جب کابینہ نے ضیاء الحق کو شہید قرار دینے کا فیصلہ کیا


ایک شب میں حسب معمول تقریباً دس بجے نیم خوابیدہ کیفیت میں ایک اونگھ میں جا چکا تھا جب ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی۔۔۔ میں نے جان بوجھ کر نہ اٹھایا کہ میں اپنی نیند خراب نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن پھر فون بار بار آنے لگا چنانچہ میں نے تنگ آ کر اٹھا لیا، دوسری جانب خواجہ نثار تھے جو صبح کی نشریات کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر تھے۔ کہنے لگے ’’آپ سو رہے ہیں؟‘‘ میں نے بیزار ہو کر کہا ’’ہاں۔۔۔ لیکن اب نہیں سو رہا‘‘ کہنے لگے ’’آپ نے نو بجے کی خبریں نہیں سنیں؟‘‘
’’نہیں، میرے پاس تو ٹیلی ویژن نہیں ہے۔۔۔ کیا کوئی خاص خبر ہے؟‘‘ خواجہ نثار کھانس کر بولے ’’ضیاء الحق کا طیارہ بہاولپور کے قریب کریش کر گیا ہے اور وہ ہلاک ہو گئے ہیں۔ کوئی بھی مسافر زندہ نہیں بچا۔۔۔ کل صبح نشریات کے آغاز میں آپ پہلے شخص ہوں گے جو آن ایئر جائیں گے اور ضیاء الحق کی ہلاکت کی تفصیلی خبر دیں گے تو کچھ تیاری کر لیجیے۔ بے حد اہم ٹرانسمیشن ہے ساری دنیا دیکھ رہی ہو گی‘‘۔
ضیاء الحق اور میرے درمیان جو کچھ بھی تھا بہر صورت محبت یا پسندیدگی نہ تھی۔ میں تفصیل میں نہیں جاتا۔۔۔ چنانچہ اس کی ہلاکت کی خبر سن کر میں ایک غیر جانبدار سناٹے میں چلا گیا۔ اسلام آباد میں چند بار اس کی بیٹی زین سے ملاقات ہوئی اور وہ ایک پیاری اور محبت کرنے والی بچی تھی۔ صبح کی نشریات کی شیدائی تھی۔ ایک بار اس نے مجھے اپنی سالگرہ پر بھی مدعو کیا اور میں صرف اس لیے نہ جا سکا کہ ان دنوں میں لاہور میں تھا۔ مجھے اس لمحے صرف زین کا خیال آیا کہ اس کا باپ مر گیا ہے، وہ ایک اپاہج بچی کیا محسوس کرے گی۔۔۔ جیسے مجھے بھٹو کی پھانسی کے بعد بینظیر کا خیال آیا تھا۔
’’نثار۔۔۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ اگلے چند روز کے لیے میری بجائے کسی ایسے میزبان کی ڈیوٹی لگا دی جائے جو موقع کی مناسبت سے رنج و الم میں ڈوبی ہوئی نشریات کرے‘‘ لیکن نثار نے کہا کہ یکدم میری غیر موجودگی شکوک کو جنم دے گی۔ اس پر میں نے صرف یہ درخواست کی کہ جو کچھ کہنا ہے، اعلان کرنا ہے مجھے لکھ کر دے دیجیے گا میں پڑھ دوں گا۔
اگلی صبح نشریات کو کچھ اس طرح ترتیب دیاگیا کہ تازہ ترین خبریں اورصورت حال۔۔۔ پھر میرے اعلان۔ پھر ایک نعت رسول مقبولؐ اور پھرقاری عبدالرحمن صاحب قرأت کرتے تھے۔ میں اُن کی پرسوز قرأت کا دیرینہ مداح تھا چنانچہ اگلے دو روز اُن کی رفاقت میں گزرے۔ درمیان میں جب وقفہ ہوتا تو مجھے لطیفے سنانے لگتے اور کیمرہ آن ہوتے ہی بے حد سنجیدہ ہو جاتے۔ مجھے ٹھیک طرح سے یاد نہیں کہ یہ ضیاء الحق کی ہلاکت کا دوسرا دن تھا یا تیسرا جب نشریات کے دوران مجھے ایک چِٹ بھیجی گئی جس پر لکھا تھا کہ ابھی ابھی کابینہ یا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ضیاء الحق شہید ہیں چنانچہ آئندہ اُن کے لیے ہلاک ہو گئے، جاں بحق ہو گئے وغیرہ کی بجائے شہید ہو گئے، کہا جائے۔۔۔ چنانچہ ازاں بعد حکومتی فیصلے کے مطابق وہ شہید قرار دیے گئے۔
اس میں کچھ شک نہیں کہ ضیاء الحق کا جنازہ بہت بڑا تھا اور اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ بوقت مرگ کرسئ صدارت پر رونق افروز تھے۔ جنازے کی تفصیلات تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں کہ براہ راست نشریات کے میزبان کیسے اشک بار ہوتے تھے اور کیسے انہوں نے فرط جذبات سے مغلوب ہو کر وہ بیان دیا جو تاریخ میں سنہری حرفوں میں لکھا گیا کہ کاش آج ضیاء الحق خود دیکھ سکتے کہ اُن کے جنازے میں کتنی دنیا آئی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ضیاء الحق کی دو تین برسیاں کتنی دھوم دھام سے منائی گئیں یہاں تک کہ ایک میں میاں نواز شریف نے بھی شرکت کی لیکن اس کے بعد ویرانی چھا گئی یہاں تک کہ اُن کے فرزند بھی شاید اُن کی برسی بھول جاتے۔ کہ اُن کی وراثت میں جتنا فائدہ اٹھانا تھا اٹھایا جا چکا۔ پچھلی عید پر ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام میں پاکستان کی مختلف ادبی، قلمی اور سیاسی شخصیات کی قبریں دکھائی گئیں کہ عید کے موقع پر وہاں کتنے لوگ فاتحہ پڑھنے آئے۔ سب سے زیادہ اجاڑ ضیاء الحق کا مدفن تھا۔۔۔ قبر پر سوکھے ہوئے پھول پڑے تھے اور ایک رکھوالا شکایت کر رہا تھا کہ لوگ ضیاء الحق کو بھول گئے ہیں۔۔۔ بہت کم لوگ فاتحہ پڑھنے آتے ہیں۔۔۔ ’مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے! ‘….


