آرگیزم : خواتین ہیجان شہوت کیسے حاصل کر سکتی ہیں؟
بی بی سی اردو پر ایک اہم مضمون نظروں سے گزرا، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کسی خاتون کے سیکس پارٹنر کی جنسی کارکردگی سے زیادہ اہم یہ ہے کہ خاتون کا آرگیزم یا ہیجان شہوت کے متعلق رویہ یا رجحان کیسا ہے؟
مطلب اسے جنسی راحت کے متعلق کوئی آگہی ہے؟
کبھی نجی زندگی میں اس نے اپنے جسم کے اعضا کو ٹٹولنے کی کوشش کی؟
اب یہ تحقیق ایک ایسے سماج پر کیسے اپلائی کی جا سکتی ہے جہاں جنسی سوال کو بے شرمی کہا جاتا ہو اور کم عمری میں خواتین کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہو کہ خود کو چھونا ممنوع ہے؟
اور جنسی سوال پوچھنا تو درکنار سوچنا بھی گناہ ہے، زندگی کی حرارتوں اور احساسات کو گناہ و ثواب کے خانوں میں بانٹ دیا جاتا ہے۔
جنسی بھوک ایک فطری مظہر ہے اور تسکین اس عمل کا جزو لاینفک ہے، جنسی تسکین بنا کوئی شخص بھی نارمل نہیں رہ سکتا، روزمرہ کی زندگی میں کئی طرح کے ذہنی و جسمانی مسائل جنم لینے لگتے ہیں، اب فطرت کا یہ منہ زور جذبہ مکمل جنسی تسکین کے بغیر نامکمل اور ادھورا رہتا ہے، آرگیزم کو سیکھنا پڑتا ہے اور اس عمل سے تسکین کے حصول کی خاطر آپ کو اس عمل سے گزرنے کے لیے خود کو اجازت دینا پڑتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بہت سی خواتین کے لیے آرگیزم کوئی وجود ہی نہیں رکھتا یا وہ سمجھتی ہیں کہ یہ محض ایک تصوراتی سراب ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ صرف 25 فیصد خواتین ہی آرگیزم کی کیمسٹری کو سمجھ پاتی ہیں۔ اس صورتحال کو آرگیزم گیپ کا نام دیا گیا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کتنی خواتین ایسی ہیں جو خود سے یہ سوال کرتی ہیں کہ ان کی نظر میں آرگیزم کیا ہے؟
سوال ہو گا تو جواب ملے گا نا!
سوال ذہنی و جسمانی تسکین کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے اور یہ مرحلہ بنا شعور سر نہیں ہوتا، زندگی اور اس سے جڑی ضروریات ایک پہیلی کی مانند ہوتی ہیں اور جو سوال کے ذریعے اس کی تہہ میں اترتا ہے وہی گیان پاتا ہے اور آرگیزم سے متعلق یہ انفرادی سا سوال ہی سیکس کے دوران جنسی تسکین کا عروج حاصل کرنے کی کنجی ثابت ہو سکتا ہے۔
جنسی لذت کے لیے خود پر بغور نگاہ ڈالنی پڑتی ہے، جنس سے متعلق گھسے پٹے تصورات سے باہر نکل کر ان کلیشوں کو بدلنا پڑتا ہے جو ہماری جنسی زندگی کو متاثر کرتے ہیں اور یہ جنسی شناخت بنا ممکن نہیں ہو سکتا اور اس مقصد کے حصول کے لیے خود کے وجود کو چھونا اور ٹٹولنا پڑتا ہے۔
انسانی جسم بھی ایک پہیلی کی مانند ہوتا ہے، اس کے رموز و اسرار کے اندر اترنا پڑتا ہے، جنسی پہچان اور پلیئر پوائنٹس کی کیمسٹری جانے بنا جنسی راحت نصیب نہیں ہو سکتی، یاد رہے تشنگی یا کوئی بھی بھوک شخصیت کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اب کتنی خواتین کو یہ پتا ہوتا ہے کہ ان کے ”کلائٹورس“ اندام نہانی کے اوپر حساس حصہ جو آرگیزم کے لیے بنیادی کردار ادا کرتا ہے وہ کہاں موجود ہوتا ہے؟ بالکل بھی نہیں پتا ہوتا، کیونکہ وہ ساری زندگی اپنے جسم سے لاتعلق رہتی ہیں اور نا ہی خود لذّتی کے ذریعے سے جاننے کی کبھی کوشش کرتی ہیں، یاد رہے کہ ایک صحت مندانہ جنسی عمل ہی ایک خوبصورت رشتے کی بنیاد ہوتا ہے جو دھیرے دھیرے گہرا ہو جاتا ہے۔
جنسی لذت دو طرفہ عمل ہوتا ہے اور یہ بنا ایک دوسرے کے اندر اترے ممکن نہیں ہو سکتا اور ایک صحت مند تسکین کے لیے دونوں پارٹنرز کی ذہنی و جسمانی کیمسٹری کا میچ ہونا بہت ضروری ہوتا ہے اور یہ بنا برابری اور باہمی احترام کے ناممکن ہے ورنہ جسم ملنے کا نام سیکس تھوڑی ہوتا ہے۔ ذہن اور جسم کی یکسوئی اس عمل کو خاصا دلکش بناتی ہے اور یہ ہم آہنگی ایک دوسرے کو سمجھے بنا ممکن ہی نہیں ہو سکتی، بی بی سی کی اس رپورٹ میں اور بھی بہت کچھ ہے لیکن ہماری نظر میں پارٹنرز کے درمیان کھل کر بات چیت بہت ضروری ہے، کم از کم اس قدر تو ہم آہنگی یا فرینک نیس ہونی چاہیے کہ ایک دوسرے کو اپنے جنسی احساسات اور ٹریگرز پوائنٹ کے متعلق کھلے لفظوں میں بتا سکیں، خوبصورت زندگی جینے کے لیے زندگی کے مسائل سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔
وہ رشتہ یا سمبندھ کس کام کا جس میں ہزاروں حجاب ہوں، کتنے سارے تحفظات ہوں، شرم کی وجہ سے درجنوں غلط فہمیاں ہوں اور نجی زندگی بھی احساس جرم میں لپٹی ہو؟
آرگیزم، پلئیر پوائنٹس، اندام نہانی کی تحریک یا سیکس پوزیشن یہ سب اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ایک ایسے سماج کا کیا کریں کہ جہاں خواتین کو انسان ہی نا سمجھا جاتا ہو، سکول، کالج، یونیورسٹی، بازار یا دیگر جگہوں پر جاتے وقت انہیں یہ احساس دلایا جاتا ہو کہ خود کا دھیان رکھنا معاشرہ بہت خراب ہے، ڈرے اور سہمے ہوئے ماحول میں خواتین کی ذہنی سطح کا کیا معیار ہو گا؟
جنہیں کسی رشتے میں بندھنے سے پہلے ہی درجنوں خوف کی چھتر چھایا میں پروان چڑھایا گیا ہو ان سے یہ امید رکھی جائے کہ وہ اپنے شوہر سے کھل کر بات کریں گی بالکل فضول بات ہے۔
بند زبانیں، گھٹے ذہن اور کئی طرح کے خوف شخصیت کی اوریجنیلٹی اور اس کا بے باک پن کچل دیتے ہیں اور بدقسمتی سے یہ ظلم مشرقی سماج میں عزت و عصمت کے نام پر خواتین کے ساتھ بچپن سے روا رکھا جاتا ہے اور شادی کے بعد تو اسی روایتی تربیت کے نیچے ہماری بچیاں ایک زندہ لاش کی طرح گھلتی رہتی ہیں۔
جو پرندے کبھی چہچہانے نا ہوں انہیں بھلا کیا پتا کہ چہچہانا کیا ہوتا ہے؟
جو کبھی بولے نا ہوں، کبھی سوال نہ کیا ہو، زندگی کا کبھی سامنا نہ کیا ہو، ذہنی و جسمانی حرارتوں کو کبھی محسوس نہ کیا ہو وہ بھلا ایک بھرپور زندگی کیسے جی سکتے ہیں؟
بے باکی، فکری آزادی، سوال، زندگی کے سوالوں کو کریدنا، روایتی دیواروں کو پھلانگنا اور سماجی حدود سے آگے بڑھ کر دیکھنا ہر ایک کا بنیادی حق ہوتا ہے، اس میں جنس کی کوئی تخصیص نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے یہ سارے در نجانے کب سے خواتین پر بند رکھے ہوئے ہیں اور بڑی ڈھٹائی سے یہ کہنے میں ذرا سی عار بھی محسوس نہیں کرتے کہ خواتین کم عقل اور فطری طور پر کمزور ہوتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اسے کمزور اور کم عقل رکھا کس نے ہے؟
مرد کوئی بھی سوال کرے کہہ دیا جاتا ہے کہ مرد ایسے ہی ہوتے ہیں لیکن اگر خاتون زبان کھولے تو اسے بے شرم اور ہوس کی پجارن کہہ کر خاموش کروا دیا جاتا ہے کیوں؟


