احسان فراموش: پیٹر پین کے مصنّف جیمز میتھیو بیری کی ایک کہانی
میں بیس سال سے اشرافیہ کے اس رئیسانہ اور منفرد کلب کا ممبر ہوں۔ باقی ممبران کی طرح مجھے بھی کبھی اس بات میں دلچسپی نہیں رہی کہ نچلے طبقے کے لوگ کیسے رہتے ہیں۔ یہ بیرے اور خانسامے کس طرح اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔
ولیم ایک طویل مدت سے ہمارے کلب میں بیرا گیری کر رہا تھا۔ مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ نیچے باورچی خانے میں سوتا ہے یا رات کو گھر اپنے بیوی بچوں کے پاس جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو میں اسی بات پر معذرت چاہتا ہوں کہ مجھے اس بیرے کا نام معلوم ہے چونکہ اشرافیہ میں یہ بات بہت معیوب سمجھی جاتی ہے کہ وہ نچلے طبقے کے لوگوں کو ان کے نام سے جانتے ہوں۔ بس خدمت گزار کافی ہے۔ اور ان کو منہ کیا لگانا۔
ولیم کو معلوم تھا کہ مجھے کھڑکی کے ساتھ والی میز پسند ہے۔ وہ لنچ کے لئے ہمیشہ اسی میز کو ریزرو کر کے رکھتا تھا۔ میں بعض اوقات تو اس کو اتنا سر چڑھا لیتا کہ اسے یہ تک کہنے کی جرات ہو جاتی کہ صاحب آج اس کھانے کی بجائے دوسری ڈش کا آرڈر دیں۔ لیکن میں اس کا برا نہ مناتا کیونکہ میری تربیت ایک ایسے روشن خیال خاندان میں ہوئی ہے جس میں بچپن ہی سے غریبوں کی بدتمیزیاں برداشت کرنا سکھایا جاتا ہے۔
مجھے ولیم کی احسان فراموشی کا احساس پہلی مرتبہ اس وقت ہوا جب میں نے اپنے لنچ میں حسب معمول سبزی کی سائڈ ڈش کا آرڈر دیا۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ میں ہمیشہ مین ڈش کے ساتھ ادھ ابلے مٹر پسند کرتا ہوں۔ جس سبزی سے مجھے چڑ ہے وہ ابلا ہوا پالک ہے۔ لیکن اس دن ولیم ابلا ہوا پالک لے آیا۔ جب میں نے غصے سے پوچھا کہ اس نے یہ حماقت کیوں کی ہے تو اس نے جواب دیا کہ صاحب معاف کر دیں، میں کچھ اور سوچ رہا تھا۔
’ کچھ اور سوچ رہا تھا؟‘
میں غصے میں بھنا اٹھا۔ اس کی یہ مجال کہ ہم جیسے لوگوں کی خدمت کرتے ہوئے وہ کچھ اور سوچے۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ دنیا اس قدر بدل گئی ہے کہ ایسے گھٹیا لوگ اپنی سوچ کو ہماری خدمت پر ترجیح دینے لگے ہیں۔ لیکن ہم جیسے آداب و اخلاق رکھنے والے والوں کے لئے مناسب نہیں کہ ایسی بات پر ان کو یہ تسلی دیں کہ انہوں نے ہماری طبیعت مکدر کر دی ہے۔
اس سے اگلے دن میں اپنی پسندیدہ کھڑکی کے ساتھ والی میز پر لنچ کے بعد برانڈی سے محظوظ ہو رہا تھا کہ میں نے دیکھا گلی کے بالکل بیچ میں ایک بہت مفلس سی بچی کھڑی ہے۔ اس کے چہرے پر مظلومیت کا وہی تاثر تھا جو ان بچوں کے چہروں پر ہوتا ہے جن کے غربت سے مارے والدین اپنے ملکوں سے فرار ہو کر انگلینڈ میں آ کر بس جاتے ہیں۔
یہ غلیظ بچی کلب کی کھڑکی کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔ آپ میری برہمی کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے جب مجھے یوں لگا جیسے کوئی میری کرسی کے نزدیک کھڑا کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہے۔ مجھے اس کے ہاتھ کا لمس تک اپنے کندھے پر محسوس ہوا۔
’ولیم۔‘
میں نے سختی سے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا۔
’تم اپنی اوقات بھول رہے ہو۔‘
لیکن ولیم نے جیسے میرے غصے کو نظر انداز کر دیا تھا۔ اس کی آنکھیں کہیں اور لگی ہوئی تھیں۔ وہ میرے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے کھڑکی سے اس غریب لڑکی کی طرف پورے انہماک سے دیکھ رہا تھا۔
نیم روشن ڈائینگ روم میں بھی ولیم اس لڑکی کو نظر آ گیا تھا۔ اس نے کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے تین دفعہ اپنا سر اوپر نیچے ہلایا اور واپس مڑ گئی۔
اب ولیم کے چہرے سے پریشانی کے آثار ختم ہو گئے تھے۔ وہ پھر سے ہشاش بشاش نظر آ رہا تھا۔ مجھے بھی اس لئے اطمینان ہو گیا تھا کہ اس کے چہرے پر نحوست دیکھ کر میرا کھانے کا مزہ خراب ہو رہا تھا۔
’خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میری بیوی کی طبیعت کچھ بہتر ہے۔ ‘
ولیم نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر خدا کا شکر ادا کیا۔
میں اس سارے ڈرامے سے بہت بیزار ہو رہا تھا۔ میں نے سختی سے کہا،
’کافی لاؤ، ولیم۔ ‘
’صاحب جی، آپ مجھ سے خفا تو نہیں ہیں؟‘
’ تم گستاخی کے مرتکب ہوئے ہو ولیم۔ ‘
’ میں جانتا ہوں صاحب۔ دراصل میں اپنے قابو میں نہیں تھا۔ ‘
’یہ اس سے بھی بڑی گستاخی ہے۔ ‘
’ بات یہ ہے حضور کہ میری بیوی۔ ۔ ۔‘
ابھی اس نے فقرہ مکمل نہیں کیا تھا کہ میں نے جھنجھلا کر ہاتھ کے اشارے سے اسے فوراً خاموش ہونے کے لئے کہا لیکن اس نے بات جاری رکھی۔
’ میری بیوی کی حالت بہت نازک ہے صاحب۔‘
یہ نوکر میرے اعصاب پر سوار ہو رہا تھا۔ میں اسے ڈانٹنے والا ہی تھا کہ وہ بولا،
’حضور، ڈاکٹر نے کہا ہے کہ وہ مرنے کے قریب ہے اور اس کا مزید علاج بیکار ہے۔ اس کی جان بچانے کا واحد طریقہ بس یہی ہے کہ وہ شہر کے ماحول سے نکل کر دیہات کی کھلی فضا میں کچھ وقت گزارے۔ ہم غریبوں کے لئے یہ کہاں ممکن ہے صاحب؟‘
میں نے اسے ٹالنے کے لئے پوچھا۔
’تمہاری بیوی کو کیا ہوا؟‘
’ وہ ابھی ایک بچے کی ماں بنی ہے۔ ‘
خدا جانے میں نے کیوں، حالانکہ مجھے اس سے غرض نہیں کہ اس کی بیوی صحت مند ہے یا بیمار، جیتی ہے یا مر رہی ہے، لیکن میں نے اسے بتا ہی دیا کہ میری بیوی بھی بچے کی ولادت میں مر گئی تھی۔ جیسے ہی یہ بات میرے منہ سے نکلی میں پچھتایا کہ میں اس نوکر کو اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں کیوں بتا رہا ہوں۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ مجھے ایک طرح کی راحت بھی ملی اسے یہ بات بتا کر۔
’تمہاری شادی کب ہوئی تھی ولیم؟‘
’جی، آٹھ سال پہلے۔ ‘
’یہ لڑکی جو تمہاری بیوی کا حال بتانے آتی ہے، تمہاری بیٹی ہے؟‘
’نہیں صاحب ہمسایوں کی بچی ہے۔ چھ سال کی۔ گھر کا کام کاج کرتی ہے۔ چھوٹی بہنوں کا خیال رکھتی ہے۔ کھانا پکاتی ہے اور دو مرتبہ مجھے میری بیوی کی طبیعت کا حال بتانے آتی ہے۔ میری بیوی کو ہر وقت یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں میں کلب میں کام کر رہا ہوں اور وہ میری غیر موجودگی میں مر جائے۔ ‘
مجھے اس کی داستان سن کر خود اپنے آپ پر غصہ آنے لگا تھا۔ اس کی زندگی سے مجھے کیا لینا؟
لیکن اس کے باوجود اب یہ میرا معمول بن گیا تھا کہ جیسے ہی میں لنچ کے لئے کھڑکی کے ساتھ والی میز پر پہنچتا میری نظریں اس بچی کو تلاش کرنے لگتیں۔
چند ہفتے اسی طرح گزر گئے۔ وہ لڑکی روزانہ آتی، کھڑکی کی طرف دیکھتی۔ جب اس کی نظریں ولیم سے ملتیں تو دہ تین مرتبہ اپنا سر اوپر نیچے اثبات میں ہلاتی۔ ولیم کسی حد تک مطمئن ہو جاتا۔ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ اس لڑکی نے سر اثبات میں ہلانے کی بجائے دائیں بائیں ہلایا۔ ولیم کا رنگ میز پر رکھے نیپکن کی طرح سفید ہو گیا تھا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر مجھے لگا جیسے لقمہ میرے منہ میں زہر بن گیا ہے۔ اس منحوس کو کیا حق ہے کہ ہم جیسے لوگوں کے کھانے کا مزہ اپنی مصیبتوں سے برباد کرے۔
اگلے ہفتے میں نے پھر ایک دن اس بچی کو سڑک کے درمیان کھڑکی کی طرف نظر کیے کھڑے دیکھا۔ ولیم کہیں آس پاس نہیں تھا۔ میں اپنے لنچ پر توجہ دینا چاہتا تھا۔ لیکن وہ ٹکٹکی باندھے میری میز کی طرف دیکھتی رہی۔ اب میرے لذیذ کھانے کا ذائقہ برادے جیسا ہو چکا تھا۔ آخر یہ لڑکی میری طرف دیکھ کر اشارہ کیوں نہیں کر دیتی۔ یہ میں کیا سوچ رہا تھا؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اس لڑکی کا اشارہ اتنا اہم ہو جائے کہ میرے لنچ میں مخل ہو سکے۔ اب مجھے جھنجھلاہٹ ہونی شروع ہو گئی تھی۔ اسی خفگی کے عالم میں مجھے اخبار بیچنے والا لڑکا سڑک پر دکھائی دیا۔ میں جلدی سے باہر نکلا۔ مجھے یہ سوچ کر اور بھی غصہ آیا کہ میں اخبار کا بہانہ بنا کر اس لڑکی سے ملنا چاہتا تھا۔ حالانکہ سب اخبار کلب میں آتے ہیں۔ جب تک میں گلی میں پہنچا لڑکا ہانکیں لگاتا ہوا دوسری گلی میں جا چکا تھا۔ لیکن وہ لڑکی وہیں موجود تھی۔
میں نے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے لڑکی سے پوچھ ہی لیا کہ ولیم کی بیوی اب کیسی ہے۔
’ تم کو ولیم صاحب نے بھیجا ہے؟ ‘
وہ مجھے کلب کا بیرا سمجھی تھی۔
پھر جیسے اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
’اوہ، تو آپ صاحب لوگ ہیں؟ ہاں آج بیگم صاحبہ کی طبیعت کچھ بہتر ہے۔ میں ولیم صاحب کو بتانا چاہتی تھی کہ آج ان کی بیوی نے دلیے کی ساری پلیٹ کھا لی ہے۔ یہ کہہ کر اس نے اپنی انگلیوں سے خیالی پلیٹ سے دلیہ کھانے کی ادا کاری کی۔
’لیکن اس سے یہ کیسے پتہ چلے گا کہ اس نے سارا دلیہ ختم کر لیا ہے؟‘
’اس کے بعد میں نے یہ کرنا تھا۔ ‘
اب اس نے اسی خیالی پلیٹ کو زبان باہر نکال کر چاٹنا شروع کر دیا تھا۔
یوں، ”
لڑکی نے میری جانب ایسے دیکھا جیسے کسی اپنے سے بھی چھوٹے بچے کو سمجھا رہی ہو۔
میں نے لڑکی کو ایک شلنگ دیا اور کلب واپس آ گیا۔
اسی دن شام کو میں کلب کی لائبریری میں گیا تو ولیم کتابوں کی جھاڑ پونچھ کر رہا تھا۔
’ہاں ولیم، تمہاری بیوی کی طبیعت آج بہت بہتر ہے۔ اس نے دلیے کی پوری پلیٹ ختم کر لی۔ ‘
’یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا صاحب؟‘
’بس ایسے ہی، اتفاقاً۔‘
’ آپ جینی سے ملے تھے‘
میں خاموش رہا۔
’خدا آپ کا بھلا۔‘
میں نے بات کاٹ دی اور ڈانٹ کر اسے خاموش ہو جانے کو کہا۔
’کتنی بار تمہیں کہا ہے کہ اپنی اوقات نہ بھولو۔‘
’معاف کر دیجئے صاحب۔ لیکن جب میں اپنی بیوی کو بتاؤں گا تو وہ سمجھ جائے گی کہ یہ آپ کی اپنی بیوی کا المیہ تھا جس کی وجہ سے آپ نے مجھ پر اتنا بڑا احسان کیا۔‘
لیکن اس کے بعد ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے مجھے ولیم کے کردار پر شبہ ہونا شروع ہو گیا۔
ابھی بتاتا ہوں کیسے۔
ہوا یوں کہ میں کیپٹن پیٹرسن سے گپ لڑا رہا تھا۔ اس کو شکایت تھی کہ رات کے ایک بجے کے بعد کھانے کا آرڈر اس لئے نہیں لیا جاتا کہ کلب کی انتظامیہ کو خوف ہے کہ اگر باورچی خانے کے عملے کو مجبور کیا گیا تو وہ ہڑتال کر دیں گے۔
’یہ لوگ اتنے حرام خور ہیں کہ جیسے ہی رات کا ایک بجتا ہے گولی کی طرح کلب سے نکل جاتے ہیں۔ اب اسی کو لو۔ وہ جو تمہارا پسندیدہ بیرا ہے، ولیم۔ کل رات میں باہر نکلا تو وہ گلی کی اونچائی طرف اندھوں کی طرح بھاگا ہوا جا رہا تھا۔ وہ مجھ سے ٹکرا بھی گیا لیکن اس بدمعاش نے معافی تک نہیں مانگی۔ ‘
’تمہارا مطلب ہے گلی کی نچائی کی طرف۔‘
میں نے اس کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کیونکہ جھگیوں کا راستہ، جہاں ولیم رہتا تھا، گلی کی نچائی کی طرف سے جاتا تھا۔ ’
’نہیں، اونچائی کی طرف، مغرب کی سمت میں۔ ‘
’مشرق۔‘
میں نے پھر تصحیح کی۔
’مغرب۔‘
کیپٹن پیٹرسن مصر تھا۔
’شرط لگانی ہے؟‘
’ہو جائے۔ ‘
’تین پاؤنڈ‘
’تین پاؤنڈ‘
حالانکہ میں اگلے دن ولیم سے پوچھ کر آسانی سے یہ شرط جیت سکتا تھا لیکن میں نوکروں کو زیادہ منہ لگانا پسند نہیں کرتا۔ میں نے فیصلہ کیا اگلے دن، یا رات، کلب بند ہونے کے بعد دیکھوں گا یہ کہاں جاتا ہے۔ آپ میری حیرت کا اندازہ کریں جب میں نے دیکھا کہ اس کا رخ مشرق کی بجائے مغرب کی طرف تھا جو جھگیوں کی مخالف سمت تھی۔
میرا تجسّس بڑھتا جا رہا تھا۔ یہ کیا چکر ہے؟ یہ بالکل الٹے راستے پر کیوں جا رہا ہے؟
یہ سب میں اپنی مرضی کے خلاف کر رہا تھا۔ کوئی انجانی طاقت مجھے اس کے تعاقب پر مجبور کر رہی تھی۔
ولیم نے اب تیزی سے بھاگنا شروع کر دیا تھا۔ اتفاق سے ایک خالی بگھی ادھر سے گزر رہی تھی جس کے کوچبان کو میں نے ہاتھ دے کر روکا اور اسے دھیرے دھیرے چلنے کو کہا تاکہ میں دیکھتا رہوں ولیم کہاں جا رہا ہے۔
ایک آسودہ حال سے مکان کے قریب جا کر ولیم رک گیا۔ میں نے بھی بگھی کو فارغ کیا اور گلی کی دوسری سمت سے ایک بند دکان کے دروازے پر کھڑا ولیم کو دیکھتا رہا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک روشنی نظر آئی۔ کھڑکی سے پردہ ہٹا۔ مجھے معلوم نہیں کہ ولیم نے کوئی گفتگو کی یا نہیں کیونکہ کھڑکی تمام دوران بند ہی رہی۔ دس منٹ کے بعد ولیم جس راستے آیا تھا اسی سے پلٹ گیا۔ میں نے ایک اور بگھی لی اور کوچبان کو گھر لے جانے کو کہا۔
میں جانتا تھا کہ نچلے درجے کے لوگ عام طور پر بد اخلاق ہوتے ہیں۔ بیویوں سے بے وفائی ان کے مردوں کا وتیرہ ہوتا ہے۔ اب مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ ولیم کو پریشانی یہ نہیں تھی کہ اس کی بیوی مر نہ جائے۔ بلکہ اس کو یہ فکر لاحق تھی کہیں وہ بچ نہ جائے۔ وہ یقیناً کسی اور عورت سے عشق لڑا رہا تھا۔ اس قسم کے لوگوں سے اور کیا امید ہو سکتی ہے؟ مجھے یقین تھا کہ وہ اپنی بیوی کو بتاتا ہو گا کہ اسے کلب میں تین تین بجے تک کام کرنا پڑتا ہے اس لئے اسے ہر رات دیر ہو جاتی ہے۔
ولیم کے کسی اور عورت کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے یا نہیں، مجھے اس سے تو کوئی سروکار نہیں تھا، مگر دو وجہ سے مجھے اس پر غصہ آ رہا تھا۔ ایک تو میں شرط ہار گیا تھا۔ اور دوسری یہ کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ رات رات بھر جاگے اور اگلے دن صحیح طریقے سے میری خدمت نہ کر سکے۔
لیکن میں نے اس سے پوچھ گچھ نہیں کی۔ اس کی غمناک آنکھوں میں مجھے اس کی بیوی کی موت کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔
پھر چند دن بعد مجھے اتفاقاً جینی پھر گلی میں نظر آئی۔ نہیں میں جھوٹ بول رہا ہوں۔ میں دراصل خود اسے ڈھونڈنے کلب سے نکلا تھا اور گلی کے موڑ پر اس کا انتظار کر رہا تھا۔
’آج اس کی طبیعت کیسی ہے؟‘
’بیگم صاحبہ نے کہا تو ہے کہ میں طبیعت بہتر ہونے کا بتاؤں۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ آج وہ بالکل لاش کی طرح لگ رہی تھیں۔ ‘
’ہش۔‘
میں نے کہا۔
’تجھے کیا پتہ لاش کیسی ہوتی ہے؟‘
لڑکی نے بڑے سرپرستانہ انداز میں مجھے دیکھا اور کہا۔
’ میں چھ سال کی ہو چکی ہوں۔ ساتویں میں لگنے والی ہوں۔ مجھے سب کچھ پتہ ہے۔ ‘
’اچھا یہ بتاؤ کہ ولیم اپنی بیوی سے ٹھیک سلوک کرتا ہے؟‘
’کیوں نہیں؟ وہ اس کا شوہر نہیں ہے کیا؟‘
’یہ بتاؤ ولیم رات کو کس وقت گھر لوٹتا ہے؟‘
’رات کو؟ صاحب، وہ رات کو نہیں صبح ہونے پر گھر واپس آتا ہے۔ ‘
’تمہیں معلوم ہے کہ ولیم رات کو ایک بجے کلب سے فارغ ہو جاتا ہے؟‘
’ہاں، ہاں، میری ماں نے مجھے بتایا ہے۔ وہ تو کہتی ہے کہ ولیم کو بارہ بجے فارغ ہونا چاہیے کیونکہ اس کی بیوی کو کلب کے صاحب لوگوں سے زیادہ اس کی ضرورت ہے۔ ‘
’لیکن ولیم کلب سے سیدھا گھر تو نہیں آتا۔ ‘
’ہاں، وہ بچے کی وجہ سے۔ ‘
’بچے کی وجہ سے؟ کیا مطلب؟‘
میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ لوگ بھی اپنے بچوں سے ایسے ہی پیار کر نے کے قابل ہیں جیسے ہماری قماش کے لوگ۔
’کیا آپ کو نہیں پتہ کہ بیگم صاحبہ کا ایک چھوٹا سا بچہ ہے۔ ‘
’ہاں مجھے معلوم ہے لیکن یہ کوئی وجہ نہیں ولیم کے گھر سے صبح کے تین تین بجے تک باہر رہنے کی۔‘
’بچہ اس محلے میں نہیں ہے نا۔ ‘
اب بات کچھ کچھ میری سمجھ میں آنے لگی تھی۔ بچے کی وجہ سے اسے ساری ساری رات جاگنا پڑتا ہو گا۔ اس لئے ولیم نے بچہ کسی اور کی نگرانی میں دے دیا تھا۔
’خیر کسی حد تک تو ماں کی مشکل آسان ہوئی ہو گی؟ اسے کچھ تو سہولت ملی؟‘
’سہولت؟‘
اب جینی نے واقعی ایک حقارت سے میری طرف دیکھا۔ اس نے پھر ایسے جیسے کسی چھوٹے سے بچے سے بات کر رہی ہو میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
’صاحب آپ تو بہت ہی بھولے ہیں۔ وہ تو اپنے بچے کے لئے رات دن تڑپتی ہے۔ بے ہوشی میں بھی ہاتھ ایسے اٹھاتی ہے جیسے اپنے خیال میں اسے بانہوں میں لپیٹنا چاہتی ہو۔‘
’تو پھر ماں کو بچے سے کیوں علیحدہ کیا؟‘
’اس لئے کہ یہاں چھوٹے بچوں میں میزل کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ شہر کے اس حصے میں قریب قریب ہر چھوٹے بچے کو میزل نکلے ہوئے ہیں۔ ‘
’کیا تمہیں بھی میزل ہوئے؟‘
میں نے پوچھا۔
’میں چھوٹے بچوں کی بات کر رہی ہوں۔ تم سن نہیں رہے۔ ‘
یہ چھ سال کی بڑھیا اب آپ سے تم پر آ گئی تھی۔
’تو ولیم نے بیوی کی مرضی کے خلاف بچے کو کسی اور کے پاس چھوڑ دیا۔‘
’نہیں، اس کے اصرار کرنے پر۔ ‘
’لیکن تم تو کہہ رہی ہو کہ ماں بچے کے بغیر جی نہیں سکتی۔‘
’آپ ماں ہوتے تو خود مرتے یا بچے کو مرنے دیتے؟ ظاہر ہے وہ بچے کی زندگی بچانے کے لئے جو کر سکتی ہے کر رہی ہے۔ ‘
’تو ولیم کلب سے سیدھا گھر اپنی بیوی کے پاس کیوں نہیں جاتا؟‘
’کیسی بات کر رہے ہیں صاحب آپ؟ ماں کو جب تک پتہ نہ چل جائے کہ اس کا بچہ کس حال میں ہے وہ کیسے سو سکتی ہے؟‘
’لیکن ولیم مکان کے اندر تو نہیں جاتا۔‘
’ اوہ خدایا۔ اب میں کیسے سمجھاؤں۔ آپ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے کہ وہ بیماری بچے کو نہیں دینا چاہتا۔ وہ بند کھڑکی کے شیشے کے پیچھے، بچے کو لے آتے ہیں، وہ دیر تک اسے دیکھتا رہتا ہے۔ پھر گھر آ کر اپنی بیوی کے بستر کی پائینتی پر بیٹھ کر صبح ہونے تک اسے بچے کے بارے میں ہر بات پوری تفصیل سے کئی کئی بار بتاتا ہے۔ بچہ کتنا بڑا ہو گیا ہے؟ اس کے بال کس رنگ کے ہیں؟ وہ کتنی دفعہ رویا تھا، یا مسکرایا تھا؟ پھر وہ بیوی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر وہیں سو جاتا ہے اور تھوڑی ہی دیر کے بعد پھر کلب کے لئے روانہ ہو جاتا ہے۔ ‘
’ ڈاکٹر اس بارے میں کیا کہتا ہے؟‘
میں نے پوچھا۔
’ڈاکٹر کہتا ہے کہ اگر وہ دیہات کی تازہ ہوا میں کچھ وقت گزار لے تو اس کی طبیعت بہتر ہو سکتی ہے۔ ‘
’تو ولیم اسے کیوں نہیں لے جاتا؟‘
اب اس نے مجھے یوں دیکھا جیسے اسے یقین ہو کہ میں اگر پاگل نہیں تو بے وقوف تو ضرور ہوں۔
اس واقعے کے دس دن بعد جب بچہ میزل سے صحت یاب ہو چکا تھا، میں نے نادانستہ خود کو اپنی بگھی میں بیٹھا ہوا پایا۔ میں نے بگی کی کھڑکیاں بند کروا دی تھیں۔ اخبار کو اوپر کر کے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا۔ سامنے والی سیٹ پر ولیم کی بیوی اور اس کے ساتھ جینی بیٹھی ہوئی تھی۔ آدھے راستے میں ولیم بچے کو گود میں لئے ہمارے ساتھ شامل ہو کر اسی سیٹ پر اپنی بیوی اور جینی کے ساتھ بیٹھ گیا۔
میں خوف زدہ تھا کہیں مجھے کوئی دیکھ نہ لے اور مجھ پر یہ بہتان نہ لگ جائے کہ خدا نخواستہ مجھے ان غریب لوگوں سے ہمدردی ہے۔ جینی نے بچے کو گود میں لے لیا تھا اور توتلی آواز میں اس سے ایسے باتیں کر رہی تھی جیسے وہ واقعی سمجھ رہا ہو۔ وہ اس سے سوال کرتی، ’بتاؤ مجھے یہ خوبصورت بونیٹ کس نے دی ہے؟‘
پھر خود ہی اس کا جواب توتلی آواز میں دیتی۔
’ اس بابو نے دی ہے۔ پیاری ہے نا۔ بے بی، تم بابو صاحب کا منہ چومو گے؟‘
پھر بچے کو میری طرف کرتی اور جب میں کراہت سے اپنی چہرہ موڑ لیتا تو کھلکھلا کر ہنستی۔
میں نے بہانہ تیار کیا ہوا تھا۔ اگر کوئی واقف مجھے پہچان جائے تو میں کہوں گا کہ ولیم کی بیوی کو میں اپنی پرانی نرس کے پاس چھوڑنے جا رہا ہوں۔ اور اپنی بگھی میں اس لئے کہ کئی دن سے گھوڑوں کو ٹہل کا موقع نہیں ملا تھا۔ اور ویسے بھی میں نے اسی سمت جانا تھا۔ میں نے مصممّ ارادہ کیا ہوا تھا کہ جب ہم سرّے کے دیہات سے گزرتے ہوئے اپنی نرس کے مکان تک پہنچیں گے تو میں انہیں وہاں چھوڑ کر فوراً لندن پلٹ جاؤں گا۔ لیکن گھوڑے اس قدر تھک چکے تھے کہ ان کے لئے آرام لازم تھا۔
مجھے نرس کے ہاں ولیم کے گھر والوں کے ساتھ چائے پینی پڑی۔ میری تذلیل کا عمل اب مکمل ہو چکا تھا۔ چائے پیتے ہوئے میں کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا کہ جینی بڑے جوش و خروش سے مقامی لوگوں سے باتیں کر رہی تھی اور کھڑکی کی طرف اشارے کر رہی تھی۔ میں انہیں خود باہر نکل کے بتانا چاہتا تھا کہ وہ بالکل بیکار باتیں کر رہی ہے۔ مجھے ان لوگوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ میں نے ان پر کوئی ترس نہیں کھایا۔ ہر ایک جانتا ہے کہ یہ لوگ اس کے مستحق نہیں؟
میں ولیم سے ایک بات کہنا چاہتا تھا لیکن مناسب وقت نہیں مل رہا تھا۔ اسی لئے چائے کا وقفہ طول پکڑ گیا تھا۔ آخر کار خود ولیم نے کہا اب اسے شہر واپس جانا ہے۔ کلب میں ڈیوٹی پر پہنچنے کا وقت نہ نکل جائے۔
یہ سنتے ہی ولیم کی بیوی کا رنگ زرد پڑ گیا۔ مجھے ڈر لگا کہ وہ کہیں بے ہوش نہ ہو جائے۔ اس لئے میں نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کلب کے ہیڈ ویٹر نے مجھے بتایا ہے کہ ولیم کو فوری طور پر پندرہ دن کی چھٹی مل گئی ہے۔ اس دوران اسے پوری تنخواہ ملتی رہے گی۔
ولیم اچھی طرح جانتا ہے کہ مجھے احسان مندی کے ڈرامائی مظاہرے کس قدر برے لگتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ایک دم کھڑا ہو کر میرے سامنے جھکا اور میرے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر کہنے لگا،
’صاحب، ہیڈ ویٹر نہیں، یہ سب یقیناً آپ ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ ‘
’ولیم۔‘
میں نے غصے میں کہا۔
’ اور صاحب میری بیوی کے لئے برانڈی؟‘
’میرے پاس رکھنے کی جگہ نہیں تھی۔‘
’اور ہماری یہاں رہائش کا بندوبست؟‘
’میری نرس یہاں خود کو تنہا محسوس کر رہی تھی۔‘
، میں کیسے آپ کا شکریہ ادا کر سکتا ہوں؟ ’
’ولیم، اپنی اوقات میں رہو۔‘
ولیم کی بیوی کی آنکھوں سے زار و قطار آنسو بہہ رہے تھے۔ میں غصے میں گھر سے نکلنے ہی والا تھا کہ ولیم کی بیوی نے اسے کمرے سے باہر جانے کے لئے کہا۔ پھر اکیلے میں اس نے صرف ایک بات کی۔ وہ بات میرے بیوی کی موت کے بارے میں تھی جو بچے کی ولادت میں جان کھو بیٹھی تھی۔ ولیم کو کیا حق تھا کہ میری زندگی کے اس غمناک سانحے کا ذکر اپنی بیوی سے کرتا؟
اب یہ لوگ واپس جھگیوں والے علاقے میں چلے گئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ولیم نے اس بات کا ذکر دوسرے بیروں اور باورچی خانے کے سٹاف سے بھی کیا ہو گا۔ ایسے لوگوں سے اور کیا توقع ہو سکتی ہے؟
لیکن انہوں میری کمزوری کا سب سے شرمناک فائدہ یہ اٹھایا کہ اپنے بچے کا نام میرے نام پر رکھ دیا۔
احسان فراموش کہیں کے۔


