دانشمند لمبردار نے گمبھیر مسئلہ حل کیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک کسان کے صحن میں ایک مٹکا رکھا ہوا تھا جس میں وہ مکئی کے دانے رکھتا تھا۔ ایک دن اس کے سب سے پلے ہوئے مینڈھے نے وہ مٹکا دریافت کر لیا اور اس میں سر ڈال کر مکئی کھانے لگا۔ کسان نے دیکھا تو دوڑا دوڑا آیا اور لگا اسے مارنے۔ مینڈھے نے مٹکے سے سر نکالنے کی کوشش کی مگر اس کے سینگ مٹکے کے منہ میں پھنس گئے۔

کسان نے مینڈھے کا سر نکالنے کی کوشش کی۔ ناکام رہا۔ اس کے گھر والوں اور محلے والوں نے بھی مشورے دیے مگر سب ناکام رہے۔ آخر ایک شخص کو خیال آیا ”کیوں نہ دانشمند لمبردار کو بلائیں، وہ اس مسئلے کو حل کر دے گا“۔ سب کو یہ رائے پسند آئی اور دانشمند لمبردار کو بلاوا بھیجا گیا۔

دانشمند لمبردار کو بلاوا ملا تو وہ بہت خوش ہوا کہ آج وہ ایک مرتبہ پھر سب پر اپنی عقل کا سکہ جما دے گا۔ وہ فوراً اپنے اونٹ پر سوار ہوا اور کسان کے گھر پہنچا۔ اب مشکل یہ پیش آئی کہ کسان کا دروازہ اتنا اونچا نہ تھا کہ اونٹ اس میں سے گزر سکتا۔ لمبردار نے کچھ دیر غور کیا اور دروازہ کی محراب توڑنے کا حکم دے دیا۔ محراب توڑ دی گئی اور لمبردار کا اونٹ اس میں سے گزر کر صحن میں پہنچ گیا۔

لمبردار اونٹ سے اترا اور نہایت غور سے مینڈھے کا معائنہ کیا۔ ”مجھے تلوار لا کر دو“ لمبردار نے حکم دیا۔ تلوار لائی گئی، لمبردار نے اسے ہاتھ میں تولا اور پھر جو ہاتھ گھمایا تو ایک ہی وار میں مینڈھے کا سر اس کے تن سے جدا کر دیا۔ ”یہ لو، یہ رہا تمہارا مینڈھا اور یہ رہا تمہارا مٹکا۔ دونوں الگ ہو گئے ہیں“۔ لمبردار فاتحانہ انداز میں بولا۔ پورا گاؤں لمبردار کی دانشمندی پر اش اش کرنے لگا۔

کسان کے لڑکے نے مٹکے کے اندر سے مکئی نکالنی چاہی تو یہ دیکھ کر پریشان ہو گیا کہ مینڈھے کا سر ابھی بھی مٹکے کے اندر پھنسا ہوا تھا۔ ”مینڈھے کا سر تو ابھی بھی مٹکے کے اندر ہے“۔ اس نے مایوسی سے سر ہلا کر کہا۔

”درست، یہ تمہارے لئے ایک بڑا مسئلہ ہو گا مگر میں ان مسائل کو چٹکی بجاتے حل کر سکتا ہوں۔ ایک ہتھوڑا لاؤ اور پھر میرا کمال دیکھو کہ کیسے مینڈھے کا سر نکال کر تمہارے ہاتھ میں پکڑاتا ہوں“۔ لمبردار نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا۔

ہتھوڑا لا کر لمبردار کو دے دیا گیا۔ اس نے ہتھوڑا گھمایا اور ایک ہی وار سے مٹکے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اندر موجود مکئی اور مینڈھے کا سر باہر زمین پر گر گئے۔ دیہاتیوں کے ہجوم نے یہ کمال دیکھ کر مارے خوشی کے تالیاں بجانی شروع کر دیں۔

سب سے زیادہ خوش وہ کسان تھا جس کا گمبھیر مسئلہ دانشمند لمبردار نے حل کر دیا تھا۔ ٹھیک ہے کہ اس کا دروازہ ٹوٹ گیا تھا، اس کی مکئی مٹی میں مل گئی تھی، اس کا سب سے بہترین مینڈھا مر گیا تھا، لیکن اہم بات یہ تھی کہ اس کا سنگین مسئلہ حل ہو گیا تھا۔

ارد گرد کے تمام دیہات میں لمبردار کی دانشمندی کی دھوم مچ گئی اور وہ اس گاؤں پر رشک کرنے لگے جہاں اتنا عقلمند لمبردار موجود تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1194 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar