ٹرمپ ماموں کے نام پاکستانی بھانجے کا خط
آداب عرض ماموں جان
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے اور نوبل انعام وصول کرنے کی تیاریاں زوروں پر ہوں گی۔ شاید سوٹ کے ساتھ وہی ٹائی پسند فرما رہے ہوں جس پر کبوتر کے بجائے ٹویٹر کا لوگو جگمگا رہا ہو تاکہ امن کی علامت بھی رہے اور سفارتکاری کی سچائی بھی۔ سنا ہے اب تقریریں کم اور ٹویٹس زیادہ ہو رہی ہیں۔
ماموں جان حکومت پاکستان نے جب آپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا تو ہم تو خوشی سے نہال ہو گئے ہمارے ہاں اسی طرح کے غیر متوقع فیصلے ہوتے ہیں ایسے ہی اعزازات ملتے۔ ہیں مثلاً مشہور اداکارہ مہوش حیات کو ستارہ امتیاز سے نوازا گیا اور زندگی تماشا فلم بنانے والے سرمد کھوسٹ کا نام اچانک لسٹ سے خارج کر دیا۔
ایسے ڈراموں کے عادی ہونے کے باعث ہم پاکستانی آپ کی ڈرا مائی ڈپلومیسی کے فین ہوچکے ہیں آپ نے حافظ جی کو ظہرانے پر بلایا اور دو گھنٹے تک کانوں میں سیاست کا رس گھولا واہ واہ یہ کمال تو وہی جانتا ہے کہ اصلی حکمران کون ہیں جو ہر ہفتے رنگ بدلے بغیر حکمت عملی تبدیل کرلیتے ہیں لوگ تو خوامخواہ کہتے ہیں کہ آپ مودی کے ساتھ مل کر ماموں بنا رہے ہیں یہ تو حسد کرنے والوں کی باتیں ہیں وہ ہمارے ملک اور آپ کی دوستی سے جلتے ہیں مودی جی کی تو ہماری حکومت کی جانب سے آپ کی نامزدگی کی خبر سن کر نیند ہی اڑ گئی۔ ہے سنا ہے ان کے خواب میں حافظ جی رافیل کے پر باندھے آ جاتے ہیں کبھی میز پر تو کبھی تکیے پر میں تو سوچتا ہوں حافظ جی سے کہوں مودی کو رافیل کی لوری دے کے سلا دو مگر پھر خیال آتا ہے کہ کہیں جاگتے میں بھی ڈراؤنے خواب نہ آ جائیں۔ خیر مجھے کیا ضرورت ہے ہر معاملے مین ٹانگ اڑانے کی حافظ جی جانیں اور مودی۔
ماموں جان! سچ پوچھیں تو امن کے نوبل انعام سے زیادہ تو ”نوبل آف ڈرامائی ڈپلومیسی بھی ملنا چاہیے ویسے آپ کے علاوہ دنیا میں کوئی دوسرا نہیں جو امن کے نوبل انعام کا حق دار ہو آپ کے ایک ٹویٹ پر انڈیا پاکستان کی جنگ رک گئی آپ نے کس طرح خاموشی سے ایران پر حملہ کرایا اور پھر خود ہی ٹائم آؤٹ کی و سل دے کر میچ کا اختتام کر کے نوبل انعام کے پکے حق دار بن گئے اسرائیل کی بے لگام کارروائیاں اور غزہ پر آپ کا ویٹو والا ماورائی فیصلہ یہ تو یوں ہی ہے جیسے فائربریگیڈ کی گاڑی کو آگ بجھانے سے روک دیا جائے تاکہ شوٹنگ جاری رہے اور ریٹنگ خراب نہ ہو آپ کے ایک ٹویٹ پر جنگ رک جاتی ہے اور ملکوں کے پیج دوستی کا اعلان ہو جاتا ہے ٹویٹر واقعی ایک سفارتی میزائل بن گیا ہے جس کا کنٹرول صرف آپ کے ہاتھ میں ہے ہم تو مان گئے ٹویٹر کا حقیقی استعمال آپ نے ہی سکھایا ہے۔
ماموں جان! میں تو گوروں کو کورنش بجا لاتا ہوں کہ انہوں نے آپ کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچان لیا اسی لیے دوسری مرتبہ بھی منتخب کیا آپ کا پیارا بھانجا ایک مخلصانہ مشورہ دینا چاہتا ہے وہ یہ کہ امریکی آئین میں تبدیلی کر کے تاحیات صدر بن جائیں کیونکہ جب آپ نے کہا Make America Great Again تو ہم سمجھے کہ اب امریکہ ہی نہیں پوری دنیا کو عظمت کی چھتری تلے لانا مقصود ہے خیر کچھ کے لیے وہ چھتری بارش سے بچاؤ بنی کچھ کے لیے طوفان۔ یہ آپ کی لیڈر شپ کا ہی کمال ہے کہ ایک ہی چھتری مختلف قوموں کے لیے مختلف معنی رکھتی ہے۔
سنا ہے نیویارک کے میئر کا انتخاب لڑنے والے زوہران ممدانیکو آپ نے پاگل کمیونسٹ کہا۔ واقعی کمیونسٹ تو پیدائشی خواب پرست ہوتے ہیں وہ آج بھی محنت کشوں کی حکمرانی کے سپنے سجائے ہتھوڑا درانتی لیے پھرتے ہیں اب زوہران ممدانی کو ہی دیکھ لیں بچوں کی دیکھ بھال، سستی رہائش اور امیروں پر اضافی ٹیکس جیسے بیوقوفی کے وعدے کرتا پھر رہا ہے ”پاگل کمیونسٹ“ ۔
اگر آپ چاہیں تو ہمارے برادر محترم نتن یاہو کو بھی نوبل کے لیے نام زد کروا دیں تو مزا آ جائے گا اس سے سفارتی توازن میں نئی جہت آ جائے گی اخر انہوں نے غزہ میں جیسا انتظامی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے وہ کسی عام رہنما کے بس کی بات نہیں۔ ادھر تو ایسے اقدامات کو قومی خدمت اور امن عامہ کی صفائی مہم سمجھا جاتا ہے ماموں ہم تو کہتے ہیں ان کی خدمت پر نوبل کمیٹی کو تھوڑا ٹویٹرانی ویژن دے دیں تو سیالکوٹ کے کاریگر ایک نئی ٹرافی بنا دیں گے ہلکی چمکدار اور ضمیر کے وزن سے پاک بس شرط یہ ہو کہ ٹرافی کی شکل گلوب جیسی ہو تاکہ جب فاتح امن اسے اٹھائے تو دنیا ان کے ہاتھوں میں ہو اور سایہ انسانیت پر نہ پڑے۔
اخر میں ایک شکوہ ہے ماموں جان آپ نے تو ہمارے انصافیوں کو بھی ماموں بنا دیا آپ کی الیکشن مہم میں انہوں نے جھنڈے اٹھائے نعرے لگائے فیس بک پر لڑائیاں لڑیں اور ایک نعرہ ایجاد کیا، جمہوریت کے تین نشان ٹرمپ مودی اور عمران۔ لیکن آپ نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا نہ شکریہ نہ ہی ٹویٹ نہ تذکرہ ادھر ہمارا کپتان مشکل میں ہے ذرا ادھر بھی کوئی ٹویٹرانی کرم ہو جائے اور حافظ جی سے کہہ دیجیے بڑے انقلابی فیصلے نہ سہی ہمارے سابق وزیر اعظم کے لیے کم از کم ایک مچھر دانی ہی لگوا دیں۔ کیونکہ ایک معمولی سا مچھر انسان کو، خیر چھوڑیں آپ جانیں اور انصافی جانیں۔
پیارے ماموں اب ذرا بتائیں آپ کب آ رہے ہیں کیونکہ اگلا ایوارڈ بھی آپ کے نام ہی ہو گا چاہیے وہ ڈرامائی ڈپلومیسی کا ہو یا سوشل میڈیا ماسٹر کا۔
آپ کا مخلص و محبت زدہ بھانجا
حسن ایلیا کراچی جولائی 2025
(گر کسی نے امن کی علامت کے طور پر کبوتر پر اعتراض کیا ہو تو عرض ہے۔ فاختہ اب بھی ویزے کی لائن میں کھڑی ہے )

