جانب رغبت گویا ایک خالی سمت ہوتی، جس جانب وہ سہولت اور خوش دلی سے بہت ہی زیادہ بڑھے چلے جاتے ہیں مگر نئے آنے والے اساتذہ کی جانب ۔جادوئی دیوار۔ کی ایک رکاوٹ سی کھڑی کر لیتے ہیں کہ ناں بھئی! ہم اس سمت ایک قدم نہیں بڑھائیں گے!
اب ایسے میں سمجھداری اسی میں ہے کہ گملے کے اور دیوار کے درمیان تھوڑا فاصلہ بنا دیا جائے کہ وہ اس سمت جگہ کو دیکھے اور سپیس ملے تو اس جانب بڑھے اور پھلے پھولے، لیکن یہ کام ہے تاخیر سے سر انجام پانے والا۔ ۔زیادہ سہل شاید یہ ہو کہ گملے کے پیروں کا دیوار سے فاصلہ مناسب درجے پہ بڑھا دیں اور اس کے سر کو پکڑ کر دیوار کے ساتھ ٹکا دیں اور ایسے قرینے سے جمائیں کہ وہ ہل جل نہ سکے اور اس کی گروتھ بھی جاری رہے۔
۔ ظاہر ہے گملے کے پودے ذرا بڑھتے ہیں تو پھر جگہ بدل کر کہیں کھلی فضا میں ”گاڑ“ دیے جاتے ہیں کہ بھئی اب یہاں اپنی تعمیر بھی مکمل کرو اور جب تعمیر مکمل ہو جائے تو آگے اپنی صلاحیتیں بھی یہیں پہ ہی پھیلاتے رہو، سایہ کرتے رہو، پھل دیتے رہو۔
ایک صورت یہ بھی ہے کہ گملا اگر زیادہ مدت کے لئے اسی ایک ہی جگہ پہ رکھنا ہے یا پودا زیادہ اونچا نکلنے والا نہیں ہے تو جس جانب اس کے پھیلاؤ کے سبب وہ گرا ہے اس سمت سے اسے کانٹ چھانٹ کے وزن کو ہلکا کر دیا جائے کہ توازن نہ بگڑے۔
خیر اسی طرح کی کوئی ترکیب نئے آنے والے اساتذہ کے پاس موجود ہو کہ تجربہ سے، علم کی قوت سے، حکمت سے یا زبان کی مٹھاس سے سٹوڈنٹ کے سروں /دماغوں کو اپنے ساتھ ٹکا لے ( قائل کر لے ) ۔ حکمت سے، ہلکی پھلکی سرزنش، تراش خراش سے ان کے توازن کو قائم کر کے ان کی تعمیر میں کردار ادا کرنے کی؛ زبان، ہاتھ دل و دماغ سے کوشش کرے تو اس نئے آنے والے استاد کی تجربہ کار، باوقار اور پر رعب شخصیت ۔پرانے جادو کا توڑ۔ ثابت ہو سکتی ہے۔ بہرحال یہ مرحلہ نئے اساتذہ کے لئے بھی کسی امتحان سے کم نہیں ہوتا کہ سٹوڈنٹ ایسی مخلوق ہیں کہ بڑے بڑوں کی سٹی گم ہو جاتی ہے
سٹوڈنٹ کے معاملہ کی توضیح کے علاوہ کئی پہلوؤں سے انتظامیہ، یا وہاں کے دیگر اساتذہ جن کے ساتھ پرانے استاد کے معاملات استوار نہ رہ سکے، وہاں بھی شخصی کرداروں میں اسی طرح کی رکاوٹیں، دیواریں، انا پرستی وغیرہ تعلقات کی عمارت گرنے کی وجوہ نظر آئیں گی اور بعض سمجھ دار/ضرورت مند استاد گملے کو ایستادہ کر دینے والی حکمت عملی سے کام لے کر غمِ دوراں و غم روزگار پہ مرہم دھرنے کی سعی کرتے ہیں اور بعض ایسا نہیں کر پاتے۔ اسی طرح ۔انتظامیہ بھی حکمت و ضرورت کے تحت کہیں کہیں، کبھی کبھی گملا سیدھا کر ہی لیتی ہے ۔ دیگر اساتذہ بھی کبھی کبھار پاؤں دور کر لیتے ہیں اور دماغوں کو، سروں کو چھاتی سے لگا کر تعلقات کے گملے کو سہارا دے لیتے ہیں۔
یہ تو ہوئی ایک تعلیمی عمل کی جہت اس کے علاوہ بھی ۔انسانی زندگی میں قدم قدم پہ ہمیں گملے گرتے پڑتے نظر آتے رہتے ہیں۔ ۔
۔محبت کا گملا بھی عجیب گملا ہے، اس میں بھی ایک فرد کو کسی دوسرے ایک فرد سے معاملہ پیش آ ہی جاتا ہے۔ ان دونوں کی سنگت چلتی رہتی ہے۔ کبھی کبھار یہ گملا بھی گر ہی پڑتا ہے بلکہ یہ گملا تو اکثر ایسا گرتا ہے کہ چکنا چور ہو جاتا ہے دو بارا سیدھا کرنے کو بچتا ہی نہیں۔
یہ بھی اس گملے کی نازکی، شدت، شک، طمع و حرص، بے صبری اور خدا جانے کیسی کیسی وجوہات کے باعث ہوتا ہے کہ توازن برقرار نہیں رہ پاتا۔ ”جہاں جتنی نزاکت زیادہ ہوتی ہے یا جتنی قوت و شدت زیادہ ہوتی ہے وہ چیز ذرا سی ٹھیس سے بھی ایسی ٹوٹتی ہے کہ بس“ ۔
۔اعتدال اور توازن بڑی ہی عظیم قوتیں ہیں ۔ جسے یہ حاصل ہو گئیں اس کا ٹوٹنا محال ہے کہ ۔جو گرے ہی نہیں وہ ٹوٹے کیسے؟ ۔
اب جس ایک شخص کو کسی دوسرے ایک شخص سے معاملاتِ وارفتگی پیدا ہوئے، اس کے ساتھ بھی معاملہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اسی سمت ساری خالی سپیس/جگہ چاہتا/ پاتا ہے اور دوسری ہر سمت سے از خود ایسی ایسی رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے کہ اسی جذبۂ محبت کی پھوہار اس گملا کے نیچے موجود مٹی کو ذرا سا چھو جائے تو اس گملا کا قصہ بھی پاک ہو جاتا ہے۔ بوجھ سہارنا دشوار ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر، پودے کے گملے کو کھڑا کر لینے والے ؛ گلدستۂ محبت کے گملے کو ایستادہ کر کے قیام و دوام کیوں نہیں دے پاتے؟
اس گملا کے اطراف میں موجود کمیونٹی سے سوشل کنیکشن کیوں نہیں قائم کرتے، خودساختہ دیواریں اور رکاوٹیں کیوں قائم کر لیتے ہیں؟
پہلو میں موجود سراپا و پیکر جسے ہم رکاوٹ سمجھ لیتے ہیں اس کے حقوقِ ہمسائیگی کا خیال تک بھی کیوں نہیں کرتے؟
۔کیوں اس ”جذبۂ محبت“ کہ جس کی مہک پوری کائنات کے ذرے ذرے کے مشام جاں کو مسحور و معطر کر سکتی ہے ہم محدود کرنے پہ تل جاتے ہیں؟ ۔
ہم اطراف و اکناف کو کیوں اپنے کنبہ کا حصہ نہیں سمجھ پاتے؟
۔کتنے ہی چہرے ہمارے چہرے کی چمک سے روشن ہو سکتے ہیں مگر ہم کیوں مڑ کر (گھوم کر ) شش جہت، ایک نورانی اور دلنشیں مسکراہٹ پھیلانے سے قاصر ہو جاتے ہیں؟ ۔
یقیناً جب ہماری اپنی شخصیت کی تعمیر ادھوری ہو تو ہم کسی اور کی تعمیر کو اوج ثریا پہ کیسے پہنچا سکتے ہیں! ۔اول اپنی شخصی تعمیر کی تکمیل ہے، ایک استاد کہ جس کی اپنی شخصیت کامل ہو وہی اگلی نسل کے نونہالوں کی تعمیر کو کمال عطا کر سکتا ہے ۔
سو نظر اٹھائیں، دیکھیں کہ کہیں کوئی گملا گرنے والا تو نہیں، اور کیا آپ کوئی گملا سیدھا کر سکتے ہیں؟ کیا آپ کوئی گملا ٹوٹنے سے بچا سکتے ہیں؟ کیا آپ کوئی زندگی بچا سکتے ہیں؟ کیا آپ انسانیت بچا سکتے ہیں؟ کیا آپ کچھ مثبت کردار نبھا سکتے ہیں؟ نظر اٹھائیں، دیکھیں، اور کچھ اچھا کرتے جائیں۔ اس چمن میں پھولوں اور کلیوں کا تبسم تو قدرت کا تحفہ ہے ہی مگر جو آپ کے تبسم سے زندگی کے چہرے پہ رعنائی برسے گی اس حسن و خوبی کا مقابلہ ہی نہیں :
یہ بجا کلی نے کھل کر کیا گلستاں معطّر
اگر آپ مسکراتے تو کچھ اور بات ہوتی


