مرد بنو! مرد کا بچہ بنو!


معاشرہ اس ایک سوچ کا نچوڑ بن چکا ہے کہ مرد بن کر دکھاؤ۔ مرد کا بچہ بن کر دکھاؤ۔
دیکھا جائے تو مذہبی اور سماجی سطح پر راہ چلتی لڑکیوں کے جسم کے پرائیویٹ پارٹ میں چاقو گھونپنے سے لے کر خودکش بمبار بن کر پھٹنے اور زندہ انسانوں کی دھجیاں اُڑا دینے تک کا معاملہ اور ماں جائی بہنوں کو غیرت کے نام پر قتل کرنے اور زندہ جلانے سے لے کر کسی کی بیٹی کو انتقاماً ننگا کرکے گلیوں میں گھمانے تک کا معاملہ مردانگی ہی تو ہے۔

مذہبی اجتماع میں پین دی سری جیسی للکار بھی مردانگی ہی تو ہے۔
ریپ تو خیر سے ہے ہی مردانگی کا مظاہرہ۔ جس مرد نے عورت کا جسم زیر نہ کیا وہ بھی بھلا کوئی مرد ہوا!

پاکستان کے 70 برس میں ہم نے مرد اور مرد کے بچے ہی تو بنائے ہیں۔ نصاب تک میں مردانگی پڑھائی ہے۔ مرد کا بچہ بنو اور ٹوٹ پڑو اور کُچل دو اور اس پر فخر کرو۔
پھر یہاں تک ہی نہیں، سیاست اور ریاست اور عدلیہ تک میں اب مردانگی کا مظاہرہ ہی رہ گیا ہے۔ جس کی جتنی اونچی للکار ہے وہ اتنا ہی طاقت ور ہے۔
جو مردانہ بیان دیتا ہے وہ مرد کا بچہ ہے۔

اور مردانہ بیان کیا ہے؟
وہی جو ہم کسی زمانے میں سلطان راہی، مصطفیٰ قریشی اور اسلم پرویز سے سنتے تھے۔ جو ہم انڈین فلموں میں امریش پوری، پران اور امجد خان وغیرہ سے سنتے رہے ہیں۔
اب معاشرہ ہی کیا، پورا پاکستان گویا شعلوں میں اتری بسنتی کی طرح ناچ رہا ہے اور جو جو مرد کا بچہ ہے، وہ ہنٹر گھما رہا ہے کہ ناچ بسنتی ناچ۔ ناچ۔ ناچ۔ جینا چاہتی ہے تو ناچ۔ اپنی بقا کے لیے ناچ۔ میرے اشاروں پر ناچ۔ میرے لیے ناچ۔

بسنتی ناچ رہی ہے اور گھنگرو ایک ایک کرکے ٹوٹتے جا رہے ہیں اور وحشی مرد قہقہے لگا رہے ہیں۔
یہ ہی منظر کہلاتا ہے مردانگی۔

یا پھر تاریخ کی خاک میں دبے پڑے وہ مناظر مردانگی کہلاتے ہیں، جن میں لاکھوں انسان گھوڑوں کے سموں تلے کچلے گئے اور کٹی گردنوں کے پہاڑ کھڑے کیے گئے۔ یا پھر دشمنی اور انتقام کی آگ کو جاری و ساری رکھنے والا مرد سمجھا جاتا ہے اور اس آگ میں نسلوں کو جھونکنے والا دلیر مرد ہوتا ہے؟

جب کوئی پڑھا لکھا، عاقل و بالغ، سفید کالر میں گردن ڈالے، سوُٹ بوُٹ والا لبرل اور رقص و موسیقی جیسے فنِ لطیف اور جام و سبو جیسی نعمت کا دلدادہ اور تخت و بخت کا دعویدار، مرد کو مردانگی دکھانے کی طرف راغب کرتا دکھائی دے تو مجھ جیسی کمزور دل عورت کا دل ڈوب ڈوب جاتا ہے کہ اس مرد اور مردانگی کے کھیل میں آخر کب انسان نمودار ہوں گے! اور کب ہم انسانوں کو کہیں گے کہ انسان بن کر دکھاؤ۔

مگر شاید وہ دن نہیں آئے گا!
کیونکہ اس کے لیے پہلے مرد کو اپنے سوٹ بوٹ کے اندر اپنے اندر کا انسان تلاش کرنا پڑے گا اور کچھ خبر نہیں کہ مرد کے سوٹ بوٹ کے اندر انسان ابھی باقی ہے بھی کہ نہیں!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 97 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah