تیسری دنیا اور انقلاب

تیسری دنیا ایسے ممالک کا گروہ ہے جس پر نہ تو مذاہب کے صحیفے کارگر ثابت ہوئے ہیں اور نہ ہی فلسفہ ہائے سیاست و سماج نے ان پر معاشرت کے اثرات و رموز منکشف کیے ہیں۔ چنانچہ خانقاہی اور شہنشاہی نظام کے تحت یہاں ہمیشہ سماجی تفرقہ بازی غالب ہے اور معاشرہ دو طبقات میں ازل سے تقسیم شدہ ہے۔ ایک طبقہ صاحبان ثروت و اقتدار ہے اور دوسرا ان کی خدمت و اطاعت پر مامور ہے جو نہ

Read more

کیا پاکستانی عورت کے بنیادی مسائل یہی ہیں؟

نظریے آفاقی ہوتے ہیں اور اپنے اندر کائناتی منظر پیدا کرتے ہیں لیکن وہ نظریات جو تضادات کی بناء پر تشکیل پاتے ہیں، اپنے کینوس کے اندر ضم ہو کر اپنی موت آپ مر جاتے ہیں لیکن اگر کسی نظریے میں آفاقی عناصر وجود رکھتے ہوں تو وہ تحت السریٰ سے بلند ہو کر گنبد آفاق میں اپنی حقانیت کا اعلان کرتا ہے ، چاہے وہ مارٹن لوتھر کا مذہبی نظریہ ہو یا جرمن فلاسفر کارل مارکس کا نظریۂ اشتراکیت و اشتمالیت ہو ، وہ ایک بڑے طبقے کو اپنا گرویدہ بنا ہی لیتا ہے۔

یہاں میں بابلی، مصری اور وادیٔ سندھ کی تہذیب میں جنم لیتے نظریات کی بات کرنا چاہتا ہوں اور نہ ہی یونانی فلسفے اور مغربی عقلیت پسندی کے مدارج پر بحث کرنا چاہتا ہوں ۔ میرا آج کا مضمون کائناتی منظرنامے پر دھنک کی طرح رنگ بکھیرتی عورت ہے۔

Read more