سوات کا سیلابی المیہ: نقصانات، اسباب اور تدارک کی راہیں

سوات، جو اپنی خوبصورتی، قدرتی مناظر اور سیاحتی مقامات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، ایک بار پھر قدرتی آفت کا شکار ہو چکا ہے۔ حالیہ سیلاب نے نہ صرف درجنوں قیمتی جانیں نگل لیں بلکہ سینکڑوں گھروں، دکانوں، پلوں اور سڑکوں کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ متاثرین کھلے آسمان تلے بے سروسامانی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اور ان کے چہروں پر مایوسی اور بے بسی کے سائے صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔
سوات کے حالیہ سیلاب میں گو کہ مالی نقصان تو زیادہ نہیں ہوا لیکن اس کا سب سے اندوہناک پہلو سیلاب کی نذر ہونے والی قیمتی جانیں ہیں جن میں سب سے بدقسمت خاندان کا تعلق پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ سے ہے۔ ڈسکہ سے سوات جانے والے افراد کی تعداد 35 تھی، ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈسکہ کا محمد محسن نامی شخص اپنی فیملی، اپنے ہم زلف اور اس کی فیملی اور دو دوستوں کی فیملیز اور دیگر افراد کو اپنے ہمراہ سوات لے کر گیا تھا۔
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق متاثرہ خاندان دریا کے کنارے بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا تاہم اسی دوران بارش کی وجہ سے دریا میں تیز بہاؤ ہوا اور ایک ہی خاندان کے 16 افراد بہہ گئے۔ ریسکیو ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ آٹھ بجے کے قریب ان لوگوں کے ڈوبنے کی اطلاع ملی۔ ان کے مطابق یہ لوگ مینگورہ بائی پاس پر دریا کے کنارے بیٹھے تھے، ان لوگوں کو پانی کے ریلے کا علم نہیں تھا۔ ریسکیو حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا اور تین افراد کو زندہ بچا لیا گیا جب کہ آٹھ افراد کی لاشیں مل گئیں، اس کے علاوہ دیگر افراد کی تلاش جاری ہے، ہلاک ہونے والے افراد میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ سوات کے ڈپٹی کمشنر نے میڈیا کو بتایا کہ دریا میں نہانے اور اس کے قریب جانے پر دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے لیکن اس کے باوجود سیاح وہاں جاتے ہیں۔
سوات کے میئر شاہد علی خان کے مطابق سیلابی ریلے کے باعث حادثے کا شکار ہونے والے افراد میں سیالکوٹ سے آئے خاندان کے گیارہ افراد شامل تھے جبکہ پانچ افراد کا تعلق مردان سے تھا۔ انھوں نے کہا کہ صرف 15 سے 20 منٹ کے اندر سیلاب کا تیز ریلا آیا اور ان کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں مل سکا۔ انھوں نے بتایا کہ سیالکوٹ سے آنے والا خاندان جمعہ کی صبح ہی سوات پہنچا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق سیلابی ریلے میں پھنس جانے والے افراد دریا میں ایک ٹیلے پر کھڑے ہو گئے اور اس بات کا انتظار کرنے لگے کہ انھیں جلد سے جلد ریسکیو کیا جا سکے یا دریا میں سیلاب کم ہو تو وہ یہاں سے نکل سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دریا کے ایک طرف ایک بند باندھا گیا تھا اور سیلابی ریلے سے وہ بند ٹوٹ گیا جس سے پانی کا ایک بڑا ریلا ان کی طرف آیا۔ انھوں نے اپنی جان بچانے کی کوشش تو کی لیکن چند ہی منٹ میں ان کے پیروں تلے سے سیلاب وہ ریت اور پتھر بہا کر لے گیا جس پر وہ کھڑے تھے اور بس یہ سب دریائے سوات کے تُند و تیز ریلے میں بہہ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ بہت تکلیف دہ منظر تھا۔
موقع پر موجود ایک اور عینی شاہد کے مطابق پانی کی سطح جوں جوں بلند ہو رہی تھی متاثرہ افراد کے لیے اس کا مقابلہ کرنا مُشکل ہوتا چلا جا رہا تھا، جس ٹیلے پر وہ سب کھڑے تھے وہاں پاؤں جمانے کی جگہ بھی کم ہو رہی تھی اور کوئی سہارا بھی نہیں تھا۔ ایک عینی شاہد نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ پنجاب سے آنے والے سیاح ناشتہ کر کے چائے پی رہے تھے اور بچیاں دریا کے پاس سیلفی لینے گئی تھیں، اس وقت دریا میں اتنا پانی نہیں تھا لیکن اچانک سے دریا میں بہت زیادہ پانی آ گیا تو بچے وہاں پھنس کر رہ گئے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریسکیو کو آگاہ کیا تو وہ کافی تاخیر سے پہنچے اور ریسکیو کی موجودگی میں بچے دریا میں ڈوبے اور وہ بچا نہیں سکے، اس بارے میں ریسکیو حکام سے رابطہ کیا گیا لیکن انھوں نے کہا کہ وہ ریسکیو آپریشن کرنے میں مصروف ہیں اور فی الوقت اس بارے میں بات نہیں کر سکتے۔ سوات کے ریسکیو 1122 کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر محمد سعد خان نے میڈیا کو بتایا کہ انھیں جیسے ہی اطلاع موصول ہوئی انھوں نے فوری طور پر ٹیمیں موقع پر روانہ کر دی تھیں اور سیلاب میں پھنسے تمام افراد کو بچانے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں نو بج کر 39 منٹ پر کال موصول ہوئی تھی جس پر وہ دس سے 12 منٹ میں وہاں پہنچ گئے تھے انھوں نے ابتدائی طور پر کوشش کی اور تین افراد کو بچا لیا بعد میں دیگر کو بچانے کے لیے دور سے کشی سیلاب میں ڈال دی تھی لیکن اتنے میں ان کے نیچے سے ریت پھسل گئی۔
سوات میں حالیہ بارشوں کے بعد سیلابی ریلے میں مختلف مقامات پر کوئی 70 کے لگ بھگ افراد پھنس گئے تھے جنھیں ریسکیو کرنے کے لیے امدادی ٹیموں کے 120 اہلکار موقع پر موجود تھے۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال فیضی کے مطابق سوات بائی پاس پر 19 افراد پانی میں بہہ گئے ہیں جبکہ تختے بند کے مقام پر 4 لاشیں نکالی گئی ہیں۔ امام ڈھیری کے مقام پر 22 افراد پانی میں پھنس گئے تھے اور ان تمام کو ریسکیو کر لیا گیا تھا۔ اسی طرح غلگئی کے مقام پر دو افراد پھنس گئے تھے جن میں سے ایک کو بچا لیا گیا جبکہ ایک کی لاش نکالی گئی ہے۔ مایار کے مقام پر سات افراد پھنس گئے تھے جن میں سے چار کو ریسکیو کر لیا گیا ہے باقی کی تلاش جاری ہے۔ گپنجی گرام کے مقام پر ایک شخص پانی میں پھنس گیا تھا جس کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ بمخیلہ مٹہ میں کوئی 20 سے 30 افراد پانی میں پھنس گئے تھے اور ان تمام کو ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ اوڈی گرام سے دو افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ محکمہ موسمیات کے الرٹ کے بعد صرف وٹس ایپ گروپس میں پیغامات بھیج دیے گئے تھے انتظامیہ کی جانب سے عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آئے یہیں وجہ ہے کہ اچانک سیلاب آنے سے 70 کے لگ بھگ افراد اس سیلاب میں پھنس گئے تھے۔ البتہ دیگر لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ اگرچہ بارش اور سیلاب ایک قدرتی عمل ہے، لیکن اس طرح کے ہولناک نتائج محض قدرتی نہیں ہوتے۔ غیر منصوبہ بند تعمیرات، دریا کے کنارے غیر قانونی آبادیاں، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، نکاسی آب کے ناقص انتظامات اور حکومتی اداروں کی مجرمانہ غفلت نے اس آفت کو تباہی میں بدل دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ادارے پیشگی حفاظتی اقدامات نہیں کر سکتے تھے؟ کیا مقامی انتظامیہ کو خطرے کے سائرن بجتے ہوئے سنائی نہیں دیے؟ بہتر ہو گا کہ آنے والے وقت میں ایسی تباہی سے بچنے کے لیے سنجیدہ، منظم اور پائیدار اقدامات کیے جائیں مثلاً جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سیلابی علاقوں کی نشاندہی اور بروقت وارننگ کا نظام قائم کیا جائے، دریاؤں کے کنارے غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ کر کے حکومت فوری طور پر ان قبضوں کو ختم کرے اور متبادل محفوظ مقامات پر آبادکاری کی جائے، درخت سیلاب کے پانی کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لہٰذا شجرکاری کو قومی مہم کے طور پر اپنانا چاہیے۔ اسی طرح ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں ریسکیو اور ریلیف ٹیموں کو جدید ساز و سامان اور تربیت دی جائے نیز عوامی شعور کی بیداری کے ذریعے بھی مقامی افراد کو آفات سے نمٹنے کے بنیادی اصولوں کی تربیت دی جا سکتی ہے۔ حرف آخر یہ کہ سوات جیسے خوبصورت خطے کی بقا، صرف سیاحتی ترقی سے نہیں، بلکہ ماحولیاتی تحفظ، منصوبہ بندی اور موثر گورننس سے وابستہ ہے۔ اگر ہم نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو قدرت ہمیں بار بار جھنجھوڑتی رہے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ”حادثہ ہو جانے کے بعد اقدامات“ کی بجائے ”حادثہ ہونے سے پہلے کی حکمت عملی“ اپنائیں تو اس میں سب کا بھلا ہو گا۔

