ہمارا معاشرہ، بے راہ روی اور اداکاروں کی حساس روح
میرے بچپن کا ایک واقعہ آج بھی میرے ذہن پر نقش ہے۔ جو ہمارے محلہ جامعہ رشیدیہ میں تنہا رہنے والے ایک شخص سے جڑا ہے۔ جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ ہمارے محلہ میں ایک اشرف عرف کالا نامی شخص تن تنہا رہتا تھا اس کی ایک خاص بات کہ وہ دو تین ماہ کے بعد اپنے گھر پتلی تماشا کرنے والوں کو بلاتا اور محلہ کے سب بڑے اور بچوں کو تماشا دیکھنے کی دعوت دیتا، عیدالاضحٰی کی رات بھی اشرف عرف کالا نے اپنے گھر پتلی تماشے کا اہتمام کیا جو ہم سب نے دیکھا۔ عید کے تیسرے چوتھے دن پورے محلہ میں شدید بدبو پھیل گئی سب یہ سمجھے کہ قربانی کی آلائشوں کی وجہ سے تعفن پھیلا ہوا ہے لیکن جب محلہ کی صفائی کے بعد بھی بدبو نہ گئی، تو بزرگوں کو شک ہوا کہ یہ بدبو اشرف عرف کالا کے گھر سے آ رہی ہے پولیس کو بلایا گیا، اشرف عرف کالا کے کمرے کے باہر بڑا سا تالا لگا ہوا تھا ایک پولیس والے نے مجھے گود میں اٹھایا اور اوپر کر کے کہا کہ روشن دان سے اندر دیکھو کیا نظر آ رہا ہے، میں نے روشن دان سے اشرف عرف کالا کے کمرہ میں جھانکا تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ اشرف کا ایک بازو چارپائی سے نیچے فرش پر نظر آ رہا تھا اور وہ بہت زیادہ پھول چکا تھا، میں نے پولیس کو بتایا انہوں نے تالا توڑا اور اندر اشرف عرف کالا کی لاش چارپائی کے نیچے پڑی تھی۔ اس کے جسم سے جو بدبو آ رہی تھی وہ مجھے آج بھی محسوس ہوتی ہے۔
میں حیران ہو کہ گزشتہ ایک ماہ میں کراچی سے دو مختلف واقعات میں ایک بزرگ اور ایک نوجوان اداکارہ کی لاشیں ملیں اور محلے میں نہ کسی کو بدبو آئی اور نہ ہی کسی نے ان کی خیر خیریت معلوم کرنے کی کوشش کی، مجھے یاد ہے جب اشرف کی لاش ملی تو میری والدہ اور والد کئی دن تک خیرات اور نفل عبادت کرتے رہے گو کہ ہمارے گھر اور اشرف کے گھر میں 15 سے 20 گھروں کا فرق تھا لیکن وہ سمجھتے تھے کہ اس غفلت کی سزا آخرت میں کہیں خدانخواستہ انہیں نہ ملے کہ ہم عید کی خوشیاں مناتے رہے اور پڑوس میں لاش پڑی ہوئی تھی۔
عید کے تیسرے دن اشرف عرف کالا کے گھر سے اٹھنے والی بدبو نے ایک المناک حقیقت کو عیاں کیا۔ اس کی لاش گھر میں پڑی تھی اور محلے والوں کو خبر تک نہ ہوئی۔ اس واقعے نے مجھے ہلا کر رکھ دیا تھا، لیکن آج جب کراچی میں ایک بزرگ اور پھر ایک نوجوان اداکارہ حمیرا اصغر کی لاشیں گھروں میں تنہائی کی حالت میں ملیں، تو یہ سوال پھر سے ذہن میں گھوم گیا کہ ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے؟ کیوں ہمارے پڑوسیوں کو نہ بدبو کا احساس ہوا اور نہ ہی کسی نے خیر خیریت پوچھنے کی زحمت کی؟
حمیرا اصغر کی وفات اور ان کے بھائی کی میڈیا ٹاک نے ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔ بغیر تحقیق کے الزامات اور افواہوں کی بھرمار نے مرحومہ کی کردار کشی کی اور ان کے لواحقین کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم جلد بازی میں فیصلے سنا دیتے ہیں، بغیر یہ جانے کہ حقیقت کیا ہے۔ حمیرا اصغر ایک حساس اور باصلاحیت اداکارہ تھیں، جن کی فنکارانہ خدمات نے بہت سے دلوں کو چھوا۔ ان کی اداکاری میں ایک سادگی اور گہرائی تھی جو ناظرین کو متاثر کرتی تھی۔ ان کے چاہنے والوں کے لیے یہ نقصان ناقابلِ تلافی ہے۔ سب سے بڑھ کر ان بے سہارا، معذور اور محتاج بچوں کے لئے جن کی دیکھ بھال حمیرا اصغر کر رہی تھیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے خاندان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
ہمارے معاشرتی بگاڑ کی جڑیں گہری ہیں۔ ہم من حیث القوم بگاڑ کا شکار ہیں، ہماری چال بے ڈھنگی ہے بالخصوص آج کے نوجوانوں میں خودسری اور بے راہ روی بڑھتی جا رہی ہے۔ خاندانی نظام کی کمزوری، مغربی ثقافت کا بڑھتا اثر، اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ سوشل میڈیا نے جہاں رابطوں کو آسان کیا، وہیں افواہوں اور الزامات کو بھی ہوا دی۔ نوجوان اپنے بڑوں کے فیصلوں کو ماننے سے انکاری ہیں اور اپنی آزادی کو ہر چیز پر مقدم سمجھتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر سوشل میڈیا کا یہ نقصان ہوا کہ پاس والے دور اور دور والے پاس ہو گئے۔
ذرا سوچیئے اسلامی معاشرے میں، جہاں ہمسائیگی اور رشتوں کی قدر کی جاتی ہے، پڑوسیوں کی بے حسی اور اجتماعی ذمہ داری سے لاتعلقی افسوسناک ہے۔ ہمارے بزرگوں نے ہمیشہ ہمسایوں کی خیر خیریت پوچھنے کی تلقین کی، لیکن آج ہم عید کی خوشیاں مناتے ہیں اور پڑوس میں پڑی لاش سے بے خبر رہتے ہیں۔
اداکار ایک حساس طبقہ ہیں۔ ان کی روح تخلیقی ہوتی ہے، جو چھوٹی سی بات سے بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ حمیرا اصغر جیسی فنکاراؤں نے اپنی صلاحیتوں سے معاشرے کو خوبصورت رنگ دیے، لیکن ان کی تنہائی اور معاشرے کی بے توجہی ایک سوالیہ نشان ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے کو دوبارہ اسلامی اقدار سے جوڑیں۔ نوجوانوں کو اخلاقیات، خاندانی نظام، اور ہمسائیگی کے حقوق سکھائیں۔ ہمیں اپنی نسلوں میں خوفِ خدا اور آخرت کی فکر پیدا کرنی ہو گی، تاکہ ہم ایک دوسرے کی خیر خیریت کے لیے حساس ہوں۔
میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کے خاندانوں کو صبر جمیل عطا کرے، اور ہمیں اپنی اصلاح کی توفیق دے۔ اگر ہم اپنی اقدار سے جڑ کر نہ چلے، تو یہ معاشرتی بگاڑ ہمیں مزید تاریکی کی طرف دھکیل دے گا۔ آئیے، ایک دوسرے کے لیے احساس اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، تاکہ ہمارا معاشرہ دوبارہ رحم اور شفقت کا گہوارہ بن سکے۔


