منٹو کا افسانہ ”ساڑھے تین آنے“: اگلی نسل کے لیے لکھی ایک تحریر

میں نے منٹو پہ بہت تنقید و توصیف پڑھی، لکھی اس سے بھی زیادہ گئی ہے۔ میں یہ دعوی ہرگز نہیں کر سکتی کہ میں نے منٹو کی ہر تحریر پڑھ لی مگر جب ”ساڑھے تین آنے“ پڑھی تو مجھے حیرت یہ ہوئی کہ منٹو کے مشہورِ زمانہ اور رسوائے زمانہ تحاریر میں اس کا…

Read more

ایک اور کلیشے کردار

کبھی کبھی لایعنی باتیں کرنے کا دل چاہتا ہے۔ اردگرد پھیلی ہر چیز علامت لگتی ہے۔ کمرے میں پھیلی کمزور سی روشنی، اس پہ حاوی بے نام سی تاریکی جو محسوس زیادہ ہوتی ہے۔ ہڈیوں میں اترتی ٹھنڈ اور دل میں اٹھتی ہلکی ہلکی ٹیسیں، یخ ہوتے پاؤں کے پنجے، خاموشی میں گونجتی گھڑی کی ٹک ٹک، اور کبھی کبھی سناٹے کو چیرتی کسی موٹر سائیکل یا گاڑی کی آواز۔ دل چاہتا ہے ہم اس منظر سے باہر بیٹھے یہ سب دیکھ رہے ہوں اور اس کے تخلیق کرنے والے کی مہارت پہ داد دینا چاہتے ہوں، جس نے اتنا مکمل منظر تخلیق کیا کہ آپ خود کو اس کا حصہ سمجھنے لگیں۔

Read more

میں، چھپکلی اور خوف

بچپن میں بلکہ چند سال پہلے تک، میں بھی پاکستانی اسٹینڈرڈ نسوانی رویے کے تحت چھپکلیوں سے ڈرتی رہی ہوں۔ یہ ڈر کب اور کیسے بیٹھا اس کا اندازہ کبھی نہیں ہو پایا مگر کچھ دھندلی سی یاد یہ بھی ہے کہ بالکل بچپن میں چھپکلیوں سے یہ چھتیس کا آکڑہ نہیں تھا۔ چھپکلی بچاری زندگی میں گن کے چند بار ہی حملہ آور ہوئی ہوگی اور اس حملے کا مطلب یہ کہ جب وہ بچاری ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی کوشش میں اپنا توازن کھو بیٹھتی ہے اور چھت سے ٹپ سے کسی پہ بھی آن گرتی ہے۔چھپکلی دیکھنے میں جتنی کراہت آمیز لگتی ہے اس کا لمس اتنا ہی ملائم ہوتا ہے۔ یہ میرا تجربہ ہے۔

اس کے باوجود اس مخلوق کے بارے میں بہت سی ”لیجنڈز“ مشہور ہیں جو ہم آپ جیسی کئی سادہ دل خواتین اور شاید بہت سے حضرات کے بھی خوف کی بنیادی وجہ ہیں۔ ان لیجنڈز میں چھپکلی کا نوبیاہتا دلہن کے کپڑوں میں موجود ہونا اور شادی کی رات بچاری کا اس کے قاتل زہر سے دارِفانی سے کوچ کرجانا ایک پر اثر کہانی ہے جو تھوڑی بہت علاقائی تبدیلیوں کے ساتھ تقریباً سب نے ہی سن رکھی ہے۔

Read more

وہ لال اوڑھنی والی

وہ خوف اور تجسس آنکھوں میں لیے جنگلے سے سرکی ہوئی چادر سے اندر جھانکنے کی کوشش کر رہی تھی جہاں بڑی آپا کے ساتھ ہی کوئی اور بھی تھا۔ وہ چادریں لے کر نکلنے کے لیے تیار ہی تھی جب بڑی آپاکو بھی اماں جنگلے میں چھوڑ آئیں۔ مگر انہیں کمرے سے نکالنے سے…

Read more

نیوزی لینڈ کے مجرم کو دہشت گرد کہیں یا ذہنی مریض؟

نیوزی لینڈ، کرائسسٹ چرچ کے علاقے میں دو مساجد پہ حملے کے بعد سے زیادہ شور اس بات پہ اٹھا کہ حملہ آور کو واضح الفاظ میں دہشت گرد قرار دیا جانا چاہیے۔ کم و بیش ہر شخص نے اس پہ اظہارِ رائے کیا، غم و غصے کا اظہار کیا۔ بلا وجہ لبرل یا مذہبی طبقات پہ الزامات لگائے گئے۔ جب کہ کم و بیش سب ہی مذمت کر رہے تھے۔ ہم یقین کر کے بیٹھے تھے کہ چوں کہ نیوزی لینڈ ایک غیر مسلم ملک ہے اس لیے وہاں حملہ آور کو انتہا پسند یا ذہنی مریض گردانا جائے گا جب کہ بطور مسلم، اکثریت کا یہ مطالبہ تھا کہ اسے دہشت گرد قرار دیا جانا چاہیے۔

اگلے دن یہ سب دیکھ کر میں نے اپنی فیس بک وال پہ یہی سوال پوچھا بھی، کہ چلیے مان لیتے ہیں کہ دہشت گرد کہا جانا چاہیے۔ لیکن کیوں؟ عجیب بات یہ تھی کہ اسلام کے نام پہ ہرجگہ جھگڑنے کو تیار عوام میں سے عموماً نے جواب دینا مناسب نا سمجھا۔ جب کے عورت مارچ سے متعلق ایک نقطہ بھی لگایا جارہا تھا تو ڈھیروں مباحثے کو تیار تھے۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا واقعی ہمیں پتا بھی ہے کہ ایسے حملوں کو دہشت گردی کیوں کہنا چاہیے؟ صرف اس لیے کہ جب حملہ آور مسلمان ہوتا ہے تو اسے دہشت گردی سے منسوب کیا جاتا ہے؟ یعنی ہم پرائمری کلاس کے بچے ہیں کہ کیوں کہ فلاں بھی شور مچا رہا تھا تو اسے بھی سزا دیں صرف مجھے شور مچانے پہ سزا کیوں۔

Read more

کیا اچھے بچے غصہ نہیں کرتے؟

آپ کو کیسا لگتا ہے جب آپ کا باس آپ کے انتہائی محنت سے کیے گئے کام کی باقی تمام محنت نظر انداز کر کے ایک چھوٹی سے غلطی پہ ایک گھنٹہ ڈانٹے؟
اور آپ کو کیسا لگتا ہے جب آپ کا ماتحت ہر بار بچوں کی طرح الٹا سیدھا کام کر کے آپ کے سامنے لاکر رکھ دے؟

ظاہر ہے یہ ایک ہی واقعے کے دو پہلو ہیں جس میں دونوں ہی اپنی اپنی جگہ غصہ محسوس کرتے ہیں۔ مگر کیا دونوں کا ردعمل ایک ہوگا۔ بلکہ پہلے یہ دیکھیں کہ کیا دونوں کا مسئلے کے حوالے سے زاویہءنگاہ ایک ہے؟ یقینا نہیں ہے۔ ایک کی توجہ کی گئی محنت پہ ہے اور دوسرے کی غلطی پہ۔ پھر اس کے بعد ایک کواپنی جاب جانے کا خوف ہے جبکہ دوسرے کو؟ دوسرے کو بھی خوف ہی ہے۔ ردعمل نا دکھانے کی صورت میں اپنے اختیار اور طاقت چھن جانے کا خوف کہ میں نے اسے ابھی ٹوکا نہیں تو یہ دوبارہ میری بات نہیں مانے گا۔ مگر اس کے علاوہ بھی کئی عوامل ہیں جو ”غصہ“ پہ اثر انداز ہوتے ہیں۔

Read more

روٹی اور امن کے حصول میں عورت کی شمولیت

بطور ایک تقریباً غریب گھرانے کی سانولی فیشن سے نابلد لڑکی ہونے کے، لڑکپن سے لے کر بس چند سال پہلے تک زندگی ہمیشہ مفت کے سیلف گرومنگ کے مشوروں سے اٹی رہی۔ چہرے پہ دانے ہیں کچھ لگاتی کیوں نہیں؟ بال گھنگریالے ہیں سیدھے کیوں نہیں کراتیں؟ آئی بروز کیوں نہیں بنواتیں؟ جیولری کیوں…

Read more

کیا صرف میری ایک کمی ہی میری شناخت ہے؟

”اللہ کی شان تنکے میں جان“ وہ اسکول میں داخل ہوا توکسی جانب سے آواز آئی۔ دو قدم چلا ہوگا کہ دوسری طرف سے آواز آئی ”ارے جیب میں دو پتھر رکھ لیا کر بھائی کسی دن اڑ جائے گا۔ “ اس میں ماتھے پہ آتا پسینہ بھی صاف کرنے کی ہمت نہیں تھی، قدم…

Read more

کتابوں والی الماری اور ذات کا قید خانہ

مجھے اپنا کمرہ بہت پسند ہے آپ جیسے علم دوست شاید اس کی صرف حسرت ہی کر سکتے ہیں۔ ایک ایسا کمرہ جس کی دیواریں چاروں اطراف سے کتابوں سے مزین ہیں۔ جہاں باہر کی دنیا کی کوئی آلودگی نہیں۔ صرف کتابیں، ہنستی مسکراتی، زندگی کے ہنر سکھاتی، میرا شاندار ماضی اور حال بتاتی، مجھے…

Read more

آزار بند بنانے والا لوتھڑا

دائی بہت افسوس سے اس نامکمل لوتھڑے کو دیکھ رہی تھی۔ پانچ بیٹیوں کے بعد پیدا ہوا وہ بھی ایسا۔ نہ ہاتھ نہ پاؤں کسی کیچوے کی طرح حقیر، پتھر کی طرح جامد۔ جہاں ڈال دو پڑا رہے۔ دھرتی اور ماں باپ کے سینوں پہ بوجھ۔ دائی کو اس کی قسمت سے زیادہ اپنی قسمت…

Read more