اپنی زندگی ضرور خود جئیں


چھٹی دور سے قوس قزح‌ کی طرح‌ دکھائی دیتی ہے اور قریب آنے پر غائب ہوجاتی ہے۔ جانے سے پہلے جتنا بھی فائلوں‌ کا ڈھیر مختصر کرنے کی کوشش کی ہو، آنے کے بعد وہ پہلے سے بڑا ہوتا ہے۔ سیسیفس کی متھ کی طرح جس میں ایک آدمی کو خداؤں نے لعنت دے کر اس کام پر لگا رکھا تھا کہ ایک بھاری پتھر کو پہاڑ پر چڑھائے۔ وہ سارا دن اس پتھر کو اوپر چڑھانے پر خرچ کرتا ہے اور دن کے آخر میں‌ وہ پتھر نیچے پھینک دیا جاتا ہے۔ اگلے دن وہ پھر سے یہی پتھر پہاڑ پر چڑھاتا ہے۔ سیسیفس اس پتھر کی ہر لکیر سے، اس پہاڑ کے ہر راستے سے اور اس محنت کے کام سے محبت کرنے لگتا ہے اور اس میں اپنی زندگی کے معنی تلاش کرتا ہے جو کہ اس کا خداؤں‌ سے انتقام ہے۔

ایک خاتون کو ہائی کیلشیم کے ساتھ دیکھا۔ معلوم نہیں‌ ان کو کیا پرابلم تھی۔ ہر ٹیسٹ ٹھیک نکلا، سورج کے نیچے ہر وہ وجہ جو ہمیں‌ معلوم تھی، چیک کی لیکن کچھ جواب نہیں ملا۔ ان کو کینسر ڈاکٹر نے اور گردوں کے ڈاکٹر نے اور انٹرنل میڈیسن نے بھی دیکھا، میں‌ نے خود کئی بار کئی ٹیسٹ کئے لیکن کوئی نتائج نہ نکل سکے۔ ان سے کہا کہ ہماری نالج کی حدود سے آپ کا مسئلہ باہر ہے اس لئیے میں‌ آپ کو بڑی یونیورسٹی بھیج رہی ہوں‌ جہاں‌ آپ ان پروفیسرز کو دیکھ سکیں‌ جن کی تعلیم اور تجربہ مجھ سے زیادہ ہے، ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کے مسئلے کو تشخیص کرسکیں۔ انہوں‌ نے بار بار کہا کہ آپ لوگوں‌ کا اتنا بڑا ہسپتال ہے، اتنے سارے ڈاکٹرز ہیں، اتنی مشینیں‌ ہیں، آپ میرا علاج کیوں نہیں کرسکتے۔ اس وقت تک وہ ایک سفید بھوت کی طرح‌ دکھائی دیتی تھیں‌ اور ان کی حالت بالکل ٹھیک نہیں‌ تھی۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ ساری باتیں ٹھیک ہیں لیکن آپ کا کیس باقی نناوے فیصد افراد کی طرح‌ نہیں ہے۔ ساری اسپیشلٹیز کی ساری ٹیکسٹ بکس میں‌ لکھی ہوئی اور حالیہ ریسرچ کے کیسز کی کیس رپورٹس پر مبنی تمام ٹیسٹ کئیے جا چکے ہیں اور ہم جواب تلاش کرنے سے قاصر ہیں اس لئیے بہتر ہوگا کہ اس سے اگلے سینٹر سے رجوع کیا جائے۔ اصلی دنیا بھی ایسی ہی ہے۔ لوگوں‌ کو جھوٹے دلاسے دینے سے بہتر ہے کہ ان کو سچ بتا دیا جائے تاکہ وہ اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ اس سے آپ کی کریڈیبلٹی کم نہیں‌ ہوگی۔ اس سے اعتماد بڑھے گا۔

ایک مریضہ کو ہائی کیلشیم کے ساتھ دیکھا جن میں ہائی پیراتھائرائڈ بیماری تشخیص کی گئی تھی اور وہ درست تشخیص تھی تو ان سے پوچھا کہ اگر آپ کو سرجری نہیں کروانی ہے تو یہ پانچ ہزار ڈالر کا امیجنگ ٹیسٹ کیوں‌ کروا رہی ہیں۔ ٹیومر گردن کے دائیں ہو یا بائیں یا سینے میں‌ جب اس کو نکالنا ہی نہیں‌ تو معلوم کرنے سے کیا فائدہ ہے؟ جب بھی کوئی ایسا مہنگا ٹیسٹ آرڈر کیا جائے جس سے کسی مریض کی صحت پر کچھ اثر نہ پڑتا ہو تو ہمارے ریزیڈنسی پروگرام کے آئی سی یو اٹینڈنگ ڈاکٹر گریر کہتے تھے کہ کیا آپ یہ ٹیسٹ اپنے مریض‌ کے لئے کررہے ہیں یا یہ ٹیسٹ آپ اپنے تجسس کے لئے کررہے ہیں؟ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ جب بھی کوئی ریزیڈنٹ ڈاکٹر ایسا کوئی ٹیسٹ آرڈر کرے جو مریض‌ کے لئے بے معنی ہو تو اس کا بل بھی ان زیزیڈنٹ ڈاکٹرز کو بھیج دیا جائے۔

اس کے علاوہ ان خاتون نے کہا کہ ان کو یہ بتایا گیا ہے کہ کیلشیم جن چیزوں میں‌ ہو ان سے پرہیز کریں اور کیلشیم کی گولیاں بھی کھانا بند کردیں۔ اس ہفتے ایک بیلکنیپ کا اسٹوڈنٹ بھی تھا، میں‌ نے اس سے کہا کہ یہ بات نوٹ کرنا اور اس بارے میں‌ سوچو کہ کیلشیم خون میں‌ کہاں‌ سے آ رہا ہے؟ اگر کسی مریض کے جسم میں‌ ایک پیراتھائرائڈ ٹیومر ہے جو ان کی ہڈیوں‌ میں‌ سے کیلشیم نکال رہا ہے تو خوراک میں‌ کیلشیم کم کرنے سے ان کو کیا مسئلہ ہوگا؟ اس لئے جن لوگوں‌ کو یہ بیماری ہو، ان کو نارمل خوراک کو جاری رکھنا چاہیے ورنہ ان کی بیماری اور بھی بگڑ جائے گی۔

ان خاتون کے ساتھ ایک اور خاتون تھیں‌ جنہوں‌ نے کہا کہ میں‌ اپنے لئیے ایک اینڈوکرنالوجسٹ ڈھونڈ رہی ہوں‌ اور میں‌ یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ میں‌ آپ کو پسند کرتی ہوں‌ یا نہیں۔ اب مجھے اطمینان ہوگیا ہے اور میں‌ اپنے لئے اپوائنٹمنٹ بنا لوں گی۔ اصلی زندگی اور دنیا ایسی ہی ہے۔ صرف باتیں بنا کر اور جھوٹے وعدے کرکے نتائج دکھائے بغیر ہم مزید ایجوکیٹڈ فالوئرز یا معنی خیز کام حاصل نہیں کرسکتے۔ سر زبیری ہمارے میڈیسن کے اٹینڈنگ ہوتے تھے، انہوں‌ نے ایک دن کہا کہ آپ لوگ ابھی میڈیکل کالج میں‌ ہی میڈیسن سیکھ لیں، جب آپ باہر جاکر کام کریں‌ گے تو آپ کو مریضوں کو سچ مچ میں‌ ٹھیک کرنا پڑے گا تاکہ وہ گھر جاکر اپنے پڑوسیوں ، رشتہ داروں‌ اور دوستوں‌ کو آپ کے پاس ریفر کریں۔

کسی بھی فیلڈ میں‌ یہ ضروری ہے لیکن خاص طور پر اینڈوکرنالوجی میں‌ باکس سے باہر سوچنا پڑتا ہے، نارمل ہمیشہ نارمل نہیں‌ ہوتا اور ایب نارمل ہمیشہ ایب نارمل نہیں‌ ہوتا۔ ہر لیب کی ایک ریفرنس رینج ہوتی ہے جو آبادی میں‌ صحت مند لوگوں‌ کے خون کے ٹیسٹ لے کر طے کی جاتی ہے۔ اگر کوئی لیب ٹیسٹ ریفرنس رینج میں‌ بھی ہو تو ضروری نہیں‌ ہوتا کہ وہ ہمارے لئیے بھی نارمل ہے۔ اسی طرح‌ بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ایب نارمل لیب رزلٹ کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں‌ لیکن وہ ان کے لئے نارمل ہوتا ہے۔ یہ انفرادی سچؤیشن پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر نارمل فزیالوجی پر غور نہ کیا جائے اور گھٹنے کے جرک ری ایکشن کی طرح‌ سوچا اور فیصلہ کیا جائے تو بہت غلطیاں‌ ہوتی ہیں۔ یہاں‌ تک کہ سرجن گلا کاٹ کر ایسا ٹیومر تلاش کرنے کی کوشش کرچکے ہیں‌ جو سرے سے تھا ہی نہیں۔

اسی لئیے میڈیسن کا ایک اصول ہے کہ اپنا مریض سرجن کو مت دیں۔ ایک لطیفہ ہے کہ کئی اسپیشلسٹ کھڑے تھے جن سے کہا گیا کہ اپنے جسم کا سب سے بیکار حصہ اس لفٹ کے دروازے بند ہونے سے روکنے کے لئیے استعمال کرو تو سرجن نے سر آگے کردیا۔

سرجن ہمارے اچھے کولیگ ہیں، اگر کسی میں‌ حس مزاح نہ ہو تو وہ ان کا اپنا بدقسمت مسئلہ ہے۔

ایک خاتون کو پیراتھائرائڈ کی بیماری کے لئیے اینڈوکرائن کلینک میں‌ بھیجا گیا تھا، انہوں‌ نے کہا کہ اس اپوائنٹمنٹ‌کے لئیے دو مہینے انتظار کرنا پڑا اور اس دوران میں‌ نے اس موضوع پر کئی کتابیں‌ پڑھ لیں۔ اچھا آپ نے کیا پڑھا مجھے بتائیں۔ جب انہوں‌ نے بتانا شروع کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ انہوں‌ نے لائنیں‌ پڑھی ہیں‌ اور بتائی ہیں، بیماری کو نہیں‌ سمجھا ہے اور نہ ہی انہیں‌ معلوم ہے کہ ان کو کیا پرابلم ہے اور نہ ہی یہ کہ اس کے لئیے کیا کرنا ہے۔ اس لئیے کسی چیز کو زبانی یاد کرلینے کا یہ مطلب نہیں‌ ہوتا کہ وہ ہمیں‌ سمجھ میں‌ بھی آگئی ہے اور یہ پتہ چل گیا ہے کہ اس کو اصلی زندگی پر کیسے لاگو کرنا ہے۔ لوگ باہر سے جیسے بھی نظر آرہے ہوں، وہ کیا کہہ رہے ہیں‌ اور ان کی بات میں‌ کتنا وزن ہے وہ آپ کو تبھی سمجھ میں‌ آسکے گا جب آپ خود اپنی معلومات میں‌ اضافہ کریں‌ گے اور سوچ بچار اور غور و فکر کریں‌ گے۔ اگر سوچنا شروع کیا جائے تو جواب ہماری آنکھوں‌ کے سامنے ہیں۔

کاش یہ بات مجھے کسی نے پچیس سال پہلے بتائی ہوتی۔ لیکن کوئی بات نہیں اب پتا چل گئی ہے تو ینگ لوگوں‌ کےلئیے لکھ رہی ہوں۔ آپ لوگ ایک خزانے کے اوپر بیٹھے ہیں جو کہ آپ کا دماغ ہے۔ آپ کتنا بھی پیتھالوجی کی موٹی رابنز دیکھ کر اپنے دل میں‌ خوفزدہ ہوں، حقیقت میں‌ اس دماغ کو کچھ بھی سکھایا جاسکتا ہے۔ ایک پروسس ہے جس کو نیوروپلاسٹی سٹی کہتے ہیں۔ یعنی بار بار ایک ہی کام کرنے سے نیورانز کے راستے بن جاتے ہیں‌ اور وہ کام آپ کو آجاتا ہے۔ چاہے وہ سائکل چلانا ہو، سوئٹر بننا یا جہاز اڑانا یا سرجری کرنا یا پیانو بجانا۔ اس کا راز کرتے رہنے میں‌ ہے۔ جیسے ایک چیونٹی بار بار گرتی ہے لیکن پھر سے چڑھتی ہے اور آخرکار چڑھ جاتی ہے۔

اینڈوکرنالوجی کی فیلوشپ کے لئیے گیارہ جگہ اپلائی کیا تھا، صرف ایک انٹرویو کی کال آئی۔ انٹرویو میں‌ ڈاکٹر لائنز نے پوچھا کہ فیلوشپ کے بعد آپ کا کیا پروگرام ہے تو میں‌ نے ان سے کہا کہ میں‌ اس کے بعد ذیابیطس کے میدان میں‌ پی ایچ ڈی کرنا چاہتی ہوں کیونکہ انسان کا دماغ دریافت کرنے کے لئیے ایک خزانہ ہے۔ انہوں‌ نے کہا کہ یہ اچھی لائن ہے۔ لیکن یہ صرف ایک ڈائلاگ نہیں‌ تھا، مجھے اس بات پر یقین ہے۔

جو لڑکیاں‌ خاموشی سے میرے بلاگ پڑھتی ہیں، مجھے آپ کے سارے بٹن معلوم ہیں‌، وہ اس لئیے کیونکہ وہ میرے بھی تھے۔ اپنے دل اور دماغ میں‌ سے ہر خوف کو نکال دینا ہوگا۔ دنیا آپ کی آدھی نہیں‌ ہے اور نہ ہی آسمان آدھا ہے اور نہ سمندر۔

آج کی دنیا بازو اور شمشیر کی شجاعت کی نہیں‌ بلکہ دماغ کی طاقت کی ہے۔ اپنی زندگی ضرور خود جئیں ورنہ وہ آپ کے نام پر کوئی اور جی لے گا۔

Facebook Comments HS