خاتون کا جسم تو شوہر کی ملکیت ہوتا ہے
میں تمہیں سٹے یعنی جوئے میں ہار چکا ہوں اس لیے تمہیں فلاں شخص کے ساتھ رات بسر کرنی ہے ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔ یہ ایک جواری کی اپنی شریک حیات کو دھمکی ہے، یہ واقعہ ہمارے شہر کے نزدیک ایک گاؤں میں پیش آیا، خاتون کا موقف تھا کہ بھلے مجھے طلاق دے دو لیکن میں رات کسی نامحرم کے ساتھ نہیں گزاروں گی۔
سوال یہ ہے کہ کیا خاتون کوئی پراڈکٹ ہوتی ہے، جسے جب چاہا جیسے چاہا استعمال کر لیا؟
پورے سماج کی عزت و عصمت جس بیچاری کے نازک کندھوں پر ٹکی ہوتی ہے مرد اسے تار تار کرنے میں چند سیکنڈ کا توقف بھی نہیں کرتا، ذہنی سطح کا معیار ملاحظہ کریں کہ جوئے میں اپنی ہی شریک حیات کے وجود کا سودا کر بیٹھا، کیا کوئی خاتون اپنے شوہر کے حوالے سے اس سطح تک گر جانے کا تصور بھی کر سکتی ہے؟ کیا کبھی سنا کہ کسی خاتون نے اپنے شوہر کا وجود جوئے میں ہار دیا ہو یا غیرت کے نام پر اسے قتل کر دیا ہو؟ اگر ایسا ہوتا تو کیا کوئی مرد بچ پاتا؟
مرد کی جنسی ہوس کے متعلق کہانیاں اس قدر زیادہ ہیں کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، گینگ ریپ، چھوٹے بچے بچیوں کا جنسی استحصال، سر راہ چلتی خاتون کے ساتھ جنسی چھیڑ چھاڑ یا سامنے پا کر عضو تناسل کو سہلانے کی ایکٹنگ کرنا ایسی حرکات ایسے سماج کا جزو لاینفک بن جاتی ہیں جہاں مذہب کا پرچار سب سے زیادہ ہوتا ہے، بدقسمتی سے ایسے منافق سماج میں خواتین خود کو جنسی استحصال سے محفوظ رکھنے کے لیے سیلف کانشس ہو جاتی ہیں اور نجانے کتنے حفاظتی ملبوسات کے باوجود بھی وہ مردوں کی نظروں میں ننگی ہی رہتی ہیں۔ جنسی گھٹن یا ہوس کے سامنے حفاظتی حجابوں کی بھلا کیا حیثیت ہوتی ہے جب آنکھوں اور دماغوں میں خواتین کے اعضائے جسمانی رچے بسے ہوں تو تسبیحات و استغفار لاحاصل رہتے ہیں، دوسری خواتین کے متعلق اپنے دماغوں میں جنسی پہیلیاں گھڑنے والے مرد کبھی اپنی ماں، بیٹی، بہن یا بہو کے وجود کے متعلق کیوں نہیں سوچتے؟ کیا یہ سب اعضاء ان کے وجود کے ساتھ نہیں لگے ہوتے، کیا ان کے متعلق بھی ان کی وہی گھٹیا سوچ ہوگی جو وہ دوسری خواتین کے متعلق رکھتے ہیں؟
خواتین پیدائشی طور پر کمزور، کم عقل، جذباتی یا شرمیلی نہیں ہوتیں بلکہ صدیوں کی سماجی جکڑ بندیوں کے ذریعے سے انہیں ایسا بنایا گیا ہے، ان کے ذہنوں میں یہ راسخ کر دیا گیا ہے کہ مردوں کے ساتھ کے بنا وہ دھیلے کی بھی نہیں ہیں، انہیں باور کروایا گیا ہے کہ وہ محض جنسی مشین کی مانند ہیں جن کا کام محض بیوٹی کاسمیٹک کے ذریعے سے مردوں کا دل خوش کرنا اور ان کی جنسی بھوک مٹانا اور بچے پیدا کرنے کے بعد تن تنہا ان کی پرورش کرتے ہوئے قبر کی آغوش میں اتر جانا ہے۔ ان کا ہر لحاظ سے سماجی استحصال کر کے ان کے کردار کو اس قدر محدود کر دیا گیا کہ اسے اپنے وجود کی فکر لاحق ہو گئی کہ وہ کیسے سماجی ہوسناکیوں سے خود کو تحفظ دے؟ تحفظ اور کئی طرح کے خوف کے درمیان جھولتی یہ زندہ لاش عدم تحفظ کے فوبیا تلے دبتی چلی گئی، ان عذابوں تلے کاہے کی شخصیت اور کہاں کا سیلف کانفیڈنس اور آج اس کی کہانی اس دوراہے تک جا پہنچی کہ اس کا جواری شوہر اس کے وجود کا بھی سودا کر بیٹھا۔
قدرت کی یہ کیسی مخلوق ہے جو پیدا ہوتے ہی ایک ایسے خول میں بند کر دی جاتی ہے کہ جہاں سماجی تغیرات کا گزر تک نہیں ہوتا، آشنائی و آگہی کی کرنوں کو محدود کر دیا جاتا ہے، سماج میں رونما ہونے والے ہنگامہ و ریخت کی دھمک کی شدت کو اس کے کانوں تک مکمل رسائی نہیں دی جاتی، کائنات کی رنگ رنگینیوں کے پورے رنگ اس کی حد نگاہ سے کوسوں دور ہوتے ہیں، ہنگامہ دنیا کے احساسات کی لمس سے محروم رکھتے ہوئے اسے ایک ادھوری سی شخصیت کا مالک بنا کر ماں باپ اس کی شادی کر کے اپنے فرائض سے مکت ہو جاتے ہیں۔
محدود دائرے کے قیدی تو ساری زندگی اپنی شخصیت کے بند خول سے باہر نہیں نکل پاتے سماجی فہم تو بہت دور کی بات ہے، بدقسمتی سے خواتین کے کردار کو محدود کر کے ان کے ذہنوں سے اس خیال کی چنگاری کو بھی بجھا دیا گیا ہے کہ وہ سماجی سطح پر ایک قیدی کی مانند ہیں۔
جنسی کھلونے کی حیثیت تلے پروان چڑھنے والی خاتون کا ہر کوئی جنسی استحصال کرتا ہے، استاد اسائنمنٹ کے نمبر لگانے یا اچھے مارکس کے حصول میں معاون بننے کے لیے جنسی چھیڑ چھاڑ حتیٰ کہ بستر تک شیئر کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور نجانے کتنے پردوں میں چھپے جنسی بھیڑیے اپنی جنسی ہوس مٹانے کے لیے نجانے کیا کچھ کرتے ہیں، ذرا تصور تو کریں ایسی حیات کا جو چند جملوں پر ٹکی ہو، مرد طلاق کی صورت میں بول دے تب بھی خاتون رلتی ہے اور اگر کوئی مشٹنڈا دھمکی کی صورت میں کردار کشی کر دے تب بھی ایک خاتون کی زندگی ہی تباہ و برباد ہوتی ہے مرد کا تو کچھ بھی نہیں جاتا۔ خاتون ساری زندگی اپنی عزت و ناموس پر پہرہ دے کر ایک مثالی خاتون نہیں بن پاتی جبکہ ایک آزاد منش مرد کئی ساریوں کے ساتھ بستر شیئر کر کے مقدس القابات کا مستحق بن جاتا ہے، مرد جو ہوا۔
خاتون کی آزادی، خود مختاری، برابری، سماجی دھارے میں شمولیت، فیصلہ سازی اور نجی معاملات میں فیصلہ لینے کی آزادی ایک روایتی سماج کو بھلا کیسے گوارا ہو سکتی ہے؟ جس دن اس سطح تک خاتون پہنچ گئی تو اس سماج کے مرد کی کھوکھلی مردانگی کے پرخچے اڑا کر رکھ دے گی، بتائے گی کہ دوسری خواتین سے رنگ رلیاں منا کر مردانگی کا جھنڈا گاڑنے والا مرد اس کی جنسی پیاس بجھانے سے قاصر رہتا ہے، کیسے چند سیکنڈ میں اس کی مردانگی چھومنتر ہو جاتی ہے اور منہ دوسری طرف کر کے مارے شرم کے سو جاتا ہے۔
یاد رہے کہ جتنا خاتون ایک مرد کو سمجھنے کا ملکہ رکھتی ہے اتنا تو مرد بھی خود کو نہیں جان پاتا، زعم اور خواہ مخواہ کا طنطنہ ایک سراب ہوتا ہے جس کی حقیقی دنیا میں کوئی وقعت نہیں ہوتی۔


