سگمنڈ فرائڈ کے تیسرے لیکچر کی تلخیص اور ترجمہ


خواتین و حضرات!

جب ہم نفسیاتی مریضاؤں کا علاج کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ مریضہ کے لاشعور میں دو متضاد طاقتیں بر سر پیکار ہوتی ہیں

ایک طرف وہ طاقت ہوتی ہے جو لاشعور میں دبی اور چھپی یادوں اور باتوں کو شعور میں لانے کی کوشش کرتی ہے اور دوسری طرف وہ طاقت ہوتی ہے جو اس کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتی ہے اور لاشعور میں چھپی اور دبی یادوں اور باتوں کو لاشعور میں ہی رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس دوسری طاقت کو ہم ریزسٹینس RESISTENCE کا نام دیتے ہیں کیونکہ وہ طاقت مزاحمت کر رہی ہوتی ہے۔

اگر مزاحمت کی طاقت کمزور ہو تو بھولی بسری تکلیف دہ یادیں اور باتیں مریضہ کے شعور میں داخل ہونے لگتی ہیں لیکن جب مزاحمت کی طاقت مضبوط ہو تو بھولی بسری یاد اور بات مسخ ہو کر شعور میں آتی ہے وہ اصل یاد تو نہیں ہوتی لیکن اس سے ملتی جلتی ہوتی ہے وہ اصل سے مشابہت رکھتی ہے اسی لیے ہمیں بعض دفعہ اصل یاد اور بات تک پہنچنے اور اسے پہچاننے میں دقت ہوتی ہے۔

ہم اس عمل کو لطیفوں سے سمجھ سکتے ہیں کیونکہ کسی لطیفے میں بات کھل کر نہیں کہی جاتی کیونکہ اصل بات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور لطیفہ سننے والے انسان کا ذہین دماغ لطیفے میں چھپے طنز اور مزاح تک پہنچ جاتا ہے۔

خواتین و حضرات!

اب ہم نفسیاتی مسئلے کے اس حصے پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے جسے زیورک کے مکتبہ فکر کے ماہرین نفسیات ڈاکٹر بلائلر اور ینگ کمپلیکس کا نام دیتے ہیں۔ کمپلیکس کا نام ان ڈاکٹروں نے مریض کے لاشعور میں چھپے پیچیدہ نفسیاتی مسئلے کو دیا ہے۔ مریض کی صحتیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہلے اس کمپلیکس تک پہنچیں اور پھر اسے لاشعور سے شعور میں لائیں تا کہ مریض صحتیاب ہو سکے۔

مریض کے لاشعور میں چھپے کمپلیکس تک پہنچنے کے لیے ہم آزاد تلازمہ خیال یعنی فری ایسوسئیشن کی مدد لیتے ہیں۔ ہم مریض سے کہتے ہیں کہ وہ کاؤچ پر لیٹ جائے اور اپنے نفسیاتی مسئلے کے بارے میں اس کے ذہن میں جو کچھ آئے اس کا اظہار کرنا شروع کر دے۔ وہ اپنے ہر خیال کا اظہار کرے چاہے اسے وہ خیال بظاہر غیر اہم ہی کیوں نہ محسوس ہو کیونکہ وہ غیر اہم باتیں ہی ہمیں اصل مسئلے تک لے جانے میں مدد کرتی ہیں۔

بعض دفعہ مریض باتیں کرتے کرتے اچانک خاموش ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے اور کچھ بھی نہیں سوجھ رہا۔ ایسی حالت میں ہم جان لیتے ہیں کہ مریضہ کے لاشعور میں یہ جذبہ پیدا ہو چکا ہے کہ یا تو اس کی باتیں فضول اور غیر اہم ہیں اور یا وہ اس کی اخلاقیات کے خلاف ہیں۔

ایسی حالت میں مریض لاشعوری طور پر اپنے آپ پر تنقید کرنے لگتا ہے اور اپنے خیالات و جذبات کو ایڈٹ کرنے لگتا ہے جس کی وجہ سے خیالات کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ جب ہم مریض کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو وہ اپنے آزاد تلازمہ خیال کا رشتہ وہیں سے جوڑ لیتا ہے جہاں سے اس نے رشتہ منقطع کیا تھا۔

کارل ینگ نے انیس سو چھ میں ایک ٹیسٹ وضع کیا تھا اور اسے ورڈ ایسوسئیشن ٹیسٹ
WORD ASSOCIATION TEST
کا نام دیا تھا۔ وہ مریض کو ایک لفظ دیتا تھا مثال کے طور پر
ماں
یا
محبت

اور مریض سے کہتا تھا کہ اس لفظ کو سننے کے بعد اس کے ذہن میں جو بھی لفظ آئے وہ اس لفظ کا بے دھڑک اظہار کر دے۔ ینگ کا کہنا تھا کہ یہ ٹیسٹ ہماری مریض کے لاشعور میں چھپے کمپلیکس تک پہنچے میں مدد کرتا ہے۔ ینگ کے اس تجربے کو جب دوسرے ماہرین نفسیات نے اپنایا تو اس ٹیسٹ کو بہت کار آمد پایا۔

کسی بھی مریض کے لاشعور تک پہنچنے کا ایک اور راستہ ہے اور وہ اس کے خواب ہیں۔ جب ہم مریض کے خوابوں کی تحلیل نفسی کرتے ہیں تو مریض کے لاشعور میں چھپے نفسیاتی مسائل کو بہتر طور پر سمجھ پاتے ہیں۔

ماضی میں بہت سے لوگ خوابوں کے بارے میں مذہبی اور روحانی نظریات رکھتے تھے ہم نے خوابوں کا نفسیاتی تجزیہ کرنا سیکھا اور سکھایا۔ اگر کوئی شخص مجھ سے پوچھے کہ میں ایک ماہر نفسیات کیسے بن سکتا ہوں تو میں ان سے کہوں گا کہ آپ اپنے خواب لکھنا اور پھر ان کا تجزیہ کرنا شروع کر دیں۔ میں نے اپنے خوابوں کا تجزیہ کر کے اپنی کتاب

THE INTERPRETATION OF DREAMS
لکھی تھی جس سے میرے طلبا و طالبات نے بہت استفادہ کیا۔

اگر آپ اپنے خوابوں کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ان کی تفہیم و تعبیر کا پہلا اصول یہ ہے کہ خواب ہمیں ہماری لاشعوری خواہشوں سے متعارف کرواتے ہیں۔

انسانی خوابوں کا آغاز بچپن سے ہوتا ہے۔ بچوں کی دن کے وقت کی جو خواہشیں پوری نہیں ہوتیں وہ رات کو خواب میں پوری ہو جاتی ہیں۔ بچوں کے خواب سادہ اور واضح ہوتے ہیں اس لیے ہمیں انہیں سمجھنے میں زیادہ دقت پیش نہیں آتی۔

بچے جوں جوں جوان ہوتے ہیں ان کے خواب پیچیدہ اور مبہم ہونے لگتے ہیں اور ان کا اظہار علامتوں میں ہونے لگتا ہے۔ بعض لوگ اپنے خوابوں کو اس لیے نہیں سمجھ پاتے اور ان کی تعبیر نہیں کر پاتے کیونکہ وہ علامتوں ’تشبیہوں اور استعاروں کی زبان سے واقف نہیں ہوتے۔

خواب بظاہر غیر منطقی دکھائی دیتے ہیں لیکن ماہرین نفسیات جانتے ہیں کہ خوابوں کی بھی منطق ہوتی ہے لیکن سوئے ہوئے انسان کے خوابوں کی منطق جاگتے ہوئے انسان کی منطق سے مختلف ہوتی ہے۔ خواب ادب پاروں اور فن پاروں کی طرح مبہم اور بالواسطہ انداز میں اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہیں

خوابوں کا ایک ظاہری ڈھانچہ ہوتا ہے
اور
ایک خفیہ ڈھانچہ بھی ہوتا ہے

جب ہم خوابوں کی علامتوں تشبیہوں اور استعاروں کو سمجھ جاتے ہیں تو ہماری رسائی ان میں چھپے معنوں تک ہو جاتی ہے۔ ہم خوابوں کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں اور مریض کا لاشعور جو پیغام دینا چاہتا ہے ہم اس پیغام تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔

خوابوں میں انسان کا ایگو کچھ حفاظتی تدابیر استعمال کرتا ہے اسی لیے پیغام کی ترسیل بالواسطہ ہوتی ہے۔

جاگتے ہوئے ایگو کی جو طاقت ناآسودہ خیالوں اور پریشان کن جذبوں کو لاشعور میں دھکیل دیتی ہے ہم اس طاقت اور اس عمل کو ریپریشن REPRESSIONکا نام دیتے ہیں۔ نیند کی حالت میں وہ طاقت قدرے کمزور ہوتی ہے تو لاشعور میں چھپے خیال اور جذبے اپنا اظہار کرنے لگتے ہیں اور ہمیں خواب دکھائی دیتے ہیں۔

بعض دفعہ مریض کو اپنے خوابوں کی معنویت اسی طرح سمجھ نہیں آتی جس طرح اسے اپنی بیماری کے عارضوں کی معنویت سمجھ نہیں آتی۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کا بازو کیوں بے حس ہے یا اس کی ٹانگ کیوں مفلوج ہے۔ وہ اپنی بیماری کے عوارض کی اہمیت و افادیت و معنویت سے بے خبر ہوتا ہے کیونکہ ان کا تعلق اس کے خوابوں کی طرح اس کے لاشعور سے ہوتا ہے۔

ہم مریض سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے خواب کو یاد کرنے کی کوشش کرے اور اس کے مختلف حصوں کے بارے میں آزاد تلازمہ خیال کرے تا کہ ہم اس کے خواب کی گہرائی تک پہنچ کر اس خواب کی اہمیت اور معنویت تک پہنچ سکیں اور اس کے

لاشعور میں چھپے خیالات جذبات احساسات اور تضادات کو شعور میں لا کر اس کی مدد کر سکیں تا کہ وہ نفسیاتی طور پر صحتمند ہو سکے۔

ایگو خوابوں میں بہت سی حفاظتی تدابیر استعمال کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال کنڈنسیشن ہے۔

(نوٹ :سگمنڈ فرائڈ کے ایک مریض نے اپنے نفسیاتی علاج کے دوران انہیں اپنا ایک خواب سنایا۔ کہنے لگا ’میں نے خواب میں ایک کتا دیکھا۔ میں نے جب اسے ٹھوکر ماری اور اس نے منہ موڑا تو مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ اس کتے کا سر ایک انسان کا سر تھا اور وہ انسان میرا باپ تھا‘

فرائڈ نے اس مریض کی تحلیلِ نفسی کے دوران اسے بتایا کہ اس کے لاشعور میں اپنے والد کے بارے میں غصے ’نفرت اور تلخی کے جذبات پوشیدہ ہیں۔ جب وہ انہیں جاگتے ہوئے سوچتا ہے تو وہ احساسِ گناہ کا شکار ہو جاتا ہے کیونکہ اسے یہ سکھایا گیا تھا کہ بیٹے کو باپ کا احترام کرنا چاہیے۔ علاج کے دوران مریض نے فرائڈ کو بتایا کہ اس کا باپ ایک ظالم اور جابر باپ تھا اور بچپن سے اسے مارتا پیٹتا تھا جس کی وجہ سے بیٹے کے دل میں باپ کے لیے نفرت کے جذبات پنپتے رہے لیکن چونکہ اسے ان جذبات کے اظہار کا موقع نہ ملا اس لیے اس نے انہیں اپنے لاشعور میں دھکیل دیا اور وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گیا۔ تحلیلِ نفسی کے دوران وہ جذبات دوبارہ شعور کی سطح پر آئے اور اسے تھیرپی میں ان کے اظہار کا موقع ملا۔ اس طرح اس مریض کا نفسیاتی مسئلہ حل ہوا اور وہ ایک صحتمند زندگی گزارنے لگا

خواب میں کتے کے دھڑ اور انسانی سر کا ملاپ کنڈنسیشن CONDENSATION کہلاتا ہے
خالد سہیل)

مریضوں کے خوابوں کے نفسیاتی تجزیے سے ہم نے یہ بھی سیکھا ہے کہ انسان کے نفسیاتی مسائل کا اس کے بچپن کے تکلیف دہ تجربات اور احساسات سے گہرا رشتہ ہے۔ انسان اپنے بچپن کی بہت سی خواہشوں کو لاشعور میں دھکیل دیتا ہے کیونکہ وہ ان خواہشات کو غیر اخلاقی اور غیر مہذب سمجھتا ہے۔ انسان نے اپنے مہذب ہونے کی بھاری قیمت ادا کی ہے وہ مہذب بننے کے شوق میں نیوروٹک ہو کر کئی نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گیا ہے۔

خوابوں کی تفہیم و تفسیر سے ہم نے یہ بھی سیکھا کہ انسان اپنی لاشعوری جنسی خواہشات کا اظہار علامتوں سے کرتا ہے۔ انسانی لاشعور وہ علامتیں تشبیہیں اور استعارے استعمال کرتا ہے جو اس نے اپنے دور کے فنون لطیفہ اور لوک کہانیوں میں دیکھا اور پڑھا ہوتا ہے۔ اسی لیے خوابوں کا تجزیہ ہمیں مریض کے لاشعوری تضادات اور ان کی کوکھ سے جنم لینے والے نفسیاتی عوارض کی تفہیم میں مدد کرتا ہے۔

خواب ہمیں انسانی نفسیات کے ان رازوں تک پہنچا دیتے ہیں جہاں ہم جاگتے ہوئے نہیں پہنچ سکتے۔ خواب ہمیں ان رازوں سے متعارف کرواتے ہیں جنہیں ہم اپنے لاشعور میں خود سے بھی چھپائے رکھتے ہیں۔

انسانی لاشعور تک پہنچنے کا تیسرا راستہ بھی ہے اور وہ راستہ اس وقت سامنے آتا ہے جب ہم
کچھ باتیں اور کچھ نام بھول جاتے ہیں
یا کچھ کام غیر ارادی طور پر کرتے ہیں
یا کچھ چیزیں بے خیالی میں توڑ دیتے ہیں

عام حالات میں ہم اپنی ان حرکتوں اور باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور ان چیزوں کے بارے میں خاموشی اختیار کیے رہتے ہیں۔ ایسی باتیں اور حرکتیں ہمارے لاشعور میں چھپے خیالات و تضادات کی چغلی کھاتی ہیں۔ وہ باتیں ہمارے نفسیاتی مسائل کے عارضے ہیں۔ اگر ہم ان باتوں اور حرکتوں کا تجزیہ کریں تو ہم اپنے لاشعوری تضادات تک پہنچ سکتے ہیں جو ہمیں اپنے خفیہ رازوں سے متعارف کروا سکتے ہیں۔

تحلیل نفسی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمارا ہر کام ہر بات اور ہر عمل لاشعوری اہمیت کا حامل ہے اور ہماری لاشعوری شخصیت کا آئینہ دار ہے۔ وہ ہماری شخصیت کی زیریں سطح کی ترجمانی کرتا ہے۔

اپنے پیشہ ورانہ تجربات اور اپنے مریضوں کے علاج سے ہم پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ ہم کسی انسان کے لاشعور تک

آزاد تلازمہ خیال سے
اس کے خوابوں سے
اور اس کے بے خیالی میں کیے کاموں اور غیر ارادی باتوں سے

پہنچ سکتے ہیں اور اس کی شخصیت کے ان رازوں سے واقف ہو سکتے ہیں جن سے وہ انسان خود بھی شعوری طور پر ناواقف ہے۔

انسان کے لاشعور کا ایک اور ثبوت وہ رویہ ہے جو مریض اپنے تھراپسٹ کے حوالے سے اپناتا ہے۔ ہم اس رویے کو

ٹرانس فرنس TRANSFERENCE

کا نام دیتے ہیں۔ اس عمل میں مریض اپنے لاشعور میں چھپے خیالات جذبات اور احساسات کا رخ تھراپسٹ کی طرف کرتا ہے۔ وہ ماضی کے کسی رشتے یا کسی کردار کے بارے میں مثبت یا منفی جذبات کو تھراپسٹ کی طرف ٹرانسفر کرتا ہے اور تھراپسٹ ان جذبات و احساسات کا تجزیہ کر کے مریض کے ماضی کے کسی رشتے کا چھپا راز جانتا ہے۔

تحلیل نفسی میں تھراپسٹ کا کردار ایک ایسے سرجن کا کردار بن جاتا ہے جو مریض کا آپریشن کر کے جسم کے کسی عضو کو خوردبین کے نیچے دیکھتا ہے اور بیماری کی تشخیص کرتا ہے۔ ماہر نفسیات بھی مریض کے لاشعور کے کسی مسئلے کو نفسیاتی خوردبین کے نیچے رکھتا ہے اور اس کی تشخیص کرتا ہے تا کہ اس کا مناسب علاج ہو سکے۔

بدقسمتی سے یورپ میں بہت سے عوام و خواص آج بھی تحلیل نفسی کو قبول نہیں کرتے۔ یہ لوگ ان نفسیاتی مریضوں کی طرح ہیں جو اپنا لاشعوری سچ جاننے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور نفسیاتی مسائل کی وجہ سے مزاحمت کرتے ہیں۔ ایسے لوگ سچ جاننے سے گھبراتے ہیں۔ ایسے لوگ نہیں جانتے کہ سچ ہمیں آزاد کرتا ہے چاہے وہ سچ کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو۔

ہم نے تحلیل نفسی سے یہ سیکھا ہے کہ سچ جاننے کا راستہ کتنا ہی تکلیف دہ اور کٹھن کیوں نہ ہو وہ ہماری ایک بہتر خوشحال اور صحتمند زندگی گزارنے میں مدد کرتا ہے۔

۔ ۔
نوٹ اگلے کالم میں سگمنڈ فرائڈ کے چوتھے لیکچر کا ترجمہ اور تلخیص پیش کیا جائے گا۔ ڈاکٹر خالد سہیل)
۔ ۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

One thought on “سگمنڈ فرائڈ کے تیسرے لیکچر کی تلخیص اور ترجمہ

  • 16/07/2025 at 7:07 شام
    Permalink

    سر بہترین ترجمہ –

    I’m eagerly waiting for translation of next lecture please

    Many thanks once again

Comments are closed.