فیمنسٹ عورتو، عقل کے ناخن لو!
اپنے جیسی کا حشر دیکھ کر ہوش ٹھکانے آئے کہ نہیں؟ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا، وقت ہے بگڑی تگڑی عورتو، توبہ تلا کرو اور پدرسری کے راستے کو فوراً اختیار کرو۔ تمہیں توبہ کرنے کا ایک موقع دیا گیا ہے ، تاکہ تم اس انجام سے بچ سکو جو حال ہی میں ایک فنکارہ کا ہوا۔
کیا تم نہیں جانتیں کہ ہمارے سائے میں رہنے والیوں کو ایک پورا پیکج ملتا ہے جس میں باعزت ٹھہرائے جانے سے لے کر گھر گرہستن کے تمغے کے ساتھ ساتھ احترام کے ساتھ میت کا کفن دفن بھی شامل ہے۔
اب اس پیکج کی قیمت تو ہوگی جو تمہیں ادا کرنی پڑے گی عمر بھر۔ نہیں کرو تو پھر تیار رہو اسی تھو تھو کے جو سرکش عورتوں کے حصے میں آتی ہے۔
اطاعت و فرماں برادری کا چولا اوڑھو اور جس طرح ہم چاہتے ہیں ویسے زندگی گزارو۔ چھوڑو حقوق اور فرائض کی باتیں۔ کتابی ہیں، کتابوں میں رہنے دو۔
اب تک تمہیں علم ہو جانا چاہیے کہ حکم سے سرتابی کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، لاش تک کی تدفین مسئلہ بن جاتی ہیں۔ آخر کیوں پہچانیں؟ کیوں وارث بنیں؟ کیوں اپنی پگڑی پہ داغ لگوائیں کہ اس قبیل کی عورت ہم سے تعلق رکھتی تھی۔
دیکھا کیسا گھاٹے کا سودا ہے۔ اپنی مرضی کرنے کے بدلے میں تنہائی کی زندگی اور لاوارث موت۔ اور کہو۔ میری مرضی۔
چلو اچھا ہوا، انجام دیکھ لیا فیمنسٹ عورتوں نے جو حقوق مانگنا سکھاتی پھرتی ہیں۔ اب بہت سی تم جیسی کانوں کو ہاتھ لگا کر راضی برضا ہو جائیں گی چاہے دن رات گھر میں ٹھکائی ہوتی ہو اور سوشل میڈیا پہ ریلز چلتی ہوں جس میں حاکم لال بھبوکا کبھی لات مارے تو کبھی گھونسا۔ اور زمین پہ گری عورت تھر تھر کانپتی، واسطے دیتی رحم مانگتی ہے۔ پاس پڑی چارپائی پہ چھوٹی سی بچی ٹکر ٹکر سب دیکھے ہے۔ جو سمجھ ہی نہیں پاتی کہ ماں نامی عورت روتی چلاتی ہاتھ کیوں جوڑتی ہے؟
سنو اب کہ معاشرے میں عزت کی زندگی اور تدفین کے بدلے تمہیں کیا دینا پڑے گا؟
ہمیں چاہیے تمہاری خاموشی، ادب لحاظ، اطاعت، بے زبانی اور منہ پہ لگا قفل!
چاہے تمہارا بھائی تمہارے ہاتھ پاؤں باندھ کر باپ کے سامنے گلا گھونٹ دے یا پھر باپ خود بیٹی کی کھوپڑی میں گولی اتار دے اور بھائی مدعی بن کر معاف کر دے۔ (میانوالی کی ڈاکٹر سدرہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ماریہ بی بی )
انکار کرو گی تو مت سمجھنا کہ تم اپنے گھر میں محفوظ ہو۔ گھر میں گھس کر سینے میں تین چار گولیاں اتار کر تمہیں تمہاری گستاخی کا مزہ چکھایا جائے گا۔ ( اسلام آباد کی ثنا یوسف)
بیوی بننے سے پہلے قابو آ گئیں تو گردن اتارنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے چاہے تم ٹیرس سے کودو یا گیٹ سے نکل کر بھاگنے کی کوشش کرو۔ ( اسلام آباد کی نور مقدم)
بیوی بن کر بھی کسی خوش فہمی میں مت رہنا، ورزشی ڈمبل مار کر کھوپڑی توڑنا چنداں مشکل نہیں ( سارہ انعام) ۔
تم نے سر تسلیم خم نہ کیا تو رات کو بے ہوش کر کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے بوری میں بند کر کے جھیل میں پھینکے جا سکتے ہیں چکوال کی پروین ) یا پھر ان ٹکڑوں کو بوری میں بھر کر کھیتوں میں بکھیرا جا سکتا ہے ( ڈسکہ کی زارا)
مت سمجھو کہ بیرون ملک بس گئیں تو ہم تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ واپس بلا کر سسر کلہاڑی سینے میں اتارے ( سرگودھا کی ساجدہ ) یا چچا تایا چارپائی سے باندھ کر گولیاں ماریں ( سپین سے آئی بہنیں ) تمہارا بچنا مشکل ہے۔
ہمیں تم سے اتنی نفرت ہے کہ تمہارے پیدا ہونے کی خبر سن کر ہی سر گھومنے لگتا ہے۔ تبھی تو باپ تمہیں کبھی چلتی موٹر سائیکل سے نہر میں پھینک دیتا ہے، کبھی گلا گھونٹ کر مار دیتا ہے یا چھوٹی سی بچی کے سینے میں چھ گولیاں اتار دیتا ہے۔
تمہارا وجود کسی سے برداشت نہیں ہوتا، تمہیں دیکھ کر غصہ سب کچھ تہس نہس کرتے ہوئے تمہارے ننھے منے جسموں کو تاراج کر دیتا ہے۔ تم بچپن میں ہی کبھی کوڑے کے ڈھیر پہ مردہ حالت میں ملتی ہو ( قصور کی زینب) یا کسی سنسان چاردیواری کے پیچھے ( سرائے عالمگیر) ایسی حالت میں ملتی ہو کہ جانور بھی شرمائیں۔
باہر کے بھیڑیوں سے اگر بچ جاؤ گی تو تم گھروں میں بھی محفوظ نہیں رہو گی۔ ہماری رال تو ٹپکے گی نا۔ چاچا، خالو، پھوپھا، بھائی اور کبھی کبھار باپ بھی۔
اور تو اور۔ ہم تمہیں موت کے بعد بھی نہیں بخشیں گے۔ جسم میں روح ہو یا نہ ہو، قبر کھود کر جسم سے کھیلنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔
ہم پدرسری نظام کو ختم کرنے کی بات کبھی نہیں کریں گے، نہ ہی معاشرے میں پھیلتی بے حسی کا نام لیں گے جہاں معاشرے کے ایک فرد کی لاش چھ مہینے تک گلتی سڑتی رہے مگر ہمسایوں، محلے دار، کولیگز کے کانوں پہ جوں ہی نہ رینگے۔ ہم ایسا کوئی سسٹم بنانے کی بات بھی نہیں کریں گے جہاں اکیلے رہنے والے کسی بھی فرد کو تحفظ مل سکے۔
ہمارا زور عورت پہ چلتا ہے اور خاص طور پہ فیمنسٹ عورتوں پہ، سو تمہیں ہی برا بھلا کہہ کر اپنا فرض پورا کریں گے۔
سو باز آ جاؤ تم۔ اور ان سب کو ورغلانا چھوڑ دو جو ڈاکٹر اصغر جیسے باپ بھائی کو مشکل میں ڈالتی ہیں اور انہیں ماسک پہن کر میڈیا کے سامنے یہ کہنا پڑتا ہے کہ
” پچھلے مہینے ہماری پھوپھی مر گئی تھی اور ہم ابھی تک وہ صدمہ برداشت نہیں کر سکے تھے۔ اس لیے کہہ دیا کہ اس کو آپ لوگ خود ہی دفنا دیں“
ظاہر ہے ایک مہینہ پہلے مری ہوئی پھوپھی ہمارے لیے زیادہ اہم تھی کہ باپ بھائیوں کو شرمندہ کر کے اس دنیا سے رخصت نہیں ہوئی۔ بڑھیا پھوپھی کا غم منانا ہمارا فرض تھا، اس لڑکی کا نہیں جو اپنی مرضی کی زندگی گزار رہی تھی، اس کی لاش کیوں اٹھائیں باپ بھائی؟
ہاں اگر وہ ہم میں سے ہوتی، مطلب ہم جیسا مرد، تو سات خون بھی معاف ہوتے اسے!
معاشرے کی لعن طعن سے سدھرنے والے نہیں ہم!

