دہشت گردی کی حمایت کا الزام: چار ممالک کا قطر سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان
چار ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ وہ قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ قطر خطے کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔ جبکہ اس اعلان کو خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سعودی عرب قطر کے ساتھ اپنے زمینی، آبی اور ہوائی راستے بند کر رہا ہے۔ سعودی عرب کی خبررساں ایجنسی ایس پی اے نے کہا ہے کہ ریاض نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ہیں اور وہ ‘دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خطرات سے بچنے اور قومی سلامتی کے پیش نظر’ قطر کے ساتھ اپنی سرحدوں کو بھی بند کر رہا ہے۔
بحرین نیوز ایجنسی نے کہا کہ ان کی چھوٹی مملکت دوحہ کے ساتھ اپنے رشتے منقطع کر رہا۔ اس کا الزام ہے کہ دوحہ ان کے ‘اندرونی معاملات میں دخل اندازی کر رہا ہے اور ان کی سلامتی اور استحکام کو متزلزل کر رہا ہے۔’ ان ممالک کا الزام ہے کہ قطر اخوان المسلمون سمیت دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرتا ہے۔ مصر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ مصر نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں یہ اعلان بھی کیا گيا ہے کہ وہ قطری جہاز اور طیاروں کے لیے اپنے بندرگاہ اور ایئرپورٹز بھی بند کر رہا ہے۔ مصر کا کہنا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ اپنی قومی سلامتی کے تحت کیا ہے۔ جبکہ متحدہ عرب امارات نے قطری سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی ہے۔ ڈبلیو اے ایم ایجنسی کے مطابق ابو ظہبی نے دوحہ پر دہشت گرد، انتہا پسند اور مسلکی تنظیموں کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔


